3
2
2019
1682060040263_708
65-77
http://www.alilmjournal-gcwus.com/index.php/al-ilm/article/download/29/27
http://www.alilmjournal-gcwus.com/index.php/al-ilm/article/view/29
تعارف
دین اسلام کا نظریہ ہے کہ کائنات کا خالق ومالک اوررازق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اُسی نے کائنات بنائی اور انسان کو اپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجااللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں انسان منفرد اور مختلف ہے انسان کو زندگی عطاء ہوئی تعظیم اور عزت عطاء کی گی وسائل عطاء ہوئے اور ارادہ اور اختیار کی قوت دے کر اللہ نے اپنا نائب اور نمائندہ مقرر کیا اسکے ساتھ ساتھ انسان کو صحیح اور غلط میں تمیز کے لیے ہدایت اور عقل و شعور کی نعمت عطاء کی کہ وہ اسکا استعمال کرتے ہوئے زندگی کی نئی راہیں کھول سکے انسان اللہ تعالیٰ کےاختیارات کا امین ہےاسکو جو بھی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں وہ اِن سب کے لیے اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہے۔چنانچہ انسان نے ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیےمادی اشیاء جن میں زراعت،تجارت،صنعت،مال مویشی وغیرہ کو بھی اپنی زندگی میں شامل کیا لیکن تجارت کو ان سب میں فوقیت دی گی ہے کیونکہ تجارت کے ذریعے سے انسان کی زندگی کی زیادہ تر ضروریات پوری ہوتی ہیں ۔ زمانہ جاہلیت میں بھی زیادہ تر تجارت کی جاتی تھی حضرت محمدﷺ کے ساتھ ساتھ زیادہ تر صحابہ کرام کا پیشہ تجارت ہی تھا ۔ محمد خالد سیف بیان کرتے ہیں کہ اسلام نے تجارت کا وہ معیار دیا جس میں ملاوٹ،جھوٹ، ناپ تول میں کمی،سامان تجارت کا نقص چھپانے جیسے گھٹیا فن میں کوئی گنجائش نہ رکھی غیر مسلم سامان تجارت لینے آتے لیکن سچے مسلمان تاجروں کے اخلاق کی وجہ سے ایمان کی دولت لے کر جاتے۔[1]
حضورﷺ نے جہاں دین و دنیا کے باقی اُصول بتائے وہاں پر آپﷺنے تجارت و معاشرت کے اُصولوں کو بھی واضع کیا جن پر عمل کر کے دین اور دینا میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ڈاکٹر نور محمدبیان کرتے ہیں کہ حضورؐ اکثربازاروں کا چکر لگاتے تھے تا کہ تجارتی معاملات کی اصلاح کر سکیں اور تجارتی کاروبار درست طریقہ پر چلایا جائے تا کہ وہ حلال کمائی اور باہمی تعاون کا ذریعہ بن جائے۔[2]
عصر حاضر میں بھی ملکی معیشت کو مظبوط کرنے کے لیےتجارت کو زیادہ فروغ دیا جا رہا ہے کیونکہ جب ملک کی معیشت مظبوط ہو تی ہے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو تا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں بھی تجارت کے بارے میں فرمایا گیاہے۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ [3]
"اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، آپس میں ایک دُوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاو بلکہ آپس کی رضا مندی سےتجارت کے ذریعے نفع حاصل کرو "
یہاں پر باطل سے مراد تمام ناجائز طریقوں جس میں سود سے کمانے والا مال و دولت بھی شامل ہے کو حرام قرار دیا گیا ہےجبکہ دوسروں کو وہ مال و دولت جو باہمی رضامندی سےتجارت کے لیے لیا گیا ہوحرام نہیں۔
ڈاکٹر حبیب الرحمن کیلانی تجارت کی فضیلت بیان کرتے ہیں کہ تجارت ایک باعزت اور باوقار پیشہ
ہےاگر تجارت کا پیشہ اسلامی حدود کے اندر رہ کر اختیار کیا جائے تو دنیا میں فراوانی رزق کے علاوہ اخروی زندگی میں بھی بلندی درجات پر فائز کر دیتا ہے۔[4]
ہر انسان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے مال دولت اور اثاثہ جات میں اضافہ کرے اور اس مقصد کےلیےاپنے مال سے خود بھی تجارت کر سکتا ہے یا پھرکسی دوسرے تجربہ کار آدمی کو اپنا مال تجارت کے لیے دے دے۔ جیسا کہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے بھی انسان کو باہمی رضامندی سے تجارت کے ذریعے نفع حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے ۔
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ [5]
"پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاو اور اللہ کا فضل (مال تجارت اور رزق )تلاش کرو"
قرآن پاک کے ان احکامات سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام تجارت کی طرف ترغیب دیتا ہے کیونکہ قومیں تجارت سے ہی ترقی کرتی ہیں اسی لیےاسلا م بھی تجارت کرنے پر زور دیتاہے۔ حافظ زوالفقار علی بیان کرتے ہیں "کہ اللہ کا فضل تلاش کرنے سے مرادتجارت، کاروبار ہے اور اگر یہ اسلامی احکام کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا جائے تو یہ اللہ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے"۔[6]
تاجرکے مقام و رتبہ کا اندازہ مندرجہ ذیل حدیث سےہوتا ہےجیسے کہ آپؐ نے فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا کُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ الْقُشَيْرِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّاجِرُ الْأَمِينُ الصَّدُوقُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَائِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ [7]
"احمد بن سنان، کثیر ابن ہشام، کلثوم بن جوش، ایوب، نافع، حضرت ابن عمربیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان سچا امانت دار تاجر روز قیامت شہداء کے ساتھ ہوگا"۔
احادیث میں بھی مزدور کے حقوق کی تائید کی گئی ہے
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَائِ [8]
"ہناد، قبیصہ، سفیان، ابی حمزہ، حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔"
بالا احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایک سچے اور امانت تاجر کا رتبہ اتنا بلند ہوتا ہےکہ قیامت والے دن اسے انبیا اور شہدا کا ساتھ نصیب ہو گا۔ ابو نعمان بشیراسی تناظر میں بیان کرتے ہیں" کہ عصر حاضر میں کچھ تاجر اس فکر سے آزاد ہیں کہ انداز تجار ت حلال ہے یا حرام اور جو لوگ یہ فکر رکھتے ہیں انہیں جائز و ناجائز تجارت کا علم ہی نہیں ہے۔" [9]
حضورؐ نے بھی حلال کمائی پر زور دیا ہے آپؐ نے حلال کمائی کو فرض کے برابر درجہ دیا ہےذیل کی احادیث اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ دنیا میں حلال کمائی سے بہتر کوئی روزی نہیں ہے۔
طلب کسب الحلال فریضیۃ بعد الفریضیۃ [10]
"حلال کمائی کی طلب کرنا دوسر ےفرائض کے بعد ایک فرض ہے۔"
حدثنا إبراهيم بن موسى ، أخبرنا عيسى ، عن ثور ، عن خالد بن معدان ، عن المقدام ـ رضى الله عنه ـ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما أكل أحد طعاما قط خيرا من أن يأكل من عمل يده [11]
"ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، انہیں ثور نے خبر دی ، انہیں خالد بن معدان نے اور انہیں مقدام رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی ، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے ۔"
موجودہ تجارتی نظام میں مزدور کے حقوق سیرت طیبہ کی روشنی میں
عصر حاضر میں اسلامی معاشرے کو جن مشکلات سے گزرنا پڑھ رہا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ دین سے غفلت ہےمسلمانوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو چھوڑ کر مغربی دنیا کےطور طریقوں کو اپنا لیا ہےجبکہ اللہ تعالیٰ نےان کو مکمل شریعت عطاء کی اور قرآن میں تمام مسائل کا حل رکھ دیا اس کے باوجود مسلمان مسائل کے حل کے لیےبھٹک رہے ہیں اگر مسلمان قرآن و سنت کےمطالعہ کواپنا لے تو معاملات زندگی کے مسائل کا حل ان میں موجود پائے گا۔اسلام نے معاملات اور تجارت کے احکامات کو شریعت میں ایک خاص مقام دیا ہےجو کسی نظام معیشت میں نہیں ملتا۔قرآن پاک میں تجارت سے متعلق ہدایات دی
گئی ہیں۔# مزدور کے ساتھ تعاون
#
جب کسی مزدور کو کام پر لگائیں تو سب سے پہلے مزدور کے کام کی تنخواہ کا تعین کرنا چاہیے نہ کہ کام ختم ہونے کے بعد مزدور کو اپنی مرضی سے پیسے دیے جائیں بلکہ یہ پہلے مرحلے پر ہی طے کرنا چاہیے کہ مزدور کام کے کتنے پیسے لے گا اور آجر اُس کو کتنے پیسے دے گا جب مزدوری طے ہو جائے تو پھر مزدور کو کام شروع کرنے کا کہا جائے۔مزدور کو اتنی اُجرت ضرور دینی چاہیے کہ وہ عزت کے ساتھ ضروریات زندگی پوری کر سکے۔ اس تناظر میں حضوراﷺ کا فرمان ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّهُ کَرِهَ أَنْ يَسْتَأْجِرَ الرَّجُلَ حَتَّی يُعْلِمَهُ أَجْرَهُ [14]
"محمد، حبان، عبد اللہ، حماد بن سلمہ، یونس، حضرت حسن سے روایت ہے کہ وہ اس بات کو ناگوار سمجھتے تھے کہ مزدور سے مزدوری مقرر کئے بغیر کام کرائیں۔"
خلیل الرحمان اس تناظر میں بیان کرتے ہیں "کہ موجودہ معاشرے میں بھی جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مزدور کی اُجرت کیا ہونی چاہیے تو اس ضمن میں کوئی امریکہ کے قوانین اور طریقوں کا اور کوئی برطانوی قوانین کا حوالہ دیتا ہے۔لیکن چودہ سو سال قبل کے مزدور کو اسلام نے جو عطا کیا وہ کلیہ آج بھی اسی طرح اہم ہے جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے تھا۔"[15]#
مزدور کی اُجرت کی ادائیگی کےوقت بہت ملال یا پھر تاخیر کرنا،عدم ادائیگی یا پھر ادائیگی بہت احسان جتا کر نے کی سخت ممانعت کی گئی ہے اس سے متعلق حضورﷺ کا فرمان ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ
إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ إِذَا اسْتَأْجَرْتَ أَجِيرًا فَأَعْلِمْهُ أَجْرَهُ [16]
"محمد بن حاتم، حبان، عبد اللہ، شعبہ، حماد، ابراہیم، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت تم مزدوری کرانا چاہو کسی مزدور سے تو تم اس کی مزدوری ادا کر دو۔"
ڈاکٹر اوصاف کے مطابق" ایک اچھا آجربروقت اپنے مزدوروں کی مزدوری ادا کرتا ہےنیز تجارتی چکر کے دوران (یعنی کبھی خوش حالی اورکبھی بد حالی کا دور آتا ہے ) جب خوش حالی کا دور ہوتا ہے تو اجیر کی مزدوری میں اضافہ کرتا ہے۔" [17]#
#
#
#
#
یہ پالیسی عین حضورؐ کے بتائے ہوئےمزدور کے حقوق کے مطابق ہے آج سے چودہ سو سال پہلےحضورؐ نے مزدور کے لیے جواُصول وضع کیے تھے آج تک وہی پالیسی رائج ہے پس ضرورت اس امر کی ہے کہ مزدورپالیسی سے متعلق حضورؐ کی ہدایات پر عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائےتو غربت اور ناانصافی کی چکی میں پسنے والا مزدور اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔
حوالہ جات
- ↑
1 محمد خالد سیف،محمد سرورطارق،کامیاب تجارت کے سنہری اصول ،دارالسلام لاہور،جنوری 2006 ،: 5
- ↑
2 نو ر محمد غفاری، ڈاکٹر ،اسلام کا قانون تجارت،ا مبرنٹ آفسٹ پرنٹرز،لاہور : 20
- ↑
3النساء ،4: 29
- ↑
4 حبیب الرحمن کیلانی، ڈاکٹر ،احکام تجارت اور لین دین کے مسائل ،مکتبہ داراسلام،لاہور،جولائی 2003، :45
- ↑
الجمہ،62: 10
- ↑
حافظ زوالفقار علی،معیشت و تجارت کے اسلامی احکام ،ناشر ابو ہریرہ اکیڈمی،لاہور،2010، :25
- ↑
ابن ماجہ ، محمد بن یزید القزوینی ،ابوعبداللہ، السنن ، ،تجارت و معاملات کا بیان،کتاب کمائی کی ترغیب ،حدیث نمبر: 2142
- ↑
الترمذی، ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ(۲۷۹ھ)، السنن ،کتاب البیوع،باب تاجروں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تجارکاخطاب دینا،حدیث نمبر: 1224
- ↑
ابو نعمان بشیر احمد،مقبول احمد،اسلامی تجارت،اسلامیہ پرنٹرزلاہور،مارچ 2008،ص 11
- ↑
البیہقیی ،ابو بکر احمد بن الحسین (المتوفی:458ھ)،شعب الایمان ،الریاض:مکتبہ الرشد للنشر و التوزیع،1423ھ،175: 11
- ↑
بخاری،محمد بن اسماعیل(۲۵۶ھ)،الجامع الصحیح المسند المختصر من امور رسولﷺ وسننہ وایامہ ،کتاب البیوع،باب انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا،حدیث نمبر: 2072
- ↑
سورۃالمائدہ،5: 2
- ↑
صحیح بخاری،کتاب ایمان،حدیث نمبر: 31
- ↑
النسائی ، احمد بن شعیب، ابو عبد الرحمن، السنن ،کتاب شرطوں سےمتعلق احادیث،حدیث نمبر: 3895
- ↑
خلیل الرحمان،اسلام کا نظریہ محنت ،المکتبہ الرحمانیہ،لاہور ،،ص140
- ↑
النسائی ، السنن ،کتاب شرطوں سےمتعلق احادیث،حدیث نمبر: 3894
- ↑
اوصاف احمد، ڈاکٹر ،علم معاشیات اور اسلامی معاشیات، ایفا پبلیکیشنز،نئی دہلی،جون2010، ص 71
- ↑
صحیح بخاری،کتاب ایمان کا بیان،حدیث نمبر: 31
- ↑
ابن ماجہ، السنن ،کتاب آداب کا بیان،باب غلاموں اور باندیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا،حدیث نمبر: 3694
- ↑
البیان،حماد امین چاولہ، المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر،کراچی،جون2013، ص18
- ↑
ابو داؤد ،سلیمان بن اشعث،سجستانی، السنن ،کتاب آداب کا بیان،باب غلام وباندی کے حقوق کا بیان،حدیث نمبر: 5127
- ↑
ا لترمذی،السنن،کتاب نیکی و صلہ رحمی کا بیان،باب خادم کو معاف کردینا،حدیث نمبر: 2034
- ↑
ابن ماجہ،السنن،کتاب کھانوں کے ابواب،باب خادم کھانا لائے تو کچھ کھانا اسے بھی دینا چاہیے،حدیث نمبر: 3294
- ↑
محمدطاہر القادری، ڈاکٹر ،اقتصادیات اسلام ، مہناج القرآن پبلی کیشنز،لاہور،مارچ 2007، ص731
- ↑
ایضا،ص 743
- ↑
ذوالفقار علی، حافظ ،دور حاضر کے مالی معاملات کا شرعی حکم، ابو ہریرہ اکیڈمی،لاہورستمبر2008، ص 21
Article Title | Authors | Vol Info | Year |
Article Title | Authors | Vol Info | Year |