2
1
2018
1682060040263_994
62-81
http://www.alilmjournal-gcwus.com/index.php/al-ilm/article/download/69/59
http://www.alilmjournal-gcwus.com/index.php/al-ilm/article/view/69
اسلام نے خدمتِ خلق کو عبادت کا درجہ دیاہے۔ غریب اور محبور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے تگ و دو کرنا اسلامی تعلیمات کا نمایاں پہلو ہے۔ سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے کردار و عمل سے خدمت خلق اور انسانی ہمدردی کے اعلیٰ نمونے پیش کرنے کے ساتھ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت بھی اس نہج پہ فرمائی تھی کہ وہ بھی معاشرہ کے لیے مجسمۂ رحمت و ایثار تھے۔ آپ ﷺنماز روزہ اور دیگر عبادات کے بارے میں تاکید کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کو دوسرے انسانوں سے بھلائی اور خیرخواہی کی بھی بھرپور تلقین فرماتے تھے۔ حضور نبی اکرمﷺکی بعثت کی خبر جب حضرت ابوذر غفاری تک پہنچی تو آپ نے اپنے بھائی کو تحقیق احوال کے لیے مکہ مکرمہ بھیجا۔ پس ان کا بھائی آپ ﷺکی خدمت میں پہنچا اور آپ ﷺ کی باتیں سن کر حضرت ابوذر کی طرف واپس لوٹ گیا اور انہیں بتایا:
مسلمانوں کی خیر خواہی اور بھلائی چاہنا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ حضرت جریر ابن عبداللہ فرماتے ہیں:
آقائے دو جہاں ﷺ نے اپنے محبوب صحابہ کرام کو یہ درس دیا تھا کہ جو شخص کسی بیوہ یا مسکین کی خبر گیری کرتا ہے اس کی حیثیت اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا اس شخص کی ہے جو دن کو روزے رکھتا ہے اور رات کو عبادت کے لیے کھڑا رہتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
کسی مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے گھر بار اور اہل خانہ کی خبر گیری کرنا باعث اجر عمل ہے۔ حضرت زید بن خالد جہنی بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
حضرت عبد اللہ بن سلامبیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺکی مدینہ منورہ تشریف آوری ہوئی تو میں بھی آپ ﷺکی زیارت کی غرض سے حاضر ہوا۔ پہلا ارشاد جو رسول اکرم ﷺکی زبان مبارک سے میں نے سنا وہ یہ تھا:
حضرت عبد اﷲ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: اسلام کا کون سا عمل بہتر ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا:
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:
مندرجہ بالا ارشادات نبوی ﷺ سے واضح ہوا کہ اسلام رفاہ وفلاح عامہ اور خدمت خلق کا دین ہے۔ دین اسلام مسلمانوں کو ہر معاملے میں خدمت خلق اور رفاہ عامہ کی ترغیب و تلقین کرتا ہے۔
صحابہ کرام کے خدمت خلق کے عملی مظاہر
یوں تو اسلام کے آغاز سے لے کر اب تک ہر دور میں خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار بندگان خدا موجود رہے مگر خیر القرون میں ایسے افراد کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ صحابہ کرام کی سیرت کا خدمت خلق کے پہلو کے اعتبار سے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندار انفاق واکرام کرنے، عطایا وہدایا دینے اور اپنے دوست واحباب اور عامۃ المسلمین کو نوازنے کے حیران کن جذبات پائے جاتے تھے۔ صحابہ کرام کے جود وسخا کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات وہ اپنا تمام مال و اسباب راہ خدا میں لوٹا کر بھی بجائے پریشانی کے خوش ہوتے تھے اور سجدہ شکر بجالاتے تھے۔ در اصل ان کا مقصد اللہ کی رضا وخوشنودی کا حصول اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمان برداری تھا۔ وہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرتے ہوئے کوئی دنیاوی طمع اور لالچ نہیں رکھتے تھے اس وہ وجہ سے وہ مال لٹانے پر بھی اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے تھے۔ ان کے اس صفت کے بارے ارشاد باری تعالی ہے:
وَيُطۡعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسۡكِينٗا وَيَتِيمٗا وَأَسِيرًاo إِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمۡ جَزَآءٗ وَلَا شُكُورًا([8])
اس طرح کے دیگر ارشادات الہٰی کے علاوہ صحابہ کرام کے پیش نظر آپ کے وہ ارشادات گرامی بھی تھے جن میں آپ ﷺ نے غرباء و مساکین اور معاشرے کے دیگر طبقات کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ خدمت خلق کے حوالے سے آپﷺ کے ارشادات مبارکہ کو صحابہ کرام نے کس طرح حرز جاں بنایا اس بارے میں نہایت ایمان افروز واقعات کتب تاریخ و سیر میں موجود ہیں۔ ا س معاملے میں صحابہ کرام ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں رہتے تھے۔ ذیل میں صحابہ کرام ﷺ کے خدمت خلق کے چند عملی مظاہر بیان کیے جائیں گے۔
صحابیات رضي الله عنهن کے رفاہ عامہ اور خدمت خلق کے عملی مظاہر
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مردوں کی شانہ بشانہ خواتین صحابیات نے بھی دین کے لیے بڑ ی قربانیاں دیں۔ اس کے لیے اُنھوں نے قریب ترین تعلقات اور رشتوں کی بھی پرواہ نہ کی۔خاندان اور قبیلہ سے جنگ مول لی۔مصیبتوں کو برداشت کیا۔گھر با ر چھوڑا۔ غرض یہ کہ مفادِدین سے اُن کا جو بھی مفاد ٹکرا یا، اُسے ٹھکرانے میں اُنہوں نے کوئی تامل اور پس و پیش نہیں کیا اور آخری وقت تک اپنے ربّ سے وفاداری کا جو عہد کیا تھا،اس کی مکمل پاسداری کی۔ ذیل میں صحابیات کے رفاہ عامہ کے فروغ کے سلسلہ میں غریبوں کی معاشی کفالت کے عملی مظاہر کا تذکرہ کروں گی۔
ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبری رسول اللہ ﷺ کے عقد نکاح میں آنے والی پہلی خوش بخت خاتون تھیں۔ آپ ﷺنے پچیس برس کی عمر میں مکہ مکرمہ میں حضرت خدیجہ سے عقد فرمایا تھا۔ سیدہ خدیجہ کے والد کا نام خویلد اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ انہوں نے چالیس برس کی عمر میں حرم نبوت میں داخل ہوکرام المؤمنین کا شرف حاصل کیا۔ پاکیزہ اخلاق کی بدولت طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں۔ جب حضور نبی اکرم ﷺ نے بعثت مبارکہ کا اعلان فرمایا تو نبوت کی تصدیق کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے اسلام لانے کی سعادت انہوں نے ہی حاصل کی۔ حضرت خدیجۃ الکبری حضورﷺ کے نکاح میں آنے کے بعدپچیس سال زندہ رہیں اور نبوت کے دسویں سال انتقال کیا۔([9])
حضرت خدیجۃ الکبری اسلام کی اولین مددگا ر خاتوں تھیں، انہوں نے آغاز اسلام سے ہی آپ ﷺ کی ڈھارس باندھی۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے:
عصر حاضر کے ایک خوبصورت لکھاری ام المونین حضرت خدیجۃ الکبری کی سخاوت وخدمت اور محتاجوں پر خرچ کرنے کی روایات کا ماحصل اس طرح بیان کیا ہے۔
ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبری کو اسلام کی وسعت پذیری سے بے حد محبت تھی وہ اپنے غیر مسلم عزیز و اقارب کے طعن و تشنیع کی پرواہ کیے بغیر اپنے آپ کو تبلیغ حق میں رسول اللہ ﷺ کا دست وبازو ثابت کررہی تھیں۔ حضرت خدیجۃ الکبری نے اپنا تمام مال اسلام اورعلم کوپھیلانے کے لیے خرچ کردیا اور اپنی ساری دولت بیواؤں، یتیموں کے لیے وقف کردی۔ گویا حضرت خدیجہ الکبری نے علم کی اشاعت کے لیے مالی قربانی دی۔([11])
اور سب سے زیادہ تقویت اسلام کی اشاعت کو جس ہستی سے پہنچی و ہ حضرت خدیجہ ہی تھیں انہوں نے نہ صر ف اسلام قبول کیا بلکہ اسلام سے اتنی محبت تھی کہ چاہتی تھیں کہ اسلام پھیلے اس کے لیے آپ نے حضور ﷺ کا بھرپور ساتھ دیا۔ اسی وجہ سے قریش کی کئی معزز خواتین نے انہی کی ترغیب سے اسلام قبول کیا۔ ([12])
ام المؤمنین حضرت خدیجہ نے حضور نبی اکرم ﷺکی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ اور ان کے پورے قبیلے کی خشک سالی کے دوران بھرپور مالی امداد فرمائی۔ ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ حلیمہ بنت عبد اللہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کے پاس مکہ مکرمہ پہنچیں، یہ وہ زمانہ تھا کہ رسول اللہ حضرت خدیجۃ الکبری سے نکاح کر چکے ـتھے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ نے حضور نبی اکرم ﷺ خشک سالی، گرانی اور مویشیوں کے ہلاک ہو جانے کی شکایت کی۔
"حضور نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین سیدہ خدیجہ سے اس بارے گفتگو کی تو انہوں نے حضرت حلیمہ سعدیہ کو ذاتی مال میں سے چالیس بکریاں دیں اور سواری کے لیے اونٹ بھی عنایت کیاجو سامان و متاع سے لدا ہوا تھا۔ حلیمہ سعدیہ یہ سب کچھ لے کر اپنے خاندان میں لوٹ آئیں۔"
عصر حاضر میں جہاں کہیں قدرتی آفات آتی ہیں یا قحط سالی آجاتی ہے تو ملک بھر سے رفاہی وفلاحی کام کرنے والی تنظیمات اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے ایک مسلمان خاتون کا کردار تھا کہ انہوں نے مصیبت زدہ خاندان کی مدد کے لیے رفاہی کردار ادا کیا۔
حضرت خدیجہ کی ذات جذبہ ایثار و قربانی اور مال ودولت سے بے نیازی اور شان استغنی کا مظہر تھی انہوں نے دل وجان سے اپنے آپ کو اور اپنی تمام دولت کو اسلام کے فروغ کے لیے وقف کردیا تھا وہ ہر ابتلا وآزمائش میں آپ ﷺکا ساتھ دیتی رہیں۔ اس ضمن میں ایک روایت میں آپ ﷺکا فرمان ہے:
"سیدہ خدیجہ نے مجھے اپنی مال ودولت میں حصہ دار بنایا۔"
اس حوالے سے ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے لکھا ہے:
"مقاطعہ شعب ابی طالب میں حجا ز کی رئیسہ مکہ کی مقدس خاتون اور سید الانبیاء ﷺکی رفیقہ حیات سیدہ خدیجۃ الکبری بھی فاقوں کا شکار ہوگئیں، دھن دولت جاتا رہا معاشی حالات بھی دگرگوں ہوگئے اورقیدیوں جیسی زندگی گزارنا پڑی لیکن وفاداری، خدمت گزاری، حوصلہ افزائی اور جانثاری میں کسی قسم کی کمی نہ آئی، نہ شکوہ و شکایت کے الفاظ زبان پر آئے بلکہ صبر وشکر سے دن گزرتے رہے۔ سیدہ خدیجہ نے اپنا سرمایہ تھوڑا تھوڑا کرکے حاجت مندوں میں تقسیم کردیا تھا اور ا ب رفتہ رفتہ ان کا سارا اثاثہ ختم ہورہا تھا ان حالات میں سیدہ خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام اکثراوقات خفیہ طورپر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ تک غلہ پہنچایا کرتے مگرایک دن جب ابوجہل نے انہیں عین موقع پر دیکھ لیا توان کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا اور بڑے طیش میں آکر بولا تم بنی ہاشم کے لیے غلہ لے جارہے ہو حالانکہ قوم کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ ان لوگوں سے کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔ تم نے پوری قوم کو دھوکا دیا ہے اور یوں قومی فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے ا ب میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ مکہ میں رسوا نہ کردوں۔ حکیم بن حزام نے نہایت سکون سے کہا میں اپنی پھوپھی سیدہ خدیجہ کے لیے غلہ لے جارہا ہوں اور مجھے اس کا حق پہنچتا ہے کہ میں ان کی خدمت کروں آخر صلہ رحمی سے تم مجھے کس طرح روک سکتے ہو۔ابوجہل نے بکنا شروع کردیا لیکن اسی اثناء میں ابوالبختری بن ہشام جو بنی اسد بن عبدالعزی بن کسی میں سے تھااور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ کا قریبی رشتہ دارتھا وہاں آپہنچا اس نے جب ابوجہل کو بکتے سنا تو پوچھا: کیا بات ہے تم زور زور سے چیخ رہے ہو۔ ابوجہل، نے کہا دیکھویہ بنی ہاشم کے لیے غلہ لے جارہا ہے جبکہ پوری قوم ان کامقاطعہ کرچکی ہے، ابوالبختری نے کہا اسے چھوڑ دویہ اس کی پھوپھی کا غلہ ہے جو ان کے پاس لے جارہا ہے، کیا توان چیزوں کو بھی ان کے پاس جانے سے روکتا ہے جو ان کی اپنی ہیں۔"([15])
حضرت خدیجہ کے ایثار کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا: میرے آقا! اس مال و دولت کے مالک آپ ہیں جس طرح چاہیں تصرف فرمائیں۔ میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی مال بعثت کے بعد نصرت اسلام کا سبب بنا اور حضور ﷺ معاشی فکر سے آزاد ہوکر دعوت دین کا فریضہ نبھاتے رہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ امیر المؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق کی صاحبزادی تھیں۔ ان کا لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی۔ حضورﷺنے سن١١ نبوی میں حضرت عائشہ صدیقہ سے نکاح کیا اور سن ایک ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ حضور نبی اکرم ﷺکے وصال مبارک کے بعد ٤٨ سال بقید حیات رہیں اور حضرت معاویہ کے دور حکومت میں وصال فرمایا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کو علمی اعتبار سے عورتوں میں سب سے زیادہ فقیہہ اور صاحب علم ہونے کی بناء پر بعض صحابہ کرام پر بھی فوقیت حاصل تھی۔ آپ فتوی بھی دیتی تھیں اور بے شمار احادیث ان سے مروی ہیں۔ خطابت کا ملکہ بھی تھا۔ غریبوں اور محتاجوں کی رفاہ کے لیے آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ کے ہاں جب بھی مال و دولت آئی تو انہوں نے سب سے پہلے غریبوں کی کفالت کی۔ آپ کی سخاوت اور فیاضی کے بارے چند عملی نمونے درج ذیل ہیں۔
حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں:
مندرجہ بالا روایت یہ بھی ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر نے کہا کہ آپ کے ہاتھوں کو روک دینا چاہیے۔ ام المؤمنین نے فرمایا: کیا تو میرے ہاتھوں کو روکتا ہے ؟ اور نذر مانی کہ اس سے کبھی کلام نہیں کروں گی توانہوں نے قریش کے چند لوگوں سے خاص کہ حضور کے ننھیالیوں سے سفارش کرائی۔([17])
تو گویا آپ نے کسی ایسی بات و مشورہ کو پسند نہ فرمایا جولوگوں کی بھلائی کے کاموں اور رفاہ عامہ میں رکاوٹ ہو۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے جذبہ سخاوت کا یہ عالم تھا کہ جب مال راہ خدا میں لٹانے پہ آتیں تو گھر والوں کے لیے بھی کچھ بچا کر نہ رکھتیں۔ حضرت ام ذرہ، جو کہ حضرت عائشہ کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن زبیر نے دو تھیلوں میں آپ کو اسی ہزار یا ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا، آپ نے (مال رکھنے کے لیے) ایک تھال منگوایا اور آپ اس دن روزے سے تھیں، آپ وہ مال لوگوں میں تقسیم کرنے کے لیے بیٹھ گئیں، پس شام تک اس مال میں سے آپ کے پاس ایک درہم بھی نہ بچا، جب شام ہو گئی تو آپ نے فرمایا: اے لڑکی! میرے لیے افطار کے لیے کچھ لاؤ، وہ لڑکی ایک روٹی اور تھوڑا سا گھی لے کر حاضر ہوئی، پس ام ذرہ نے عرض کیا: کیا آپ نے جو مال آج تقسیم کیا ہے اس میں سے ہمارے لیے ایک درہم کا گوشت نہیں خرید سکتی تھیں جس سے آج ہم افطار کرتے، حضرت عائشہ نے فرمایا :
حضرت عبد اﷲ بن زبیر بیان کرتے ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت معاویہ نے ان کی خدمت میں ایک لاکھ درہم بھیجے تو شام ہوتے تک آپ نے سب غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کردئیے اوراپنے لیے کچھ نہ رکھا۔حضرت عطا ءبیان کرتے ہیں:
اسلام نے زندگی گزارنے کے ہر ذریں اصول کو متعارف کروایا خواہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو اورمعاشرے کو خوشحالی کی طرف گامزن کرنے کے لیے امر ء کی توجہ غرباء کی طرف مبذول کروائی اور اس کا اسوہ رسول اکرمﷺ نے عید کے موقع ہر دو یتیم بچوں کی کفالت کا ذمہ قبول کرکے پیش کیا۔یہی وجہ ہے کہ قرون اولیٰ میں صحابہ کرام اور صحابیات نے غربا کی اس قدر معاشی کفالت کی اور یتیموں کی پرورش کاایسا حق ادا کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں خوشحالی کا یہ عالم تھاکہ لوگوں کو ڈھونڈنے سے بھی ایسا شخص نہیں ملتا تھا کہ جس کو وہ صدقہ و خیرات یا زکوۃ دے سکیں۔ چونکہ ہم یہاں خواتین کے کردار پر بحث کررہے ہیں لہذ ا ذیل میں غریبوں کی پرورش کے حوالے سے چند مثالیں درج ہیں۔
حضرت عائشہ نے ایک انصاری لڑکی کی پرورش کی تھی جب اس کی شادی ہونے لگی تو آپ ﷺتشریف لائے دیکھا کہ یہ رسم نہایت سادگی سے انجام دی جارہی ہے تو فرمایا:
حضور نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد حضرت سودہ بنت زمعہ سے شادی کی۔([22])
ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ کا تعلق قریش کے ایک قبیلے عامر بن لوی سے تھا۔ ان کی پہلی شادی سکران بن عمرو سے ہوئی تھی جن کا انتقال ہو گیا تووہ حضور ﷺ کے نکاح میں آئیں اور حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں وصال فرمایا۔([23])
سخاوت و فیاضی ام المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ کے اوصاف کے نمایاں پہلو تھے۔ حضرت سودہ کی طبیعت میں شروع سے دنیا سے دوری کی صفت موجود تھی، دنیا کی محبت سے دل بالکل پاک تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی صحبت و تربیت نے اس پر سو نے پہ سہاگہ کا کام کیا۔ آپ ﷺ کی تربیت نے آپ کو سخاوت و فیاضی کے اس مرتبہ تک پہنچایا جو بہت کم کسی کو ملتا ہے۔آپ کی ساری زندگی غریب پروری، دریادلی، فیاضی، سخاوت اور شان استغنا کی غماز تھی۔
ایک مرتبہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب نے دراہم سے بھری ہوئی ایک تھیلی سیدہ سودہ کی خدمت میں بھیجی، آپ نے پوچھا اس میں کیا ہے؟ بتایا گیا کہ اس میں دراہم ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا:
یعنی تھیلی تو کھجوروں کی ہے اور اس میں دراہم ہیں۔ یہ کہا اور اسی وقت تمام دراہم ضرورت مندوں میں کجھوروں کی طرح تقسیم فرما دیے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت سودہ اپنے مال ودولت کو وہ رفاہ عامہ کے کاموں میں بے دریغ خرچ کرکے نہایت مسرت اور خوشی کا اظہار کرتی تھیں۔
ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش کا نام زینب اور کنیت ام الحکم تھی۔ والد کا نام جحش بن رباب اور والدہ کا نام امیمہ تھا جو حضورﷺکی پھوپھی تھیں۔ اس طرح حضرت زینب حضور اکرم ﷺکی پھوپھی زاد تھیں۔ آپ کی دو بیوہ بھابھیاں بھی ازواج مطہرات میں شامل تھیں۔ (ام حبیبہ جو عبید اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں اور زینب بنت خزیمہ جو عبد اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں۔)
حضرت زینب کا پہلا نکاح حضرت زید بن حارثہ سے ہوا جو آپﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ رہ سکے اور حضرت زید بن حارثہ نے طلاق دے دی اور وحی الہی کے مطابق آپ ﷺنے حضرت زینب سے نکاح کیا۔ ان کی اس خصوصیت میں کوئی اور زوجہ محترمہ شریک نہ تھیں۔
ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت و عنایت پر بے پناہ بھروسہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے حضور نبی اکرمﷺ کے ساتھ شادی کے سلسلے میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع و بھروسہ کیا تھا۔ خشیت الہٰی سے لرزاں و ترساں رہتی تھیں کہ کہیں کوئی قول و فعل اللہ کی رضا کے خلاف نہ ہوجائے۔ رسول اکرم ﷺ کی محبت کے جذبے سے بھی سرشار تھیں اس بات پر کامل یقین تھا کہ رشد و ہدایت، رضائے الہٰی اور اخروی انعامات کا واحد ذریعہ محبوب رب العالمین ﷺ کی محبت ہے اور جس دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت و عشق نہیں وہ دل ویران ہے اور شیطان کی آماجگاہ ہے، اللہ تعالیٰ سے دور ہے، قابل نفرت ہے۔([25])
حضرت زینب بنت جحش سب سے زیادہ دین دار، زیادہ پرہیزگار، زیادہ راست گفتار، زیادہ فیاض، مخیر اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں زیادہ سرگرم تھیں۔([26])
حضرت عائشہ فرماتی ہیں:
سخاوت و فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ حضرت زینب بنت جحش کا طرہ امتیاز تھا اس لحاظ سے وہ یتیموں، بیواؤں، فقراء و مساکین کی پناہ گاہ تھیں۔ حضرت عثمان الجحشي بیان کرتے ہیں:
ابن کثیر میں ہے: وکانت کثیرة الخیر والصدقة. ([29])
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ازواج حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس اکٹھی ہوئیں، ہم نے دریافت کیا آپ کو کونسی بیوی پہلے ملے گی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: أَطْوَلُکُنَّ یَدًا. ([30])
"(تم میں سے وہ مجھے جلد ملے گی)جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہوگا۔"
یہ الفاظ مبارک سنے تو سب امہات المومنین رضی اللہ عنہن اپنے ہاتھ کی لمبائی دیکھا کرتی تھیں لیکن اس سے مراد سخاوت و انفاق فی سبیل اللہ تھا اور اس میں حضرت زینب بہت آگے تھیں لہذا ہاتھ انہیں کے دراز تھے حضور اکرم ﷺ کی پیشگوئی کا مصداق حضرت سیدہ زینب ثابت ہوئیں اور سرور کونین ﷺ کے وصال مبارک کے بعد حضرت زینب کا ہی سب سے پہلے انتقال ہوا تھا۔
حضرت زینب قانع اور فیاض طبع تھیں اور اپنے دست وبازو سے معاش کمانے کا انتظام کرتی تھیں اوراس کو خدا کی راہ میں لٹا دیتی تھیں۔ ابن عبد البر نے لکھا ہے:
ایک دفعہ حضرت زینب کو حضرت عمر فاروق نے نفقہ بھیجا تو انہوں نے اس پر کپڑا ڈال دیا اورحضرت برزۃبنت رافع کو حکم دیا کہ میرے خاندانی رشتہ داروں اور یتیموں میں تقسیم کردو۔ حضرت برزہ نے عرض کیا تو پھر ہمارا بھی کچھ حق ہے؟ انہوں نے کہا: کپڑے کے نیچے جو کچھ ہے وہ تمہارا ہے دیکھا تو پچاسی درہم نکلے، جب تمام مال تقسیم ہوچکا تو دعا کی:
چنانچہ آپ دعا قبول ہوئی اور وہ اسی سال انتقال فرما گئیں۔
اس روایت سے حضرت زینبﷺکی فیاضی اور خودداری کا اندازہ ہوتا ہے کہ سخت حالات میں بھی حضرت عمر فاروق کے عطیہ سے فائدہ نہ اٹھایا بلکہ جذبہ رفاہ عامہ کے تحت محتاج قرابت داروں میں تقسیم کردیا۔ عصر حاضر میں اسی جذبہ ایثار اورخودداری کی ضرورت ہے جو رفاہ عامہ کی راہ ہموار کرسکے۔
حضرت زینب کا وصال مدینہ منورہ کے غریبوں، فقیروں اور مسکینوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان تھا کہ آپ ان کی پناہ گاہ تھیں۔
ام المؤمنین حضرت زینب بنت خزیمہ پہلے عبد اللہ بن جحش کے عقد میں تھیں جو غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ ان کی شہادت کے بعدآپﷺ سے نکاح ہوا لیکن صرف دو تین ماہ کے بعد ہی انتقال کیا۔([33])
حضرت زینب بنت خزیمہ بڑی رحم دل،منکسر المزاج، اور سخی تھیں۔ آپ ہمہ وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتی تھیں اور ہمیشہ آپ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیا کرتی تھیں۔ فقراء اور مساکین کے ساتھ فیاضی کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں ان کی کنیت ام المساکین مشہور ہوگئی تھی۔([34])
اگرچہ آپ کا بچپن بڑے ناز و نعم میں گذرالیکن اس دور کی دوسری بچیوں کی بہ نسبت آپ بڑی منفرد تھیں۔ بچپن ہی سے انھیں غریبوں، مسکینوں اور فاقہ مستوں کو کھانا کھلا نے کا بڑا شوق و ذوق تھا۔ جب تک وہ کسی کو کھانا نہ کھلا لیتیں انھیں سکون محسوس نہ ہوتا۔ ان کے باپ خزیمہ کا شمار اس زمانے کے بڑے رئیسوں میں ہوتا تھا۔ اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہ تھی۔باوجود اس دولت و ثروت کے حضرت زینب بنت خزیمہ کے اندر بچپن ہی سے عاجزی، انکساری اور فیاضی کی صفت پائی جاتی تھی۔اسی وجہ سے زمانہ جاہلیت سے ہی لوگ آپ کی اس صفت کی وجہ سے آپ کو ام المساکین کے لقب سے یاد کرنے لگے تھے۔
ابن ہشام لکھتے ہیں:
"حضرت زینب بنت خزیمہ کو لوگوں پر ان کی رحم دلی اور نرمی کی وجہ سے ام المساکین کہا جاتا تھا۔"
طبرانی نے ابن شہاب الزہری سے روایت کیا ہے کہ جب حضور ﷺ نے زینب بنت خزیمہ الہلالیہ سے نکاح فرمایا، اس وقت بھی ان کی کنیت ام المساکین تھی۔ یہ نام اور کنیت بوجہ کثرت سے غرباء اور مساکین کو کھانا کھلانے سے مشہور تھیں۔([36])
حضرت زینب بنت خزیمہ وہ ام المومنین تھیں جو بچپن ہی سے غریبوں اور مسکینوں کوکھانا کھلا کربڑی راحت اور خوشی محسوس کرتی تھیں۔ بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرتی تھیں اگر خاندان کے کسی فرد نے روکا بھی تو اس کی پرواہ نہ کی کیونکہ جانتی تھیں کہ اس سے رزق میں کمی نہیں ہوتی لہذا سب لوگ انہیں ام المساکین کے لقب سے یاد کرتے اور یہی نام زباں زد عام و خاص ہوگیا۔
علامہ ابن عبد البر نے لکھا ہے:
آپ عبداللہ کی بیٹی اور ابن مسعود کی بیوی ہیں اوران کی ام ولد ہیں۔ انہوں نے بارگاہ نبوی ﷺ میں عرض کیا: یارسول اللہ! میں ایک صنعتکار عورت ہوں اوراپنی مصنوعات کو فروخت کرتی ہوں اور میرے پاس اور میری اولاد کے پاس کچھ نہیں ہے اور میں نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ کیا میں اپنے شوہر اور اپنی اولاد پر خرچ کرسکتی ہوں ؟ تو آپ ﷺ فرمایا:
مندرجہ بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابیات خود کماتی بھی تھیں اوراپنے شوہر اور گھر والوں کے ساتھ مالی معاونت بھی کیا کرتی تھیں۔ لہذا عصر حاضر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صحابیات کی زندگی کا مطالعہ کر کے ان کو مشعل راہ بنایا جائے اور خواتین کو بھی رفاہ عامہ کے کاموں میں حصہ لینے دیا جائے۔
قرون اولی کی خواتین ایثار و قربانی کا پیکرتھیں۔ وہ رفاہ عامہ کے کاموں میں بھر پور حصہ لیتی تھیں خود بھوکا رہ کر اور تھوڑا کھاکر بھی گزارہ کرلیتی تھیں لیکن دوسروں کو پرتکلف کھانے پیش کرتیں۔ حضرت ابوہریرہ کی والدہ محترمہ حضرت امیمہ نے ایک مرتبہ مسلمانوں کو کھانا کھلایا جن میں روٹیاں، کچھ زیتون اور کچھ تیل اور نمک اس سے پہلے خود کھجور اورپانی پر گزارہ کرتی تھیں۔
صحیح بخاری میں ایک خاتون کا ذکر ہے جو اپنے کھیتوں میں چقندر بوتی اور جمعہ کے دن ان کا سالن بنا کر صحابہ کرام کو کھلاتیں۔ حضرت سہل بیان فرماتے ہیں:
عصر حاضر میں لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ خوراک کا ہے۔ خود کما کر اللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق سے عام لوگوں کے رفاہی امور پر خرچ کرنا حضور ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام کا خاصہ تھا۔ رفاہی امور کی انجام دہی میں خواتین صحابیہ رضی اللہ عنہن بھی پیش پیش تھیں۔
رفاہ عامہ میں نمایاں کردار ادا کرنے والی صحابیات میں سے ایک نام حضرت اسماء بنت ابی بکر کا ہے۔ سیرت نگاروں کو ان کے اس وصف کا خصوصی طور پہ تذکرہ کیا ہے۔سعید اختر یوسفی لکھتے ہیں:
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ایک مرتبہ حضور نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس تواس مال کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے جو زبیر مجھے دیتے ہیں، اگر میں اس مال سے کچھ خرچ کروں تو کیا مجھے گناہ ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
"جس قدر دے سکو دو اور جمع نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہارے معاملے میں جمع کرکے رکھے گا۔"
حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا زو جہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے کہا :میں مسجد میں تھا کہ نبی کو یہ کہتے ہوئے دیکھا،آپ نے فرمایا :"عورتو!تم صدقہ کرو اگرچہ زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔"حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے شوہرعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان یتیم بچوں پر خرچ کرتی تھیں جو ان کی پرورش میں تھے ۔انھوں نے اپنے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کریں آیا میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں تم پر اور ان یتیم بچوں پر خرچ کروں ؟حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:تم خود ہی رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کرلو،چنانچہ میں نبی ﷺ کے پاس گئی اور آپ کے دروازے پر ایک انصاریہ عورت کو پایا۔ اس کی حاجت بھی میری حاجت جیسی تھی۔اتنے میں ہمارے پاس سے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ گزرے تو ہم نے کہا کہ نبی ﷺ سے دریافت کرو، آیا میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں اپنے شوہراور ان یتیم بچوں پر خرچ کروں جو میری پرورش میں ہیں؟اور ہم نے یہ بھی کہا کہ آپ سے ہمارا ذکر نہ کرنا ۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر گئے اور آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا:"وہ دوعورتیں کون ہیں:"بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے، آپ نے دریافت فرمایا:"کون سی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی۔آپ نے فرمایا:
نَعَمْ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ۔([42])
ہاں!اس کے لیے دواجرہیں۔ایک قرابت داری(صلہ رحمی) کا ثواب اور دوسرا صدقے کا اجر۔
صحابیات خدمت خلق کے جذبے سے اس قدر سرشار تھیں نہ صر ف سالانہ اورماہانہ بنیاد پر غرباء کی کفالت کرتیں اور صدقہ و خیرات کرتیں بلکہ غرباء کے بچوں کی پرورش کرتیں ان کے نان و نفقہ کا خیال رکھتیں یہاں تک کہ ان کی شادی کے فرائض بخوبی سرانجام دیتیں۔ صحابیات رضی اﷲ عنھن کے اسوہ سے عصر حاضر میں خواتین کو جو راہنما اصول ملتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:#
-
صحابیات رضی اﷲ عنھن عملا خدمت خلق کے امور اور حسب ضرورت تجارتی امور سر انجام دیتی تھیں۔
-
پس عصر حاضر میں بھی خواتین حسب ضرورت تجارت کر سکتی ہیں جس سے وہ اپنے خاندان پر خرچ کر سکتی ہیں۔
-
خواتین جنگ اور ہنگامی حالات میں مریضوں کی خدمت اور دیگر امور میں معاونت کر سکتی ہیں۔
-
عصر حاضر میں بھی خواتین خدمت خلق کے ایسے ہی جذبے سے سرشار ہوں تاکہ معاشرے کی بے حسی کا خاتمہ ممکن ہو۔
حوالہ جات
- ↑ () بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ . ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء. الصحیح، کتاب فضائل الصحابہ، باب اسلام ابی ذر ، ۳: ۱۴۰۱، دار القلم، رقم: ۳۸۶۱ ، بیروت. لبنان + دمشق، شام۔
- ↑ () بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ . ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء. الصحیح، کتاب فضائل الصحابہ، باب اسلام ابی ذر ، ۱: ۳۱، دار القلم، رقم: ۵۷، بیروت. لبنان + دمشق، شام۔
- ↑ () احمد بن حنبل، ابو عبد اللہ بن محمد. ۱۳۹۸ھ/۱۹۷۸ء، المسند،۲: ۳۶۱، المکتب الاسلامی ، رقم: ۸۷۱۷( بیروت، لبنان۔
- ↑ ()مسلم، ابو الحسین ابن الحجاج بن مسلم بن ورد قشیری نیشاپوری ،س ن،الصحیح، 3/1506، دار احیاء التراث العربی ، رقم: 1895، بیروت، لبنان
- ↑ ()ابن ماجہ، ابو عبد اﷲ محمد بن یزید قزوینی،۱۹۹۸ء۔ السنن، 2/1083، دار الکتب العلمیہ ، الرقم: 3251،بیروت، لبنان
- ↑ ()بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ ، ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء، الصحیح، کتاب فضائل الصحابہ، باب اسلام ابی ذر ، 1: 3، دار القلم، رقم: 12، بیروت. لبنان + دمشق، شام۔
- ↑ ()ابو داود، سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد ازدی سبحستانی۔ ۱۹۹۴ء، السنن،2/130، دار الفکر ، الرقم:1682، بیروت، لبنان۔
- ↑ () سورۃ الدھر، ۷۶: ۸-۹۔
- ↑ ()ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی ، ۱۹۹۲ء. لسان المیزان، 7/600-604، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، الرقم: 11086، بیروت، لبنان ۔
- ↑ ()ابن ہشام، ابو محمد عبد الملک حمیری .۱۴۱۱ھ، السیرۃ النبویۃ، 2/264، دارالجیل ، بیروت، لبنان۔
- ↑ () (طالب ہاشمی، س ن، ص: ۳۶)
- ↑ ()رازق الخمیس ، ۱۹۵۵ء. مسلمانوں کی مائیں، 87، عصمت بک ڈپو ،کراچی ، پاکستان۔
- ↑ ()ابن سعد، ابو عبد اللہ محمد، ۱۹۷۸ء۔ الطبقات الکبری،1/113، دار الفکر ، بیروت، لبنان۔
- ↑ ()ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان. ۱۹۹۷ء. سیر أعلام النبلاء،2/117، دار الفکر ، بیروت، لبنان۔
- ↑ ()طاہر القادری، ڈاکٹر . ۱۹۹۶ء، سیرت حضرت خدیجۃ الکبری، 127، منہاج القرآن پبلی کیشنز، لاہور. پاکستان ۔
- ↑ ()بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ . ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء. الصحیح، کتاب فضائل الصحابہ، باب اسلام ابی ذر ، ۳: ۱۲۹۱، دار القلم، رقم: ۱۳۱۴، بیروت،لبنان + دمشق، شام۔
- ↑ ()(ایضاً)
- ↑ ()ابو نعیم، احمد بن عبد اﷲ بن احمد بن اسحاق بن موسیٰ بن مہران اصبہانی.۱۹۸۰ء، حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء،2/27، دار الکتاب العربی ، بیروت، لبنان
- ↑ ()بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ . ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء. الصحیح، کتاب فضائل الصحابہ، باب اسلام ابی ذر ، 1: 196، دار القلم، رقم: 286، بیروت. لبنان + دمشق، شام۔
- ↑ ()ابن جوزی، ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد بن علی بن عبید اللہ ، ۱۴۰۹ھ/۱۹۸۹ء، صفوۃ الصفوۃ، 2/29، دارالکتب العلمیہ ،بیروت، لبنان۔
- ↑ ()ابن حبان، ابو حاتم محمد بن حبان بن احمد بن حبان . ۱۹۹۳ء. الصحیح، ۱۳/۱۸۵، مؤسسۃ الرسالۃ، الرقم: 5875، بیروت، لبنان ۔
- ↑ ()حاکم، ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن محمد ، 1990ء،المستدرک علی الصحیحین، 4/4، دار الکتب العلمیہ، رقم: 6713، بیروت، لبنان۔
- ↑ ()ابن عبد البر، ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد، ۱۴۱۲ھ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب،4/1827، دار الجیل ،الرقم: 3394، بیروت. لبنان
- ↑ ()ابن سعد، ابو عبد اللہ محمد، ۱۹۷۸ء۔ الطبقات الکبری،۸/۵۶، دار الفکر ، بیروت، لبنان۔
- ↑ ()ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی ، ۱۹۹۲ء. لسان المیزان، 7/668، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، الرقم: 11086، بیروت، لبنان ۔
- ↑ ()ابن کثیر، ابو الفداء إسماعیل بن عمر ، ۱۹۹۸ء، البدایۃ والنہایۃ، 7/104، دار الفکر، بیروت، لبنان
- ↑ ()مسلم، ابو الحسین ابن الحجاج بن مسلم بن ورد قشیری نیشاپوری .س ن. الصحیح، 4/1891، دار احیاء التراث العربی ، رقم: 2442، بیروت، لبنان
- ↑ ()حاکم، ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن محمد ، 1990ء،المستدرک علی الصحیحین، 4/۲۵، دار الکتب العلمیہ، رقم: 6775، بیروت، لبنان۔
- ↑ ()ابن کثیر، ابو الفداء إسماعیل بن عمر ، ۱۹۹۸ء، البدایۃ والنہایۃ، ۴/148، دار الفکر، بیروت، لبنان
- ↑ ()بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ . ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء. الصحیح، کتاب فضائل الصحابہ، باب اسلام ابی ذر ، ۲: ۵۱۵، دار القلم، رقم: ۱۳۵۴، بیروت،لبنان + دمشق، شام۔
- ↑ ()ابن عبد البر، ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد، ۱۴۱۲ھ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب،۷/126، دار الجیل ،الرقم: 3394، بیروت، لبنان ۔
- ↑ ()ابن سعد، ابو عبد اللہ محمد، ۱۹۷۸ء۔ الطبقات الکبری،۳/301،310، دار الفکر ، بیروت، لبنان۔
- ↑ ()حاکم، ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن محمد ، 1990ء،المستدرک علی الصحیحین، 4/۳۶، دار الکتب العلمیہ، رقم: 6804، 6806، بیروت، لبنان
- ↑ ()حاکم، ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن محمد ، 1990ء،المستدرک علی الصحیحین، 4/۳۶، دار الکتب العلمیہ، رقم: 6805، بیروت، لبنان۔
- ↑ ()ابن ہشام، ابو محمد عبد الملک حمیری .۱۴۱۱ھ، السیرۃ النبویۃ، ۶/61، دارالجیل ، بیروت، لبنان۔
- ↑ ()طبرانی، سلیمان بن احمد بن ایوب بن مطیر اللخمی،۱۹۸۳ء، المعجم الکبیر، 24/۵۷، مکتبۃ العلوم والحکم، الرقم:148، موصل، عراق۔
- ↑ ()ابن عبد البر، ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد، ۱۴۱۲ھ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب،۷/1۳۰، دار الجیل ،الرقم: 6961، بیروت، لبنان ۔
- ↑ ()طبرانی، سلیمان بن احمد بن ایوب بن مطیر اللخمی،۱۹۸۳ء، المعجم الکبیر، 24/263، مکتبۃ العلوم والحکم، الرقم:667، موصل، عراق۔
- ↑ ()بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ . ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء. الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب اسلام ابی ذر ، ۱: ۳۱۷، دار القلم، رقم: ۸۹۶، بیروت. لبنان + دمشق، شام۔
- ↑
()ابن سعد، الطبقات الكبرى، 8 : 19
- ↑ ()مسلم، ابو الحسین ابن الحجاج بن مسلم بن ورد قشیری نیشاپوری .س ن. الصحیح، ۲/۷۱۴، دار احیاء التراث العربی ، رقم: 1029، بیروت، لبنان
- ↑ ()(ماہنامہ اشراق، اکتوبر ٢٠١١ء،ص ٢٢)
Article Title | Authors | Vol Info | Year |
Article Title | Authors | Vol Info | Year |