Search from the Journals, Articles, and Headings
Advanced Search (Beta)
Home > Khair-ul-Ummah > Volume 1 Issue 1 of Khair-ul-Ummah

تشکیل معاشرہ میں تصوف کی بنیاد اخلاق حسنہ کا کردارایک تحقیقی مطالعہ |
Khair-ul-Ummah
Khair-ul-Ummah

Article Info
Authors

Volume

1

Issue

1

Year

2021

ARI Id

1682060062721_2078

Pages

53-68

DOI

10.46896/khairulummah.v1i01.7

PDF URL

https://khairulumma.com/index.php/about/article/download/7/6

Chapter URL

https://khairulumma.com/index.php/about/article/view/7

حُسن اخلاق، احکام القرآن کے حوالے سے قرآن کریم کے اہم مقاصد میں سے ہے،تو چاہیے،کہ ہرمسلمان اس کواپنا نصب العین بنالےکیوں کہ انسان کی اخروی زندگی بنانے میں حسن اخلاق کی بنیادی اثر ہےاور دنیا میں بہتر معاشرہ بنانے کا ضامن ہے ،یعنی دیناوی ،اخروی زندگی بنانے میں اس کا ہم کردار ہے،جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ابنیاء علیہم السلام ،اور خاص کرنبی آخر الزمان ﷺ کو عفو،ودر گزر کی تعلیم دی ہے،جو کہ خوش اخلاقی کے باب میں ایک بنیادی چیز کی حیثیت رکھتی ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے

"خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ"1

ترجمہ: (اےپیغمبر)درگزرکارویہ اپناؤ،اور (لوگوں کو) نیکی کاحکم دو،اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو۔

اس آیت کریمہ کی تفسیر کے بارے مفسرامام جصاصؒ فرماتے ہیں

"واللَّه مَا أَنْزَلَ اللَّه هَذِهِ الْآيَةَ إلَّا فِي أَخْلَاقِ النَّاسِ"2

ترجمہ: اللہ کی قسم!اس آیت کو اللہ تعالیٰ نے صرف لوگوں کے (اچھے اخلاق) کے بارے میں نازل کی ہے۔

اوررسول اللہ ﷺنے اپنی تعلیمات میں ایمان کے بعد جن چیزوں پر بہت زیادہ زور دیا ہے ، اور انسان کی سعادت کو ان پر موقوف بتلایا ہے ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اخلاقِ حسنہ اختیار کرے ، اور بُرے اخلاق سے اپنی حفاظت کرے ۔ رسول اللہ ﷺکی بعثت کے جن مقاصد کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے ، اُن میں ایک یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ انسانوں کا تزکیہ کریں،جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے

"وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ"3 اور اس تزکیہ میں اخلاق کی اصلاح اور درستی کی کاص اہمیت ہے کہ میں اخلاق کی اصلاح کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں ارشاد نبوی ہے"إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق"4 یعنی اصلاحِ اخلاق کا کام میری بعثت کے اہم مقاصد اور میرے پروگرام کے خاص اجزاء میں سے ہے ، اگر انسان کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کی اپنی زندگی بھی قلبی سکون اور خوشگواری کے ساتھ گزرے گی اور دوسروں کے لئے بھی اس کا وجود رحمت اور چین کا سامان ہو گا ،یہ تو خوش اخلاقی اور بداخلاقی کے وہ نقد دنیوی نتیجے ہیں جن کا ہم آپ روز مرہ مشاہدہ اور تجربے کرتے رہتے ہیں ۔

حسن اخلاق کی تعریف

1 الحُسْن"هُوَ نَباتٌ يَلْتوي على الأَشْجارِ وَله زَهْرٌ حَسَنٌ"5حُسن ان نباتات کوکہتے ہیں جو درختوں پر سے لپیٹے ہوئے ہیں،اوران کے خوبصورت پھول ہوتے ہیں۔"الْحسن الْجمال وكل مبهج مَرْغُوب فِيهِ محَاسِن (على غير قِيَاس) والعظم الَّذِي يَلِي الْمرْفق"6حُسن خوبصورتی،اور ہر وہ تروتازگی کا نام ہے،کہ جس کی طرف انسان کا میلان ہو،اور اس کی جمع محاسن ہے (علی خلاف القیاسآتی ہے)اوراس ہڈی کوکہتے ہیں ،جوکوہنی کےقریب ہو۔الْحسنى مؤنث الْأَحْسَن وَفِي التَّنْزِيل الْعَزِيز"وَللَّه الْأَسْمَاء الْحسنى"وَالْعَاقبَة الْحَسَنَة وَفِي التَّنْزِيل الْعَزِيز {فَلهُ جَزَاء الْحسنى7اس کا مؤنث"الْحسنى" قرآن مجید میں ہے،کہ اللہ تعالیٰ کا اچھے خوبصورت نام ہیں ۔اچھے انجام کو کہاجاتاہےقرآن پاک میں ہےکہ "اس کے لیے اچھا بدلہ ہے"۔

2 الخُلقکا لغوی معنی

"والخَليقَةُ الطَّبيعة والخليقةُ الخَلْق"8خلیقہ،اور خلق کامعنی ہے طبعیت،اور عادت۔

اصطلاحی تعریف

"الخُلق عبارة عن هيئة للنفس راسخة تصدر عنها الأفعال بسهولة ويسر من غير حاجة إلى فكر وروية، فإن كانت الهيئة بحيث تصدر عنها الأفعال الجميلة عقلًا وشرعًا بسهولة، سميت الهيئة: خلقًا حسنًا، وإن كان الصادر منها الأفعال القبيحة، سميت الهيئة: خلقًا سيئًا"9اخلاق اس ہیئت،اور کیفیت نفسانی قویہ کو کہتے ، جس سے افعال آسانی ،اور سہولت کےساتھ نکلتے ہو،جو فکرو سوچ کوضرورت نہ پڑے،اگراس ہیئت نفسانی سے وہ افعال ،جو عقلا،وشرعااچھے ہو،تو اس ہیئت کو"اچھے اخلاق" کہتے ہیں۔اگراس ہیئت نفسانی سے وہ افعال ،جو عقلا،وشرعااچھے نہ ہو،تو اس ہیئت کو"بُرے اخلاق" کہتے ہیں۔

حُسنِ اخلاق کی شرعی تعریف

شرعی تعریف حسنِ اخلاق کی عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ سے اسی طرح منقول ہے

"قَالَ أَبُو وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ وَصَفَ حُسْنَ الخُلُقِ فَقَالَ: هُوَ بَسْطُ الوَجْهِ، وَبَذْلُ الْمَعْرُوفِ، وَكَفُّ الأَذَى"10عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نےحُسنِ اخلاق کی تعریف اسی طرح کی ہےکہ ،خندہ پیشانی سے ملنا،اورنیکی کرنا،اور لوگوں کو تکلیف دینے سےاپنے کو منع کرنا۔

حُسنِ اخلاق کی فضیلت

رسول اللہ ﷺنے اپنی تعلیمات میں ایمان کے بعد جن چیزوں پر بہت زیادہ زور دیا ہے ، اور انسان کی سعادت کا محور بتلایا ہے ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اخلاقِ حسنہ اختیار کرے ، اور بُرے اخلاق سے اپنی حفاظت کرے ۔ رسول اللہ ﷺکی بعثت کے جن مقاصد احکام قرآن کے حوالےسے ذکر کیا گیا ہے ، اُن میں ایک یہ بھی بتایا گیا ہے، جیسےارشاد باری تعالیٰ ہے"خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ"11(اےپیغمبر)درگزرکارویہ اپناؤ،اور (لوگوں کو) نیکی کاحکم دو،اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو۔

اس بارے میں چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہے

1 انسان کی اچھائی اس کے اچھے اخلاق پرمنحصرہے ۔

"عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍوقَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا"12حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں ۔

2 بندہ کاسب سے وزنی عمل روز قیامت میں اچھے اخلاق ہوں گے۔

"عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ"13حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہسب سے وزنی چیز اعمال ترازو میں روز قیامت میں (مؤمن کے) اچھے اخلاق ہوں گے۔

3 جو شخص آپ پر ظلم کریں اس کو معاف کرنااچھے اخلاق کا تقضا ہے۔

"عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، صِلْ مَنْ

قَطَعَكَ ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ"14عقبہ بن عامر سے روایت ہے ،کہ رسول اللہ ﷺ نے

فرمایاجوآپ سے تعلق قطع کرے،آپ اس سے ملاکریں،اور جو کچھ نہ دے،آپ اس پر بخشش کریں،اور جو شخص آپ پر

ظلم کریں آپ اس کو معاف کریں۔

4 حضرت ابوذر ؓ کورسول اللہ ﷺ نےاچھے اخلاق اپنانے کی نصیحت۔

"عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا،وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ"15حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،کہ رسول اللہ ﷺ نےمجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایاکہ جہاں بھی ہواللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا،اور گنا کے پیچھے نیکی کا اہتمام کرو،اور لوگوں سےاچھے اخلاق سے یپش آؤ۔

5 رات بھر نفلی نمازیں پڑھنے ، اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھنےسے اچھے اخلاق بہتر ہیں۔

" عَنْ عَائِشَةَ ،قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُإِنَّ الْمُؤْمِنَ يُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ ، صَائِمِ النَّهَارِ"16 عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ، آپ ارشاد فرماتے تھے کہ صاحب ایمان بندہ اچھے اخلاق سے اُن لوگوں کا درجہ حاصل کر لیتا ہے جو رات بھر نفلی نمازیں پڑھتے ہوں ، اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھتے ہوں۔مطلب یہ ہے کہ اللہ کے جس بندہ کا حال یہ ہو کہ وہ عقیدہ اور عمل کے لحاظ سے سچا مؤمن ہو ، اور ساتھ ہی اس کو حسن اخلاق کی دولت بھی نصیب ہو ، تو اگرچہ وہ رات کو زیادہ نفلیں نہ پڑھتا ہو ، اور کثرت سے نفلی روزے نہ رکھتا ہو ، لیکن پھر بھی وہ اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے ان شب بیداروں عبادت گذاروں کا درجہ پا لے گا جو" قَائِمِ اللَّيْلِ ،صَائِمِ النَّهَارِ "17۔ہوں یعنی جو راتیں نفلوں میں کاٹتے ہوں اور دن کو عموماً روزہ رکھتے ہوں ۔

6 اچھے اخلاق والوں کا بہتر انجام۔

"عن عَبْدِاللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَإِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقً"18حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تم دوستوں میں مجھے زیادہ محبوب وہ ہیں جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں۔

7 قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ ہی کی نشست میں زیادہ قریب اچھے اخلاق والے ہوں گے۔

"عَنْ جَابِرٍ،أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلاَقًا"19جابر رضی اللہ عنہ فرمایا،کہ تم دوستوں میں مجھے زیادہ محبوب وہ ہیں اور قیامت کے دن اُن ہی کی نشست بھی میرے زیادہ قریب ہوگی جن کے اخلاق تم زیادہ بہتر ہیں۔

گویا رسول اللہ ﷺکی محبوبیت اورقیامت کے دن آپ کا قرب نصیب ہونے میں حسن اخلاق کی دولت کو خاص دخل ہے ۔

8 اچھے اخلاق کی وجہ سےبندہ رسول اللہﷺ کے قریب رہےگا ۔

"عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُوصِيهِ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِى تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ"يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لاَ تَلْقَانِى بَعْدَ عَامِى هَذَا أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِى هَذَا أَوْ قَبْرِى"فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعاً لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ"إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِىَ الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا"20 حضرت معاذؓ کہتے ہیں ،کہ جب مجھ کو یمن رخصت کرتے وقت آنحضرت ﷺنے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ شاید اس کے بعد مجھ سے تمہاری ملاقات نہ ہو ، اور بجائے ، میری مسجد اور میری قبر پر تمہارا گزرہو ۔ اور چونکہ( آپ کی عام عادادت ایسی بات کرنے کی نہ تھی ، اس لیے حضرت معاذ نے اس سے یہی سمجھا کہ آنحضرت ﷺاپنی وفات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں اور شاید اب مجھے اس دنیا میںرسول کریم ﷺکی زیارت نصیب نہ ہوگی )چنانچہ آپ کا یہ ارشاد سُن کر وہ رو پڑے ، پھر رسول اللہ ﷺنے یہ فرما کر ان کو تسلی دی ، کہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں وہ مجھ سے قریب رہیں گے ۔اور یہی ہوا کہ یمن سے حضرت معاذؓ کی واپسی حضور ﷺکی حیاتِ مبارکہ میں نہیں ہوئی ، اور جب آئے تو آپ کی قبر مبارک ہی کو پایا ۔

9 اچھے اخلاق اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا سبب ہے۔

"عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ، لَا يَرْحَمْهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ"21 جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے محروم رہیں گے جن کے دلوں میں دوسرے آدمیوں کے لیے رحم نہیں اور جو دوسروں پر ترس نہیں کھاتے ۔

10 سب سے بہترانسانی خصلتیں اچھے اخلاق ہے۔

"عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ " خُلُقٌ حُسْنٌ"22

ترجمہ: حضرت اسامہ بن شریک صحابی سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے عرض کیا ، کہ یا رسول اللہ! انسان کو جوکچھ عطا ہوا ہے اس میں سب سے بہتر کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ"اچھے اخلاق" ۔

حُسن اخلاق کےبارے میں شرعی تعلیمات،اور اس کے معاشرہ پر اچھا اثر

احکام القرآن کے حوالے سے حُسن اخلاق،قرآن کریم کے اہم مقاصد میں سے ہے،اور اچھے اخلاق کاکردارحُسنِ معاشرہ میں کیساہے؟آئیےپڑھیے،ارشاد باری تعالیٰ ہے"خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ"23 (اےپیغمبر)درگزرکارویہ اپناؤ،اور (لوگوں کو) نیکی کاحکم دو،اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو۔

تفسیر:اس آیت کریمہ کی تشریح کے بارے میں ائمہ تفسیر کی ا راء

امام جصاص ؒ فرماتے ہیں"واللَّه مَا أَنْزَلَ اللَّه هَذِهِ الْآيَةَ إلَّا فِي أَخْلَاقِ النَّاسِ"24اللہ کی قسم!اس آیت کو اللہ تعالیٰ نے صرف لوگوں کے (اچھے اخلاق) کے بارے میں نازل کی ہے۔جب انسان اخلاقِ حسنہ اختیار کرے ، اور بُرے اخلاق سے اپنی حفاظت کرے ،تو معاشرہ درست ہوکر لوگ مطمئن ہوکر رہیں گے،یا عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے،جو حسن اخلاق کا معنیٰ منقول ہے،ایک اچھا معاشرہ بنانے کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا،جیسے" حُسْنَ الخُلُقِ فَقَالَ هُوَ بَسْطُ الوَجْهِ، وَبَذْلُ الْمَعْرُوفِ، وَكَفُّ الأَذَى"25عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نےحُسنِ اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے،فرمایا،کہ ،خندہ پیشانی سے ملنا،اورنیکی کرنا،اور لوگوں کو تکلیف دینے سےاپنے کو منع کرنا، جب اسی ہدایت پر عمل کیاجائے،کیا آپ کا دشمن دوست نہیں بنےگا؟،جب دشمن دوست بنے،توزندگی بسرنا آسان ہوگی۔26

امام المراغی لکھتے ہیں

"العفو، وهو السهل الذي لا كلفة فيه أي خذ ما عفا لك من أفعال الناس وأخلاقهم وما أتى

منهم وتسهّل من غير كلفة،ولا تطلب منهم ما يشق عليهم حتى ينفروا،وهذا كماجاء فى الحديث

"يسّروا ولا تعسّروا"27

ترجمہ: عفو درگزراس آسانی کوکہا جاتاہے،کہ جس میں کوئی مشقت نہ ہویعنی لوگوں سے درگزر،اور وہ اخلاق اختیار کریں،اور ان سے نرمی کا رویہ اپنائے،جس میں کوئی تکلیف نہ ہو،اور ان سے وہ مطالبہ نہ کریں ،جو ان پر سے گراں ہوکر یہاں تک ،کہ وہ بھاری سمجھ کربھاگ جائے،جیسا،کہ حدیث میں وارد ہے"آسانی پیدا کروسختی پیدا نہ کرو"۔پھر موصوف آگے لکھتے ہیں

"والخلاصةإن من آداب الدين وقواعده اليسر وتجنب الحرج وما يشق على الناس،وقد صح

أن النبي صلى الله عليه وسلم ما خيّر بين أمرين إلا اختار أيسرهما"28

حاصل یہ ہے ،کہ دین اسلام کے آداب،وقواعد میں سے آسانی پیدا کرنا ہے،اور اس سے اپنے کو بچاؤ،جولوگوں کوتکلیف

،اور مشقت میں ڈالتے ہیں،اور یہ بات درست ثابت ہے،کہ آپﷺ نےدونوں (تکلیف،اور آسانی) میں سےآسانی ہی اختیار فرمایا۔

رسول اللہ ﷺکی بعثت کے مقاصد میں سے اچھے اخلاق ہیں،نبی کریم ﷺنے امت کوظاہری،اور باطنی گندگی سےپاک کرنےکے بارے میں احکام القرآن کے حوالے سے ہمیں یہ حکم ملتا ہے"وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ"29اوران کوپاکیزہ بنایا،بیشک تیری ،اور صرف تیر ی ذات وہ ہے،جس کا اقتدار بھی کامل ہے۔ اور اس تزکیہ میں اخلاق کی اصلاح اور درستی کی کاص اہمیت ہے کہ میں اخلاق کی اصلاح کے لیےمبعوث کیا گیا ہوں ،جیسا ،کہ ارشاد نبوی میں ہمیں یوسبق ملتاہے"إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق"30 یعنی اصلاحِ اخلاق کا کام میری بعثت کے اہم مقاصد اور میرے پروگرام کے خاص اجزاء میں سے ہے،اور اللہ تعالیٰ نےآپ ﷺ کی صفت اخلاق اس انداز میں بیان کیا ہے"وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ"31اور یقینا تم اخلاق کے اعلی ٰ درجہ پرہو۔اور جب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ سے آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا،تو ام المؤمنین نے یہ جواب دیا

"عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ"َإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ"32

ترجمہ:عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،کہ بیشک رسول اللہ ﷺ کے اخلاق "قرآن کریم "ہی تھے،یعنی قرآن پاک پر عمل کرنا۔

رسول اللہ ﷺکےاخلاق عظیمہکی وجہ تسمیہ

مفسر امام بغوی ؒلکھتے ہیں

"سَمَّى اللَّهُ خُلُقَهُ عَظِيمًا لِأَنَّهُ امْتَثَلَ تَأْدِيبَ اللَّهِ إِيَّاهُ بِقَوْلِهِ"خُذِ العفو"33اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکےاخلاق عظیم کانام دیا،کیوں کہ آپ ﷺ کواللہ پاک کےسیکھائے ہوئےآداب کو اپنایا،اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بناپرکہ" لوگوں سے معافی کارویہ اختیار کرو"۔

رسول اللہﷺ نے نرم اخلاقی کی مثال قائم کی تھی۔

"عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ،وَلاَ قَالَ لِي لِمَ صَنَعْتَ كَذَا"34حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دس سال خدمت کی ہے،آپﷺ نے مجھے "اُف کلمہ"(تکلیف دہ بات)بھی نہیں کہا،اور نہ مجھے یہ فرمایا،جب کہ میں نے(خلاف طبع) کام کیا کیوں کیا۔

حدیث بالاحُسن معاشرہ کی زندہ مثال ہے،اور اپنی امت کو بھی اسی کا درس دیا ہے،جیسے" صِلْ مَنْ قَطَعَكَ ، وَأَعْطِ مَنْ

حَرَمَكَ ،وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ"35 جوآپ سے تعلق قطع کرے،آپ اس سے جوڑ دے،اور جو کچھ نہ دے،آپ اس پر بخشش کریں،اور جو شخص آپ پر ظلم کریں آپ اس کو معاف کریں۔یا دوسری روایت میں ہے"وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ"36 ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،کہ رسول اللہ ﷺ نےمجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا''کہ لوگوں سےاچھے اخلاق سے یپش آؤ،جب امت ان ارشادات پر عمل پیرا ہو،توجس طرح قرن اول میں معاشرہ بے مثال تھا،اب بھی وہ معاشرہ بنے گا،مگر افسوس،کہ امت نے ان تعلیمات پر عمل چھوڑدیاہے۔

رسول اللہ ﷺکےحُسنِ اخلاقنےکیسےجان نثارصحابہ کرام پیدا کیئے؟۔

آنحضرت ﷺ کے نرم اخلاق ،اور صحابہ کرام کے ساتھ اچھا برتاؤ،اور سہل مزاجی نے اپنے ساتھیوں اپنے اردگرد جمع کرنے میں مثال قائم کی،اور آپ ﷺ پر جان نثار صحابہ کرام،اور ریاست مدینہ کو امن کاگہوارہ بنانے میں بنیادی کردارخوش اخلاقی کا ہے۔آیئے اس بارے میں ارشاد ربانی پڑھیے"فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ"37)ان واقعات کے بعد اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا پر ( اے پیغمبر!)''تم نے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیا۔ اگر تم سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ تمہارے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہوجاتے۔ لہٰذا ان کو معاف کردو، ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو، اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔ پھر جب تم رائے پختہ کر کے کسی بات کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ یقیناً توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔38

قَوْله تَعَالَىوَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ يَدُلُّ عَلَى وُجُوبِ اسْتِعْمَالِ اللِّينِ وَالرِّفْقِ وَتَرْكِ الْفَظَاظَةِ وَالْغِلْظَةِ فِي الدُّعَاءِ إلَى اللَّهِ تَعَالَى كَمَا قَالَ تَعَالَى ادْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ39وقوله تعالى لِمُوسَى وَهَارُونَ فَقُولا لَهُ قَوْلًا لَيِّناً لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشى"40

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا اس قول اگر تم سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ تمہارے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہوجاتے۔اس بات کے وجوب پرثبوت ہے،کہ (لوگوں) کواللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں نرمی،ورفقت اختیار کرنا،اور سخت مزاجی اور سخت دلیکوچھوڑدے ،جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے''اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کوحکمت کے ساتھ،خوش اسلوبی سے نصیحت کرکے دعوت دو،(اگربحث کی نوبت آئےتو)ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو،جو بہتر ہو۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ،جو موسیٰ علیہ السلام،اور ہارون السلام سے فرمایا،جاکردونوں اس سے نرمی سے بات کرناشاید وہ نصیحت قبول کرے،یا (اللہ سے)ڈرجائے۔41

کتب سابقہ میں آپ ﷺ خوش اخلاقی کے اوصاف

"قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِنَّهُ رَأَى صِفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ: أَنَّهُ لَيْسَ بفَظٍّ، وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا سَخّاب فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ"42

ترجمہ: عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،کہ میں نے کتب سابقہ میں آپ ﷺ کی اوصاف پڑھی ہےکہ" آپ ﷺ نہ سخت مزاج اورنہ سخت دلہے،اور نہ بازروں میں چیخ کرپکارتے ہیں،اور نہ بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دیتاہے،بلکہ درگزر،ومعافی کرتےہیں"۔

"عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"إِنَّ اللَّهُ أَمَرَنِي بِمُدَارَاةِ النَّاسِ كَمَا أَمَرَنِي بِإِقَامَةِ الْفَرَائِضِ"43عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا"بیشک اللہ تعالیٰ نےمجھے حکم کیا لوگوں کے ساتھ مدارات،جیسا،کہ مجھے حکم کیافرائض اداکرنے کا"۔

قرنِ اول میں صحابہ کرام کے حسن اخلاقکی وجہ سے ریاست مدینہ امن،ومحبت کا گہوارہ بنا

جب صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ کے مذکورہ رشادات پر عمل کرکے تو معاشرہ کیسا بنا،اور ریاست مدینہ امن،ومحبت کا گہوارہ کیسابنا؟آئیے،اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ پڑھیے"وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ"44اور یہ اپنے سینوں میں اس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے، اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہوجائیں، وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

صحابہ کرام کا آپس میں خوش اخلاقی،ومحبت اور اس کا نتیجہ

پہلی مثال

"عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ " أُهْدِيَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسُ شَاةٍ فَقَالَ إِنَّ أَخِي فُلَانًا وَعِيَالَهُ أَحْوَجُ إِلَى هَذَا مِنَّا، قَالَ: فَبَعَثَه إِلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَبْعَثُ بِهِ وَاحِدٌ إِلَى آخَرَ حَتَّى تَدَاوَلَتْهَا سَبْعَةُ أَبْيَاتٍ حَتَّى رَجَعَتْ إِلَى الْأَوَّلِ، وَنَزَلَتْ: "وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ"45ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی کوبکری کا ایک سر،بطور ہدیہ،دیاگیا،تو اس نے کہا،درحقیقت میرا فلان بھائی،اور ان کی اولادہم سے زیادہ ضرورتمند ہوں گے،تو اس کوبھیجاپس یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک سات گھروں پر چکر لگاکرپہلے والے گھر کو واپس آیا،تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ"46اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔

دوسری مثال

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ"أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: نَوِّمِي الصِّبْيَةَ،وَأَطْفِئِ السِّرَاجَ، وَقَرِّبِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَكِ "، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ "وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ"47 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ''بیشک ایک آدمی انصار(مدینہ) میں سے اس کے پاس ایک مہمان نے رات گزاری،اور ان(یعنی مزبان) کے پاس اپنی اولاد کی روزی کے علاؤہ کچھ بھی نہ تھا،تو اس نے اپنی بیوی سے کہا،کہ اپنے بچوں کوکسی طریقے پر سلادو،اور چراغ بجھادو،اور جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ مہمان کے سامنے رکھو،فرماتے ہیں ،کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ"اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔

اشکال ،اور اس کاجواب

وہ روایات،کہ جوایثار سےمنع کیاگیاہےمثلا:رسول اللہﷺ نے ایک صحابی کومنع کیا،سارے مال کوخرچ کرنے سے"عَنْ جَابِرٍ،قَالَجَاءَ رَجُلٌ بِبَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيه وسَلمَ أَصَابَهَا فِي بَعْضِ المَغَازِي، فَقَالَ خُذْهَا يَا رَسُولَ اللهِ صَدَقَةً، فَوَاللَّهِ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا،فَأَعْرَضَ عَنْهُ"48

ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کہ ایک شخص نے سونا کا ایک انڈا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا،کہ

مجھے ایک غزوہ میں ملا تھا۔کہاکہ اس کو بطور صدقہ لےلو،اور یہ بھی کہا اللہ کی قسم!اس کے علاؤہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔"رسول اللہ ﷺ نے اس کے قبول ہونے سے انکار کیا"۔

جواب ِ اشکال اس کا حلامام جصاص نے اس طرح کیاہے

إنَّمَا كَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ لَمْ يَثِقْ مِنْهُ بِالصَّبْرِ عَلَى الْفَقْرِ وَخَشِيَ أَنْ يَتَعَرَّضَ لِلْمَسْأَلَةِ"49بیشک نبی کریم ﷺ نے اس کو اس لیے ناگوار سمجھا،اس پراعتماد نہیں کیا،کہ وہ فقر پر صبر کرےگا،اور اس بات کی ڈرسے کہ پھر لوگوں سے دست پھیلا کرسوال کرےگا۔كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ50فَكَانَ الْإِيثَارُ مِنْهُمْ أَفْضَلَ مِنْ الْإِمْسَاكِ وَالْإِمْسَاكُ مِمَّنْ لَا يَصْبِرُ وَيَتَعَرَّضُ لِلْمَسْأَلَةِ أَوْلَى مِنْ الْإِيثَارِ51جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے"اور تنگی،اور تکلیف میں نیزجنگ کے وقت صبرواستقلال کے خوگرہوں"(ان جیسے لوگوں سے) ایثار افضل ہے روکنے سے،اور خرچ نہ کرنا بہتر ہےایثار سے،جو کہ فقر پر صبر نہیں کرسکتے،اور لوگوں سے سوال کرتے ہیں۔

ماں باپ کے ساتھ حسن اخلاق،اور اس کاثمرہ۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد والدین کا حق مقرر کیا ہے،یعنی اللہ پاک نے اپنے حق کے ساتھ ساتھ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوگ کاذکر کیاہے،جیسے ارشاد خداوندی ہے

"وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا"52 اور تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، اور نہ انہیں جھڑکو۔ بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کیا کرو۔

"عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ العَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ"الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا"قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الوَالِدَيْنِ"53حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا،کہ کونسا عمل اللہ پا ک کو محبوب ہے؟،تو آپﷺ نے فرمایا،کہ نماز اپنے وقت پر ادا کرنا،میں نے پھر پوچھا ،تو آپﷺ نے فرمایا ،کہ ماہ باپ سے اچھے سلوک کرنا۔

ایک طرف اللہ تعالیٰ نےوالدین کےساتھ خوش اخلاقی ،حسن سلوک کا حکم کیاہے،تو دوسری طرف قریب رشتہ داروں کے حقوق آپس میں ادا ہوتے ہیں،تو معاشرہ پر اس کا اچھا اثر ہوتاہے۔54

بچوں کو آدابِ لقمان حکیم سکھا دو،توایک اچھامعاشرہ پیدا کرے گا ۔

"وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ،وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ"55بیٹا ! نماز قائم کرو، اور لوگوں کو نیکی کی تلقین کرو، اور برائی سے روکو، اور تمہیں جو تکلیف پیش آئے، اس پر صبر کرو۔ بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔اور لوگوں کے سامنے (غرور سے) اپنے گال مت پھلاؤ، اور زمین پر اتراتے ہوئے مت چلو۔ یقین جانو اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو ، اور اپنی آواز آہستہ رکھو بیشک سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔

یتیم،مسکین کے حقوق،ادا کرنا اور اس کےمعاشرپر اچھے اثرات

"يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ۔ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ"56کسی رشتہ دار یتیم کو۔یا کسی مسکین کوجو مٹی میں رل رہا ہو۔"عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً شَكَا إِلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ"امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ وَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ"57

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "ایک شخص نے رسول اللہ ﷺسے اپنی قساوت قلبی(سخت دلی) کی شکایت کی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو ، اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو"۔

تشریح:ایک یہ کہ یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرا کرو ، اور دوسرے یہ کہ بھوکے فقیر مسکین کو کھانا کھلایا کرو ۔دوسری بات مذکورہ احادیث مبارکہ سے یہ حقیقت مسلمہ ثابت ہوتی ہے،کہ جب رشتہ داروں کے حقوق،اور ان سے اچھے برتاؤ،اور خوش اخلاقی کےساتھ پیش آنے میں بہترین معاشرہ بنانے میں کردار ادا کرے گا۔

مسلم غیر مسلم ہر ایک کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا

غیر مسلم کے ساتھ بھی شرعی تعلیمات یہ ہیں ،کہ اس سے بھی اچھے اخلاق رکھے تاکہ اسلام کی رغبت ہو،اور دین اسلام سے متنفر نہ ہواس بارے میں ہمیں اسلامی ہدایات یو اگاہ کرتی ہیں"عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمُ النَّاسَ"58 جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا "وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے محروم رہیں گے جن کے دلوں میں دوسرے آدمیوں کے لیے رحم نہیں اور جو دوسروں پر ترس نہیں کھاتے "۔

"النَّاسَ"لفظ عام ہے ، جو مومن و کافر اور متقی و فاجر سبکو شامل ہے ، اور بلا شبہ رحم سب کا حق ہے ، البتہ کافر اور فاجر کے ساتھ سچی رحمدلی کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ اس کے کفر اور فجور کے انجام کا ہمارے دل میں درد ہو ، اور ہم اس سے اس کو بچانے کی کوشش کریں ، اس کے علاوہ اگر وہ کسی دنیوی اور جسمانی تکلیف میں ہو ، تو اس سے اس کو بچانے کی فکر کرنا بھی رحمدلی کا یقیناً تقاضا ہے ، اور ہم کو اس کا بھی حکم ہے ۔59

"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ"60 عبداللہ بن عمرو بن العاصرضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ "رحم کرنے والوں اور ترس کھانے والوں پر بڑی رحمت والا خدا رحم کرے گا ، زمین پر رہنے بسنے والی اللہ کی مخلوق پر تم رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحمت کرے گا "۔

حیوانات( جاندار )مخلوق سے اچھا سلوک کرنے کاحکم

دین اسلام ایک ایسا مذہب ہے ،کہ ہر ایک کواس کا حق دینے کا حکم دیاہے۔مثلا ایک جاندار چیز ہو،اس سے بھی اچھا

سلوک کریں۔آیئے اس بارے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟

1 "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ"بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي، فَاشْتَدَّ

عَلَيْهِ العَطَشُ، فَنَزَلَ بِئْرًا، فَشَرِبَ مِنْهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِكَلْبٍ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَقَالَ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ بِي، فَمَلَأَ خُفَّهُ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ، ثُمَّ رَقِيَ، فَسَقَى الكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ"قَالُوا:يَا رَسُولَ اللَّهِ،وَإِنَّ لَنَا فِي البَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ"فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ"61حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا "اس اثناء میں کہ ایک آدمی راستہ پر چلا جا رہا تھا ، اُسے سخت پیاس لگی ، چلتے چلتے اُسے ایک کنواں ملا ، وہ اس کے اندر اُترا اور پانی پی کر باہر نکل آیا ، کنوئیں کے اندر سے نکل کر اُس نے دیکھا کہ ایک کتا ہے جس کی زبان باہر نکلی ہوئی ہے اور پیاس کی شدت سے وہ کیچڑ کھا رہا ہے ، اس آدمی نے دل میں کہا کہ اس کتے کو بھی پیاس کی ایسی ہی تکلیف ہے جیسی کہ مجھے تھی ، اور وہ اس کتے پر رحم کھا کر پھر اس کنوئیں میں اُترا ،اور اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھر کر اُس نے اُس کو اپنے منہ سے تھاما ،اور کنوئیں سے باہر نکل آیا ، اور اُس کتے کو وہ پانی اُس نے پلا دیا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی اس رحمدلی اور اس محنت کی قدر فرمائی اور اسی عمل پر اس کی بخشش کا فیصلہ فرما دیا ۔ بعض صحابہ نے حضور ﷺسے یہ واقعہ سُن کر دریافت کیا کیا جانوروں کی تکلیف دور کرنے میں بھی ہمارے لئے اجر و ثواب ہے ؟ آپ نے فرمایا زندہ اور تر جگر رکھنے والے جانور (کی تکلیف دور کرنے) میں ثواب ہے"۔

2 "عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ،رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا،أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلمَ قَالَ عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ

رَبَطَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ"62 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا "کہ ایک بے درد اور بے رحم عورت اس لئے جہنم میں گرائی گئی کہ اُس نے ایک بلی کو باندھ کے نہ تو اسے خود کچھ کھانے کو دیا اور نہ اُسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں سے اپنی غذا حاصل کر لیتی ( بھوکا مار ڈالا "۔

زمین کی چیونٹیوں کا بھی حق ہے

3"عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،عَنْ أَبِيهِ،قَالَكُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ،

فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا، فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا"وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا فَقَالَ "مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟ قُلْنَا نَحْنُ. قَالَ"إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ"63

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے صاحبزادے عبدالرحمٰن اپنے والد ماجد سے روایت ہے کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے ، آپ قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے ، اس اثناء میں ہماری نظر ایک سرخ چڑیا ( غالباً نیک کنٹھ ) پر پڑی ، جس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے اُس کے دو بچے بھی تھے ہم نے اُن بچوں کو پکڑ لیا ، وہ چڑیا آئی اور ہمارے سروں پر منڈلانے لگی ، اتنے میں رسول اللہ ﷺتشریف لے آئے ، آپ نے فرمایا ، کس نے اس کے بچے پکڑ کر اسے ستایا ہے ؟ اس کے بچے اس کو واپس کر دو ۔ اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی ( یعنی زمین کا ایک ایسا ٹکڑا جہاں چیونٹیوں کے بہت سوراخ تھے اور چیونٹیوں کی بہت کثرت تھی ہم نے وہاں آگ لگا دی تھی ۔آ پ ﷺنے فرمایا کس نے ان کو آگ سے جلایا ہے ؟ ہم نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ﷺہم نے ہی آگ لگائی ہے ۔ آپ نے فرمایا آگ کے پیدا کرنے والے خدا کے سوا کسی کے لئے یہ سزاوار نہیں ہے کہ وہ کسی جاندار کو آگ کاعذاب دے ۔  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانوروں حتی کہ زمین کی چیونٹیوں کا بھی حق ہے کہ اُن کو بلا وجہ نہ ستایا جائے۔64

اچھےاخلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے یہ دعا بھی مانگیں

"عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ

وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ"65 علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نےاپنی دعامیں فرماتے تھے اے میرے اللہ! ،تو مجھ کو بہتر سے بہتر اخلاق کی رہنمائی کر ، تیرے سوا کوئی بہتر اخلاق کی رہنمائی نہیں کر سکتا ، اور بُرے اخلاق کو میری طرف سے ہٹا دے ، ان کو تیرے سوا کوئی ہٹا بھی نہیں سکتا ۔

"عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ"اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِى فَأَحْسِنْ خُلُقِى "66 عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺاپنی دعا میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کرتے تھے اے میرے اللہ! تو نے اپنے کرم سے میرے جسم کی ظاہری بناوٹ بنائی ہے اسی طرح میرے اخلاق بھی اچھے کر ے۔

مذکورہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا،کہ اچھے اخلاق حاصل کرنے میں اپنے رب سے مدد کی ضرورت ہے۔

ایک دوسروں کے متعلق بدگمانی سے بچو،حُسن گمانی اختیار کرو۔

"إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ،فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الحَدِيثِ،وَلاَ تَجَسَّسُوا،وَلاَ تَحَسَّسُوا،وَلاَ تَبَاغَضُوا،وَكُونُوا إِخْوَانًا"67حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ تم دوسروں کے متعلق بدگمانی سے بچو ، کیوں کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ، تم کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ میں نہ رہا کرو ، اور جاسوسوں کی طرح راز دارانہ طریقے سے کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو ، اور نہ ایک دوسرے پر بڑھنے کی بے جا ہوس کرو ، نہ آپس میں حسد کرو ، نہ بغض و کینہ رکھو ، بلکہ اے اللہ کے بندو! اللہ کے حکم کے مطابق بھائی بھائی بن کر رہو۔

اُسی طرح ایک دوسری حدیث میں نیک گمانی کو بہترین عبادت بتایا گیاہے۔

"إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ "68بیشک اچھا گمان، اچھی عبادت میں سے ہے۔

معاشرہ خراب کرنے والا چغلخورجنت میں نہیں جائےگا۔

"لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَتَّاتٌ"69 حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ فرماتے تھے کہ چغلخور آدمی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا ۔مذکورہ روایات میں کا حاصل یہ ہے،کہ بدگمانی،چغلخوری سے معاشری خراب ہوتاہے،اور اُخروی انجام بھی بُرا نکلے گا۔

نتائج البحث

حاصل یہ ہے کہ احکام القرآن کے حوالے سے،اورمذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوگئی،کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی تعلیمات میں ایمان کے بعد جن چیزوں پر بہت زیادہ زور دیا ہے ، اور انسان کی سعادت کو ان پر موقوف بتلایا ہے ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اخلاقِ حسنہ اختیار کرے ، اور بُرے اخلاق سے اپنی حفاظت کرے ۔ رسول اللہ ﷺکی بعثت کے جن مقاصد کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے ، اُن میں ایک یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ انسانوںکی تزکیہ کرے،ارشاد ہے"وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ"70 اور اس تزکیہ میں اخلاق کی اصلاح اور درستی کی کاخاص اہمیت حاصل ہے ۔ یایہ ارشاد"إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق"71 یعنی اصلاحِ اخلاق کا کام میری بعثت کے اہم مقاصد اور میرے پروگرام کے خاص اجزاء میں سے ہے ، اگر انسان کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کی اپنی زندگی بھی قلبی سکون اور خوشگواری کے ساتھ گزرے گی اور دوسروں کے لئے بھی اس کا وجود رحمت اور چین کا سامان ہو گا ،یہ تو خوش اخلاقی اور بداخلاقی کے وہ نقد دنیوی نتیجے ہیں جن کا ہم آپ روز مرہ مشاہدہ اور تجربے کرتے رہتے ہیں ، لیکن مرنے کے بعد والی ابدی زندگی میں ان دونوں کے نتیجے ان سے بدرجہا زیادہ اہم نکلنے والے ہیں ، آخرت میں خوش اخلاقی کا نتیجہ ارحم الراحمین کی رضا اور جنت ہے اور بداخلاقی کا انجام خداوند قہار کا غضب اور دوزخ کی آگ ہے ۔

بالاتفصیل سے چند باتیں اخذ کی جاتی ہیں۔

1 احکام القرآن کے حوالے سے حُسنِ اخلاق کے ساتھ ہر ایک ساتھ پیش آنا۔جیسے"خُذِ الْعَفْوَ"72درگزرکارویہ اپناؤ۔

2 حُسن ِاخلاق رسول اللہ ﷺکی بعثت کے مقاصدوں میں سے ہے۔جیسے"وَيُزَكِّيھِمْ"73

3 شریعت اسلامی میں حُسنِ اخلاق کے حوالے سے،ہر ایک کا حق،مسلم،غیر مسلم،یہاں تک جاندار چیزوں کےبھی ہے۔

4 معاشرہ درست کرنے میں حُسن اخلاق کا اہم کردار ہے۔"إِنَّ اللَّهُ أَمَرَنِي بِمُدَارَاةِ النَّاسِ"74بیشک اللہ تعالیٰ نےمجھے حکم کیا لوگوں کے ساتھ مدارات کرنا"وأَما المُدارأَة فِي حُسْنِ الخُلُق والمُعاشَرة مَعَ النَّاسِ"75

5 اگر انسان کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کی اپنی زندگی بھی قلبی سکون اور خوشگواری کے ساتھ گزرے گی اور دوسروں

کے لئے بھی اس کا وجود رحمت اور چین کا سامان ہو گا ۔

6 خوش اخلاقی کا نتیجہ ارحم الراحمین کی رضا اور جنت ہے اور بداخلاقی کا انجام خداوند قہار کا غضب اور دوزخ کی آگ ہے

7 اجتماعی تعلقات،وروابط کاکردار آداکرنے میں،اورفیملی سسٹم،میں معین ومددگار ثابت ہوتاہے۔

8 اخلاقیات کی بنیاد پرایک اچھی ریاست بن سکتی ہے۔

حواشی ومصادر

1 الاعراف:7/199

2 الجصاص الحنفي،احکام القرآن للجصاص:أحمد بن علي أبو بكر الرازي الجصاص الحنفي(المتوفى:370هـ)المحقق:محمد صادق القمحاوي،الناشر:دار إحياء التراث العربي،بيروتتاريخ الطبع:1405هـ،ص4/213

3 البقرۃ:2/129

4 أبو بكر،البزار أبو بكر أحمد بن عمرو بن عبد الخالق بن خلاد بن عبيد الله العتكي المعروف بالبزار (المتوفى: 292هـ)المحقق: محفوظ الرحمن زين الله، وعادل بن سعد وصبري عبد الخالق الشافعي،الناشر: مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة الطبعة: الأولى، (بدأت 1988م، وانتهت 2009م)،رقم،8949،ص15/364

5 الجرجاني التعريفات: علي بن محمد بن علي الزين الشريف الجرجاني(المتوفى: 816هـ) الناشر: دار الكتب العلمية بيروت لبنانالطبعة: الأولى 1403هـ -1983م،ص1/101

6 ابراھیم مصطفیٰ،مجمع اللغۃ العربیہ بالقاھرۃ،باب الحا،ج1ص174،الناشر:الدعوۃ

7 الاعراف:7/199/ ابراھیم مصطفیٰ،مجمع اللغۃ العربیہ بالقاھرۃ،باب الحا،ج1ص174،الناشر:الدعوۃ

8 معجم ديوان الأدب: أبو إبراهيم إسحاق بن إبراهيم بن الحسين الفارابي، (المتوفى: 350هـ) مؤسسة دار الشعب للصحافة والطباعة والنشر، القاهرة عام النشر: 1424 هـ - 2003 م)ج۱مادہ خ،ل،ق۔،ص434

9 التعريفات الجرجاني ،علي بن محمد بن علي الزين الشريف الجرجاني (المتوفى: 816هـ)الناشر: دار الكتب العلمية بيروت –لبنانالطبعة: الأولى 1403هـ -1983م،ج۱،ص۱۰۱

10 سنن الترمذي، أبو عيسى محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك، الترمذي، (المتوفى: 279هـ)المحقق: بشار عواد معروفالناشر: دار الغرب الإسلامي ،بيروتسنة النشر: 1998 م،63- بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ وَالعَفْوِ،،رقم،2005

11 سورۃ الاعراف 7/199

12 أحمد بن الحسين: أحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخُسْرَوْجِردي الخراساني، أبو بكر البيهقي (المتوفى:458هـ)حققه الدكتور عبد العلي عبد الحميد حامد الناشر: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض بالتعاون مع الدار السلفية ببومباي بالهند الطبعة:الأولى،1423 هـ ،2003م للبیہقی: شعب الإيمان:،رقم 7633،أحمد بن حنبل،مسند امام احمد،ج8،رقم24355،ص87

13 ابو عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي ،الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله ﷺوسننه وأيامه،صحيح البخاري:المحقق:محمد زهير بن ناصر الناصر الناشر:دار طوق النجاة(مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)الطبعة:الأولى، 1422هـ کتاب المناقب،بَابُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رقم،3759

14 ایضاً:ص3759

15 أبو عيسى محمد بن عيسى بن سَوْرة سنن الترمذي،بَابُ مَا جَاءَ فِي مَعَالِي الأَخْلاَقِ،رقم،2018

16 أحمد بن حنبل :۔مسند امام احمد،رقم22705،ص5/235

17 ابو عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي ،صحيح البخاري،باب قول الله تبارك وتعالى"

قل ادعوا الله أو ادعوا الرحمن أيا ما تدعوا"رقم،6941۔أبو الحسن القشيري صحیح المسلم،مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري،بَابُ رَحْمَتِهِ ﷺالصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَ،رقم66

18 أحمد بن الحسين:للبیہقی،فی شعب الایمان،فی تعظیم النبی ﷺرقم، 1435

19 سنن الترمذي: أبو عيسى محمد بن عيسى بن سَوْرة ، بَابُ مَا جَاءَ فِي مَعَالِي الأَخْلاَقِ،رقم،2018

20 امسند امام احمد،رقم22705،ج5،ص235

21 صحيح البخاري : أبو عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي،باب قول الله تبارك وتعالى { قل ادعوا الله أو ادعوا الرحمن أيا ما تدعوا فله الأسماء الحسنى }رقم،6941/ ۔صحیح المسلم،مسلم بن الحجاج أبو الحسنالقشيري النيسابوری، بَابُ رَحْمَتِهِ ﷺالصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَ،رقم66

22 للبیہقی،فی شعب الایمان،فی تعظیم النبی ﷺرقم، 1435

23 سورۃ الاعراف7/199

24 احکام القرآن للجصاص:ج4/ص213

25 سنن الترمذي: أبو عيسى محمد بن عيسى بن سَوْرة بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ وَالعَفْوِ،،رقم2005

26 باحث

27 المراغی، أحمد بن مصطفى المراغي (المتوفى: 1371هـ)الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابى الحلبي وأولاده بمصر الطبعة: الأولى، 1365 هـ - 1946 م.ج9،ص147

28ایضا۔9/147

29سورۃ البقرۃ،2/129

30 مسند البزار المشھور باسم البحر الزخار،رقم،8949،ج،15،ص364

31 سورۃ نٓ68/4

32 ابو الحسن القشیری،مسلم بن الحجاجصحیح المسلمبَابُ جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَرقم،139

33 أبو محمد الحسين بن مسعود البغويمعالم التنزيل في تفسير القرآن تفسير البغوي: محيي السنة، أبو محمد الحسين بن مسعود البغوي (المتوفى: 510هـ)الناشر: دار طيبة للنشر والتوزيع الطبعة: الرابعة، 1417 هـ - 1997 م،ج8،ص188

33

34 سنن الترمذي،أبو عيسى محمد بن عيسى بن سَوْرة ، باب ما جاء في خلق رسول الله ،رقم 346،مسند امام احمد،ج،4،رقم 13710

35 احمد بن حنبل،مسند امام احمد،ج5،ص923

36 ابو عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي صحیح البخاری،بَابُ كَرَاهِيَةِ السَّخَبِ فِي السُّوقِ رقم 2125

37 سورۃ ال عمران3/159

38 تقی عثمانی،توضیح القرآن آسان ترجمہ،مفتی تقی عثمانی،شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی،مکتبہ معارف القرآن کراچی۔قرآنی آیات کا ترجمہ،آسان ترجمہ تفسیر مفتی تقی صاحب سے لیاہے۔

39 سورۃ النحل16/125

40 سورۃ طٰہٰ 20/44

41 احکام القرآن للجصاص ،ج2/ص329

42 أحمد بن حنبل،مسند أبي يعلى:أحمد بن علي بن المثنى أبو يعلى الموصلي(210 -307)المحقق: إرشاد الحق الأثري الناشر:دار القبلة،جدة الطبعة:الأولى،1408۔1988۔رقم،2220،ص4/452

43 احکام القرآن للجصاص،ص5/324/ابن مردويه،ثلاثة مجالس من أمالي ابن مردويه رقم،42،ص1/215

44 سورۃ الحشر59/9

45 أحمد بن الحسين للبیہقی،فی شعب الایمان،رقم3204ج5ص141

46 سورۃ الحشر59/9

47 ابو الحسن القشيري صحیح المسلم،مسلم بن الحجاج النيسابوري،بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ،رقم173

48 صحیح البخاری،527، بَابُ فَضْلِ الصَّلاَةِ لِوَقْتِهَا/صحیح مسلم،127، 36 - بَابُ بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ بِاللهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ

49 احکام القرآن للجصاص،5/324

50 سورۃ البقرہ2/177

51 احکام القرآن للجصاص،5/325

52 سورۃ الاسریٰ17/23

53 ابو عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي ،صحیح البخاری، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: "قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ،رقم7376

54 معارف الحدیث،مولانا محمد منظور نعمانی،ادارۃ المعارف کراچی،طبع2007،ص1/113

55 لقمان:31/18-19

56 البلد:90/15-16

57 صحیح البخاری،3482، 54- بَابُ./صحیح مسلم،بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ،رقم2619

58 سنن أبي داود:أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السِّجِسْتاني (المتوفى: 275هـ) الناشر: المكتبة العصرية، صيدا، بيروت،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ حَرْقِ الْعَدُوِّ بِالنَّارِ،2675

59 معارف الحدیث،ص1/113

60 أبي داود الطيالسي : أبو داود سليمان بن داود بن الجارود الطيالسي البصرى(المتوفى: 204هـ) المحقق: الدكتور محمد بن عبد المحسن التركي الناشر:دار هجر،مصر الطبعة: الأولى،1419هـ 1999 مرقم الحدیث،247،ص1/129

61 صحیح البخاری،رقم۵۱۴۳،بَابُ لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ/صحیح مسلم،رقم28/9-بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا''۔

62 أحمد بن حنبل،مسند امام احمد،رقم 25124،ص23/264

63 صحیح البخاری،رقم5143،بَابُ لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ/صحیح مسلم، رقم927 بَابُ تَحْرِيمِ الظَّنِّ، وَالتَّجَسُّسِ، وَالتَّنَافُسِ، وَالتَّنَاجُشِ وَنَحْوِهَا

64 مقالہ نگار

65 امام احمد،ص13/406

66 صحیح البخاری،6056،بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّمِيمَةِ

67 صحیح البخاری، أبو عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي،بَابُ لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ،رقم5143

68 مسند البزار :رقم،8949،ص15/346

69 صحیح البخاری، أبو عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري باب ما يكره من النميمة،رقم5709/ صحیح مسلم،بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ،رقم169

70 البقرۃ:2/129

71 ابن مردويه،ثلاثة مجالس من أمالي ابن مردويه رقم،42،ص1/215

72 سورۃ الاعراف7/199

73 البقرۃ:2/129

74 ابن مردويه،ثلاثة مجالس من أمالي ابن مردويه رقم،42،ص1/215

75 بدر الدين العينى،عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ،ابومحمد محمود بن احمد بن موسیٰ بن احمد بن حسین الغیتابی الحنفیبدربدر الدین العینی(المتوفى: 855هـ) الناشر: دار إحياء التراث العربي بیروت

58

 

 

Loading...
Issue Details
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Similar Articles
Loading...
Similar Article Headings
Loading...
Similar Books
Loading...
Similar Chapters
Loading...
Similar Thesis
Loading...

Similar News

Loading...
About Us

Asian Research Index (ARI) is an online indexing service for providing free access, peer reviewed, high quality literature.

Whatsapp group

asianindexing@gmail.com

Follow us

Copyright @2023 | Asian Research Index