Search from the Journals, Articles, and Headings
Advanced Search (Beta)
Home > Al-Bahis Journal of Islamic Sciences > Volume 3 Issue 1 of Al-Bahis Journal of Islamic Sciences

انسانی صحت کے متعلق سائنسی ا ثبات احادیث نبویہﷺ کی روشنی میں تجزیاتی مطالعہ |
Al-Bahis Journal of Islamic Sciences
Al-Bahis Journal of Islamic Sciences

تعارف

 اللہ رب العزت انسان کا خالق ومالک ہے اور بحیثیت خالق انسان صحت کا راز بھی احکام خداوندی کو بجا لانے میں مضمر ہے تعلیمات دٕین اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسان کی تخلیق کے بعداس کی صحت جسمانی اور روحانی کیلئے بھی احکام مقرر کئے گئے ہیں جن کو بجا لانے میں جسمانی صحت تو حاصل ہونی ہی ہے ساتھ ہی ساتھ  احکام خداوندی اور تعلیمات محمدیﷺ کی اطاعت پر اجروثواب کا حاصل ہونا برحمت خداوندی ہے جو خدا تعالی کی بندے سے محبت کی دلیل ہے

انبیإ ء  بندے اور رب العالمین کے درمیان ایک پیغام رساں کا کام سر انجام دیتے ہیں یعنی ایک واسطہ ہوتے ہیں انبیإ ء کے ذریعہ احکام خداوندی لوگوں تک پہنچائے جاتے ہیں نبی کریمﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے  :   وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی ، 

آپ علیھم الصلوة السلام کے فرامین افعال سب حکم خداوندی ہی تھے گویا جو الفاظ نبیﷺ کی زبان مبارکہ سے نکلتے ہیں وہ امر خداوندی ہی تھے اسی کو وحی غیر متلو کہتے ہیں۔

اس مقالہ میں نبیﷺ کے ان فرامین کا ذکر کیا جائے گا جن کو صحت انسانی  کیلئے آج کی سائنس ضروری قرار دیتی ہے لیکن نبی کریمﷺ اپنے ارشادات کے ذریعہ ان سائنسی تحقیقات کوکئی صدیاں پہلے ارشادات سے فرماگئے ہیں   اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علوم القران اور علوم دین کامل اور اکمل ہیں سائنس اور اہل سائنس بھی ہماری تعلیمات کے محتاج ہیں فرق یہ  ہے  کہ نبیﷺ کی تعلیمات کا مقصد مطلب اصلاح امت کے ساتھ ساتھ فکر امت تھی اور اب اہل سائنس کا مقصد صرف تحقیق ہے۔

 حکم خداوندی ہے کہ  تخلیق آسمان وزمین میں غور وفکر کرو تفکر و تدبر کروگویا  مذہب  اور سائنس کے درمیان جو مغایرت ثابت کی جاتی ہے اسے ختم کر کے وحدت  اور توازن کو قائم کر دیا گیا   آپ علیہ الصلوۃ والسلام پر جو وحی نازل ہوئی  وہ  دو قسم کی تھی. ایک تو قرآن کریم کی آیات جن کے الفاظ و معنی دونوں اللہ کی طرف سے تھے. اور جو قرآن میں ہمیشہ کے لیے اس طرح محفوظ کر دی گئی کہ ایک نقطہ، بلکہ ایک شوشہ بھی نہ بدلا گیا.اور نہ بدلا جا سکتا ہے. اس وحی کو علماء کی اصطلاح میں وحی متلو کہتے ہیں. یعنی جس کی تلاوت کی جاتی ہے. دوسری قسم اس وحی کی ہے جو قرآن کریم کا جز نہیں بنی. لیکن اس کے ذریعے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت سے احکام عطا فرمائے گئے  اس وحی کو وحی غیر متلو  کہتے ہیں. یعنی وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی۔ [1] ہماری گفتگو  وحی غیر متلو پر ہوگی کہ  ایک غیر متلو وحی سے کس طرح ہمیں نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے فرامین سے ساٰنس کا ثبوت حاصل ہوتا ہے۔

سائنس سے معلوم اور متعین ہونے والی چیزوں کا اگر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سائنس جن چیزوں کو متعین اور ثابت کرتی ہے وحی ان معلومات کو فراہم کرنے میں بہت پہلے ہی کامیاب رہی ہے جبکہ. سائنسی تجربات و مشاہدات مسلسل تبدیلی سے ہمکنار رہے. اور سائنس کے مقابلے میں وحی کسی بھی ترمیم اور تغیر سے پاک و صاف ہے  ۔

سائنس  لاطینی  لفظ (scientia)سے مشتق ہے. جس کے لغوی معنی غیرجانبداری سے حقائق کا ان کی اصل شکل میں باقاعدہ مطالعہ کرنا ہے علت ومعلول اوران سے اخذ شدہ نتائج کو ایک دوسرے سے منطبق کرنے کی کوشش کرنا ہے۔[2]

سائنس درحقیقت قوانین فطرت کی معرفت اور شناخت کا دوسرا نام ہے. ان قوانین کی معرفت جو سائنس ہمیں دیتی ہے ان کی شناخت ہمیں وحی  کئی عرصہ پہلے کروا دی گئی ہے. اگر یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ وہی متبوع اور سائنس تابع ہے. کیونکہ وہی لائق  اتباع بھی ہے اور کامل اور اتم درجے کی حامل بھی ہے.

آج کا دور سائنسی علوم کی معراج کا دور ہے سائنس کو بجا طور پر عصری علم سے تعبیر کیا جاتا ہے لہذا دور حاضر میں دین کی صحیح اور نتیجہ خیز اشاعت کا کام جدید سائنسی بنیادوں ہی پر  بہتر طور پر سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ اس دور میں اس امر کی ضرورت صدیوں سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ مسلم معاشروں میں جدید سائنسی علوم کی ترویج کو فروغ دیا جائے اور دینی تعلیم کو  سائنسی تعلیم سے مربوط کرتے ہوئے حقانیت اسلام کا بول بالا کیا جائے مسلمان طالب علم کے لیے مذہب اور science کے باہمی تعلق کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے مذہب خالق سے بحث کرتا ہے اور سائنس اللہ تعالی کی پیدا کردہ خلق سے دوسرے لفظوں میں science کا موضوع خلق اور مذہب کا موضوع خالق ہے یہ ایک قرین فہم اور دانش حقیقت ہے[3]

نبیﷺ کی بعثت  کے بعد تاریخ عالم میں  علم وفن ،سائنس، ٹیکنالوجی، اور فلسفہ کا ایک نیا باب کھلا نبیﷺ پر نازل شدہ  احکام  میں  ایسے حقائق مضمر تھے  جس میں نوع انسانی کو تفکر وتدبر کی دعوت دی گئی ارشاد باری تعالی ہے

" و یتفکرون فی خلق السموات والارض" [4]  ترجمہ: جو لوگ تخلیق  آسمان اور زمین میں تفکر کرتے ہیں ۔

 اس تفکر وتدبر کے نتیجہ  میں  ایجادات ہوتیں ہیں اور نئے سے نئے علوم سامنے آتے ہیں اسی لئے حکم خداوندی بھی تفکر وتحقیق ہے ۔

 

آنکھوں کی حفاظت

"عَن عَبدِ اللہ بنَ عُمَرَ ؓ یَقُولُ: قَال لِی رَسُولُ اللہِ ﷺ    بَلَغَنَی انَّک تَصُومُ النَّھارَ وَتَقُوم اللَّیلَ فلاتَفعَل قم ونم وصم و افطر و فان جَسَدَکَ علیک حقًا ولَعَینکَ علیک حقًا"[5]

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے پتہ لگا ہے کہ تم دن میں روزہ اور رات میں تہجد پڑھنے کا ارادہ رکھتے ہو. دیکھو ایسا مت کرو تمہارے بدن  کا تمہارے اوپر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تمہارے اوپر حق ہے.

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابی عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو اعتدال پسند رہنے کی نصیحت فرمائی. کہ تمہارے بدن کے تم پر حقوق ہیں. نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو کا اصل مقصد آنکھ کو ذکر کر کے نیند کی اہمیت اور جسم کی کارکردگی میں اس کی افادیت کو بیان کرنا مقصود تھا. کیونکہ آنکھ کے ذکر کے بغیر نیند کا تصور ممکن نہیں تھا اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

"وَجَعلَناَ نَومَکُم سُبَاتًا"[6]        ترجمہ : اور تمہاری نیند کو تمہارے لیے (موجب) آرام بنایا ۔

سبت کے معنی قطع کرنا. تمام اعضاء جسم اور دماغی قوتیں بیداری میں بیرونی کاموں میں مشغول رہتی ہیں. اس مسلسل حرکت کیوجہ سے تمام اعضاء تھک جاتے ہیں اور انسان کی عزیزی طاقت تحلیل ہوتی ہے. اسے تحلیل سے روکنے، تھکاوٹ کو دور کرنے، اور اعضا کو آرام پہنچانے کے لیے، اللہ تعالی نے نیند کو مقرر کر دیا ہے. نیند کی حالت میں انسان کی بیرونی حرکات ختم ہو جاتی ہیں. اور اعضاء کو آرام کا موقع ملتا ہے. اور اندرونی طاقت محفوظ رہتی ہے. اس دوران خون اعتدال پر آجاتا ہے. لیکن اندرونی آلات ہضم وبقا ہر وقت کام کرتے ہیں..ان میں  نیند سے سکون نہیں آتا[7]  

نیند کا مرکز آنکھیں ہیں۔ اس حدیث میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ صحت مندی آنکھوں سے ہی  ممکن ہے. ایک تحقیق میں امریکی و دماغی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ نیند دماغ کو زہریلے مواد سے پاک کرنے کا سبب بنتی ہے دن بھر کے دماغی کام اور سوچ اور تفکر کے نتیجے میں جو زہریلے پروٹین  پیدا ہو جاتے ہیں وہ نیند کی حالت میں زائل ہو جاتے ہیں اور دماغ کی شریانوں میں خون اور سیال مواد کو بہنے کا بہتر موقع مل جاتا ہے اور پورا بدن ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے اور تازگی محسوس کرتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو الزائمر اور پارکنس جیسے  امراض کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس سائنسی تحقیق سے بھی نیند کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

 

  • حجامۃ کی حکمت

                                                        "عَن اَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَال:قَال رَسُولُ اللہِﷺ اِنَّ خَیرَ مَاتَدَاوَیتُم بِہ الحِجَامة"[8]

ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علاج کے لیے سب سے اچھی چیز حجامہ ہے۔.

حجامہ کا لفظ بدن میں فاسد خون نکالنے کے لیے مستعمل ہے. یہ ایک سائنٹیفک علاج ہے. کیونکہ اس کے ذریعے ہمارے بدن میں موجود زہریلا اور مواد فاسدہ سے آلودہ خون نکالا جاتا ہے. آج کل اس علاج کے لیے بہت جدید قسم کے شیشے کے ایسے کپ استعمال ہوتے. جنمیں  اندرونی خلا پیدا کر کے خون چوسنے کی بہترین صلاحیت پائی جاتی ہے. نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں معمولا پچھنے لگوائے ہیں. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدن کے بوجھل پن, دردوں، اور بیماریوں کو  رفع ہونے، اور حجامت کے عمل کے درمیان گہری مناسبت بیان فرمائی ہے اس کے علا وہ حجامہ کے  لئے دن بھی مقرر فرمائے  اور تواریخ بھی اور حجام انہی تاریخوں میں حجامہ کرتے ہیں تا کہ حجامہ کے کماحقہ فوائد سمیٹے جا سکیں ۔

 

  • غصہ نہ کرنے میں صحت کا راز

    .

"عَن ابِی ھُرَیرةؓان رَجُلًا قَالَ النَبیُّﷺ اَوصَنِی فقَال لاَتَغضَب فَردَّدَ مِرَارً وَقَالَ لاتَغضَب"[9]

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی مجھے نصیحت فرمائیے. آپ نے فرمایا غصہ مت کیا کرو. پھر آپﷺ یہ دہراتے رہے کہ غصہ نہ کیا کرو۔

ماہرین قلب نے یہ تحقیق کی ہے کہ غصہ بہت کرنے سے لوگوں کی عمر کم ہوتی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ غصہ کی ان کیفیات سے مسلسل کشیدہ اعصاب دل کو نقصان پہنچتا ہے. غصہ میں رہنا یہ حالت بدن کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور انسان زیادہ دن تک زندہ نہیں رہ سکتا [10]غصے کے مضر نتائج میں غیظ و غصہ کے عالم میں حرکت قلب تیز ہو جاتی ہے جس سے ہارٹ آٹیک کا قوی اندیشہ ہوتا ہےفالج اور لقوة کا بھی خطرہ مزید ہو جاتا ہے بی پی میں اضافہ ہو جاتا ہے آنکھوں کی طرف جانے والی رگوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور اچانک اندھا پن بھی واقع ہو سکتا ہے۔

 

  • قرنطینہ کا اصول

"عَن اُسَامَة رضی اللہ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ  اِذَا سَمِعتُم الطَّاعُونَ بِارضٍ فَلاتَدخُلُوھَا عَلیہ واِذَا وَقَعَ بارضٍ وانتُم  فَلاتُخرجو منھا فرارًا منہ"[11]

ترجمہ:حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی علاقے میں طاعون پھیل جانے کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور اگر یہ مرض وہاں پر واقع ہو جائے جہاں تم رہ رہے ہو   تو وہاں سے بھاگ نکلنے کی کوشش مت کرو.

حفظان صحت کا تقاضہ یہ ہے کہ وبائی علاقوں میں جانے سے گریز کیا جائے. اس طرح وبائی علاقوں کے باشندے اگر دوسرے ایسے علاقوں کی طرف جہاں یہ بیماری نہیں ہے. اگر وہاں جائیں گے. تو قوی اندیشہ ہے کہ ان کے ساتھ ان کے جراثیم بھی وہاں منتقل ہوں گے. اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا. گویا قرنطینہ کا عالمی اصول نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعارف کروا دیا کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرو یہ اصول صحت کے علمبردار  ہیں ۔ اور  یہ سب سائنسدان اب بتا رہے ہیں جبکہ یہ  وہی اصول رحمة للعالمین کئی صدیاں پہلے بتا گئے ہیں اس اصول کے تحت وبإزدہ علاقے کے مسافروں اور مریضوں کو جبرا دوسرے لوگوں سے علیحدہ رکھا جاتا ہے تاکہ احتیاط کے نتیجہ میں صحت مند علاقے بھی متاثر نہ ہوں. بعینہ یہی بات  حدیث بالا سے ثابت ہورہی ہے۔لیکن اس احتیاط کے لئے بھی کچھ اصول وضوابط مقرر فرمائے کہ  مرض اگرچہ متعدی ہو سکتا ہے حکم خدا سے لیکن مریض کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے تاکہ آپ کی احتیاط کے نتیجہ میں اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو ۔

 

  • بدن کی زکوۃ

"عَن اَبی ھُرَیرةَ رضی اللہ قَالَ ان رسُولُ اللہ ﷺ قَال: لِکلّ شئٍی زَکاةٗ وزکاة الجَسَدِ الصَّوم"[12]

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ہر چیز کی زکوٰ ۃ ہے اور بدن کی زکٰوۃ روزہ ہے.

لفظ زکٰوۃ کی ایک فقہی اصطلاح ہے مگر حدیث میں اس سائنسی معنویت کی نقاب کشی کر رہا ہے. اس بات کی وضاحت اس لفظ کی لغوی مفہوم کو سمجھنے سے بہتر طور پر ہو سکتی ہے. لغوی اعتبار سے لفظ زکٰوۃ نشونما، اضافے، اور پاک ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے. روزے کے ذریعے بدن کی پاکیزگی کا مطلب یہ ہے کہ بدن مختلف قسم کے سمی مواد سے پاک ہو جاتا ہے   بدن کے خلیات اور فضلات کو تحلیل اور خارج کرنے میں روزہ بہترین فریضہ سرانجام دیتا ہے. اس روزے کے ذریعے ہی درازی عمر اور بڑھاپے کے اثرات کو موخرکرنے میں معاونت حاصل ہوتی ہے اور اب یہ تحقیق بھی ثابت ہو چکی ہے[13]

 

 

  • طبعی توازن نظام

عَن عُقبةَ العَامِر رضی اللہ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ لاتُکرِھُوا مَرضَاکُم عَلی الطّعامِ والشَّراب فان اللہ   یُطعِمھم ویُسقِیھم[14]

ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مریضوں کو کھانے پینے پر مجبور مت کرو. بے شک اللہ رب العزت انہیں کھلاتے اور پلاتے ہیں.

مریض کو بلا رغبت کھلانے پلانے پر مجبور کرنامریض کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے. مریض کے لیے مرض کی حالت میں کھانے پینے ، لذیذ اور مقوی غذاؤں کی طرف بھی میلان ختم ہو چکا ہوتا ہے. حدیث شریف میں اللہ تعالی کی طرف سے مریض کو کھلانے پلانے کا بھی مفہوم ملتا ہےاس نظام کو طبعی توازن نظام کہا جاتا ہے. اس نظام کا کام یہ ہے کہ یہ اشیاء کی طلب اور عدم طلب کا ماحول پیدا کرتا ہے. اور اگر مریض کسی حاجت کو محسوس نہیں کرتا ہے, تو اس کا مطلب یہی ہے کہ نظام توازن کو طلب یا حاجت نہیں ہے. جب مریض میں موجودہ طبعی توازن نظام کو کسی چیز کی چاہت ہو گی تو خود ہی مریض میں اس چیز کی خواہش پیدا ہو گی اور مریض اپنی مخصوص چیز کو طلب کرے گا ماہر علم الاعضا"ڈاکٹر والٹر کانون"walter conon "

"اس کی ایک کتاب The wisdom of the Body"  اس کتاب میں ڈاکٹر نے عملی تجربات کے بعد اس چیز کی تصدیق کی ہے کہ مسلمان اطبإ اور محدثین قدیم اس قانون توازن سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ طریقہ علاج میں بھی اسے باقاعدہ ملحوظ رکھتے تھے[15]. اور یہی  قانون اور طبعی توازن نظام کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئی سال پہلے بتا گئے تھے ۔

 

  • درست سمت سونے میں حکمتیں:

"عَن یَعیش بنِ ظخفة عن ابیہ قَالَ: بَینَماانَا مُضطَجِع علی بَطنِی اذا رجل یُحَرّکنی  بِرجلہ ویقول قُم ھذہ ضجعة یُبغضھَا اللہ فرفعت راسِی فاذا رسولُ اللہﷺ"[16]

ترجمہ:حضرت یعیش بن ظخفة ؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا. اچانک کسی شخص نے مجھے اپنے پاؤں سے ہلایا اور کہا کہ اٹھو کہ اس طرح لیٹنا اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے. میں نے سر اٹھا کے دیکھا تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم تھے۔.

علم الاعضاء Physiology کے  ماہرین کہتے ہیں کہ الٹا لیٹنے سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کا خم بڑھ جاتا ہے. جس سے درد اور کھنچاؤ کا عارضہ لاحق ہوتا ہے. اس کے علاوہ بھی اس طرح سونے کی اور بہت سارے مضر اثرات ہیں. اس میں سانس لینے میں دشواری اعضإ کا سینے کی طرف ہو جانا  اس کے علاوہ بھی بہت مفاسد ہیں سائنسی طبی تحقیقات میں ان کا نقصان دہ ہونا تو بہت بعد میں ثابت ہوا ہے برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ ا وندھے  منہ سونے سے بچوں میں اچانک موت کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے[17] یہ تحقیق  ارشاد نبویﷺ  کا ہی ثمرہ  ہے کہ فرامین محمدی  کو پڑھا جاتا ہے اور اس میں مضمر حکمتیں تلاش کی جاتی ہیں  ۔

 

 

  • جراثیم سے بچاؤ

                                            "عن ابی سعید الخدری ؓ قَال: قَال رسولُ اللہ ﷺ اذا تثاٸب احدُکم فلیمسک بیَدہ علٰی فِیہ"[18]

ترجمہ:حضرت ابو سعید خودری اپنے والد کے توسط سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے اپنا منہ بند کرے۔

چھینک اندرونی جراثیم اور آلودگی باہر منتقل کرتی ہے جبکہ جمائی باہر فضا میں موجود جراثیم اور بعض اوقات ننھے منے حشرات کو اندر کی جانب کھینچنے کا باعث بنتی ہے. اس لیے آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے دونوں کے درمیان فرق کر دیا اور چھینک اور جمائی کے آداب بھی سیکھا  دئیے اس کے علاوہ چھینک آنے پر کیا پڑھنا ہے اور جمائی آنے پر کیا پڑھنا ہے یہ بھی تعلیمات مصطفیﷺ کے مطالعہ سے ہی سمجھ آتا ہے اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائیں  سائنسی اثبات حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ارشادات نبویﷺ کی اہمیت   بھی اجاگر ہوتی ہے ۔

 

  • کثرت  ضحک کی ممانعت

    .

"عَن ابی ھُریرة ؓ قالَ قالَ رسولُﷺ لاتُکثِرو الضِّحکَ فان کَثرةُ الضحکَ تُمیتُ القَلب[19]"

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کثرت سے مت ہنسو بے شک زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے.

اس کا مفہوم یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی روحانی کیفیت مرجھا جاتی ہے اور وہ نیکی اور خیر کی طرف مائل نہیں ہوتا عبادات، فرائض،و نوافل اور پرہیزگاری بوجھ معلوم ہوتے ہیں. دل تاریکیوں  میں ڈوب جاتا ہے. نہ نفع پہنچانے کے قابل رہتا ہے نہ ہی نقصان سے بچ سکتا ہے[20].زیادہ ہنسنے والے پر ایک نا ایک وقت ضرور ایسا آتا ہے جب اس کا دل اچاٹ ہو جاتا ہے جب کہ اس قوت کو سنبھال کر رکھنے والا اس کیفیت سے دوچار نہیں ہوتا اس لیے آپﷺ نے تبسم اور مسکراہٹ کی ترغیب دی ہے بلکہ مسکراہٹ اور خندہ پیشانی سے ملنے کو ایک جگہ صدقہ کہا گیا ہے کہ اس سے اللہ رب العزت   صدقہ کا ثواب عطا فرماتے ہیں۔[21]

 

  • پیدائش زن(

    cloning).

"عن اَبی ھُریرة ؓ قالَ،  قالَ رسول اللہﷺ اِستوصَو بالنِّسإ خیرًا فانّ المرأة خُلقت من ضلعٍ[22]'

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا عورتوں سے اچھا برتاؤ کرو کیونکہ ان کی تخلیق پسلی سے ہوئی ہے. اور پسلی کااوپری  حصہ زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے. چنانچہ عورتوں سے حسن سلوک کرو۔.

اس حدیث مبارک سے تخلیق زن کی کہانی بیان ہوتی ہے  اس میں عورتوں کی فطرتیں و نفسیات کی مباحث ذکر نہیں ہیں لیکن تخلیق کا ایک منظر دکھائی دیتا ہے. اور cloning کا تصور ہے یہ اصول بھی انسانوں کا نہیں بلکہ خالق کائنات کا ہے لیکن اب تک محض copy کی تیاری تک محدود ہے اللہ تعالی نے اپنی صنعت تخلیق کے کچھ مظاہر متعارف کروائے ہیں کلوننگ  میں انہی مظاہر میں ایک مظہر ہے

کلوننگ کے ذریعہ پہلا جانور 1954میں ایک مینڈک تیار کیا گیا پھر میں ڈولی نامی ایک بھیڑ تیار کی گئی[23]

 

  • نظامی شمسی

                                                    "عن ابی ھریرة ؓ قَالَ قَالَﷺ نَہی رسولُ اللہ ﷺ ان یَّقعد بین الظلّ والشمسِّ"[24]

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک یکبارگی سائے اور دھوپ میں بیٹھنے سے منع فرمایا.

سائنسی اور طبی حکمتوں پر مبنی ہے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم. ہمارے  نظام شمسی میں سورج روشنی، اور حرارت، کا سب سے بڑا منبع ہے. سورج سے کئی قسم کی شعاعیں نکلتی ہیں. جو انسانی زندگی کے لیے سخت مہلک ثابت ہو سکتی ہیں

لیکن قدرت کے انتظام کے مطابق ان لہروں میں اکثر کرة ہوائی میں جذب ہو جاتی ہیں یوں انسان ان کے مضر اثرات سے محفوظ رہتا ہے لیکن ultra violet(بالائی بنفشی) infra Red( زیریں سرخ) X_ Rays (ایکس ریز) اور Gamma (گامار یز) زمین تک پہنچ جاتی ہیں infra Red بدن کو گرمائش دیتی ہیں اور افقی بنفشی شعاعیں بدن کو سرخ کرتی ہیں اگر انسان کا کچھ بدن کا حصہ دھوپ میں اور کچھ حصہ سایہ میں ہو تو دونوں کا اندرونی کیمیائی عمل ایکدوسرے سے بالکل خلاف ہو گااور اسکی وجہ سے جلد اور خون میں پیچیدگیاںجنم لینگی نبی کریمﷺ کی شفقت کہ کئی صدیاں پہلے ہی ان باتوں سے آگاہ فرماگئے ہیں۔[25]

 

حلال میں شفاء  

عَن ام سلمة ؓ قالَت: ان النبّیﷺ قَال ان اللہ لم یَجعل شفإکم فیما حرّم علیکُم۔[26]

ترجمہ:حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی نے تمہارے لیے شفاء ان چیزوں میں نہیں رکھی جنہیں تم پر حرام کیا گیا.

جب ہم شریعت کی حرام کردہ چیزوں میں غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ چیز آتی ہے. کہ حرام کردہ چیزوں میں حبث ہے. جو انسانی صحت کے لیے واقعتا مضر ہے. اور اسباب حرمت کی روشنی میں حرام اشیاء سے دوا سازی کی ممانعت ہر لحاظ سے ایک سائنٹیفک حکم ہے. اور جب کبھی کبھی دوا سازی کا حکم فقہا نے جواز کا لکھا ہے وہ بھی جب کیمیائی عمل کے نتیجے میں حرام چیزوں کی ماہیت یکسر تبدیل اور اسباب حرمت ختم ہو جانے پر دیا ہے حرام اشیاء میں ایسی نجاستیں موجود ہیں کہ جس کی بدولت شریعت نے انہیں حرام قرار دیا ہے خواہ ان حرام اشیاء میں سے شراب ہویا خنزیر کا گوشت جو کہ نجس العین  ہیں یہ اپنی ذات میں ہی ایسے خواص رکھتی ہیں  جو انسانی صحت کیلئے مضر ہیں  ۔

 

کھانے  کے طریقۃ

۔           [27]   عَن ابی جحفة ؓ انَّ النبیﷺ قَالَ: انا لااکُل متکإّ        

ترجمہ: نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا

اس حدیث مبارک میں بھی ٹیک لگا کے کھانے سے اجتناب بڑی طبی اور سائنسی حکمتوں پر مبنی ہے. اس طرح سہارے لے کر بیٹھ کر کھانے میں خوراک کی نالی سیدھی لٹکنے کے بجائے پیچھے کمر کو جا لگتی ہے. جس سے خوراک کے سیدھے معاہدے میں گرنےکا عمل  دشواری کا شکار ہو جاتا ہے. جس کی وجہ سے متعدد بیماریاں جنم لے سکتی ہیں. اکڑوں بیٹھ کر کھانے کا ایک فائدہ دائمی قبض سے نجات کی صورت میں بھی دیکھا گیا ہے. اس کی وجہ بھی معقول معلوم ہوتی ہے.. اس حالت میں معدہ قدرے دباؤ کے ساتھ فاضل غذائی مواد کو آنتوں کی طرف دھکیلتا ہے اور بڑی آنت کا رخ سیدھا ہونے کے باعث اخراج کے عمل میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے اس طریقے کو معمول بنا لیا جائے تو قبض کی تکلیف جاتی رہتی ہے.

قابل توجہ یہ بات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب تعلیمات طبی حقائق اور تحقیقات سے پہلے ہی اپنی امت کی شفقت کے لیے سامنے آ چکی ہیں رحمۃللعالین کی تعلیمات نے شعبہ ہائے زندگی کے ہر ہر فرد کے لئے یکسو منفعت کے احکام جاری فرمائے وہ اب ہمارا انتخاب ہے کہ ہم ان  احکامات کو بجا لاتے ہیں اور اپنی اخروی حیات کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی سوارتے ہیں یا گھاٹے کا سودا کرتے ہیں  ۔ [28]

 

سکون دل

"عن عبد اللہ بن مسودؓقال قال رسول اللہ ﷺ لایبلغنی احد عن احد من اصحابی فانا احب ان اخرج الیکم وانا سلیم الصدر"[29]

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی مجھے میرے کسی دوسرے صحابی کے بارے میں کوئی بات نہ پہنچائے. میں یہ چاہتا ہوں کہ جب تمہارے سامنے آؤں تو میرے دل کی کیفیت درست ہو۔

 ذہنی سکون واطمینان دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہوتا ہے. اس کے مقابل اگر شکوک و شبہات ہوں تو یہ کیفیت زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے. حدیث میں اسی نعمت کی طرف اشارہ ہے کہ حسن کارکردگی اور خوشگوار معاشرت کے لیے دل و دماغ کا ان نفسیاتی عوارض سےپاک و صاف ہونا بہت ضروری ہے. ورنہ بڑی سے بڑی شخصیات بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی. علم و نفس کی رو سے آج ذہن اور دماغ پر طاری ہونے والی مختلف منفی کیفیات کو باقاعدہ امراض تسلیم کیا گیا ہے اور ان کے علاج پہ مسلسل تحقیقات بھی جاری ہیں۔اور قرآن فرماتاہے  الا بذکر اللہ تطمئن القلوب[30] لوگوں اللہ کے ذکر میں دلوں کا سکوں ہے اسلئے اگر ہم اپنے اذہان وافکار کو اللہ کے احکام کے تابع کریں گے اس  عمل سے بھی طبیعت میں اطمینان کی  فضاء

 

 

 

کاسمیٹک سرجری

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات

 خلق اللہ [31]۔

ترجمہ:عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے بدن گودنے گودوانے والیوں ،بھنویں نچوانے والیوں اور دانتوں میں فاصلہ پیدا کرنے اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔

حدیث پاک کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آرائش و زیبائش کا شوق قدیم انسانی معاشروں میں بھی رائج تھا تاہم ابتداء میں یہ صرف خواتین تک محدود تھا۔

اس عمل میں ملوث خواتین پر لعنت کی وجوہات ایک ایسا موضوع ہے جو اس وقت ہمارے پیش نظر نہیں ہے لیکن حدیث کے آخری جملہ میں ایک ایسے امکان کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے جس نے ترقی کرتے کرتے آج ایک سائنٹفک اور نہایت جدید شکل اختیار کرلی ہے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی اور تغیر آجکل اضافہ جمال کا ایک معروف طبی شعبہ بن گیا ہے اور اسے پلاسٹک سرجری کے نام سے جانا جاتا ہے اضافہ حسن کے اس عمل میں متعدد بار تکلیف دہ جراحی سے گزرنا پڑتا ہے اس فن کو cosmetic surgery یعنی جراحی  برائےاضافہ جمال کا نام دیا گیا ہے۔

حدیث کے الفاظ کا تقاضا کرتے ہیں کہ محض زیب و زینت کے یہ عمل کروانا ناجائز ہے ہاں اگر کسی کی ظاہری شکل و ہئیت ایسی ہے جو اس کے لئے عیب شمار ہو رہی ہے اور معمول سے ہٹ کر ہےتو اس کے لئے اس طرح کی سرجری کروانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

 

علم النفس

عن أم سلمہؓ قالت کنت انا و میمونہ عند النبی ﷺ فجاء ابن ام مکتوم بیت اذنہ وذاک بعد ان ضرب  الحجاب فقال قوما قو فقلنا انہ مکفوف لا یبصرنا قال:افعمیا وان امتما الستما تبصران[32]

حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ میں اور حضرت میمونہؓ آنحضرت ﷺ  کے پاس تھیں کہ عبد اللہ بن ام مکتومؓ نے ملاقات کی اجازت چاہی یہ واقعہ پردے کے حکم کے بعد کا ہے  آپ ﷺ نے ہم دوناں سے فرمایا اٹھ جاؤ هم نے عرض کیا یہ آنے والا شخص تو نابینا ہے ہمیں نہیں دیکھ سکتا ۔آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم دونوں بھی اندھی ہو کیا تم اسے نہیں دیکھ سکتیں۔

مردوں کا عورتوں کی طرف میلان اور فطری رگبت اتنی معروف ہو چکی ہے کہ اس باب  میں عورتوں کے رجحانات پر نظر نہیں جاتی اور شائد عورتیں خود بھی اسے بہت اھمیت کی نظر سے نہیں دیکھتیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے علم النفس کے اس پوشیدہ پہلو کو آشکار کیا ہےغالباً اسی اہمیت کی بنا پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اسے ایک راز سے تعبیر کرتے ہوئےکہا کہ جسطرح مردوں میں عورتوں کی جانب کشش کا جذبہ  پایا جاتا ہے اور عورتوں کی طرف دیکھنا انہیں ذہنی اضطراب اور فتنوں میں مبتلا کر سکتا ہے اسی طرح عورتیں بھی مردوں کی جانب مائل ہوتی ہیں اور یہ کیفیت ان کے لئے بھی کئی مفاسد کا باعث بن سکتی ہے[33]

 

 

پانی سے علاج

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ:"الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاء[34]ِ

حضرت  عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی مہربان نے فرمایا کہ بے شک بخار جہنم کی پھٹکار کے باعث ہوتا ہے لہذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔

یہ حدیث بہت سارے عملہ فوائد پر مشتمل ہے حقیقت یہی ہے کہ بدن انسانی کے بنیادی جواہر میں جزو ناری شامل ہوتا ہے اس کے بغیر بدن کی عمومی حرارت کی کوئی اور معقول وجہ نظر نہیں آتی یہی آگ کا جزء جسم انسانی میں موجود ہوتا ہے تو بخار کے موقع پر اس میں شدت پیدا ہوجاتی ہے فلاسفر کے ہاں یہ دلچسپ بحث لائق مطالعہ ہے کہ بدن حیوانی کے عناصر اربعہ میں آگ شامل ہے دلچسپی رکھنے والے قارعین وہاں رجوع کرسکتے ہیں[35]

دوسری یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ دنیا مین حرارت کا اصل مقام جہنم ہےاور یہ مقام تصوراتی نہیں بلکہ واقعاتی طور پر موجود ہے علم العتقاد میں جنت و دوزخ کی موجودگی کا عقیدہ و مسلمات میں رہا ہے۔

جدید ترین طاقتور دور بینوں کی ایجاد سے قبل شائد اس عقیدے کو کسی علمی ترجیح کے ذریعے سمجھنا کچھ مشکل تھا البتہ کائنات کی دور رادپنہائیوں میں دیکھ لینے اور متعدد انتہائی بڑے بڑے آتشی کروں کی دریافت کے بعد کم از کم قیاسی طور پر جہنم کی موجودگی کا اعتقاد اب بعید عقل نہیں رہا ہمارے اپنے نظام شمسی میں گرمی برسائے سورج کا وجود اسکی واضح مثال ہے دوسری احادیث میں مطلق گرمی اور حرارت کو بھی جہنم کی وجہ سے بتایا گیا ہے۔اس سے یہ خیال تقویت پاتا ہے کہ حرارت کا سرچشمہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس حرارت میں بہت سارے منافع اور زندگی بھی رکھ دی ہے حدیث بالا میں بخار کے موقع پر پانی کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے یہ بات سرد علاقوں کے باشندوں کے لئے باعث تعجب ہے کہ ہوسکتی ہے کیونکہ ان علاقوں کے بعض بخار پانی کے استعمال سے مزید بگاڑ پیدا کرسکتے ہیں ایک روایت میں منقول ہے کہ جب آپ ﷺ کو مرض الموت میں جو شدید بخار کی کیفیت لاحق ہوئی تھی آپ اس دوران بھی اپنا ہاتھ پانی میں بھگو کر بار بار اپنے چہرے پر ملتے تھے اس سے قبل آپ مدینہ منورہ کے مختلف کنوؤں کا پانی منگوا کر اپنے اوپر انڈیلا تھا جس سے طبیت ہحال ہوگئی۔

آپ کے اس عمل سے بھی حالت بخار میں پانی کے کلی و جزوی استعمال کی رہنمائی ملتی ہے۔

 

خلاصہ بحث

ان تمام احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن و حدیث ہر میدان میں ایک تعلیم ہی نہیں بلکہ اصل کی  اہمیت رکھتی ہے. آج کی طب اور ان کی سائنسی تحقیقات کو سامنے رکھا جائے اور صدیوں پہلے کے فرامین مصطفی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جدید تحقیقات ان قدیم فرامین مصطفویﷺ کا ہی ایک مظہر ہے سائنسی بنیادوں پر کام  کرنے والوں کے لیے قرآن ہو یا تعلیمات نبویﷺ ان سے روگردانی کرنا ناممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات حفظان صحت کے اصولوں سے لے کر فلکیات، نفسیاتی صحت،  حتیٰ کہ علم الحیوان کے لیے بھی رہنما اصول ہیں جن کی کچھ مثالیں آپ کے سامنے پیش کی گئیں اور یہ ثابت کیا گیا کہ دین اسلام ہی وہ کامل دین ہے کہ جس کی تعلیمات  تمام کی تمام انسانوں کے لئے مفید ہیں اور ارشادات محمدیﷺ پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنی زندگیوں جسمانی، روحانی طور پر بہتر سے بہترین کر سکتے ہیں اگر قرآن وحدیث پر کما حقہ عمل کیا جائے تو یہی انسان کی فلاح وبہبود اور کامیاب کی معیار اور سرٹیفکیٹ ہے



-[1] تقی عثمانی ،علوم القرآنالمطبوعة مکتبة دار العلوم (کراچی)   ص  46

[2]-  قاسم محمود،سائنس کیا ہے،المطبوعة الفیصل ناشران تاجران کتب اردو بازار(لاہور)ص5

[3]۔طاہر قادری،اسلام اور جدید سائنس ،المطبوعة منہاج القرآن پبلیکشز(لاہور) ص 50

[4] ۔ القرآن 3: 191

[5]  ۔محمد بن اسماعیل،الامام،الجامع الصحیح، کتاب النکاح، باب لزوجک علیک حقا ، ص 265

[6] ۔ القرآن 78، 9

[7] ۔پانی پتی،قاضی ثنإ اللہ ،تفسیر مظہری،المطبوعة ضیإ القرآن،پبلی کیشز پاکستان،ج 1،ص 2010

 ۔[8] احمد بن حنبل،الامام،المسند، ،مطبوعۃ انصار السنۃ  پبلکشنزلاھور،ج 19،ص269

[9]  ۔ بخاری محمد بن اسماعیل،الامام، الجامع الصحیح ، کتاب الادب،باب الحذر من الغضب  ، ص  536

[10]  ۔ عبد الرحیم ماردینی،لاعجاز العلمی فی الحدیث النبوی،المطبوعۃ دار المحبۃ،ص 203

[11] ۔ بخاری،محمد بن اسماعیل،الامام،باب کراھیة الخروج من بلد فیھا وقع الوبإ فرا منہ وکراھیة القدوم علیہ   5728 ص ،

۔ [12] محمد بن یزید ابن ماجہ،الامام،سنن ،کتاب الصوم،باب فی الصوم زکوة الجسد،المطبوعۃ دار السلام للنشر والتواریخ  الریاض ،الرقم 1745

 ۔[13] فاسٹنگ فار ہیلتھ اینڈ لانگ لائف، ڈاکٹر ہاورڈ ، ص 65

[14] ۔ ترمذی،محمد بن عیسی،الامام، الجامع الصحیح، ، باب ماجإ فی الدوای والحث علیہ  ص 160

[15]۔ شمس الدین محمد بن ابو بکرابن قیم ،طب نبوی ﷺ، المطبوعۃ مکتبۃ محمدیۃ،ص 90_99 

[16]۔ ترمذی, محمد بن عیسی، الامام، الجامع، الجامع ترمذی، کتاب الاداب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ، ص  100

 [17]۔ رسالہ ٹائم ، جولائی 199، ص  5  

[18]۔ ابوالحسن مسلم بن حجاج بن مسلم نیسابوری، الامام، الصحیح مسلم، باب الفضائل الآدب  ، ص 345

[19] ۔ ترمذی، محمد بن عیسی،امام، الجامع، جامع ترمذی،باب کثرة الضحک  ، ص 224

[20] ۔ ابو حامد الغزالی، الامام، احیاء العلوم،المطبوعۃ المکتبۃ العصریۃ ،ج 3،ص 128،

 [21] ۔ترمذی، محمد بن عیسی،امام، الجامع، جامع ترمذی،ج 3 ص 384

[22] ۔ سلیمان بن اشعث سجستانی , الامام، سنن،سنن ابو دا ٶد،باب آداب، ج 2، ص 355

[23] ۔ یاسر جواد ،  ایجادات کی تاریخ،ص 74

[24] ۔سلیمان بن اشعث سجستانی , الامام، سنن،سنن ابو داٶد،باب آداب، ج 2، ص 405

[25] ۔  گیلانی، بحث سورج،  حقائق الطیبة فی  الاسلام

[26] ۔  بخاری،محمد بن اسماعیل، صحیح، الصحیح بخاری، باب شرابة الحلوإ والعسل تعلیقا ، حدیث   5431

[27]۔ بخاری،محمد بن اسماعیل، صحیح، الصحیح بخاری، باب آکل متکئا  رقم الحدیث 5398   

[28]۔  محمد عبد محمود،اذ التغذیہ،الطب الوقائی فی الحدیث، ص  39               

[29] ۔ سلیمان بن اشعث،  الامام، ابی داؤد  ، سجستانی ، ص 3897

[30] ۔  القرآن     28:13

[31] بخاری ،محمد بن اسماعیل،الصحیح،الصحیح بخاری،کتاب اللباس والزینۃ  ، ص 360

[32] ترمذی، محمد بن عیسی،امام، الجامع، جامع ترمذی،باب ماجاء فی احتجاب النساء من الرجال ، ج 2 ، ص 104

[33]شاہ ولی اللہ  دہلوی،حجۃ اللہ البالغہ،المطبوعۃ مکتبہ حجاز دیوبند ، ج 2 ، ص 192

[34] ابوالحسن مسلم بن حجاج بن مسلم نیسابوری، الامام، الصحیح مسلم،کتاب الطب  ، ص 280

[35] ابن قیم،زاد القیم، المطبوعۃ نفیس آکیڈمی ، ج 2 ص 19

Loading...
Similar Articles
Loading...
Similar Article Headings
Loading...
Similar Books
Loading...
Similar Chapters
Loading...
Similar Thesis
Loading...

Similar News

Loading...
About Us

Asian Research Index (ARI) is an online indexing service for providing free access, peer reviewed, high quality literature.

Whatsapp group

asianindexing@gmail.com

Follow us

Copyright @2023 | Asian Research Index