Search from the Journals, Articles, and Headings
Advanced Search (Beta)
Home > Al-Bahis Journal of Islamic Sciences > Volume 3 Issue 1 of Al-Bahis Journal of Islamic Sciences

افراد معاشرہ کی کردار سازی کا عمل: سیرت طیبہ کی روشنی میں |
Al-Bahis Journal of Islamic Sciences
Al-Bahis Journal of Islamic Sciences

تعارف

انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے کہ وہ اپنی امتوں میں باری تعالی کے احکامات کی عملی تصویر بن جائیں۔ اللہ تعالی وحی کے ذریعے جو ہدایات و احکام نازل کرتا ہے، جو معنوی اور فکری ہوا کرتے ہیں، انبیاء کرام ان کا مجسم عملی نمونہ بن جاتے ہیں۔ قرآن میں انبیاء  کرام کے قصص  ان کے اسی نمونہ عمل کو پیش کرنے کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔

یعنی ان کی عملی زندگی کے واقعات تفریح کے لئے نہیں بلکہ نمونہ عمل ہے، جس کا مقصد ہے کہ قرآن پڑھنے والا اس نمونہ عمل سے اپنے کردار و سیرت کی تعمیر کرے۔ آنحضرت علیہ الصلوات والتسلیمات کی زندگی کو بھی رب ذوالجلال نے قرآن کے اندر ’’اسوہ حسنہ‘‘ قرار دیا ہے، فرمان باری تعالی ہے:

"تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے"

یعنی حضور علیہ السلام کی زندگی ان کی سیرت وکردار،  ان  کا  اٹھنا  بیٹھنا ، اوڑھنا بچھونا  سب بہترین نمونہ زندگی پیش کرتے ہیں، جس سے ہم اپنے کردار و سیرت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی زندگی کو اسوہ حسنہ قرار دینا  ہی یہ واضح کرتا ہے کہ ہمارے لئے وہ تعمیر کردار کا ذریعہ ہے۔ آنحضرت علیہ الصلوات و التسلیمات کی زندگی قرآن کے احکام و ہدایات کی عملی تصویر اور مجسم عملی نمونہ تھی۔

بالفاظ دیگر قرآن احکام و ہدایات اور معانی وافکار ہے تو آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات مجسم عملی تصویر۔ قرآن مابین الدفتین اور آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات مدینہ کی گلیوں میں اس کی گھومتی پھرتی مجسم عملی تصویر۔ جس عملی تصویر کی تقلید کے سوا آنحضرت ﷺکے بھیجے جانے کا اور کوئی مقصد نہیں تھا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا:  " ہم کوئی بھی رسول نہیں بھیجتے مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی پیروی کی جائے"

آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات کی بعثت اور ان کی زندگی کا اسوہ حسنہ ہونا صرف اس لئے تھا کہ اس کی پیروی کی جائے اور اسکو اپنے کردارو سیرت کی تعمیر کا ذریعہ سمجھا جائے۔

تزکیہ و تعمیر  سیرت     

اللہ جل جلالہ نے آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات کے وظائف زندگی میں کتاب و حکمت کی تعلیم کے بشمول ان کے فرائض میں تزکیہ کو بھی شامل فرمایا ہے: یزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ[1]  تزکیہ، زکی یزکو زکوۃ سے ہے، جس کا معنی ہے نما وزاد، طھرو صلح۔ یعنی نشو و نما دینا، اصلاح کرنا، پاک و صاف کرنا۔ کہتے ہیں: زکی الرجل، صلح و تنعم۔ آدمی نے تزکیہ حاصل کرلیا ،  کا معنی ہے،وہ سدھر گیا ، اس کی اصلاح ہو گئی اور اللہ کی نعمتوں سے سرفراز ہو گیا۔ مجمع البحار میں ہے: الزکواۃ لغۃ الطہارۃ والنماء والبرکۃ یعنی زکواۃ لغت میں پاکائی ، نشو ونما اور برکت کو کہتے ہیں۔ امام راغب اصفہانی نے لکھا ہے:بزکاء النفس وطہارتہا یصیر الانسان بحیث یستحق فی الدنیا الاوصاف الحمیدۃ وفی الاآخرۃ الاجر المثوبۃ ۔

(نفس کے تزکیہ اور طہارت سے انسان دنیا میں اوصاف حمیدہ اور آخرت میں اجر و ثواب کا مستحق بنتا ہے۔) بالفاظ دیگر تزکیہ کا مطلب معاشرے کے افراد کی کردار سازی ہے، جو عمل افراد معاشرہ کو اوصاف حمیدہ سے سنوار کر ان کو پیکر کردار و عمل بنادےگا۔

آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات کی ذمہ داریوں اور نبوی فرائض میں یہ شامل تھا کہ آپ لوگوں کی تربیت کریں، ان کو اوصاف حمیدہ سے مزین کریں، اخلاق و کردار کے اعلی مدارج پر ان کو سرفراز فرمائیں۔زندگی کے تمام شعبوں میں افراد کے سیرت وکردار کی تعمیر فرمائیں۔امام مالک علیہ الرحمہ مؤطا میں نقل کرتے ہیں کہ  آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات نے فرمایا:  میں بھیجا گیا ہوں، اس لئےکہ اخلاق کریمہ کی تکمیل کروں  [2]

یعنی آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات کی بعثت کا بنیادی مقصد کردار سازی ہے۔افرد امت میں اخلاق کریمہ کو ترویج دینا ہے۔ لوگ کو اخلاق کریمہ کے اندر پایہ تکمیل تک پہنچانا، ان کو حسن اخلاق سے آراستہ کرنا آنحضرت علیہ الصلواۃ والتسلیمات کی بعثت کا مقصد  تھا۔

بچوں کے لئے نمونہ عمل

آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات کی زندگی از ولادت تا وفات ایسا اسوہ حسنہ ہے، جس کا کوئی بھی حصہ ہمارے لئے اسوہ حسنہ کی حیثیت سے خالی نہیں ہے۔آپ جب چھوٹی عمر کے بچے تھے، یہ ایسی عمر ہے کہ جس میں بچوں کو اپنے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا ، برا بھلا  تو دور کی بات ہے، ان کو اپنی ذات کی پہچان بھی نہیں ہوتی ، لیکن حضور علیہ السلام کےاسی بچپنے کی عمر میں بھی اسوہ  حسنہ تھے۔چنانچہ روایت ہے کہ جناب ابو طالب کے گھر میں جب آپ ﷺ دوسرے   بچوں کے ساتھ پرسکون  دستر خوان پر   بیٹھتے تھے ،  اگر کھانے کو کچھ نہ بھی ملتا تو پرسکون بیٹھے رہتے اسی وجہ سے ابو طالب نے محمد ﷺ کا کھانا الگ کردیتے   [3]،  پر حضور ﷺ کسی سے الگ ہوکر نہیں کھاتے اس لئے اس پرآپ راضی نہ ہوئے،مل جل کر کھاتے اور اپنے سے زیادہ دوسروں کے کھانے سے خوش ہوتے۔[4]

آٹھ سال کی عمر ہے آپ اپنے چچا کے حالات کو محسوس کر رہے ہیں۔ آپ نے اپنے چچا پر بوجھ بننا نہ چاہا اور ساتھ ساتھ ان کے بوجھ میں  ہلکائی کرنا چاہا۔ جناب ابو طالب سردار تھے لیکن مالی طور پر کمزور تھے ، بڑاعیال ہونے کی وجہ سے  محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کی رسم اور ایک میسر طریقہ روزگار کے طور پر گلہ بانی کو بطور پیشہ اختیار کیا۔ بکریاں چرانے کی مزدوری کرنےلگے۔  نہ صرف خود کو سنبھالا ، بلکہ پریشان حال چچا کی بھی مدد کی ۔ ۔جیساکہ عبداللہ بن ابی الحمساء  سے متعلق  مروی ہے ، کہ وہ رسول اللہ علیہ الصلوات  والتسلیمات  سے کوئی تجارت کر رہے تھے، درمیان میں اسے کوئی بات سوجھی ، آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات سے کہا : ٹہرئیے! میں ابھی لوٹ کر بات کرتا ہوں ۔ آپ کی زبان سے نکل گیا: اچھا۔ عبداللہ بن ابی حمساء یہاں سے چلا تو واپس آنا بھول گیا۔ تین  دن کے بعد خیال آیا کہ جو معاملہ محمد بن عبداللہ سےکر رہا تھا وہ پورا کرلینا چاہئے۔ جب عبداللہ بن ابی حمساء آپ کے گھر پہنچے، تو اسے بتایا گیا تیسرا دن ہے کہ گھر پر نہیں ہیں۔ تلاش بسیار کے بعد اسی جگہ آئے، جس جگہ آپ کو ٹھرا کر گیا تھا، آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات نے صرف اتنا کہا:

ای جوان! تم  نے مجھے تین دنوں سے انتظار کرایا اور مجھے یہ تکلیف دی تم نے ۔[5]

حضرت اسماعیل علی نبینا و علیہ السلام کےمتعلق بھی اسی طرح کا واقعہ منقول ہے، باری تعالی نے فرمایا:  انہ کان صادق الوعد۔  [6]

یہ آنحضرت کا بچپنہ تھا، آپ نوجوان ہوئے تو باقائدہ تجارت اختیار کی۔ بقول مولانا ابوالکلام آزاد: عہد طفلی سے منزل شباب میں قدم رکھتے ہی تجارت کا خیال آیا۔[7]  اپنا روپیہ نہیں تھا تو دوسروں کے سرمائے پر تجارت شروع کی۔ آنحضرت کی تجارت ومعاملات کچھ یوں رہے کہ ان کوصادق وامین کہا جانے لگا۔ آنحضرت کی اسی شہرت کے باعث حضرت خدیجۃ الکبری نے آنحضرت کو شراکت کی پیش کش کی، چنانچہ اس کاروباری شراکت سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کادل ایسا جیتا کہ شریک تجارت سے وہ شریکہ حیات بن گئیں۔حسن معاملات کی یہ کتنی خوبصورت مثال ہے کہ رشتہ تجارت رشتہ ازدواج میں تبدیل ہوگیا اور بالآخر حضرت خدیجہ نے اپنی ساری دولت بھی قدموں میں نچھاور کردی۔یہ وہ کردار تھا، جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ جو ہمیں سکھاتا ہے کہ حسن معاملات وحسن کردار زندگی کی مشکلات کی گرہیں کھول دیتےہیں، گری ہوئی حالات سے زندگی کی رفعتوں تک پہنچا دیتےہیں۔

سماجی اصلاح کے لئے کوششیں

آنحضرتﷺ معاشرے کے اندر فساد کو برداشت نہیں فرماتے تھے،  ان  پر اللہ تعالی کے کلام منزل میں یہ فرمان ہے:

"یہ دار آخرت ہے، جس کو ہم نے بنایا ہے، ان لوگوں کے لئے، جوزمین میں سرکشی اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے"  [8]

اللہ کی زمین پر فساد اور سرکشی کو مٹانا ایک نبی کا مقصد اول ہوتا ہے، کوئی بھی نبی اپنی سالم فطرت کی وجہ سے شر اور فساد سے نفرت کرتا ہے۔ اور شروفساد کا رد اصلاح ہی سے ہو سکتا ہے۔ یہی سبب تھا کہ موطا میں ہے کہ سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات کہا کرتے تھے: کہ میں تمہیں نماز وصدقہ سے بہت زیادہ بہتر کی خبر بتائوں؟ لوگوں نے کہا: جی بلکل! کہا: آپس میں اصلاح کرو! خود کو بغض سے بچاؤ!۔ [9]

آنحضرت علیہ الصلوات  والتسلیمات جب بیس سال کی عمر کے ہوئے، کہ مکہ میں ایک واقعہ ہوا، ایک یمنی تاجرتجارت کا مال لیکر مکہ معظمہ آیا، عاص بن وائل سہمی، جو ایک قبیلے کا سردار تھا  ، اس نے مال خرید لیا، جب قیمت طلب کی تو مار پیٹ کر اسے بھگا دیا۔ مکہ کے کچھ شرفاء  نے ایک کنونشن منعقد کیا، محمدﷺ جو ابھی بیس سالہ نوجوان تھا، مجمع میں پہنچ گیا۔ان کی برکت یہ ہوئی کہ جو معاملہ صرف تجارت کا تھا، اس کے دائرہ کو بڑھا دیا گیا۔ ایک معاہدہ طئے پایا کہ:

  • ہم اپنے وطن سے بے امنی دور کرینگے
  • مسافروں کی حفاظت کرینگے
  • غریبوں کی امداد کرتے رہیں گے
  • طاقتور کو کمزور پر، بڑوں کو چھوٹوں پر ظلم کرنے سے روکا کریں گے ۔ [10]

مکہ پر جب بنو جرہم قبیلہ نے حملہ کیا تھا، اس موقعہ پر بھی معاہدہ ہوا تھا، جس کو حلف الفضول کا نام دیا گیا ۔آنحضرت  اس میں شامل ہوئے ۔ نبوت کے بعد جب مسلمانوں میں ایک منظم نظام قائم ہو گیا، اسلام کو فتوحات نصیب ہوئیں، آنحضرت علیہ الصلوات والتسلیمات فرماتے تھے کہ، قریش اگر حلف الفضول کو زندہ کریں تو میں سب سے پہلا شخص ہوں گا، جو اس میں حصہ لوں گا۔[11]

فساد کا رد اور اس سے مقابلہ اور اصلاح کی ہر ممکن کوشش آپ علیہ الصلواۃ والتسلیمات کی زندگی کی ترجیحات میں شامل تھا۔ یہ آنحضرت علیہ الصلوات والتسلیمات کے اسوہ حسنہ کے وہ واقعات ہیں، جن کا تعلق اعلان نبوت سے پہلے سے ہے، آپ درجہ بدرجہ اپنی زندگی کے ہر مرحلہ پر ہمارے لئے اسوہ حسنہ کے مناظر پیش کر رہے ہیں، جو ہمارے لئے قابل اتباع ہیں، جن کی پیروی سے ہم اپنے عمل و کردار کی تعمیر احسن طریقہ پر کر سکتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کی عمر کا یہی عرصہ ہے، جو آپ نے دلیل نبوت کے طور پر پیش کیا تھا۔ صفا کی پہاڑی پر آپ نے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا :

’’اگر میں یہ بتاؤں کہ یہ وادی جو اس پہاڑی کےا ٓڑ میں ہے، یہاں دشمن کی فوج پہنچ گئی ہے اور عنقریب تم پر حملہ کرنے والی ہے، تو  آپ صاحبان میری بات سچ مانیں گے؟‘‘ سب نے جواب دیا:   ما جربنا علیک الا صادقا۔[12]

آنحضرت ﷺ کی امانت و صداقت خیر خواہی وراستبازی اور دوسری جن خوبیوں کا حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضہ نے مشاہدہ فرمایا تھا، آپ رضی اللہ عنہا نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی وحی کے نزول کے موقعہ پر پریشانی دیکھ کر تسلی دیتے ہوئے اس کا  اظہار یوں فرمایا تھا:

خوش رہیں، اللہ کی قسم، اللہ تمہیں کبھی ضایع نہیں کریگا، بے شک تم رشتے جوڑتے ہو، بوجھ اٹھاتے ہو۔ معدوم کے لئے کماتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو اور حق کے کاموں میں معاونت کرتے ہو۔  [13]

ان الفاظ میں حضرت خدیجۃ الکبری نے آنحضرت ﷺ کو، رشتوں کو جوڑنے والے، دوسروں کے بوجھ اٹھانے والے، مسکینوں کے لئے  کمانے والے، مہمانوں کی عزت کرنے والے اور حق کے کاموں میں مدد کرنے والے کی صفات سے موصوف کیا ہے۔ یہ سب صفات معاشرے کے اندر اعلی اخلاق وکردار کے خوبصورت نمونے مہیا کرتی ہیں۔ جو تاقیامت امت کے لئے نمونہ عمل ہیں۔

اعمال  کی کردار سازی اور تعمیر سیرت 

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو آخری وصیت فرمائی، جب میں رکاب میں قدم رکھ ہی رہا تھا، وہ یہ تھی کہ:  لوگوں کے لئے اپنا خلق بہتر بنانا ۔ [14]

اللہ کے رسول حضرت معاذ کو یمن بھیج رہے تھے، جہاں پر انہیں ان کی سربراہی کے فرائض سر انجام دینے تھے، ان میں دینی احکامات نافذ کرنے تھے۔ان کی دینی تعلیم و تربیت کرنی تھی۔ ان کو وہاں خودکردار و سیرت کی تعمیر کرنی تھی، ایسے مبلغ کے لئے حضور علیہ السلام نے منجملہ اور ضرری ہدایات کے یہ تلقین بھی ضروری سمجھی کہ وہ خود بھی حسن اخلاق کا بہترین نمونہ بن جائے۔ تاکہ اپنے اخلاق سے لوگوں کے دل جیت سکے ۔ کیونکہ ایک داعی کےاخلاق و کردار سے جو میدان جیتے جا سکتے ہیں وہ تیروتلوار سے نہیں جیتے جا سکتے۔

علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا ہے:

اسلام  میں آدمی کی خوبصورتی یہ ہے کہ بے مقصد اور فضول کاموں کو چھوڑ دے ۔[15]

یہ اخلاق  کا اور بھی اعلی اور اتم معیار ہے کہ جو چیز لا یعنی ہو اس کو چھوڑ دینا چاہئے، جو بامقصد ہو اس کے کرنے سے آدمی کے اسلام میں خوبصورتی آتی ہے۔ جتنا آدمی بے مقصد کاموں سے بچے گا  اتنا اس کا اسلام خوبصورت بنے گا۔

آدمی نماز روزہ حج و زکواۃ جیسی عبادات اختیار کرکے اللہ کے ہاں تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں رتبہ پانے کے لئےراتوں کو سونا چھوڑ کر بستروں سے الگ گذارتا ہے، روزوں میں بھوکا پیاسا رہ کر اللہ کو راضی کرتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ ٹھیک ہے لیکن حسن اخلاق ایک ایسا نسخہ کیمیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں:

بیشک آدمی حسن خلق سے ،اندھیری رات میں جاگ کر عبادت کرنے والے کا درجہ پاسکتا ہے ۔[16]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ: بیشک تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جواخلاق میں سب سے بہتر ہے۔[17]

حضور علیہ السلام نےسیرت و کردار کی تعمیر کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے آنحضرت کو مخاطب کرکے فرمایا:

بیشک تم خلق کے اعلی درجات پر فائز ہو۔

آپ نے اپنے کردار و اخلاق کو جن بلند درجات پر فائز فرمایا، امت کے لئے بھی آپ کردارو اخلاق کے ان درجات کے متمنی تھے۔آپ اسی کو اسلام کا اصل مقصد سمجھتے تھے۔اور داعی کی حیثیت سے خود ان کی ذمہ داریوں میں بھی شامل تھا کہ آپ ایسے اخلاق اپنائیں، جو لوگوں کو آپ کی طرف کھنچ آنے کے باعث بنیں۔

داعی کی  اوصاف کے بارے میں تعلیمات

داعی حق کے لئے ضروری ہے کہ وہ اصلاحی مسائل پیش کرے، انداز سنجیدہ، دانشمندانہ، نصیحت آمیز، خیر خواہانہ ہو۔اگر ایسی نوبت آجائے تو اس کا طرز انداز بھی ایسا ہونا چاہیئے کہ اس سے بہتر دلکش اور پیار بھرا انداز نہ ہوسکے۔گمراہ، سرکش شرارتی، بد کردار، جن کو سیدھی راہ دکھانا مقصود ہے ان سے سنجیدگی اور شرافت کے جواب کی توقع نہیں کی جاسکتی، خاص طور پر جن کے مفادات پر ضرب آتی ہو اس صورت میں داعی حق کا فرض ہے:

خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاہلین۔ [18]   ترجمہ  :  معاف کر اچھائی کا حکم کر اور جاہلوں سے درگذر کر۔  

قانون اگرچہ یہ ہے کہ : جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا ([i])(برائی کا بدلہ اسی کے برابر برائی ہے) لیکن داعی کا اصول یہ نہیں کہ برائی کا بدلہ برائی سے دے۔ داعی حق کا اصول یہ ہے کہ: نیکی کے زریعے برائی سے دفاع کرتے ہیں [19] ایک داعی کا جو مطلوب ہوتا ہے، وہ انہیں اس طریقے سےحاصل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

"اچھائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی ،اس طریقے سے اپنا دفاع کر جو سب سے بہتر ہو، ایسا کرنے سے، وہ شخص، جس کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے، وہ ایسا بن جائے گا، جیسےتمہارا گہرا دوست ہو"[20]

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص توریت کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ عطاءبن یسار نے ان سےدریافت کیا توریت میں آنحضرت کا ذکر ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو آپ کے کیا اوصاف بیان کئے گئے ہیں؟ حضرت عبداللہ بن عمرو نے تورات کے حوالے سے یہ اوصاف بیان فرمائے:

"ای نبی ہم نے تمہیں شاہد، خوش خبری دینے والے، ڈرانے والے اور امیین کے لئے حرز بنا کر بھیجا۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا، نہ غصہ کرنیوالے، نہ بازار میں گھومنے والے۔برائی کو برائی کے ذریعے نہیں روکتے لیکن معاف کرتے ہیں۔ اللہ ان کو قبض نہیں کریں گے جب تک دین قائم نہ ہو جائے اورلوگ  کہ دیں لا الہ الا اللہ۔ اس کے ذریعے اندھے کی آنکھیں اور بہرے کے کان اور بند دل کھلیں گے" [21]

مسلم معاشرے کی کردار سازی

حضور ﷺ مسلم معاشرے کے افراد کی کردار سازی کس طرح کرنا چاہتے تھے، ان کا کیسا کردار بنانا چاہتے تھے؟ اس کا کچھ اندازہ بیعت عقبہ اولی و ثانی کے مضمون سے ہوگا۔سیرت کی کتب میں بیعت عقبہ اولی میں جن باتوں کی بیعت لی گئی وہ درج ذیل چھ باتیں تھیں:

  • ہم صرف خداء واحد کی کی عبادت کیا کریں گے۔
  • چوری نہیں کریں گے
  • زنا نہیں کریں گے
  • اولاد کو قتل نہیں کریں گے
  • کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے
  • ا ٓپ جس بات کا حکم فرمائیں گے ہم اس کی تعمیل کریں گے

بیعت عقبہ ثانی میں بھی یہی عہد لیا گیا جو اوپر ذکر ہوا، مزید یہ چیزیں تھیں:

1۔کسی کو ناحق قتل نہیں کریں گے              

2۔لوٹ نہیں ڈالیں گے

3۔ہر موقعہ پر حق بات کہیں گے، کسی کی مذمت وملامت کا خوف ہمیں کبھی حق بات کہنے سے روک نہیں سکے گا۔

4۔جب رسول اللہ یثرب تشریف لے  آئیں گے تو اپنی اولاد اور خود اپنی جان کی طرح ان کی حفاظت کریں گے۔ ان سب باتوں کا بدلہ جنت ہوگا۔  [22]بخاری شریف میں یہ روایت ان الفاظ میں منقول ہے:

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کہ آنحضرت کےصحابہ کی ایک جماعت ان کے گرد جمع تھی ، آجاؤ میری ان باتوں پر بیعت کرو! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے۔ چوری نہیں کرو گے۔ زنا نہیں کرو گے۔ اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگے۔ کسی پر بہتان تراشی نہیں کرو گے۔معروف میں میری نافرمانی نہیں کروگے۔ [23]

اوپر کی سب باتوں میں جو چیزیں واضح ہیں وہ سب بنیادی طور پر سیرت وکردار کی تعمیر سے تعلق رکھنے والی ہیں۔اور معاشرتی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں۔ زنا، ناحق قتل، اولاد کی قتل، بہتان باندھنا، لوٹ کھسوٹ سب چیزیں تعمیر کردار سے تعلق رکھتی ہیں۔ ترمذی شریف میں ایک روایت ہے کہ:

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پہلی گفتگو یہ تھی،کہ ای انسانو! سلام (سلامتی کے جذبات) عام کرو، کھانا کھلائو اور اس حالت میں نماز پڑھو، کہ لوگ نیند میں ہوں۔ اس کے علاوہ حضور علیہ السلام وہاں پر لوگوں سے جن باتوں پر بیعت لے رہے تھے، ان میں بنیادی چیز یہ تھی کہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ چنانچہ جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی  نماز قائم کرنے، زکواۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۔ [24]

عبد اللہ بن ابی بن سلول ایک بار گستاخانہ پیش آیا، صحابہ سے ضبط نہ ہوسکا لڑنے بھڑنے پر تیارہو گئے۔ اس پر عبداللہ بن ابی بن سلول کے حامی بھی اٹھے، فریقین باہمی دست و گریبان ہو گئے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو سمجھا بجھا کر الگ کیا اور فر مایا: صلح فساد سے بہتر ہے۔

ترمذی شریف میں حضرت ابو ہریرہ سے ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےیہ الفاظ منقول ہیں کہ:

اللہ بندے کی مدد میں رہتاہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے ۔[25]

دین کو خیر خواہی قرار دیا، اللہ کی مدد کو بندے کی مدد سے جوڑا اور اایک روایت میں آپ نےبیواؤں اور مسکینوں کی بھلائی کو جہاد فی سبیل اللہ  کے برابر قرار دیتے ہوئے فرمایا:  بیواؤں اور مسکینوں کی بھلائی کی کوشش کرنے والامجاہد فی سبیل اللہ  کی طرح ہے ۔ [26]

اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جہت سے معاشرے اور اس کے افراد کی تعمیر وترقی میں کسی طرح کی کوئی کمی اور کوتاہی روا نہ رکھی۔ افراد کی اخلاص سے لیکر اس کے صدق و دیانت، امانت اور خیر خواہی تک کے کئی پہلوئوں سے ان کی تربیت فرمائی۔ پھر جن لوگوں نے دین کی کامیابی کو اپنا مقصد بنا لیا ہو، ان کو اخلاق وکردار ہی میں دین کی کامیابی کا یقین اس ذات بابرکات کی طرف سے دلوایا گیا ہو، جس کی ہر بات میں  وہ بے انتہا یقین رکھتے تھے، تو وہ اخلاق و کردار کی تعمیر میں کیاکیا نہ کر گذرے ہوں گے۔

اوپر جن خصائل کا ذکر ہوا ان کے علاوہ جو اوصاف وخصائل  نبی علیہ السلام نے صحابہ کو تعلیم فرمائے، جن اوصاف وخصائل نے صحابہ کی دنیا و آخرت کو جنت بنایا اور جو ہمارے معاشرے کو بھی جنت نظیر بنا سکتے ہیں، ان کا ذکر کرتے ہیں۔

حیاء

 انسان کی سب سے بڑی اور اہم خوبی حیاء ہے، جو انسان کی شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے۔خلق انسانی اسی سے پایہء تکمیل کو پہنچتی ہے۔ بلکہ ایمان اور اسلام کی تکمیل بھی اسی سے ہوتی ہے۔ حیاء انسان  کو غلط کام سے روکنے کا ذریعہ ہو تا ہے، حیاء کوئی بھی غلط کام کرتے وقت انسان کے آڑے آجاتا ہے، جو اگر ختم ہو جائے تو انسان کو  کچھ بھی کر گذرنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ اس لئے نبی  علیہ السلام نے حیاءکی بھی تعلیم دی ہے، آنحضرت ﷺ  فرماتے ہیں:

حیاء ایمان میں سے ہے۔[27]  اور خود حضور علیہ الصلواۃ والتسلیمات، جو صحابہ کرام کے لئے اسوہ حسنہ تھے، ان کے حیاء کا یہ عالم تھا کہ ان کے بارے میں  آتا ہے:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھونگھٹ میں کنواری لڑکی سے زیادہ حیادار ہوا کرتے تھے ۔ [28]

باقی انسانی خوبیوں کی طرح حیا کی خوبی بھی اپنی کامل صورت میں نبی علیہ الصلواۃ والتسلیمات کی زندگی میں آپ علیہ الصلواۃ والتسلیمات نے ہمیں عملی صورت میں دکھادی، تاکہ ان کے متبعین ان کی پیروی کرکے با حیا بن سکیں۔

صلہ رحمی

افراد معاشرہ کا معاشرے سے جو تعلق قائم ہوتا ہے ،  اس کا پہلا اور بنیادی ذریعہ رشتہ داری ہے، ایک فرد کو، یہ رشتہ ہی معاشرے کے دوسرے کئی افراد سے جوڑے رکھتا ہے۔ جب یہ مضبوط ہوگا تو افراد کا تعلق بھی مضبوط ہوگا،اور معاشرہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگا۔ افراد کے آپس کے رشتوں کو مضبوطی سے جوڑے رکھنے کا نام صلہ رحمی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں رشتوں کے توڑنے کو فساد سے تعبیر فرمایا ہے:

اللہ نے جس کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اس کو توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔[29]

اس کے بارے میں نبی علیہ السلام نے کس حکیمانہ انداز میں تعلیم فرمائی ہے، اس کا مشاہدہ کریں، روایت میں آتا ہے:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: بیشک اللہ نے پیدا فرمایا، حتی کہ جب پیدا کرنے سے فارغ ہو گئے تو، رشتے داری نے کہا: یہ رشتوں کو توڑنے والے سے تیری پناہ میں آنے کا وقت ہے۔ کہا: بلکل،کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ جو تمہیں جوڑے میں اس کے ساتھ جوڑوں اور جو تم سے توڑے میں اس سے توڑوں۔ کہا :بلکل! اے میرے رب! کہا: یہ صرف تیرے لئے ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو یہ ا ٓیت پڑھو: کیا تم چاہتے ہو کہ تم حاکم بنو! اور زمین میں فساد برپا کرو! اور رشتوں کو توڑتے رہو!۔ [30]

ایک روایت میں آتا ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیں نماز، صدقے، معاف کرنے اور رشتوں کے جوڑنے کا حکم فرمایا کرتے تھے ۔  [31]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان اس طرح بھی منقول ہے کہ:  رشتوں کو توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ [32]

ایک روایت میں صلہ رحمی کو رزق میں کشادگی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے  آپ ﷺ نے فرمایا:

جو اپنے رزق میں کشادگی چاہے، اسے چاہئے کہ اپنے رشتوں کو جوڑے رکھے۔[33]

جانوروں پر رحم

آنحضرت علیہ الصلواۃ والتسلیمات لوگوں کو مختلف تمثیلوں اور واقعات کے ذریعے تعلیم ارشاد فرمایا کرتے تھے، اسی طرح ایک بہترین واقعے کے ذریعے آپ نے رحم کرنے کی تعلیم فرمائی، اور اس پر اجروثواب بتا کر اس کی ترغیب ارشاد فرمائی۔ خصوصی طور پر جانوروں پر رحم کی تعلیم فرمائی۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص کسی راستے چل رہے تھے، کہ ان کو پیاس لگی، تو کنویں کا رخ کیا، اس میں اترا، اور پانی پی کر باہر نکلا۔ اچانک کتے کو ہانکتے ہوئے دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے مٹی چاٹ رہا تھا، جس طرح تھوڑی دیر پہلے وہ خود پیاسا تھا، کنویں میں اترا، اپنا موزہ پانی سے بھرا، اپنے منہ سے پکڑ کر باہر لایا اور کتے کو پلایا، اللہ نے اس کی یہ کوشش قبول کی اور اس کی بخشش فرمادی۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ کیا جانوروں میں بھی ہمارے لئے اجر ہے؟ تو فرمایا: ہر ترجگر والے جاندار کے ساتھ نیکی میں اجر ہے۔[34]

حدیث  سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں، ان میں سب سے اول نمبر پر جانوروں پر رحم کی تعلیم ، ظاہر ہے عرب کے معاشرے میں، جہاں انسانوں پر بھی رحم کو روا نہیں رکھا جاتا تھا، وہان جانوروں پر رحم پر تعجب تو ہونا تھا ہی، اس لئے صحابہ نے متعجب ہوکر پوچھا: "کیا جانوروں میں بھی ہمارے لئے اجر ہے؟" تو آپ نے اس سے بھی بڑھ کر مزید اعلی وارفع درجے کی تعلیم فرما دی، کہ صرف جانور ہی کیا؟ ہر تر جگر والے جاندار کے ساتھ نیکی میں اجر ہے۔

پڑوسیوں کے حقوق

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے حقوق کی بھی بہت تلقین فرمائی۔ آپ فرماتے ہیں:

جبریل مجھے ہمیشہ پڑوسیوں کے بارے میں وصیت کیا کرتے تھے، حتاکہ مجھے گمان ہوا کہ عنقریب انہیں وارث بنا دینگے ۔[35]

پڑوسی کی ایذا دھی آپ کو کتنی بھاری محسوس ہوتی تھی اس کا اندازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں دیکھا جا سکتا ہے:

اللہ کی قسم وہ مومن نہیں اللہ کی قسم وہ مومن نہیں! اللہ کی قسم وہ مومن نہیں! کہا گیا: کون یا رسول اللہ؟ فرمایا: وہ جس کے ظلم سے پڑوسی محفوظ نہ ہوں ، مقصد یہ کہ ایمان اس کا ہے جس کے ظلم سے پڑوسی محفوظ رہے، چنانچہ ایک موقعہ پر آپ فرماتے ہیں:

جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کو چاہئے کہ پڑوسی کو نہ ایذائے [36]

بغض و حسد سے منع

اللہ تعالی نے سورۃ حجرات میں چند بنیادی تعلیمات ایسی دی ہیں جو افراد معاشرہ کے کردار سازی میں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں

لایسخر قوم من قوم        (ایک دوسرے کا مذاق مت اڑاؤ!)

لاتلمزوا انفسکم              (اپنوں کو عیب مت لگاؤ)

ولاتنابزو باالالقاب         ( آپس میں ایک دوسرے پر برے القاب چسپان نہ کرو!)

اجتنوا کثیرا من الظن       (بہت سے گمانوں سے بچو!)

ولاتجسسوا               (اور ایک دوسرے کےٹوہ میں نہ لگو!)

 ولا یغتب بعضکم بعضا([ii])   (اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو!)

اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دو  روایات مروی ہیں، وہ قرآن کی ان آیات کا تفسیر کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

ایک دوسرے سے بغض نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو!اور ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو، اور کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دنوں سے اوپر قطع تعلق کرے

اسی سلسلہ کی ہی ایک روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ: 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خود کو گمان سے دور رکھو کیونکہ گمان جوٹھی بات ہوتی ہے، جاسوسی نہ کرو! چھپ چھپا کر ایک دوسرے کے خفیہ طور پر ٹوہ میں  نہ لگے رہو، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو! ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے کےپیچھے نہ لگے رہو! اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاو ([iii]) [37]

اس کے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بغض ، دشمنی اور حسد نکالنے کا بھی ایک خوبصورت نسخہ بتایا ہے۔ آپ فر ماتے ہیں:

 ایک دوسرے سے مصافحہ کیاکرو! دل سے کینہ ختم ہو جائے گا ۔ایک دوسرے کو ہدیے اور تحفے دیا کرو! دشمنی ختم ہو جائے گی

خلاصہ

آپ ﷺ کی حیات طیبہ، ان کی تعلیم و تربیت، تزکیہ و تطہیر افراد معاشرہ کی تربیت اورکردار سازی کا بہترین نمو نہ ہے، بشرطیکہ ہم اسے داستان یا متبرک قصیدے کے طور پر نہیں بلکہ اسوہ حسنہ کے طور پر اپنے سامنے رکھیں۔ اپنی زندگی کی تعمیر کاذریعہ سمجھیں۔‍ آپ علیہ الصلواۃ والتسلیمات  نے فساد کے مقابلے میں اصلاح کی تعلیم ارشاد فرمائی۔ کسی پر بوجھ نہ بننے کا عملی درس دیا۔ محنت، مزدوری، بکریاں چرانے وغیرہ کے ذریعے کسب حلال کی تعلیم فرمائی۔ صلہ رحمی کی دعوت دی۔ اسلام کو خیر خواہی قرار دیا۔ شرک،زنا، چوری، قتل اولاد،ناحق قتل، بہتان باندھنے، لوٹ کھسوٹ سے منع فرمایا۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانے،اپنوں کو عیب لگانے، آپس میں ایک دوسرے پر برے القاب چسپان کرنے،بہت سے گمانوں سے بچنے، ایک دوسرے کےٹوہ میں لگنےاور ایک دوسرے کی غیبت ، بغض و حسدکرنے سے منع فرمایا۔ پڑوسی کے حقوق کی تعلیم فرمائی۔ظلم اور زبردستی سے منع کیا۔اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپنے سے لیکر بڑھاپے تک زندگی کے ہر شعبہ میں افراد معاشرہ کی کردار سازی کی ہدایات ہمارے لئے یادگار چھوڑی ہیں۔

 واللہ الہادی والموفق لسبیل الرشاد۔



۔ القرآن  3 : 165[1]

                                                                                                                                                                                                          

 [2]۔ بخاری، محمد بن اسماعیل: "الادب المفرد"، حدیث نمبر 273، جامع الصحیح، حدیث نمبر 2833

[3]  ۔ البدایہ والنہایہ،  ج  1 ص ۲۸۲                                                                                                                                                             

[4]  ۔ محمد میان، سید: جوامع السیرت، حکمت قرآن انسٹیٹیوٹ، کراچی،2009، ص 62                      

۔[5] آزاد  ابوالکلام،  رسول رحمت، مرتب   غلام رسول مہر، شیخ غلام علی ایڈ سنز پبلشرز  ۱۹۷۰، ص ۶۹

۔[6]  القرآن 19 : 54

[7] ۔ آزاد ابوالکلام، رسول رحمت، ص ۷۰

                                                                                                                                                      

  القرآن  28 : 83  .[8]

[9] ۔ ترمذی ابو عیسی "الجامع المختصر من السنن عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ومعرفتہ" حدیث  2509

[10] ۔ ابن ہشام،  سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، ص 83، 84

[11] ۔ شبلی نعمانی،  سیرت النبی، جلد ۱، ص ۱۷۰

 

[12]  ۔  بخاری، الجامع الصحیح، کتاب التفسیر، تفسیر سورہ تبت یدا،  حدیث   4770

[13]  ۔ ایضا، باب بدء الوحی، حدیث  6982

[14]  ۔ امام مالک: "الموطا، کتاب الجامع، باب ماجاء فی حسن الخلق،  حدیث  1627

[15]  ۔  ترمذی، ابو عیسی" الجامع المختصر من السنن عن رسول اللہ ﷺ ومعرفتہ"  ج 4 ، حدیث 2317، ص 136

[16]  ۔ ابو داود،"  سنن ابو داؤد"حدیث  47         

[17]  ۔ بخاری  محمد بن اسماعیل ،  الجامع الصحیح ، کتاب الانبیاء ، باب صفۃ النبی ﷺ ، حدیث  3559

   ۔[18] القرآن 7 : 198                                                                     

القرآن 13 : 22 ۔[19]

القرآن  41 : 34 ۔[20]

[21]  ۔ بخاری، محمد بن اسماعیل ،  الجامع الصحیح، کتاب البیوع، باب کراہۃ الصخب فی الاسواق، حدیث  2125

 

 

[22]  ۔ شبلی نعمانی: سیرت النبی، جلد ۱ ، ص 246                     

بخاری، محمد بن اسماعیل،  الجامع الصحیح، کتاب المناقب، باب وفود الانصار الی النبی  ﷺ ، حدیث  18  ۔ [23]

        ایضا   57.[24]

[25] ۔ قشیری مسلم بن الحجاج ، صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب ان الدین النصیحہ ، حدیث  2699

[26]  ۔ بخاری محمد بن اسماعیل ، الجامع الصحیح ، کتاب الادب ، باب الساعی علی الارملۃ حدیث  6006          

[27]  ۔ بخاری ، الجامع الصحیح ، حدیث  6118

[28]  ۔ قشیری، مسلم بن الحجاج "صحیح مسلم" ، حدیث  1565                         

 

 

  القرآن 2 : 47 ۔ [29]

[30] ۔ بخاری ، محمد بن اسماعیل: الجامع الصحیح، حدیث  4830

[31] ۔ بخاری ، محمد بن اسماعیل ،  الجامع الصحیح، کتاب الادب ،باب صلۃ المرءۃ امھا ولھا زوج، حدیث  5980 

[32] ۔ ایضا ،   حدیث  5984

[33]۔ بخاری ، محمد بن اسماعیل: الجامع الصحیح ، باب من بسط لہ فی الرزق بصلۃ الرحم، حدیث 2067

[34]  ۔ ایضا، باب رحمۃ الناس والبھائم، حدیث  2363

 [35]  ۔ ایضا،باب الوصاۃ بالجار حدیث 6014

[36]  ۔ بخاری،باب من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلایؤذ جارہ، حدیث 2318

[37]  ۔ بخاری، باب ماجاء فی المہاجرۃ و الترمذی فی باب ما جاء فی الحسد، حدیث6065

 



 

 

 

Loading...
Issue Details
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Similar Articles
Loading...
Similar Article Headings
Loading...
Similar Books
Loading...
Similar Chapters
Loading...
Similar Thesis
Loading...

Similar News

Loading...
About Us

Asian Research Index (ARI) is an online indexing service for providing free access, peer reviewed, high quality literature.

Whatsapp group

asianindexing@gmail.com

Follow us

Copyright @2023 | Asian Research Index