Search from the Journals, Articles, and Headings
Advanced Search (Beta)
Home > Al-Bahis Journal of Islamic Sciences > Volume 3 Issue 1 of Al-Bahis Journal of Islamic Sciences

جنات کی حقیقت (اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ) |
Al-Bahis Journal of Islamic Sciences
Al-Bahis Journal of Islamic Sciences

تمہید:

عصر حاضرمیں نفسیاتی کیسز کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اینگزائٹی اور ڈپریشن  جیسا مرض عام ہوتا جا  رہا ہے ا س کی اصل وجہ ہمارا ماحول ہے اکثر جگہوں پر لوگ  ایسے مریضوں   کو عامل حضرات  کے پاس لے جاتے ہیں اور  وہ جن کا سایہ کہہ  کر اسے نکانے کے لیے اپنا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے تمام افراد  ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں یا جنات کی بھی کچھ حقیقت ہے۔ اسے  سمجھنے کے لیے سب سے پہلے جن لفظ کی لغوی معنیٰ پھر اصطلاحی تعریف    سمجھتے ہیں۔ اور  اس کا انسان کو نقصان پہچانے کی کیا حقیقت  ہے اس کے ساتھ ساتھ چند  واقعات بھی بیان کریں گے ۔

تعارف و اہمیت:

جن ایک آگ سے پیدا  کی ہوئی مخلوق ہے جس کو مختلف شکلوں  میں تبدیل ہونے کی طاقت دی  گئی ہے ۔ ان کی عمریں بہت دراز ہوتی ہیں اور  یہ مخلوق انسان کی طرح   عقل رکھنے اور روح اور جسم والی ہوتی ہے۔ان میں سے مسلمان ، کا فر ہر طرح کے جنات ہوتے  ہیں جن کی تعداد انسان کی تعداد سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ انسان  کو تکلیف بھی پہنچا سکتےہیں ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جن کے وجود کا انکار یا قوت بدی کا نام جن  رکھنا کفر بتلایا گیا ہے۔

تحقیق کا مقصد :

اس تحقیق کا مقصد  اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اصل حقائق تک پہنچنا ہے   تا کہ کوئی  انسان وجود جنات  کا انکا رکرکے جنات زدہ کو ساری عمر تکلیف میں نہ چھوڑدے یا ایک نفسیاتی مریض   قابل علاج  کو ناقابل علاج سمجھ کر بے سہارا  نہ چھوڑ  دے  بلکہ ان دونوں کے درمیان حقائق  تک پہنچ کر درمیانی راستہ نکالا جاسکے اور اصل حقائق تک پہنچ  کر انسا ن کو تکلیف سے دوچار ہونے سے حتیٰ الامکان محفوظ رکھا جاسکے اور  اس کے ساتھ جنات  کے  وجود پر تحقیق سے اصل حقائق تک رسائی ممکن ہوسکے کیونکہ مشہور مقولہ ہے اشیاء کو اپنے ضد سے پہنچا نا جاتا ہے مطلب  یہ ہے کہ جب ہم   جنات  کی تحقیق پیش کریں گے تو اس   سے وہ اشخاص خوب واضح  ہوجائیں  گے جو نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

سابقہ کام کا جائزہ:

اس سے پہلے جنات کے موضوع  پر کافی کچھ لکھا جا  چکا  ہے جس کی فہرست بہت طویل ہے مگر ان  میں سے بعض نے  یا تو جنات کا  مطلقا   انکار کرکے قوت  بدی کا  نام شیطان یا جن  رکھ دیا             ہےاور بعض نے   فقط جن کے وجود کے اثبات پر بحث کی  ہے۔ دور حاضر میں ضرورت تھی کہ  ان دونوں  صورتوں میں فرق بیان کیا جائے  تا کہ اس  سے جنات کی حقیقت اور ڈپریشن کے امراض میں مبتلا  لوگوں میں فرق خوب واضح ہوسکے اورصحیح معلومات سے  ہم اس جیسے امراض  و حالات سے بچ سکیں۔ 

جن کا لفظی معنی:

جن کا لفظی معنی ہے" چھپ جانا"  تاریک ہونا"۔

جیسے کہا جاتا ہے" جن اللیل " یعنی رات کی تاریکی"۔ دیوانگی کو بھی " جن کہتے ہیں، کیونکہ اس  میں عقل چھپ جاتی ہے۔ [1]

کسی  چیز کے حواس مخفی ہونے کو بھی "جن" کہتےہیں ۔ "ڈھال "  کو بھی  "جن" کہتے ہیں۔

جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: اتخذوا ایمانھم جنۃ۔  [2]

ترجمہ: انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔

جو  بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسے  "الجنین" کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی لوگوں کے حواس سے مخفی ہوتا ہے۔ [3]

علامہ محمد بن محمد زبیدی فرماتے ہیں: کیونکہ جن نظر نہیں  آتے  اس لیے ان   کو "جن"  کہتے ہیں ۔[4]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ  جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے " ابو الجنات" کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا تو اسے ارشاد فرمایا تم کوئی تمنا کرو؟ اس نے کہا کہ  میری تمنا یہ ہے کہ ہم خود  تو   دیکھیں مگر ہمیں کوئی نہ دیکھےاور ہم زمین میں چھپ سکیں اور ہمارا بوڑھا بھی  جوان ہوکر فوت ہواکرے۔ تو اس کی  یہ خواہش پوری کی گئی ۔ اس لیے وہ خود  تو دیکھتے ہیں لیکن دوسروں کو نظر نہیں آتے اور جب مرتے ہیں تو زمین میں غائب ہوجاتے ہیں اور انکا بوڑھا بھی جوان ہوکر  مرتا ہے۔
[5]

 جنات بھی شریعت مطہرہ کے   مکلف ہیں:

انسان کی طرح جنات بھی شریعت مطہرہ کے   مکلف ہیں جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے

اور میں نے نہیں تخلیق کیا انس اورجن کو مگر اپنی بندگی کے واسطے ۔ [6]

اس آیت کریمہ میں  جنات کے مکلف ہونے کی نص موجود ہے۔

پیدائش جنات:

ارشاد خداوندی ہے کہ ، " ترجمہ : اور جنات کو ہم نے اس سے پہلے پیدا کیا بغیر دہوئیں والی آگ سے۔ [7]

دوسری جگہ  رب کریم نے ارشاد فرمایا " اور اس نے  جنات کو خالص آگ کے شعلے سے پیدا کیا"۔ [8]

حضرت ربیع بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ  اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرشتوں کو بدھ کے دن ، جنات کو جمعرات کے دن اور حضرت آدم علی نبینا و علیہ السلام کو جمعہ کے دن پیدا فرمایا۔[9]

جنات ایک آگ سے پیدا  کی ہوئی مخلوق ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حقیقت میں بھی آگ ہے بلکہ جس طرح انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے مگر حقیقت میں  مٹی نہیں ہے بلکہ گوشت پوست خون اور ہڈیوں سے ملی ہوئی ایک شکل اور صورت رکھنے والا ہے۔ اسی طرح جنات بھی ایک خاص شکل اور صورت رکھنے والی مخلوق ہے اور انسانوں کی طرح انہیں بھی گرمی ، سردی، خوشی ، غمی وغیرہ محسوس ہوتی ہے۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ  صادقہ رضی اللہ  تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے ایک (سرکش ) جن کو پکڑا اور اس کے گلے کو دبایا تو اس کی زبان  کی ٹھنڈک میں نے اپنے ہاتھ پر محسوس کی۔

اللہ تبارک  وتعالیٰ نے شیاطین اور جنات کو آگ کی طرف ویسے ہی منسوب فرمایا ہے، جیسے انسان کو خاک  یعنی  گارہ اور بجنے والی مٹی کی طرف منسوب فرمایا ہے ۔[10]

جنات کی خوراک:

قوم جن کا ایک وفد بارگاہ رسالت اقدس حضور پورنور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اپنے  جانوروں کے لیے خوراک طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ارشاد فرمایا کہ  آپ کے لیے ہر ہڈی ہے جس پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا نام لیا گیا ہو یعنی حلال جانور کی ہڈی  وہ آپ کے ہاتھ پر اس حال میں ہوگی جس طرح پہلے تھی یعنی جس طرح پہلے اس  پر  مکمل گوشت تھا  مطلب کہ گوشت کھائی  ہوئی  ہڈی تمہارے ہاتھ میں گوشت سے پر حالت میں واپس آجائے گی پھر انسانوں سے مخاطب ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہڈی اور گوبر سے استنجاہ   نہ کیا کرو یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہیں۔ اس روایت کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایا ہے ۔ [11]

جنات کی اولاد:

ارشاد خداوندی ہے، کیا تم مجھے چھوڑ کر شیطان کو اور اس کی اولاد کو اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ یہ تمہارے دشمن ہیں ۔ [12]

اس آیت کریمہ سے شیطان کی اولاد کا ہونا  ظاہر ہوتا ہے اور شیطان کے لیے ارشاد خداوندی ہے

" افتتخذونہ وذریتہ " کی تفسیر میں مشہور تابعی مفسر حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جنات کی اولاد بھی ویسے ہی پیدا ہوتی ہے جیسے انسان کی اولاد لیکن جنات کے بچے پیدائش میں بہت زیادہ  ہوتے  ہیں۔ [13]

جنات بہت سی صورتیں بدل سکتے ہیں اور انسان، چوپائے ، سانپ،بچھو،اونٹ ، بکری، گھوڑے ، خچر، گدھے اور پرندے وغیرہ کی شکلیں اختیار

کرسکتے ہیں۔[14]

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ کو جنات کا اٹھالےجانا:

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ ایک با ر قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول تھے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی  ایک سانپ پر نظر پڑی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سانپ کو مار ڈالا ۔  دراصل وہ سانپ ایک جن تھا کچھ دیر گزری تو دو جن آئے اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اٹھا کر لے گئے اور اپنے جن بادشاہ  کے پاس پیش کیا۔ دعویٰ کرنے والے جن نے  اپنے بادشاہ کے سامنے  فریاد کی کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میرے بیٹے کو قتل  کیا ہے۔ ہمیں خون کابدلہ خون چاہیے۔  جن بادشاہ نے جب اس واقعہ کی تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جن کو سانپ کی شکل میں مارا ہے ۔ وہاں موجود ایک عمر رسیدہ جن نے عرض کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا  ہے کہ : " جس کا قتل کرنا جائز نہ ہو مگر وہ ایسی قوم کی صورت میں ہو، جس کا قتل کرنا جائز ہے تو اس کا خون معاف ہے"۔ اس لیے دعویٰ کرنے والے کے بیٹے کو شاہ صاحب نے سانپ کی شکل میں مارا ہے اور سانپ کو مارنا جائز ہےلھذا شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ   پر قصاص واجب نہ ہوگا۔ حدیث مبارکہ سننے کے بعد جن بادشاہ نے شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو باعزت بری کردیا اور شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنی جگہ پر جہاں سے اٹھایا تھا وہاں  پہنچا دیا۔ [15]

جنات کا تکالیف پہنچانا:

جس  طرح ہم انسانوں کو  بھی کسی نا پسندیدہ  عمل سے    تکلیف  پہنچتی  ہے اسی طرح جنات کو بھی کئی عمل ناگوار گزرتے ہیں ۔ اور ہمیں جہاں احساس ہو کے  یہاں  پر جنات کا ڈیرہ ہے تو  وہاں ایسے کام ہمیں نہیں کرنا چا ہیئے جس  سے       وہ خدائی مخلوق ناراض ہوجائے یا  اس کو ایسی کوئی  تکلیف  پہنچے ۔

جنات کے بارے  انکی زبان میں ارشاد خداوندی ہے: اور ہم میں سے چند اطاعت گذار ہیں اور کچھ سرکش ہیں"۔[16]

جنات میں ایمان والے  بھی  ہیں اور کافر بھی  اور ان کے مختلف فرقے بھی  ہوتے ہیں۔ ا ن میں جو ایمان والے ہوتے ہیں وہ شریعت مطہرہ کے پیروکار ہوتے ہیں ۔ نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں الغرض شریعت مطہرہ کے تمام احکامات کے مکلف ہوتے ہیں۔

ارشاد خداوندی  ہے : اور ہم  میں سے بعض نیک ہیں اور محض دوسری طرح کے ہیں ہم بہت سے راستوں میں منقسم ہیں۔ [17]

"قدد" کے معنیٰ ہیں متعدد ٹکڑے یعنی فرقے۔ اس کا  معنیٰ ہے  چند جنات صالح ، دوسرے شریر اور کم درجہ کے جنات سے مراد عام ہے، خواہ وہ نیکی میں کم درجہ کے ہوں یا  وہ  فاسق  اور بدکردار ہوں، نیز ضحاک نے کہا ان میں مومن متقی بھی ہیں اور مومن فاسق بھی ہیں ۔[18]

شریر جنات کے تکلیف دینے کی مختلف وجو ہات ہوتی  ہیں۔ کبھی محبت اور عشق کی وجہ سے تو کبھی بغض اور انتقام کی وجہ سے،  کبھی بے توجھی سے، تو کبھی کھیل وشرارت کی وجہ سے ، جس طرح انسانوں  میں سے کچھ بیوقوت لوگ دوسرے لوگوں کو خوامخواہ تکلیف دیتے ہیں اسی طرح جنات بھی کبھی بغیر کسی وجہ کے انسانوں کو تکلیف پہنچاتے  ہیں۔[19]

علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں  کہ انسان  پر جن کا  حملہ شہوت ،  محبت  اور عشق کی  وجہ سے  ہوتا ہے اور کبھی   بدلہ لینے کی خاطر بھی حملہ  آور ہوتا ہے کہ اس نے    یا تو  وہاں پیشاب  کیا ہو یا اس پر پانی پلٹا  ہو تا ہے  یا ان میں سے کسی کو قتل کیا ہوتا ہے  اگر چہ  اس کے قتل کا انسان کو علم نہیں ہوتا  اور کبھی محض کھیل اور تکلیف کیلئے   بھی ہوتا ہے جیسے بیوقوف انسان بھی  ایسا کرتے رہتے ہیں۔ [20]

ایک معتزلی  پر جن کا حملہ:

حضرت ابن یحییٰ نے کہا ایک مجنون حمص (شہر) میں مرگی میں دیکھا۔ جس پر لوگوں نے مجمع لگایا  ہوا  تھا میں نے اسے قریب جاکرکہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس پر حملہ کرنے کی اجازت دی ہے ؟ یا تم از خود شرارت کر رہے ہو؟ تو اس نے  مجنون کی زبانی کہا  کہ ہم اللہ تعالیٰ  پر جرات نہیں کر    رہے تم اس کو چھوڑ دو تاکہ یہ مرجائے کیونکہ یہ کہتا ہے کہ قرآن پاک مخلوق ہے  ۔

٭حضرت ابراہیم خواص ( آجری نیشاپوری) ایک ایسے آدمی کی طرف گیا جس کو شیطان نے مرگی میں مبتلا کردیا تھا ۔ میں نے  اس کے کان میں اذان دینا شروع کردی تو شیطان نے اس کے اندر سے  مجھے پکار کر کہا مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اس کو قتل کر دوں کیونکہ یہ کہتا ہے کہ قرآن  پاک مخلوق ہے۔[21]

حضرت عمر  رضی اللہ تعالی عنہ اورشیطان: 

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی   فرماتے   ہیں اصحاب رسول ﷺ  میں سے  ایک آدمی کہیں تشریف لے گئے تو ان کی شیطان سے ملاقات ہوئی اور مڈبھیڑ ہوگئی اور خوب مقابلہ ہوا  بالآخر حضور کے صحابی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  اس کو پچھاڑ دیا۔ تو  شیطان نے کہا  تم مجھے چھوڑدو میں ایسی عجیب بات بتلاتا   ہوں جس کو تم پسند کروگے تو  انہوں نے  اس کو چھوڑ دیا  اور فرمایا بیان کر اس نے کہا   نہیں بتاؤں گا  تو دوبارہ مقابلہ ہوا  اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی نے اس کو پھر پچھاڑ دیا  تو اس نے کہا مجھے چھوڑ دو میں تمہیں ایسی بات بتلاتا   جو تمہیں پسند آئے گی تو انہوں نے اس کو  پھر چھوڑ دیا اور فرمایا بیا ن کر اس نے کہا نہیں بتلاؤ ں گا   تو تیسری مرتبہ پھر مڈبھیڑ ہوئی تو حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی نے اس کو پچھاڑ دیا اور اس کے اوپر بیٹھ گئے اور اس  کے انگوٹھے کو پکڑ کر چبایا   تو شیطان  نے کہا مجھے چھوڑ دو  آپ رضی اللہ  تعالی عنہ نے فرمایا تم جب تک  مجھے نہیں بتلاؤ گے  میں تمہیں چھوڑو نگا نہیں۔ اس نے کہا  وہ سورہ  بقرہ  ہے اس کی ہر آیت ایسی ہے جس کے پڑھنے سے شیطان بھاگ جاتا ہے اور جس گھر میں اس سورۃ کو پڑھا جائے اس میں شیطان داخل نہیں ہوسکتا ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے پوچھا اے ابو عبدالرحمنٰ یہ کون سے صحابی تھے تو آپ نے فرمایا  سیدنا فاروق اعظم  بغیر  تمہیں کون نظر آتا ہے ۔

علاج:

حضرت نعمان بن بشیر  رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ  آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی  دو آیات    ایسی نازل فرمائی  ہیں  کہ جب آسمان اور زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے کتاب لکھی  تھی ۔ اس میں لکھا تھا کہ جس گھر میں تین راتیں اگر اس کا  ورد کیا جائے تو شیطان ان کے قریب بھی نہیں جا سکتا ۔[22]

٭  بیہقی   دلائل النبوہ    کے آخر میں حضرت ابودجانہ " سماغ بن خرشہ" سے مروی ہے ، آپ نے  کریم آقا کے پاس شکایت کی کہ جب میں رات کے وقت سونے کے لیے بستر پر لیٹا  تو مجھے  چکی کے چلنے اور شہد کی مکھیوں کی طرح  بھنبھنانے کی سی آواز سنائی  دی  اور ایسی روشنی معلوم ہوئی جیسا  کہ بجلی چمکتی ہے۔ اور جب میں نے آنکھ کھول کر سر اٹھایا تو  مجھےکسی چیز کی سیاہ پر چھائی (عکس،سایہ) معلوم ہوئی جو  صحن  میں بتدریج  بلند ہوتی اور پھیلتی  جارہی تھی۔ میں اٹھا  اور اس کے قریب جاکر اس  پر ہاتھ پھیرا  تو  مجھ   کو  ایسا معلوم ہوا کہ گویا کسی خارپشت کی کمر پر ہاتھ پھیر رہا ہوں۔ پھر میرے سینے پر ایک آگ  کی سی لپٹ آکر لگی۔  یہ واقعہ سن کر آپ  ﷺ نے  ارشاد فرمایا کہ اے  ابو دجانہ  ! یہ تمہارا گھریلو آسیب ہے۔

پھر آپ  ﷺ نے کاغذ وقلم طلب فرماکر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ لکھو۔ چنانچہ  حضرت ابو دجانہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور  ﷺ مذکورہ  ذیل کلمات سیدناشیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم سے لکھواکر مجھے عنایت فرمائے ۔ میں نے اس کاغذ کو لپیٹ لیا  اور گھر  آگیا  اور رات  کو سوتے وقت  اس کو  اپنے سر(تکیہ) کے نیچے رکھ کر سوگیا ،  کچھ دیر بعد  سوتے ہوئے میں مجھے کسی کے چیخنے کی آواز سنائی  دی  تو   میں  اٹھ کر بیٹھ گیا، میں نے سنا کہ کوئی کہہ  رہا ہے کہ اے ابودجانہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ تونے ہم کو پھونک سے   (جلا) دیا۔ تجھ کو اپنے صاحب کی قسم اس رقعہ (خط ) کو اپنے پاس  سے ہٹالے، ہم تیرے گھر یا تیرے  پڑوس یا جہاں کہیں بھی یہ خط ہوگا نہیں آئیں گے۔ حضرت ابودجانہ نے جواب دیا کہ میں  آپ  ﷺ کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا۔

حضرت  ابو دجانہ فرماتے ہیں  کہ پھر اس کے بعدجنات  کی چیخ وپکار  سے تمام رات میں سو  نہ سکا اور مجھے رات گذارنی مشکل ہوگئی ۔ چنانچہ صبح ہوئی تو میں نماز پڑھنے مسجد نبوی   پہنچا اور بعد از فراغت نماز میں نے حضور  ﷺ سے رات والا  ماجرا بیان فرمایا تو آپ  ﷺ نے ارشاد کیاکہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ رسول بناکر بھیجا ہے وہ  (جن وغیرہ) قیامت  تک اس عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

قرآن کے کمالات:

سیدنا عبداللہ  بن  مسعود  نے بیان کیا کہ میں اور جناب پیغمبر   صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے ایک راستہ میں جارہے تھے کہ  کوئی آدمی مرگی  میں مبتلا تھا ، میں قریب گیا  اور  کان میں تلاوت کی تو اس کو افاقہ ہوگیا، تو  آپ ﷺ نے فرمایا  کہ تم نے ایسا  کیا اس کے کان میں  پڑھا ہے؟

 تو   میں نے عرض کیا

" افحسبتم انما خلقنا کم عبثا وانکم الینا لا ترجعون ۔ [23]

تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار  بنایا اور تمہیں  ہماری طرف  پھرنا نہیں ۔

فتعالی اللہ الملک الحق لا الہ الا ھو رب العرش الکریم۔[24]

بہت  بلندی والا ہے  اللہ سچا بادشاہ  کوئی معبود نہیں سوا اس کے عزت والے عرش کا مالک۔تو

ومن یدع مع اللہ  الھا آخر لا برھان لہ بہ فانما حسابہ عند ربہ انہ لا یفلح الکافرون ۔  [25]

اور جو اللہ کے ساتھ  کسی دوسرے خدا کو پوجے جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہے ، بیشک  کافروں کا چھٹکارا نہیں  ۔

۔ وقل رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین"۔[26] " اور تم عرض کرو ، اے میرے رب بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے برتر رحم کرنے والا ہے ۔ "   تلاوت کی تھی۔ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

" مجھے قسم ہے اس رب   کی  جس کے قبضے میری جان ہے جب  کوئی مومن شخص اسے کسی چٹان پر بھی تلاوت کرے تو وہ بھی ہٹ جائے"۔ [27]

ارشاد  خداوندی ہے:

اور اگر تمہیں شیطان کی شرارت پریشان کرے تو اللہ کا سایہ پناہ طلب کر، بے شک وہی سمیع، علیم  ہے۔ [28]

سیدنا ابوہریرہ  فرماتے  ہیں  ، کوئی  بچہ پیدا  ہوتا ہے تو شیطان اسے انگلی چبھوتا  ہے، شیطان کے انگلی  چبھونے کی وجہ سے بچہ پیدا ہوتے ہی چیخ مارتا ہے۔ سوائے ابن  مریم اور ان کے والدہ کے  اس حدیث کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ  نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو قرآن حکیم کی یہ آیت پڑھ لو حضرت  مریم کو اور اس کے اولاد کو شیطان مردود سے پناہ  دیتی ہوں ۔ [29]

شریر جنات کے گھر:

عام طور پر خبیث جنات کی جگہیں نجاستوں والے مقامات ہوتے ہیں، جیسے کھجوروں کے جھنڈ، گندگی کے ڈھیڑاور حمامات ،اسی  وجہ سے حمام میں  اور اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہوں وغیرہ پر   کیونکہ یہ مقامات شریر جنات کے رہنے کی جگہیں ہیں۔اس لئے وہاں پر عبادت کرنے اور نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔

سیدنا   زید بن ارقم  کے مطابق  جنات سے پناہ طلب کرنے کے متعلق  حضور ﷺ نے  ارشاد فرمایا۔

تحقیق نجس جگہیں ، مسکن شیاطین وجنات ہیں۔ پس جس وقت آپ  واش روم جائیں ، کہا کریں (اے اللہ عزوجل میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں شریر جنوں اور شریر جنیوں سے)۔ [30]

اس کی تشریح میں مولانا امداد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ جب قضائے حاجت کرنے والا یہ دعا پڑھ  لیتا ہے تو جنات کے آگے  پردہ ہوجاتا ہے اور یہ اس کے ننگ کو نہیں دیکھ سکتے۔

سیدنا انس بن مالک  سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا  ،

یہ گندے مقامات شیاطین کے رہنے کی جگہیں ہیں پھر آپ واش روم میں قضائے ضرورت   کے سبب داخل ہوں  تو بسم اللہ کہہ لیا کرے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہیہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے جنات کے وجود کے متعلق ارشاد فرمایا :

جنات کی آنکھوں اور انسانوں کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کو جائے   تو یہ پڑھا کرے۔

اللھم انی اعوذبک من الخبث والخبائث۔[31]

اے اللہ! میں آپ سے پناہ پکڑتاہوں خبیث جنوں سے اور  خبیث جنیوں سے۔

فرمان خداوندی ہے کہ

جن کے انسان کو تکلیف دینے کے متعلق علمائے اسلام کا نظریہ:

امام احمد بن حنبل کا نظریہ:

امام   احمد بن حنبل کے بیٹے  عبداللہ نے امام احمد سے کہا کہ بعض لوگ یہ کہتے  ہیں کہ جن انسان کے بدن میں داخل نہیں ہوتا  ، انہوں نے کہا  اے بیٹے  وہ جھو   ٹ بولتے ہیں۔ جن انسان کی زبان پر کلام کرتا ہے ۔اما  م ابو داؤد نے حضرت ام ابان سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خدا کے دشمن نکل جا کیونکہ میں اللہ کا  رسول ہوں اور قاضی عبدالجبار نے کہا کہ جنات کے اجسام ہوا کی طرح ہیں  اس لیے ان کا  انسان  کے بدن میں داخل ہونا ممتنع نہیں ہے جیسا کہ ہوا اور سانس کا انسان کے جسم میں دخول ہوتا ہے۔[32]

علامہ ابن قیم جوزیہ کا نظریہ:

صرع   کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ ہے جو اخلاط رویہ کی وجہ سے ہوتی ہے اس کا علاج اطباء سے ہوتا ہے اور دوسری قسم وہ ہے جو ارواح خبیثہ ( شریر جن ) کی  وجہ سے ہوتی ہے، ائمہ دین اور اہل عقل اس کو مانتے  ہیں اور اس کا  رد نہیں کرتے اور اس کے علاج  کا  طریقہ  یہ ہے کہ ارواح  شریفہ  ،  ارواح  خبیثہ شریرہ کا مقابلہ کریں ، ان کے اثر کو دور کریں  اور ان کے افعال سے معارضہ کرکے ان کو باطل کردیں ۔ بقراط نے اپنی بعض تصانیف میں اس کی تصریح بھی کی ہے  جو مرگی طبعی سبب سے ہوتی ہے بقراط نے اس کے علاج کے بعض طریقے ذکر کیے ہیں اور یہ کہا ہے کہ  جو مرگی ارواح خبیثہ کے اثر کی وجہ سے ہو اس کا کوئی  علاج نہیں ہے ۔ البتہ جاہل طبیب اور بے دین لوگ ارواح  خبیثہ  کے اثر  کی  وجہ سے مرگی کا انکار کرتے ہیں او ر کہتے ہیں کہ مرگی زدہ کے بدن میں خبیث روح کا  اثر نہیں ہوسکتا  ، یہ ان لوگوں کی محض جہالت  ہے اور واقعہ اور مشاہدہ   ان کی تکذیب کرتا ہے۔

ارواح خبیثہ کے اثر سے جو مرگی ہوتی ہے اس کے علاج کے دو طریقے ہیں ، ایک  یہ کہ  اس شخص کے سبب سے ہے اور دوسرا طریقہ معالج کی جہت سے ہے۔ اس شخص کی جہت سے علاج کا طریقہ یہ ہے کہ  وہ شخص اپنی روحانی  قوت اور صدق نیت سے ان ارواح کے خالق کی طرف متوجہ ہواور دل اور زبان کے ساتھ ان ارواح خبیثہ سے اللہ  تعالی ٰ  کی  پناہ مانگے۔ یہ ایک قسم کی جنگ ہے اور جنگ میں کامیابی کے لئے ہتھیار ضروری  ہیں اور ارواح خبیثہ  سے جنگ میں کامیابی کے لیے اس  کے دل میں   توحید، توکل ، تقویٰ اور توجہ الیٰ  اللہ کی ضرورت ہے ، معالج کی جہت سے جو علاج ہوتا  ہے، اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ دل میں توحید ، توکل ، تقویٰ اور اللہ کی طرف توجہ ہو اور وہ ان ارواح خبیثہ کے شر  سے اللہ کی پناہ چاہے ، بعض معالج صرف  یہ کہنے پر اکتفاء  کرتے ہیں " اس سے نکل جا" یا کہتے  ہیں بسم اللہ یا کہتے  ہیں لا حول ولا قوۃ الا باللہ اور  رسول اللہ ﷺ یہ فرماتے تھے، " اے اللہ کے دشمن نکل جا، میں اللہ کا رسول ہوں"  اور میں نے اس کا مشاہدہ  کیا ہے  کہ ہمارے شیخ مرگی  زدہ شخص کے پاس اس آدمی کو بھیجتے تھے جو اس روح  سے مخاطب ہوتا تھا  اور  کہتا تھا کہ میرے شیخ نے یہ  کہا ہے کہ تم اس سے نکل جاؤ تمہارے لیے یہ جا ئز نہیں ہے،   پھر وہ شخص  ٹھیک ہوجاتا تھا اور بعض  دفعہ ہمارے شیخ اس روح سے  خود خطاب  کرتے   تھے ، بعض اوقا ت وہ روح سرکش ہوتی تھی تو  وہ اس روح کو مار کر نکالتے   تھے اور  وہ شخص ٹھیک ہوجاتا تھا ۔" اور  اس شخص کو مارکے درد کا احساس  نہیں ہوتا تھا" اس قسم کے واقعات  کا ہم نے اور دوسروں نے متعدد بار مشاہدہ کیاہے۔ بعض اوقات  اس شخص کے کان میں قرآن  مجید کی آیت پڑھی جاتی تھی۔

افحسبتم انما خلقنٰکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون ۔ؐ

ترجمہ: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ  ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں ۔  [33]

مجھ کو  شیخ نے یہ بتایا کہ انہوں نے مرگی زدہ شخص کے کان میں 100 مرتبہ یہ آیت پڑھی (جنیہ) نے کہا ہاں  اس نے آواز کو کھینچ کر کہا شیخ نے کہا میں نے ڈنڈا لیکر اس شخص کی گردن کی رگوں میں مارنا شروع کیا حتی کہ مار مار کر میرے دونوں ہاتھ تھک گئے اور  حاضرین کو یہ یقین ہوگیا کہ  اس مار سے یہ شخص مرجائے گا ۔ مار کے دوران اس جنیہ نے کہا مجھے اس شخص سے محبت ہے ۔ میں نے اس  سے کہا   یہ شخص تم سے محبت نہیں کرتا۔ اس (جنیہ) نے کہا میں اس کے ساتھ حج کرنا چاہتی ہوں ۔ میں نے کہا  وہ تمہارے ساتھ حج   کرنا  نہیں چاہتا۔ اس جنیہ نے کہا میں اس شخص کو تمہاری عزت  کی وجہ سے چھوڑ رہی ہوں۔ میں نے کہا نہیں، تم اس کو اللہ اور  اس کے رسول کی اطاعت  کی وجہ سے چھوڑ دو ۔ اس نے کہا میں جا رہی  ہوں، پھر وہ مرگی زد ہ شخص  اٹھ بیٹھا " اس نے دائیں  بائیں    دیکھ کر کہا  مجھے حضرت شیخ کے پاس کون لے کر آیا ہے ؟لوگوں  نے اس کو  اس مار کے نشان بتائے" اس نے کہا  مجھے شیخ نے کس وجہ سے مار ا ہے؟  میں نے تو کوئی قصور  نہیں کیا ، اس شخص کو اسی بات کا بلکل   شعور نہیں تھا کہ اس شخص کو شیخ نے مارا ہے "

شیخ  آیت الکرسی کے ساتھ بھی بکثرت    علاج کرتے تھے۔

وہ کہتے تھے جس شخص پر دورہ  پڑا   ہے  وہ  خود اور  اس کا معالج   بکثرت آیت  الکرسی پڑھا کرے۔ اور    اس کے ساتھ ساتھ  سورۃ الفلق اور سورۃ الناس   پڑہنی چاہئے ۔

خلاصہ یہ کہ مرگی کے دوران   اس قسم کا وہی شخص انکار کریگا جس کے علم ،عقل اور معرفت میں  کمی ہو۔  

ارواح خبیثہ کا ان انسانوں   پر تسلط ہوتا ہے جن  کے دین میں کمی ہوتی ہے  جن کے دل اور زبانیں اللہ کے ذکر سے خالی ہوتے ہے ۔ اور قرآن اور حدیث میں اللہ کی حفاظت اور اس کی پناہ کے جو اوراد اور وظائف ہیں وہ ان سے محروم ہوتے ہے۔  تب خبیث روح اس شخص پر مسلط ہوجاتی ہے جو حفاظت الہٰی کے ہتھیاروں سے نہتا ہوتا ہے، بسا اوقات جن اس وقت مسلط ہوتا ہے جب انسان عریاں ہوتا ہے اس وقت  وہ اس میں تاثیر کرکے اس پر مسلط ہوجاتا ہے۔  [34]

ڈاکٹر احمد شرباصی لکھتے ہیں

 عام مسلمان بکثرت یہ بات کہتے ہیں   کہ فلاں مرد کے جسم  یا فلاں عورت کے جسم  میں جن رہتا ہے اور  یہ بیمار مرد اور بیمار عورت  جو باتیں کرتی ہے وہ دراصل جن بولتا ہے۔پھر وہ ایسے لوگوں کو  لیکر آتے ہیں جن کے متعلق  ان کا یہ عقیدہ ہوتا ہے  کہ  وہ ان لوگوں کے جسموں سے جنوں کو نکالنے پر قدرت رکھتے ہے ۔

مریض میں یہ حالت اعصابی  تشخیص کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس کا علاج ماہر نفسیات اور ڈاکٹروں  کی ہدایات کے مطابق کرنا چاہیے اور مریض  کو صاف ستھری غذا کھلانی چاہیے اور کھلی فضا اور تازہ آب و ہوامیں  رکھنا چاہیے ۔ قدیم علماء یہ  بیا ن کرتے چلے آئے ہے کہ  اس مرض کی نسبت جن یا شیطان کی طر ف باطل ہے ۔ کیونکہ  قرآن مجید میں شیطا ن سے  حکایت کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے :

اور  میرا تم پر کوئی تسلط نہ تھا  مگر یہی کہ میں نے تم کو دعوت دی اور تم نے میری بات مان لی ۔  [35]

عام طور پر جس شخص کو بھی اعصابی  تشنج  کوئی نفسیاتی دورہ  لاحق ہوتا  ہے،  لوگ  سمجھ  لیتے ہیں کہ اس میں جن داخل ہوگیا   ہے اور اب وہ جن  اس مریض کی زبان سے کلام کر   رہا ہے اور اس کا  علاج وہی شخص کرسکتا ہے جو جن نکالنے پر قادر ہو۔ یہ غلط خیال ہے،  اس قسم کے مریضوں کا معروف طبی اور نفسیاتی طریقہ سے علاج کرنا چاہیئے  اور اللہ تعالیٰ سے  حصول شفاء کرنی چاہئے۔[36]

 

  خلاصہ:

 

جتنے  بھی   سماوی دین ہیں یہودی ، عیسائی ، مسلمان اور ان کے ساتھ ہندو  اور   سکھ  وغیرہ  سبھی  جنات  کے  وجود  کے قائل ہیں سوائے قلیل فلاسفہ کے ۔ اس لیئے اگر کسی ایسے آدمی میں  مذکور  ہ علامات  پائی جائیں تو دوا کے ساتھ ساتھ شرعی طریقے  سے  یعنی قرآن و احادیث سے بھی اس  کا علاج کیا جائے ۔

دراصل ہماری    زندگی میں دین سے دوری ہی ان مسائل کی بڑی وجہ ہے اگر زندگی کے ہر معاملے میں سنت رسول کریم ﷺ کو اپنا یا جائے توہم  پر شیاطین کا حملہ نہیں ہوسکتا۔ جنات بطور ایک مخلوق ازروئے قرآن وحدیث متواترہ  ثابت ہے اور اس سے حفاظت بھی قرآن و احادیث کریمہ سے ہی ہمیں بتائی گئی ہے اس لیے  ہمیں ہر  تکلیف اور مصیبت میں رب کریم جل جلالہ سے  ہی پناہ طلب کرنی چاہیے وہی شفائے کاملہ عطا کرنے والا ہے۔اس کے علاوہ کون ہے جو مریضوں کو شفائے کاملہ عطاکر نے والا ہو؟ وہی تو  ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ ہمارا    رب ہے،ہمیں  ہر حال میں اسی کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ غیر شرعی جھاڑ پھونک،غیر شرعی تعویذ ،جادو ، ٹونے  جن کے مطالب کا بھی علم نہ ہو، سب ناجائز ہیں لھذا  ان سے  ہمیں اجتناب کرنا چاہیے اور توکل کا دامن تھامنا چاہیے۔صفائی ستھرائی کو اپنے اوپر لازم کرنا چاہیے اور حتی الامکان شریعت  مطہرہ کے احکامات کی پابندی کرنی چاہیے جن سے دین ودنیا  دونوں کی فلاح ممکن ہے۔ رب کریم عزوجل ہمیں درستگی تک رسائی عطا فرمائے بیشک وہی حق تک پہچانے والا ہے۔واللہ اعلم بالصواب

 

نتائج

  ہمارے معاشرے  میں آجکل  جو کم پڑھا لکھا طبقہ ہے وہ  ہر بیماری نفسیاتی مسائل کو لیکر جنات کا نام دیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے ۔  ٭

٭ اس مقالہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنات بھی ایک مخلوق ہے جو مختلف  شکلیں اختیار کرتی ہیں ۔ پر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم ہر وقت ڈرتے رہیں اور اپنے آپ کو محدود کردیں ۔

٭اس مقالہ سے ایک چیز یہ بھی واضح ہوئی ہے کہ انسانوں کی طرح جنات بھی احکام کے مکلف ہیں۔  بعض نافرمان اور کافر ہیں اور بعض  مؤمن اور نیک ہیں ۔ان میں کچھ شیطان اور سرکش ہیں اور شیطان کے معاون ومددگار ہیں ۔ اور انسانوں کو گمراہ کرنے میں ابلیس کا ساتھ دیتے ہیں ۔

 

                         :   سفارشات  

٭سب سے بنیادی بات کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور ان کی صفات پر کامل ایمان اور یقین ہو، اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ ہو تو قوتِ ایمانی سے ہی ان شاء اللہ بہت سی شیطانی قوتیں اور نفسیاتی حملے پسپا ہوجاتے ہیں۔

٭ پنچ وقتہ نمازوں کی پابندی، ان کی شرائط و احکام کی رعایت رکھ کر ادا کرنے کا اہتمام، جو درحقیقت خالق ومالک سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے، اور جب بندے کا تعلق اللہ سے مضبوط ہوتاہے تو شیطان کا بس اس پر نہیں چلتا۔

ہر وقت پاکی کا اہتمام کرنا، با وضو رہنا، اور تلاوتِ قرآنِ کریم کی کثرت، نیز ذکر کی پابندی۔٭ 

٭مکمل سورہ بقرہ معتدل آواز میں وقتاً فوقتاً گھر میں تلاوت کرنے کا اہتمام کریں۔

٭قرآنی آیات پر مشتمل "منزل" نامی مجموعہ  (جو شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے ترتیب دیا ہے،)  اس کی بھی باقاعدگی سے تلاوت کریں۔

 ٭صبح وشام  کی حفاظت کی مسنون دعائیں پڑھنے کا اہتمام، (جو مختلف مستند علمائے کرام نے جمع کرکے شائع کردی ہیں، کسی بھی دینی کتب خانے سے حاصل کی جاسکتی ہیں) نیز انہیں کتابوں میں مذکورہ اذکار صبح وشام سات سات مرتبہ پابندی سے یقین کے ساتھ پڑھ کر دونوں ہاتھوں میں تھتکار کر سر سے پیر تک اپنے پورے جسم پر  پھیردیں، ان شاء اللہ ہر قسم کےسحر، آسیب اور نظرِ بد کے اثراتِ بد سے حفاظت رہے گی۔



 .[1] المنجد(عربی،اردو) دار الاشاعت کراچی۔ ص 168

.[2]  القرآن  16/  58

 .[3]  غلام الرسول ،تبیان القرآن دار العلم نعیمیہ کراچی۔ ج 12 ص  271

.[4]  ایضا ، ج 12 ص 272

.[5]  جلالین شافعی صاحب تفسیر  ،تاریخ  جنات  ،ادارہ دار المعارف  پاکستان، سن  1997 ، ص 52

 .[6] القرآن56/51

.[7]  القرآن  27  :  15

  .[8] القرآن  15 : 55

[9] ۔ علامہ طبری صاحب تفسیر  ، تاریخ الامم والملوک ، اردو دارالاشاعت کراچی ، ج 1 ص 71

[10]۔ جلالین شافعی ، ادارہ دارالمعارف پاکستان ، سن 1997 ، ص 59

[11]۔ احمد رضا خان  بریلوی ، فتاویٰ رضویہ ، رضا فاؤنڈیشن جامعہ لاہور پاکستان ،سن اشاعت 2006 ، ج 4 ص 574

[12] ۔ القرآن 50: 18

.[13] جلالین شافعی صاحب تفسیر  ، تاریخ نجات  ،ادارہ دار المعارف  پاکستان،  سن اشاعت  1997 ، ص 82

. [14] ص 67 ایضا ۔ ص 67

.[15]حکایات  جنات ، المکتبہ المدینہ ، کراچی  ، ص 34

.[16] القرآن  14 : 72

 .[17] القرآن  11 : 72

.[18] غلام الرسول ، تبیان  القرآن  ، ج  12  ، ص 283

.[19] جلالین شافعی صاحب تفسیر ، تاریخ جنات ، سن 1997 ، ص 186

۔ مترجم  عبدلاجبار ، مجموعہ الفتاوی لابن تیمیہ ، دار العلم ممبئی۔ ص 447[20]  

[21] ۔ جلالین شافعی صاحب تفسیر ، تاریخ جنات  ص 191

[22]  ۔ جلالین شافعی صاحب تفسیر ،  تاریخ جنات، ،ادارہ دار المعارف  پاکستان، سن 1997 ص 208        

[23]  ۔ القرآن 115 : 23                                                                                                     

[24]  ۔ القرآن  116 : 23

.[25]  القرآن  117 : 23

[26]  ۔ القرآن 118 : 23

[27]  ۔ جلالین شافعی صاحب تفسیر ،تاریخ جنات ، ص 188

[28]  ۔ القرآن 200 : 7

[29]  ۔ جلالین شافعین  صاحب تفسیر  ، تاریخ جنات ، ص 102

[30]  ۔ عیسی محمد بن عیسی الترمذی، کتاب    الطہارۃ  ،   باب ما یقول  اذاد     خل       الخلاء  ،  ج 1، حدیث     6

[31]  ۔ ایضا  ،حدیث 5

.[32] غلام رسول سعیدی ، شرح صحیح مسلم ، ج2  ص 101

.[33]القرآن  115 : 23

.[34] غلام رسول سعیدی ، شرح صحیح مسلم ،ج2 ص 101

   .[35]  القرآن 22 : 14

.[36]  غلام رسول سعیدی ، شرح صحیح مسلم ، ج2 ص 106

 

Loading...
Issue Details
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Similar Articles
Loading...
Similar Article Headings
Loading...
Similar Books
Loading...
Similar Chapters
Loading...
Similar Thesis
Loading...

Similar News

Loading...
About Us

Asian Research Index (ARI) is an online indexing service for providing free access, peer reviewed, high quality literature.

Whatsapp group

asianindexing@gmail.com

Follow us

Copyright @2023 | Asian Research Index