3
2
2022
1682060063251_3054
23-32
http://brjisr.com/index.php/brjisr/article/download/109/154
http://brjisr.com/index.php/brjisr/article/view/109
مقدمہ :
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ماحول کو پیدا کرکےاس میں زندگی کے تمام عناصر ودیعت کردیئے ، پھر ان کو انسان کی خدمت کے لئے اس کے کنٹرول میں دے دئے ، تاکہ وہ اس سے استفادہ کرسکے ، ساتھ ہی ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو بغیر راہنمائی کے نہیں چھوڑا ، لہٰذا اس کی ہدایت کے لئے رسول ، انبیاء ، مبشر اور ڈرانے والوں کو ارسال کیا ، تاکہ وہ اس کو سمجھائیں کہ ماحول اور اس کے عناصر کے استعمال کا صحیح اور عقلی طریقہ کیا ہوسکتا ہے ، تاکہ اس کا ماحول کا ہر آلودگی سے محفوظ رہ سکے ۔
اسلام قیامت تک رہنے والا وہ الٰہی پیغام ہے ، جو تمام وضعی قوانین سے مختلف ہے ، اور اس کے اخلاقیاتی نظام کا امتیاز یہ ہے کہ یہ دنیا اور آخرت کے تمام امور پر احاطہ رکھتا ہے ، اور بغیر کسی غموض اور ابہام کے ہر مسئلہ کا حل فراہم کرتا ہے ، یہ اصول اور قواعد فقط مسلمانوں پر عاید نہیں ہوتے بلکہ ا ان کی پابندی کرنا تمام بنی نوع انسانی پر واجب ہے ، چونکہ یہ وہ اصول اور قواعد ہیں جو اس خالق علام کی طرف سے صادر ہوئے ہیں جس نے ماحولیاتی نظام اور اس کے توازن کو معین کیا ہے ۔ ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے سائنسدان حضرات کی تمام تدابیر ناکام ہوچکی ہیں ، اور اس سلسلہ میں اکثر قواعد و ضوابط بے سود ثابت ہوچکے ہیں ، اور یہی وہ مسائل ہیں جنہوں نے علمی حلقہ کو ہلاکر رکھ دیا ہے ، اور ماحول کے تحفظ اور بحالی کے لئے تعلیمی اور عملی اقدامات کمزور پڑنے کے بعد مغربی ممالک کے بعض علماء نے ماحولیاتی بحران کے لئے مذہبی اور دینی سوچ پر الزام لگانا شروع کردیا ہے ، ان کی عقل اور رای کے مطابق دنیا کے تین وحدانی ادیان فطرت پر انسان کے تسلط اور مرکزیت میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور ماحول اور فطرت کو انسان کے سامنے ذلیل بتاتے ہیں ۔
بعض حضرات نے اسلام پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ عیسائی اوریہودی مذہب کی طرح توحید کے تصور اور مفہوم کے سبب اسلام بھی قدرتی ماحول اور فطرت کے زوال کا ذمہ دار ہے۔
اسلام پر یہ الزام شاید اسلام حقیق سے عدم آگاہی اور جہالت کی بناء پر ہے ، لہٰذا تمام مسلم علماء اور سائنسدان حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیاتی وسائل کے تحفظ کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کی کھل کر وضاحت کریں ، اور عالمی پیانہ پر بتائیں کہ فطرت اور ماحولیاتی وسائل کے تحفظ کے بارے میں اسلام نے کیا طریقے اور اسلوب بیان کئے ہیں ۔
ان بنیادی افکارکی وضاحت کے لئے جن پر مذہبی سوچ کا دارومدار ہے ، تمام مذاہب عالم کو اسلام کا سہارا لینا چاہیئے کہ کس طرح ایک مذہب کہیں بھی اور کبھی بھی انسان کو درپیش آنے والے مسائل کا حل پیش کرسکتا ہے ۔
اسلام کچھ ارکان اور اصول کے مجموعے کا نام ہے ، جن کے تمام احکام اور تعلیمات پر عمل کرکے انسان صحیح معنی میں مسلمان بن سکتا ہے ، اگر کوئی انسان اس کے بعض احکام پر عمل اور بعض کو چھوڑدے تو حقیقت میں وہ مسلمان کہلانے کے لائق نہیں ہے ۔
اگر ان اصول اور ارکان ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اخلاقی تعلیمات کے بنیادی ستون ہیں ، جن پر ماحولیاتی تحفظ کی بنیاد استوار ہے ۔
اسلام کے اعتقادی اصول:
اسلام کی تعلیمات کا بڑا حصہ ان قواعد اور ضوابط پر مشتمل ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظیم الشان برکات اور موحول کے تحفظ کے بارے میں انسان کی ذمہ داری کی وضاحت کرتے ہیں ۔
اسلام کے وہ ارکان اور اصول جن کے بغیر اسلام کا وجود ممکن نہیں ہے مندرجہ ذیل ہیں :
1۔توحید
اسلام اللہ تبارک تعالیٰ کی توحید اور اس کی وحدانیت کو تسلیم کرتا ہے ، اور اللہ تبارک تعالیٰ کی وحدانیت اور توحید انسانی فکر اور عمل کا اصلی سرچشمہ ہے ، اس طرح دین ، اخلاقی اقدار اور سماجی رفتار و گفتار کی رہمنائی کا اصلی اور بنیادی اصول توحید کا عقیدہ ہے ، اس طرح تمام نیک تصورات اور نظریات کا اہم ترین رکن توحید کا مفہوم اور تصور ہے ، اللہ تبارک تعالیٰ پر ایمان انسان اور اس کی کارکردگی کا دائمی طور پر کنٹرول میں رکھتی ہے اور اس طرح انسا ن اپنی ذمہ داری کو بجا لانے کا عذم لیکر ماحول اور اس کے وسائل کے تحفظ میں شریک ہوجاتا ہے ۔
2۔الٰہہی خلافت
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے :
" وہی وہ خدا ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور بعض کے درجات کو بعض سے بلند کیا تاکہ تمہیں اپنے دئیے ہوئے سے آزمائے۔[1]
اس جانشینی کا مقصد نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق انسان کا ماحول کے ساتھ کارکردگی اور برتاؤ کا امتحان ہے ، جیسا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں :
ان الدنیا خلوۃ حضرۃ وان اللہ مستخلفکم فیھا قناطروا کیف تعلمون ۔[2]
ترجمہ : دنیا شیریں اور سرسبز وشاداب ہے ، اور اللہ نے تمہیں اس دنیا میں اپنا جانشین بنایا ہے ' تاکہ یہ دیکھے کہ تمہارا طرز عمل کیسا ہے۔
لہٰذا انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کی تمام مخلوقات کے تحفظ اور دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے ، اگرچہ وہ اس امانت الٰہی سے استفادہ کرسکتا ہے ، لیکن استفادہ کا طریقہ حیح ہونا چاہیئے جس سے ا ن وسائل کو نقصان نہ پہنونچے ، غلط استعمال کی صورت میں انسان کو دنیا اور آخرت میں اس کی قیمت ادا کرنا پڑیگی۔
اسلام خلافت الٰہی کے جامع تصور کے ذریعے تمام مذہبی ، قومی اور جغرافیائی حدود کو توڑ دیتا ہے ، اور پوری انسانیت کو ایک امت کی شکل میں دیکھتا ہے : سارے انسان ایک قوم تھے ۔۔
قرآن کریم کے اخلاقی نقطہ نظر کی اصلی روح ، ماحول اخلاقی اقدار سے متعلق ہیں ، جو آج کی ماحولیاتی تعلیم کا مقصد ہے ۔
3۔معاد : اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے :
وابتغ فیما آتاک اللہ الدار الاخرۃ ولا تئس نصیبک من الدنیاط واحسن کما احسن اللہ الیک ولا تبغ الفساد فی الارض ان اللہ لا یحب المفسدینؐ [3]
ترجمہ : اور جو کچھ خدا نے دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کا انتظام کرو اور دنیا میں اپنا حصہ بھول نہ جاؤ اور نیکی کرو جس طرح کہ خدانے تمہارے ساتھ نیک برتاؤ کیا ہے اور زمین میں فساد کی کوشش نہ کرو کہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے ۔
معاد اور آخرت پر ایمان رکھنا اسلام کا ایک رکن اور اصول ہے ، اور اس کے ذریعے انسان اور ماحول کے تعلق پر بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں ' اور وجود کے بارے میں اس کی فکر کی تربیت ہوتی ہے ' اسلام انسان کو ماحول اور اس کے وسائل سے استفادہ کی دعوت دیتا ہے لیکن بغیر خرابی ' فساد اور کرپشن کے ۔
آخرت کے عذاب سے نجات کے لئے خلافت الٰہی کا استحقاق ضروری ہے ۔اللہ تبا رک و تعالیٰ کا فرمان ہے :
فمن کان یرجو لقاہ ربہ فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا ؐ [4]
ترجمہ : لٰہذا جو بھی اس کی ملاقات کا امید وار ہے اسے چاہئے کہ عمل صالح کرے اور کسی کو اپنے پروردگار کی عبادت میں شریک نہ بنائے۔
اسلام کا عذاب اور ثواب کا نظام انسان کو حلال ' حرام عدل و انصاف اور اصلاحات پر نظر کرکے اعمال صالحہ کی طرف ترغیب وتشویش کرتا ہے ' آخرت کی زندگی دائمی اور غیر محدود ہے ' اور زمین پر زندگی محدود اور غیر دائمی ہے ' لٰہذا زمین پر زندگی بے معنی ہوکر رہ جائے اگر آخرت کی زندگی پر ایمان نہ ہو ' لٰہذا آخرت کی زندگی دنیا کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے ۔جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے :
افحسبتم انما خلقنا کم عبثا وانکم الینا لا ترجعون ۔ [5]
ترجمہ : کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لائے جاؤگے۔
قرآن پاک کی آیات میں غور و فکر کرکے اسلام کی ان بنیادی اصول کی درست تفہیم ہوسکتی ہے ' جن کی طرف اسلام نے ماحولیاتی بیداری اور تحفظ کے لیے انسان کو متوجہ کیا ہے ۔
اسلام کا عبادتی اور اخلاقی نظام :
اگر کسی نے ذرا بھی ان ابواب اور موضوعات کا مطالعہ کیا ہے جن کو فقہاء اور علماء اسلام نے اپنی فقہی اور کلامی کتب میں ذکر کیا ہے ، اس پر یہ امر بخوبی واضح روشن ہے کہ اسلام کے اخلاقی ، عبادتی و اعتقادی نظام اور انسانی زندگی کے تمام امور کے درمیان بہت گہر ا ، واضح اور وسیع رشتہ ہے۔
فقہ اور اسلامی قانون کا سب سے پہلا باب یا کتاب " طہارت " سے متعلق ہے ، ایک عقلمند انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ طہارت اور پاکیزگی سے ماحول کا کیا تعلق ہے م جیسا کہ اس سے متعلق احکام قرآن ، سنت نبی ﷺ اور احادیث ائمہ ( علیہم السلام ) کے ذریعے تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں ۔
اسی طرح ماحولیاتی تحفظ اور "نماز" اور اس کے احکام کے درمیان موجود رشتہ کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے ، مثال کے طور یہ اگر وضو ، پانی ، بیت الخلاء ، دریا ، نماز گزارنے کے لباس کے متعلق احکام کا باوقت مطالعہ کریں تو پتہ چل جائیگا کہ اسلامی قانون کس طرح ان احکام کے ذریعے ماحول کے تحفظ کو یقینی بتاتا ہے ۔
اس سلسلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات انسان کو بالواسطہ طور پر حالت عبادت میں بھی ماحولیات سے قریب ہونے کی دعوت دیتی ہیں ' لہٰذا نماز اس وقت صحیح نہیں ہوتی جب تک نماز گزار زمین یا اس سے اگنے والی ایسی اشیاء پر اپنی پیشانی کو سجدہ میں نہ رکھ دے 'جو نہ پہنی جاتی ہو اور نہ کھائی جاتی ہو ، جیسا کہ چہاردہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے ، [6] اسی طرح غسل اور وضو پانی سے متصل ہوئے بغیر صحیح نہیں ہوتا ' اور پانی میسر نہ آنے کی صورت میں زمین کے اجزاء سے متصل ہونا واجب ہوجاتا ہے ، جس کو شریعت کی زبان میں تیمم کہا جاتا ہے ' اس سلسلے میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے ارشاد فرماتا ہے :
وجعلنا لک ولامتک الارض کلھا مسجدا وترا بھا طھورا ؐ [7]
اے میرے حبیب !میں نے پوری زمین کو تیرے امت کے لئے مسجد اور اس کی خاک کو طہور بنایا ہے ۔
اسی طرح "حج " اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان بھی بہت گہرا رشتہ ہے ، جس میں حرم اور احرام ، شکار کی ممانعت اور نباتات کو کاٹنے کے ممانعت کے احکام کے ذریعے ماحول کے تحفظ کی تربیت کی گئی ہے ، لہٰذا حج کو ماحولیاتی تحفظ کی ایک تربیت گاہ بھی کہا جاسکتا ہے ۔
اسلامی نقطہ نظر سے انسان کا موت کے بعد بھی زمین سے رشتہ منقطع نہیں ہوتا ' لہٰذا اسلام کا حکم ہے کہ مردہ انسان کو زمین میں دفن کرنا چاہئے ' تاکہ زمین اس مردہ کو اسی طرح اپنے کلیجہ سے لگا کر رکھے جس طرح زندگی میں اپنی آغوش میں رکھتی تھی 'اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے :
منھا خلقنا کم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اُخریٰ۔ؐ [8]
کر لے جائیں گے اور پھر دوبارہ اسی سے نکالیں گے ۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں پلٹا
ماحولیات کے ساتھ انسان کا رشتہ
اسلام انسان کو فطرت وماحولیات سے قریب ہونے کے لئے اعلیٰ سطح پر تشویق وترغیب کرتا ہے ' لہٰذا انسان اور فطرت کے بعض اجزاء کے درمیان حسبی ونسبی مجازی رشتہ کو فرض کرتا ہے ' جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث مبارک سےظاہر ہے ' جس میں ارشاد فرماتے ہیں :
کرموا عملکم النحلۃ والزیب
۔ [9] اپنی پھوپھی کھجور اور کشمکش کا احترام کرو ۔
اسی طرح کھجور کے درخت کے بارے ایک دوسری روایت ہے :
استوصوا بعمتکم خیرا ۔[10]
اپنی پھوپھی کھجور کے بارے میں میری وصیت کو بہترین طریقے سے قبول کرو۔
بعض روایات میں کھجور کے درخت سے انسان کے نسبی رشتہ کی وضاحتاس طرح کی گئی ہے :
استوصوا بعمتکم النحلۃ خیرافانھا خلقت من طینۃ اٰدم الاترون انہ لیس شیء من الشجر یلقع غیرھا ؐ[11]
اپنی پھوپھی کھجور کے بارے میں میری وصیت کو بہترین طریقے سے قبول کرو، وہ تمہاری پھوپھی اس لئے ہے چونکہ آدم کی بچی ہوئی طینت سے پیدا کی گئی ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ اپنے نوع و جنس کے علاوہ کسی دوسرے درخت سے جرگن نہیں کرتی ۔
ابن اثیر" عمم " لفظ کے تحت اس حدیث کی شرح میں کہتا ہے :
سماھا عمۃ للمشاکلۃ فی انھا اذا قطع راسھا یبست ، کما اذا قطع راس الانسان مات، وقیل : لان النخل خلق من فضلۃ طینۃ آدم علیہ السلام ۔[12]
کھجور کے درخت کو انسان کی پھوپھی اس سے بعض مشابہت کی وجہ سے کہا گیا ہے ، چونکہ اگر اس کے اوپری حصہ کو کاٹ دیا جائے تو یہ سوکھ
جاتاہے جس طرح اگر انسان کے سر کو کاٹ دیا جائے تو وہ مرجاتا ہے ، اور اس کی وجہ میں یہ بھی کہا گیا ہے : چونکہ یہ آدم کی بچی ہوئی طینت سے پیدا کی گئی ہے ۔[13]
بظاہر دوسرا قول زیادہ قوی و مضبوط ہے 'حالانکہ اس کو ابن اثیر نے کمزور خیال کیا ہے ' لہٰذا اس کو قیل کے تحت بیان کیا ہے ' لیکن چونکہ یہ دوسرا قول حدیث سے ماخوذ ہے ' لہٰذا یہی حقیقت سے زیادہ نزدیک ہے ' عام انسان کی عقل کو عین عقل پر مقدم نہیں کیا جاسکتا ۔
بہرحال ' کھجور ' کشمکش 'انگور ' انار اور انسان کے درمیان حسبی و نسبی مجازی رشتہ کے وجود کا مفروضہ خود ایک واضح دعوت ہے کہ انسان کو ان کے حقوق کا احترام کرنا چاہیئے ' جس طرح انسان اپنے نزدیکی رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی اہتمام کرتا ہے ۔
اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی کہا جا سکتا ہے : اگر انسان اورکجھور کے درخت کی ایک طینت ہونے سبب ان کے درمیان پھوپھی اور بھتیجے کا حقیقی یا مجازی رشتہ فرض کیا جا سکتا ہے ؎ تو ہم انسان اور زمین کے درمیان ماں اور بیٹے کا رشتہ بھی فرض کرسکتے ہیں ' اس لئے کہ زمین ہی تخلیق انسانی کی اصل اور اس کی طینت کا منبع ہے ' اسی لئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
تمسحو ا بالارض فانھا امکم وھی بکم برۃ ؐ [14]
زمین کو پاک و پاکیزہ رکھو ' کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے ' اور تمہارے اوپر بہت مہربان ہے ۔
اس طرح یہ حکم ماحولیات کے تمام عناصر پر جاری وساری ہوجائیگا۔
انسان کا ماحولیات سے جذباتی رشتہ
اس بیان کی روشنی میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ اسلام جو ماحولیات سے انسان کا حسبی و نسبی رشتہ کا مفروضہ پیش کرتا ہے' اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اور ماحولیات کے درمیان جذباتی اور محبت آمیز رشتہ قائم ہو ' جو انسان کو ماحولیات کے حقوق کی ادائیگی کے لئے پابند بنائے ' اس جزباتی اور محبت آمیز رشتہ کی مثال احادیث رسول وائمہ طاہرین علیہم السلام میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے ' آپ ﷺ نے احد نامی پہاڑ کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا تھا: اخذ جبل یُحبنا وتحبہُ ۔[15] احد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس محبت کرتے ہیں ۔[16]
اسی طرح شہر کوفہ کے بارے میں جعفر صادق السلام کا فرمان ہے : تربۃ تحبنا وتحبھا ۔[17]
کوفہ کی خاک ہم سے محبت کرتی ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔
اسی طرح چہاردہ معصومین علیہم السلام کی دوسری احادیث اور اسلامی تعلیمات میں غور و فکر سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ محبت آمیز ، جزباتی اور عاشقانہ جزبہ بنی نوع انسانی تک محدود نہیں ہے ، بلکہ یہ جزبہ عشق عالم تکوین ، بساط ارضی ، رباط فلکی یعنی تمام موجودات اور اشیاٰء جیسے : فرش و کرسی ، صراط ومیزان ، برق ور عد ، طبقات فلکی ، طرائق سماوی ، شمس و قمر ، زمین و آسمان ، دریا و سمندر ، پہاڑ ، میدان ، شاخ و ثمر ، غنچہ وشگوففہ ، درخت اور جانور سب میں جاری وساری ہے ۔ انسان کو حقائق اشیاء کا تھوڑا سا علم دیا گیا ہے ' جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے :
وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔
[18] تم کو علم کے جزء کا فقط قلیل حصہ دیا گیا ہے ۔
جب انسان کے علم کا یہ حال ہے کہ اشیاء کے اسرار و حقائق اس پر پوشیدہ ہیں ' اور علم اس کا قلیل ہے' تو کیا ضرورت ہے کہ چہاردہ معصومین علیہم السلام اور ان اسلامی تعلیمات کی بیجا تاویل کی جائے ' جیسا کہ شریف رضی نے احد کے سلسلہ میں مذکورہ بالا حدیث نبوی کو استعارہ پر محمول کیا ہے ' وہ اپنی کتاب " مجازات نبویہ" میں کہتا ہے :
وھذا القول محمول علی المجاز: لان الجبل – علی الحقیقۃ ۔ لا یصح ان یحب ولا یحب ؛ اذ محبۃ الانسان لغیرۃ انما ھی کنایۃ عن ارادۃ النفع لہ ، اؤ التعظیم المختص بہ ، علی ما بیناہ فی عدۃ مواضع من کتابینا المشھورین فی علوم القرآن ، وکلا الا الامرین لا یصح علی الجماد : لا التظیم المختص بہ ، ولا النفع العائد علیہ ، فمستحیل ان یعظم اؤ یعظم ، اؤینفع بہ ، فالمراد اذا ان احدا جبل یحبنا اھلہ ، ونحب اھلہ ۔[19]
یہ حدیث نبوی استعارہ پر محمول ہے ، اس لئے کہ حقیقت یہ ہے کہ نہ پہاڑ سے محبت کی جاسکتی ہے اور نہ وہ کسی سے محبت کرسکتا ہے ، چونکہ انسا ن کی
اپنے غیر سے محبت کرنا ایک ایسا کنایہ ہے جو اس کو فائدہ پہنچانے کے ارادہ یا اس کی مخصوص تعظیم واحترام کے طور پر بولا جاتا ہے ، جیسا کہ ہم علوم قرآن کی اپنی دو مشہور کتابوں کے مختلف مقامات میں بیان کرچکے ہیں ، اور یہ دونوں باتیں جمادات کے لئے صحیح نہیں ہے ، نہ تو اس کی تعظیم کی جا سکتی ہے ، اور نہ اس کو کوئی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے ، پس یہ محال ہے کہ وہ کسی کی تعظیم کرے یا اس کی تعظیم کی جائے ، اس سے فائدہ اٹھایا جائے ، یا اس کو فائدہ پہنچایا جائے ، پس اس حدیث نبوی کا مطلب یہ ہے ، کہ احد ایسا پہاڑ ہے جس کے اہل ہم سے محبت کرتے ہیں اور ہم اس کے اہل سے محبت کرتے ہیں ۔
یہ بات واضح روشن ہے کہ اگر عام تصور کائنات کے نقطہ نظر سے فلکیات ' عنصریات ' موالید ثلاث ۔ معاون ' نباتات ' حیوانات ۔اور جمادات کے عشق و محبت کو دیکھا جائے ، تو اس کو استعارہ پر محمول کرنا ناگزیر ہے 'لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان احادیث کے ذریعے کائنات کے حقیقی تصور کائنات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جو عام مادی تصور کائنات سے بہت اعلیٰ ہے ۔
لہٰذا قدیم حکماء وسائنسدان کا ماننا تھا کہ نفس ناطقہ یعنی قوت مدر کہ بنی نوع انسانی سے مخصوص نہیں ہے ' بلکہ یہ قوت حیوانات کے تمام اقسام یعنی : دواب وانعام ' وحوش و طیور ' چرند و پرند ' حیوانات بری و بحری ' طائران فضائی دخلائی سب میں موجود ہے ' بلکہ ابو علی سینا نے اپنے رسالہ عشق میں اس بات کا بھی دعوہ کیا ہے کہ یہ عشق تمام موجودات فلکیات ' عنصریات ' موالید ثلاث یعنی : معاون ' نباتات اور حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے ۔[20]
خلاصہ :
اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آنے والی نبوتیں اور رسالت جس طرح خالق علام کی طرف انسان کی ہدایت کرتی ہے ، اسی طرح انسانی زندگی کے تعلقات کو منظم بھی کرتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی فطرت واپس لانے میں مدد بھی کرتی ہے ، جو انسان کو مخلوقات میں اچھائی ، خوشی اور بہبودی تلاش کرنے کی دعوت دیتی ہے ، ہم تمام محققین اور دانشور حضرات کو آسمانی قوانین اور ادیان و مذاہب خصوصا "اسلام " کی تعلیمات اور اشیاء کے حقائق جاننے کی دعوت دیتے ہیں ۔
چونکہ اسلام تمام ادیان الٰہی کا نچوڑا ور کامل واکمل ہے ، جس میں خاص طور پر انسانی زندگی اور عام طور پر کائنات اور اس کے ارد گرد فطرت کی زندگی پر بڑی دقیق تفصیلات سے گفتگو ہوتی ہے ، جس طرح انسانی مخلوق پر اسلام کی توجہ ہے اسی طرح حیوانات ، نباتات اور جمادات پر بھی اس کی نظر کرم ہے ، ورنہ درخت کاری ، زراعت ، پانی اور دیگر قدرتی ماحول سے متعلق مسائل کے بارے میں گفتگو کرنے کے کیا معنی ہیں ۔
ماحولیاتی تحفظ پر مذاہب وادیان کے کردار سے انسان کی دوری اور جہالت ماحولیاتی آلودگی کی ایک اہم وجہ ہے ۔ ماحولیاتی تحفظ اور اس کے عناصر
کی بحالی کے لئے تمام آسمانی مذاہب کی ماحولیاتی تحفظ کے متعلق مذہبی تعلیمات اور روحانی رہنمائی کا ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، لہٰذا ماحولیاتی بحران ، اور اس کے وسائل پر یلغار کا سبب روحانیت اور مذہبی ہدایات سے دور ہونا اور مادہ پرستی ہے ۔
مثال کے طور پر وہ مادی ممالک جو ادیان پر ایمان نہیں رکھتے ماحولیاتی عناصر کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، صرف اس لئے کہ ان کو مادی سہولیات میسر آجائے جنگ وجدال میں مبتلا ہوگئے ہیں ، جس کے سب وہ ماحولیاتی آفات معرض وجود میں آئیں ہیں جس کی تاریخ میں انسانیت نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا تھا ، جس کے سبب یہ ممالک ماحولیاتی بحران سے بڑے پیمانہ پر مبتلاء ہیں ، جس کے سبب ان ممالک میں زندگی گزارنا مشکل ہوچکا ہے ۔
تمام مذاہب وادیان بنی نوع انسانی کی عظیم دولت اور بہترین سرمایہ ہے ، جو ماحول کے تحفظ کے بارے میں اخلاقی اقدار اور اصول و قواعدسے غنی ہیں ، جن سے ماحولیات توازن کو برقرار رکھنے کے لئے ایک بار پھر ان سے انسان کی کارکردگی ایک صحیح سمت دینے کے لئے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔
اس رای کو ثابت کرنے کے لئے قرآنی آیات ، احادیث رسول کریم ﷺ کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب کے متون کو دیکھا جا سکتا ہے مثال کے طور پے بائبل میں موجود بعض تعلیمات جو انسانی دست اندازی سے محفوظ رہ گئی ہیں ، اس کے علاوہ بودھ دھرم میں دی گئی بعض ہدایات بھی اس کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔
خاص طور پر دین اسلام قرآن پاک کی تعلیمات اور احادیث نبوی کی راہنمائی ماحولیاتی تحفظ کو ہمارے لئے یقینی بناتی ہیں ، اسلام ماحولیاتی تحفظ کا حکم ثانوی یا جانبی طور پر صادر نہیں کرتا ، بلکہ اس کو قانون اسلامی کا اہم اور بنیادی مسئلہ سمجھتا ہے ، اس پر عمل نہ کرنے والے یا اس سے غافل انسان کو مجرم قرار دیتا ہے۔
قرآن وسنت میں اس کے بہت سے دلائل ہیں جو ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں دین اسلام کی رای کو ثابت کرتی ہیں ' لہٰذا ہم کو مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس منفرد ودولت سے جو خوش قسمتی سے ہمارے ہاتھوں میں ہے ' اور جس کے ہم صحیح ہونے کی حیثیت سے اس منفرد دولت سے جو خوش قسمتی سے ہمارے ہاتھوں میں ہے ' اور جس کے ہم صحیح معنی میں وارث ہیں ، فائدہ اٹھانے چاہئے ' لہٰذا ہم تمام مذاہب اسلامی کے فرد فرد کو ماحولیاتی تحفظ اور اس کے عناصر کو نقصانات سے بچانے کی اس مقالہ کے ذریعے دعوت دیتے ہیں۔
مساجد اور دینی مدارس ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ان سے متعلق افراد کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو ماحولیاتی تحفظ کے اسلامی قوانین سے آگاہ کریں اور نماز جمعہ کے خطبوں کے ذریعے لوگوں میں ماحولیاتی تحفظ کے متعلق بیداری پیدا کریں واور ان کو بتائیں کہ اسلام ماحولیاتی عناصر کے تحفظ پر اسلامی قوانین کیا ہیں۔
ماحولیاتی تحفظ دین اسلام کا ایک اہم عنصر ہے ، اس کی تعلیمات پر توجہ دینا مسلم علماء کا فریضہ ہے ، اس کے ذریعے لوگوں میں دینی بیداری ہوگی اور وہ اس سلسلہ سے متعلق قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی سے آگاہ ہوکر اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرینگے ، جس سے صحیح معنی میں ماحول کا تحفظ ہوسکے گا۔
ماحولیاتی تحفظ کے سلسلہ میں اسلام کے اخلاقی اور اعتقادی نظام کے موقف کے بارے میں اسکولس ، یونیورسٹیز ، حقوقی ادارے اور ماحولیاتی تنظیموں میں مختلف پروگرام کرانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اس سے متعارف ہوسکیں ،اور قانون اسلامی کا اتباع کرکے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ۔
نتائج
جامع منصوبہ بندی کے بغیر ترقیاتی پروگرام اور فطرت کے غیر ضروری استحصال کے سبب ماحول میں آلودگی کے مختلف اقسام معرض وجود میں آچکے ہیں ، جس کے نقصان وہ نتائج کے سبب ہمارے اور دیگر موجودات کے وجود کے لئے خطرناک صورتحال درپیش ہے ، لٰہذا ماحولیاتی تحفظ کے ایسے اخلاقیاتی اصول کی تدوین جن کی بنیاد الٰہی تعلیمات پر مشتمل ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری مادی ترقی اور زندگی کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہوں ، اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ، اسلام کا اخلاقیاتی اور اعتقادی نظام ماحولیات سے تعامل کا سب سے بہترین طریقہ کار پیش کرتا ہے ، اسلامی نقطہ نظر سے ماحول اور اس کے عناصر سے رابطہ جذباتی ، اخلاقی ، معنوی اور عدل وانصاف سے بھرپور اصول وحکمت پر مبنی ہونا چاہیئے ۔
. [2] ورام ابن ابی فراس ، مسعود ابن عیسیٰ ، مجموعہ ورام ، ج 1 ، ص 129
[2]. Waram Ibn Abi Firas, Masoud Ibn Isa, Collection Waram, vol. 1, p. 129
.[7] محمد بن حسن ،وسائل الشیعہ ، شیخ حرعاملی ، ج 5 ، ص 344
.[7] Muhammad bin Hasan, Wasil al-Shia, Vol. 5, p. 344, Sheikh Haramili
.[8] ابن بابویہ ، محمد بن علی ، معانی بن علی ، معانی الاخبار ، ص 51
[8]. Ibn Babawiyah, Muhammad bin Ali, Ma'ani bin Ali, Ma'ani al-Akhbar, p. 51
. [10] نوری ، حسین ابن محمد تقی ، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ، جلد 16 ، ص 391
[10]. Nuri, Hussein Ibn Muhammad Taqi, Mustadrak al-Wasa’il wa Mustadrak al-Masa’il, Vol. 16, pg. 391.
.[11] ابن بابویہ ، محمد بن علی ، من لا یحضرہ الفقیہ ، ج 4 ، ص 327
[11]. Ibn Babawiyah, Muhammad Ibn Ali, Min La Yahzrah al-Faqih, vol. 4, p. 327
.[12] شریف الرضی ، محمد بن حسین ، المجازات النبویۃ ، ص 32
[12] Sharif al-Razi, Muhammad bin Husain, Al-Majazat al-Nabawiyyah, p. 32
بخاری ، محمد ابن اسماعیل ، ابو عبداللہ ، جعفی، الجامع الصحیح المختصر ( صحیح بخاری ) ، ج 6 ، ص 9 ، اور مجلسی ، شریف الرضی ، محمد بن حسین ، المجازات النبویۃ ، ص 32
14. Bukhari, Muhammad Ibn Ismail, Abu Abdullah, Jafi, Al-Jami’ al-Sahih Al-Mukhtasar (Sahih Bukhari), vol. 6, p. 9, and Majlisi. Sharif al-Razi, Muhammad bin Husain, Al-Majazat al-Nabawiyyah, p. 32.
.[15] محمد باقر ابن محمد تقی نے بھی اس کو بحار الانوار ، ج 57 ، ص 181 میں نقل کیا ہے ۔ ابن ماجہ ، محمد بن یزید ، سنن ابن ماجہ ، ج 2 ، ص 923
15. Muhammad Baqir. Ibn Muhammad Taqi has also quoted it in Bihar al-Anwar, vol. 57, p. 181. Ibn Majah, Muhammad Ibn Yazid, Sunan Ibn Majah, Volume 2, p. 923, Bukhari, Muhammad Ibn Ismail, Abu Abdullah, Jafi, Al-Jami
.[16] صحیح بخاری ، الصحیح المختصر، ج 2 ص 133
[16]. Sahih Bukhari, Sahih Al-Mukhatsar Vol. 2 p. 133
.[17]ابن ابی الحدید ، عبدالحمید بن ہبۃ اللہ ، شرح نھج البلاغہ ۔ جلد 10، ص 198
[17] Ibn Abi Al-Hadid, Abdul Hamid Ibn Hibullah, Sharh Nahj al-Balagha. Volume 10, p
Article Title | Authors | Vol Info | Year |
Article Title | Authors | Vol Info | Year |