4
2
2023
1682060063651_3230
78-92
https://alamir.com.pk/index.php/ojs/article/download/60/66
https://alamir.com.pk/index.php/ojs/article/view/60
أﻷمِیر:جلد4؍ شمارہ 2 ..(جولائی–ستمبر 3220ء) (1)
صاحبِ تفسیر ِصدیقی کا عصری مسائل کے حل اور کلامی مباحث میں طرزِاستدلال: تجزیاتی مطالعہ
S
ahib-e-Tafseer-e-Sadiqi's
style of reasoning in contemporary problem solving and discourse
discussions: an analytical study
Dr Hafiz Fareed Ud Din
President, Khatm-e-Nabuwat Research Institute
Aiwan-e-Mehr Ali Shah Bahawalpur Unit
Dr. Muhammad Shahid (Corresponding Author)
Incharge & Assistant Professor, Department of Hadith & Hadith Sciences,
A
llama
Iqbal Open University, Islamabad
https://orcid.org/0000-0002-7178-5963
H
oly
Qur’an is the last revealed book of Allah Almighty.The
explanation of its verses started from the time of last apostle and
it will continue till the day of resurrection. The land of Indo Pak
sub-continent is much fertile regarding the personalities who worked
for the interpretation of the last revealed book. In this research
paper characteristics and methodology of Tafseer-e-Siddiqui are
discussed, especially
Theological
Discussions
of
exegesis are analysed. Moulana Abdul Qadeer Siddiqui was a renowned
theologian of Hyderabad Dakkan. He spent his whole life in learning
and teaching Islam. His work on Tafseer-e-Qur’an is a great
contribution for Quranic understanding. In this Tafseer the writer
has also consulted books of other religions.He criticized
orientalists but with politeness. There is dire need to spread this
contribution of Moulana Siddiqui among the Muslims and especially the
students of educational institutions.
Key Words: Holy Qur’an, Hadith, Orientialists, Chiristianity, Judaism.
تعارف
ج
امعہ
عثمانیہ حیدرآباد
دکن ، شعبہ دینیات
کے صدر مولانا
عبد القدیر
صدیقی نے تفسیر
صدیقی کے نام
سے عصری مسائل
کے تناظرمیں عام فہم اُردو
زبان میں تفسیر
لکھی۔ معرکۃ
الآراء مسائل
کے پیش نظر شائستہ
طرزِ استدلال
اور جامع مانع
انداز اپنایا
ہے۔اس تفسیر
میں مادہ پرستوں
اور مخالفین
اسلام کے اعتراضات
کے جوابات ،
مشکل الفاظ کے
لغوی و اصطلاحی
معنی مفہوم، عربی زبان و
ادب سے استدلال،
حقیقت و مجاز،
متشابہ الفاظ
میں مشاکلہ کی
وضاحت، ربط آیات
و سور ،قرآنی
احکامات کا
زمانہ حال سے
انطباق کر کے
سائنس اور تہذیب
کے آئینہ میں
پیش کرنے کی سعی
کی گئی ہے۔ شان
نزول، تکرارِ
آیات، اِقسام
القرآن، مقطعات
و متشابہات،
ناسخ و منسوخ
وغیرہ کو عصر
حاضر کے تناظر
میں احکامات
قرآنی کی منطبق
کر کے دنیا سے
بے رغبتی اور
رجوع الی اللہ
کی طرف توجہ
مبذول کرائی
گئی ہے۔ کلامی
مباحث میں مادہ
پرستوں، مستشرقین
اور مخالف اسلام
کے دین اسلام
پر اعتراضات
کے مدلل جوابات
دے کربھرپور
انداز میں اسلام
کا دفاع کیا گیا
ہے۔ تفصیل درج
ذیل ہے:
1۔ مفسر کا تعارف
پیدائش و سلسلہ نسب:
مولانا عبد القدیرصدیقیؒ کی ولادت ۲۷رجب۱۲۸۸ ھ(۱۲ اکتوبر۱۸۷۱ء) بروز جمعہ ۱۱ بجے دن آپکے ناناحضرت پیر پرورش علی بادشاہ حسینی کے مکان موقوعہ محلہ قاضی پورہ شریف حیدرآباد دکن میں ہوئی۔ بادشاہ وقت نواب میر علی خان آصف جاہ سادس نے ایک سو روپیہ ماہانہ منصب جاری کیا جو سقوط بغداد حیدرآباد تک جاری رہا۔مولاناؒ کو اپنی کم عمری سے ہی کتابوں کے مطالعہ کا غیر معمولی شوق رہا۔ کتابیں آپ کی نہایت ہی پسندیدہ چیزیں رہیں۔ کتابیں خریدنا، پڑھنا اور اُن کو قرینہ سے رکھنا آپ کا وطیرہ تھا۔ آپکے والدِ محترم، ناظم قضایائے عروب جیسے عہدہ پر فائز تھے۔ کتابیں خریدنے میں کوئی پریشانی کا سامنا کر نا نہیں پڑا۔ کتابوں کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ میدان عمل کے بھی بڑے شہہ سوار تھے۔ ورزشِ جسمانی، کُشتی، پنجہ کشی، شمشیر زنی، لٹ بنوٹ، گھوڑ سواری، تیراکی، غرض کہ تمام طرح کے فنونِ سپہ گری میں اپنے زمانے کے بڑے ماہر بلکہ اُستاد دوراں تھے۔ حصول علم کے لیے روزانہ میلوں کا سفر کرتے۔ پتھر گھٹی کے آبائی مکان سے سر پر کتابیں اُٹھا کر قلعہ گولکنڈہ میں اپنے اُستاد محترم کے پاس روزانہ جاتے اور اُنکے گھر کے لیے پانی کا انتظام بھی آپ کی ذمہ داری تھی ۔ بعد ازاں واپس گھر لوٹتےتھے۔آپکو علم کی سچی طلب تھی اور فطری لگاؤ تھا کہ حصول علم کے لیے مشقتیں اُٹھانا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔1
مولانا محمد عبدالقدیر صدیقیؒ (۱۲۸۸ھ۱۸۷۱ء- ۱۳۸۱ھ۱۹۶۲ء) بن محمد عبدالقادر صدیقیؒ کا سلسلہ نسب اٹھائیسویں(۲۸) پشت میں حضرت ابو بکر صدیقؓ سے اور مادری سلسلہ بتیس(۳۲) واسطوں سے سیدنا امام حسینؓ سے ملتا ہے۔ اس طرح نسب کے لحاظ سے آپ ؒ صدیقی الحسینی ہیں۔2
تعلیم:
مولاناؒ نے حیدرآباد دکن کے مشہور مدرسہ دار العلوم میں تعلیم حاصل کی ۔ ائمہ فن اساتذہ کرام سے مختلف علوم میں درجہ کمال حاصل کیا۔ مولانا سعید صاحب سے درسی کتب،مولانا سید نادر الدین و مولانا عبد الصمد سے منطق وفلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ اس دار العلوم کوجب جامعہ عثمانیہ کا درجہ ملاتو آپ کو صدر شعبہ دینیات اور شیخ الحدیث کے عہدہ سے سرفراز کیا گیا۔آپ کی صدارت میں اپنے عہد کے جید اور ممتاز اساتذہ کرام رہے جن میں مولانا سید شیر علی علم الکلام میں فقید العصر تھے، مولانا عبد الواسع تفسیر کے ماہر استاذ تھے ۔ اسی طرح مولانا احمد حسین، علامہ شمسی، مولاناسید ابراہیم او ر سید غلام نبی جیسے اساتذہ کرام شامل تھے۔آپ نے دین کے ہر شعبہ میں کم و بیش پچاس تصنیفات تحریر فرمائیں۔ جن میں تفسیر صدیقی خاص اہمیت کی حامل ہے۔آپ تفسیر،اصول تفسیر، حدیث،اصول حدیث، اسماء الرجال،اصول فقہ، ادب عقائد و تصوف، منطق وفلسفہ اور علم الکلام ، علم القرات و فن تجویدکے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں (پہلوانی، بانک، بنوٹ، تیغ زنی، اور تیر اندازی کے سپاہیانہ فنون) میں بہت مہارت رکھتے تھے۔ آپ ؒ اپنے سگے ماموں سیدمحمد صدیق الحسینی القادری محبوب اللہ کے دستِ بیعت تھے، آپ سے ہی تعلیم و تربیت حاصل کی اور آپ سے ہی خرقہء خلافت سلسلہ قادریہ، چشتیہ ، نظامیہ بھی ملا۔3
شیوخ:
ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار حضرت عبدالقادر صدیقیؒ اور حضرت خواجہ محمد صدیق ؒ (ماموں) سے حاصل کی ۔سات آٹھ سال کی عمر میں سفر حجاز میں اپنے والدین اور ماموں کے ساتھ رہے۔ حجاز میں حضرت شاہ عبدالغنی ؒ کی صحبت بھی حاصل رہی۔مدرسہ دارالعلوم میں مختلف شعبوں میں مختلف اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔درسی کتب مولانا محمد سعید صاحب سے پڑھیں۔عربی کی تعلیم حبیب ابو بکر شہاب حضرمی و حبیب الدین صاحب سے حاصل کی۔دینیات کے اسباق مولانا الٰہی بخش صاحب کے پاس پڑھے۔منطق و فلسفہ مولانہ عبد الصمد صاحب قندھاری نے پڑھایا اور علم تفسیرو حدیث مولانا عون الدین صاحب و مولانامحمد سعید صاحب سے حاصل کیا۔ دارالعلوم کے علاوہ دیگر اساتذہ جن حضرات سے استفادہ کیا انکی تفصیل یہ ہے کہ درسِ نظامی کی تکمیل مولوی عب الصمد صاحب قندھاری کی پاس کی ۔علمِ قرأت مولانا سعید عمر صاحب و سید محمد تونسی سید القراء سے حاصل کیا۔فن شاعری حضرت خواجہ سید محمد صدیق(ماموں)سے سیکھی۔فن سپہ گری، بنوٹ، تلوار،جنبیہ،کشتی مختلف اساتذہ فن سے سیکھے۔فن طب حکیم منصور علی خان سے،سائنس بابوامرت لعل آنجہانی سے اورخوشنویسی و خطاطی مختلف اساتذہ کرام سے سیکھے۔پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات کی بھی آپ نے تکمیل کی۔ چنانچہ عربی مولوی فاضل اور فارسی منشی فاضل درجہ اول سے کامیابی سے مکمل کیا۔ہندوستان بھر میں اول آکر طلائی طمغہ لیا۔غرض کہ حصول علم اپنے وقت کے نامور اساتذہ کے پاس کیا۔ اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ضروری تعلیم و تربیت حاصل کی ۔ ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی صفائی کی تربیت بھی حضرت خواجہ محمد صدیقؒ کے پاس جاری رہی۔ اوائل عمر میں آپ سے بیعت کی ، صحبت حاصل کرنے،تربیت پانے اور ریاضت میں خوب محنت کی اور سولہ سال کی عمر میں آپکو خرقہء خلافت عطا ہوا۔4
وفات:
مولانا محمدعبد القدیر صدیقیؒ کا انتقال۱۳۸۱ھ۱۹۶۲ء میں ہوا۔آپ نے 91سال کی عمر پائی۔5
2۔ مولانا ؒ کی دینی خدمات
تدریس:
حضرت عبد القدیر صدیقیؒ نے درسی و دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعداپنا روزگار بھی تعلیمی ماحول میں اختیار کیا۔ چنانچہ مدرسہ دارالعلوم حیدرآباد میں بہ حیثیت استا دعربی ادب ملازمت شروع کی۔ یہ غالباََ(۹۵۔۱۸۹۶ ء) کا زمانہ ہے۔ استاد بھی ایسے شفیق، زندہ دل اور اعلیٰ اخلاق کے حامل تھے کہ درسی معلومات کے ساتھ ساتھ صحیح اسلامی فکر اور جذبہ شاگرد کے دل میں بس جاتا تھا۔ تدریس کا سلسلہ جس مدرسہ میں تعلیم پائی تھی وہیں سے شروع ہوا۔مدرس عربی کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز ہوا اور جامع عثمانیہ کے صدر شعبہ دینیات کی حیثیت سے وظیفہء حسن خدمت حاصل فرمایا۔ مولانا عبدالقدیر صدیقیؒ 'ہر فن مولا ' کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ تفسیرو حدیث کی تعلیم دیتے تھے تو اسکے ساتھ ساتھ فقہ و اصول فقہ کا بھی درس دیتے تھے۔ منطق،فلسفہ اور کلام پڑھاتے تو شعرو ادب بھی آپ سے متعلق ہوتا۔آپکی تدریس کا طریقہ بھی نرالا تھا۔ طلبہ کو رعب و دبدبہ سے نہیں بلکہ شفقت و محبت سے پڑھاتے تھے۔ دارالعلوم میں غیر اوقات مدرسہ بھی آپ شاگردوں کو مفت تعلیم دیا کرتے تھے۔ مدرسہ دالعلوم کی یونین “ثمرۃالادب” کے نا م سے آپ نے1904ء میں قائم کی تھی،لیکن چند سالوں بعد یہ انجمن ختم ہو گئی۔الغرض مولا عبد القدیر صدیقیؒ نے دوران تدریس دارلعلوم کے تدریسی اور انتظامی معاملات میں خوب دلچسپی لی اور زندہ دلی،تواضع،حسن اخلاق،شرم و حیااور پاکیزہ سیرت کے لحاظ سے آپ قابل نمونہ تھے۔ 6
پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات کی تکمیل کرنے کے بعد عربی زبان و ادب پڑھانے پر مدرسہ دارالعلوم میں اواخر انیسویں صدی عیسوی میں منتخب کیے گئے تھے۔ کلیہ عثمانیہ اوائل 1910ء میں قائم ہوئی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد ۱۹۱۷ء میں رکھا گیا۔ جب ہر طرح سے مکمل ہوگئی تو شاہِ دکن، سلطان العلوم میر عثمان علی خان بہادر نے مشاہیر علماء اور اسکالرز کو ہندوستان کے گوشہ گوشہ سے منتخب کرکے بلایا اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا۔ شاہ دکن نے مولانا عبد القدیر صدیقیؒ کو پروفیسر و صدر شعبہ دینیات کے اہم ترین عہدہ پر مامور کیا۔آپ شعبہ دینیات کے صدر مقرر ہوئے۔ کلیہ عثمانیہ1919ء کے لگ بھگ جامعہ عثمانیہ بنا اسی جامعہ کے شعبہ دینیات میں حدیث کے پروفیسر اور صدر شعبہ مقرر ہوئے۔ اس طرح آپ کی صدارت کی جملہ مدت تقریباََ بیس سال سے زیادہ رہی۔1932ءمیں گیارہ سال کی مدت توسیع خدمت کے بعد وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے ۔7
تصانیف:
مولانا عبدا لقدیر صدیقی ؒ کی تصانیف بصورت کتب ورسائل اور مضامین کا شمار پچاس سے متجاوز ہے، جن میں تفسیریر صدیقی، الدین، حکمت اسلامیہ، ترجمہ و تشریح فصوص الحکم، التوحید، وراثت و وصیت، مسئلہ طلاق، مسئلہ عدم نسخ قرآن، اصولِ اسلام، معیار الکلام، المعارف، حقیقت بیعت، سماع، اعجاز القرآن، نظام العملِ فقراء اور نظم میں کلیات حسرت نمایاں ہیں، عربی کی لغت بھی آپ نے مرتب فرمائی۔8
تفصیل کتب و رسائل درج ہے۔ تفسیر صدیقی، مسئلہ عدم نسخ قرآن ،اعجاز القرآن، قول فصل، آیات بینات، درسِ قرآن، تفسیر لطیفی،تفسیر سورۃ فتح،الدین ، التوحید،حکمت اسلامیہ، ترجمہ و شرح فصوص الحکم، المعارف،شجرۃ الکون، اسلامی تصوف اور نکلسن، نظام العملِ فقراء، انتخاب شاہنامہ، نسیم عرفان، زمزمہء محبت، زفراۃ الاشواق، مراۃ الحقائق،مراۃ الصدق، معیار الحقائق، تحفہ اطفال،تحفہ فقیر، دورِ حاضر، گلدستہ اطفال، اصول اسلام، معیار الکلام، وصیت و وراثت،حقیقت بیعت، سماع، دین فطرت، کلمہ طیبہ،اوراق الذہب، نظام تمدن اسلام،سرمایہ داری،ابلیس ازم، الحمدللہ، روح الادب، الدین یسر،صلائے عام، حقیقت معراج، لا الہ الا اللہ، الشجر ۃ العلیۃ قادریہ، تفہیمات صدیقی، اسلامی حکومت، مشاجرات صحابہ کرام و اختلافات ائمہ،اسعی مشکور فی حل تاریخ تیمور، خیر اللغات تجدید اللغات، شرح دیوان ابوالعتاہیہ،حل درہء نادر، اصول تنقید، خودی انسان کاکل۔9 3۔ تفسیر صدیقی
مولاناؒ کا ایک نہایت ہی مفید کام تفسیر صدیقی ہے۔ جس کی سخت ضرورت اس اعتبار سے تھی کہ آپ کے دور میں مختلف مکاتب خیال مختلف گمراہیاں پھیلا رہے تھے۔ بعض شریعتِ اسلامیہ کی ظاہریت کے دلدادہ تھے اور باطن کی طرف ایک انچ بھی آگے بڑھنا نہیں چاہتے تھے۔ بعض وہ تھے جو صوفیا کے بھیس میں آئے لیکن ان کے افکار و تعلیمات نہ اسلامی بصیرت سے منور تھے اور نہ حقیقی اسلامی روح سے معمور ۔ بعض حدیث کے منکر تھے اور صرف قرآن پر عمل کی دعوت دیتے، بعض وہ تھے جو قرآنی آیات کے سرچشمہ سے سائنس کے پیالہ میں اللہ کے بندوں کو آبِ حیات پلانا چاہتے تھے اور جو قرآن کو تھیوری اور سارے عالم اور اس کے مظاہر کو پریکٹیکل قرآ ن کہہ کر دوقرآن کا دعویٰ کرتے تھے۔ تلاوت قرآن ، ذکرو شغل، تسبیح و تحمید، درود و سلام کو کارعبث ، صوفیانہ ریاضتوں کو وقت کی تباہی، صوفیاء فقراء کو کم عقل اور پیری مریدی کو پیٹ پالنے کا ڈھونگ سمجھتے تھے اور علماء ،صوفیا اور بزرگان دین کی تحقیر میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ تقلیدِ امام کو تقلید شخصی کا الزام دیتے اور ایک ہی جامع فقہی مذہب کا شاخسانہ چھوڑے ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ تجدید ایمان کا بہانہ تراش کر مسلمانوں کو کلمہ پڑھوانے والوں میں قادیانی ، امامیہ اور تفضیلی پیش کرتے تھے۔ مولانا نے اپنی تفسیر کا مقدمہ لکھا ہے جس میں تمہیدی کلمات کے علاوہ اعجازقرآن ، مخارجِ حروف،صفات حروف،قرآن کے متن پر علامات تجوید،قرآن کی روایت و حفاظت، اُصول تاویل،مسئلہ عدم نسخِ قرآن،قرآن وحدیث کا باہمی تعلق،اختلافات ائمہ،تصوف،لغات قرآنی،شان نزول،ربطِ آیات، قصص قرآن،آیات کی تکرار کا فائدہ، قرآنی قَسمیں اور خصوصیات تفسیر جیسے مضامین درج کیے ہیں۔10
تفسیر صدیقی کی طباعتی تفصیلات
مولاناؒ کی یہ مشہور تفسیر ہے جس کی اشاعت ابتداءً بر س ہا برس تک قسط وار ’’ درس القرآن ‘‘ نامی جریدہ میں ہوا کرتی تھی۔ پاکستان میں مولاناؒ کے شاگردوں اور مریدوں نے اسکی طباعت اور اشاعت کا انتظام کیا۔ اس کی کاپیاں یا نسخہ جات حیدرآباد اور ہندوستان کے دوسرے تمام شہروں میں مقبول عام ہوئیں۔ تفسیر صدیقی کُل چھ(۶) جلدوں پر مشتمل ہے۔پاروں کے حساب سے جلدوں کی تقسیم کی گئی ہے۔ ہر جلد پانچ پاروں پر مشتمل ہے۔ ہر جلد کو الگ الگ صفحہ نمبر نہیں لگائے گئے بلکہ تسلسل کے ساتھ صفحہ نمبر جلد ایک سے جلد ششم تک لگائے گئے ہیں ۔ کل صفحات ۳۸۰۹ ہیں۔طبع اول ۱۹۵۶ ء میں ہوئی ۔ تفصیل درج ذیل ہے۔ نظر ثانی کے بعد دوبارہ اشاعت ۱۹۹۵ ء میں ہوئی۔11
ناشر:
ادارہ
اشاعت تفسیر
صدیقی(رجسٹرڈ)
1/22B ،بلاک
نمبر11 گلشن
اقبال کراچی،
پاکستان۔
مقام
اشاعت:
75/A لطیف
آباد نمبر10
حیدر
آباد سندھ
پاکستان۔
مطبع
: نیوگرین
پرنٹرز، نزد
پی آئی اے آفس
صدر حیدرآباد
5 تفسیر
صدیقی کی خصوصیات
قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ اس وجہ سے مفسرین نے ہر دور میں قرآن مجید کی تفسیر کر کے دوسرے لوگوں کے لیے قرآن مجید کو سمجھنے میں آسانیاں پیدا کیں۔ ان مفسرین میں بر صغیر کی ایک ہستی مولانامحمد عبد القدیر صدیقیؒ حسرتؔ (۱۲۸۸ھ ۔۱۳۸۱))۱۸۷۱ ۱۹۶۲ ) بھی ہیں جو تیرھویں صدی میں پیدا ہوئے اور چوہدویں صدی میں ایک “تفسیر صدیقی” لکھی۔ آپ کےمعاصرین میں مولانا اشرف علی تھانوی،مولانا شبیر عثمانی، اور مفتی شفیع جیسے شہرہ آفاق لوگ بھی تفسیر کر رہے تھے۔ جنہوں نے اقتضائے زمانہ کا لحاظ رکھتے ہوئے عام فہم اُردو میں تفسیر لکھی ۔جس کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں مولاناؒ نے قرآنی الفاظ کے نہ صرف الگ الگ معنیٰ بیان کیے بلکہ جہاں ضروری ہوا وہاں صرفی نحوی ترکیب و تحقیق بھی بتا دی گئی۔ لغوی معنی کے ساتھ اعتباری اور مجازی معانی بھی بیان کر دیے ۔ عہد رسالت کے محاورہ کو بھی پیش نظر رکھا گیاہے۔ اسی لفظ کا کوئی مشتق اُردو میں مستعمل ہو تو اُسے بھی درج کر دیا گیا تاکہ پڑھنے والے قرآنی لغات سے زیادہ سے زیادہ مانوس ہو جائیں۔ موقع بہ موقع معرکۃالآرامسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔خاص طور پر امت کی توجہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی طرف مبذ ول کرائی گئی ہے۔ اسی طرح تفسیر کا لب لباب رجوع الی اللہ اوردنیا و آخرت کی بھلائی حاصل کرنا ہے۔
مولانا عبد القدیر صدیقی ؒ نے اپنی تفسیر صدیقی میں نہایت دلکش اور منفرد انداز اپنایا ہے ۔ طرز استدلال اور انداز بیان بہت شائستہ اور عمدہ ہے ۔ تشریح نہایت جامع مانع اور آسان الفاظ میں کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ تفسیر انسان کو نصیحت اور فکر آخرت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ تفسیر کی مزید چند خصوصیات مختصراََدرج ذیل ہیں:
* مولانا ؒ تفسیرمیں اس امر کو خاص طور پرواضح کرتے ہیں کہ قرآن کو سمجھنا غیر قرآن پر موقوف نہیں کیونکہ وہ خود مبین ہے۔
* تفسیر کا لب لباب اصلاحِ معاشرہ، رجوع الی اللہ اور فکر آخرت ہے۔
* انداز بیان نہایت دلنشین ہے۔
* کسی خاص فرقے ، مذہب کو نشانہ نہیں بناتے۔کسی کا نام لیے بغیر انکے (مستشرقین، مادہ پرست) باطل عقائد کا رد کرتے ہیں۔
* اسلامی تعلیمات اور عقائد کو صحیح معنوں میں بیان کیا گیا ہے ۔ * ہر مکتبہ فکر کے لیے بہت وسعت ہے۔
* تشریح میں اپنے شعر بھی لکھتے ہیں۔
6 تفسیر صدیقی کا منہج:
* مادہ پرستوں اور مخالفین اسلام کا خوب رد کیا ہے، انکے اعتراضات کےمدلل جوابات دیے ہیں۔
* مولاناؒ
ہرآیت کے مشکل
لفظ کے لغوی و
اصطلاحی معنی
ومفہوم بیان
کرتے ہیں۔
* زیادہ
تر آیا ت کا صرف
ترجمہ ہی کردیتے
ہیں بعض آیت کی
تشریح بہت جامع
اور مختصر کرتے
ہیں۔
* دوران
تشریح تکیہ کلام
لفظ “صاحبو !
“ استعمال
کرتے ہیں۔
* باطل
یا غلط عقائد
والوں کو لفظ
“نادان”سے مخاطب
کرتے ہیں۔
* قواعد
تجویداور خصوصی
علامات کو ظاہرکرتے
ہیں تاکہ تلاوت
میں اُصول تجوید
کو بھی مد نظر
رکھا جائے۔
* قرآن
کو زبانِ عربی
سے سمجھانے کی
کوشش کرتے ہیں۔
لفظ کی اصل کے
ساتھ ساتھ یہ
بھی بیان کردیتے
ہیں کہ یہ لفظ
کس مادہ سے مشتق ہے، اور
اگراس مادہ سے
کوئی لفظ اُردو
میں مستعمل ہو
تو اسکو بھی
بیان کر دیتے
ہیں۔
* حقیقی
معنی کے علاوہ
مجازی معنی کو
بھی لکھ دیتے
ہیں۔ کیونکہ
مولانا ؒ کے
نزدیک اسلام
اور کفر کا
دارومداراسی
مسئلہ پر ہے ۔
اس لیے حقیقی
و مجازی معنی
کو وضاحت ضروری
سمجھی گئی ہے۔
* متشابہ
الفاظ میں مشاکلہ
کو بھی ظاہر کیا
گیا ہے۔جیسے
ومکروا ومکراللہ
لغوی اور صرفی
نحوی بحث بھی
کرتے ہیں۔
* اس
تفسیر میں مولاناؒ
کسی مذہب کی
تردید کی بجائے
اصل مسائل کی
تحقیق کر تے
ہیں۔
* معترضین
کے جوابات اس
انداز میں بیان
کرتے ہیں کہ کسی
شخص کا نام نہیں
لیتے۔
* ایک
آیت کا دوسری
آیت سے ربط بیان
کرنے کی سعی
کرتے ہیں، محذوفات
و مقدرات کو بھی
بیان کرنے کی
سعی کرتے ہیں۔
* اس
تفسیر کی ایک
خوبی یہ ہے کہ
مولاناعبد
القدیر صدیقیؒ
جا بجا قرآنی
احکامات کو
زمانہ حال پر
منطبق کرکے
مسلمانوں کو
سائنس اور تہذیب
کے آئینے میں
انکی صورت دکھانے
کی سعی کرتے
ہیں۔
عصری مسائل کے حل میں مولاناعبدالقدیر صدیقی ؒ کا استدلال
تفسیر میں مولاناؒ نے بہت اہم مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن موجودہ صورتحال کے اعتبار سے مسائل کے حل کے لیے لکھتے ہیں کہ “صاحبو ! ایک میرا خیال ہے، وہ یہ کہ زمانہ گر دش کر رہا ہے۔ مسلمانوں پر کبھی مکی حالت ہے اور کبھی مدنی۔ جیسی حالت ویسا حکم۔ اس زمانے میں ہم مکی حالت میں ہیں، اس وقتفَاقْتُلُواْ الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْکا حکم نہیں دیا جا سکتا، بلکہولا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِکا حکم دینا چاہیے''۔ 12
شان نزول کے ضمن میں مولاناعبدالقدیر صدیقی ؒ کا نظریہ
تفسیر میں مولاناؒ نے کسی کسی سورۃ کا شان نزول بہت ہی مختصر لکھا ہے ۔ اس حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ:”فقیر نے تفسیر صدیقی میں بہت کم جگہ اسباب نزول بیان کیے ہیں۔میں قرآن شریف کو ''مبین '' سمجھتا ہوں ۔ اسکا سمجھنا قصہ کہانیوں پر موقوف نہیں۔ قرآن شریف کوئی تاریخی کتاب نہیں ہے۔ کوئی واقعہ بیان نہیں کیا جاتامگراُسکی غرض عبرت اور نصیحت اور بری باتوں سے روکنا قرآن شریف کا کام ہے۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر۔ لوگ اِدھر اُدھر کے قصوں سے تفسیر کو کئی کئی جلدوں میں کر دیتے ہیں''۔ 13
ربط آیات و سور میں مولاناعبدالقدیر صدیقی ؒ کامنہج
تفسیر میں مولاناؒ نے ربط آیات کا بہت لحاظ رکھا ہے۔ مولاناؒ لکھتے ہیں کہ” میری بڑی کوشش ربط آیات ہے۔ ایک رکوع کو دوسرے رکوع کے ساتھ مرتبط کرنا، قصوں کو قصوں سے ملانا۔ اصل میں قصے تو ہیں ہی نہیں، نتیجہ خیز واقعات ہیں۔اس واسطے ربط آیات کی وجہ بعض بعض جگہ حذف ہے کچھ مقدر ہے۔عربی زبان کے لحاظ سے ان میں ربط پیدا کرنا ضروری ہے۔ ایسا حذف قرآنی اسلوب کے لوازم سے ہے۔ عرب لوگ جہاں حذف کیا کرتے تھے اُسی طرح قرآن میں بھی کیا گیا ہے۔ اس حذف وتقدیرکا مزہ اُسی کو ملتا ہے جو عربوں کے طرز بیان اور اسٹائل سے واقف ہو۔ جہاں حذف کیا گیا ہے اگر محذوف بیان کردیا جائے تو وہ جملہ بالکل بھدا ہو جائے گا، اُس کا بانکپن اور حسن باقی نہیں رہے گا۔14
آیات کی تکرارکے بارے میں مولاناعبدالقدیر صدیقی ؒ کامنہج
قرآن میں آیات کی تکرارہے۔اسکی کئی حکمتیں ہیں۔ مولاناعبدالقدیر صدیقیؒ آیات کی تکرار کے فوائد لکھتے ہیں کہ: ''بعض بعض جگہ ایک ہی آیت کو متعدد جگہ بار بار دہرایا گیاہے۔اس کا لطف تو اُن کو ملتاہے جو عربی کا صحیح مذاق رکھتے ہیں۔ مثلاََفَبِأَيِّ آلاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِایک جاہل قرآن کا خلاصہ کرنے بیٹھا، اور اُس نے مکرر آیات اور قصوں کو نکال دیا۔ اسکا نتیجہ کیا ہوا۔۔۔ نہ قرآ ن کا سٹائل باقی رہا اور نہ اُسکا حسن۔ قرآن کی حالت یہ ہے کہ ایک لفظ کی جگہ اسکا مترادف رکھیں تو درست نہیں۔قرآن کی عبارت میں ایک ایک لفظ اپنی جگہ ایسا جما ہوا ہے جیسا انگشتری میں نگینہ۔ جہاں فعل،فاعل ہیں وہ مبتداء خبر نہیں بنائے جا سکتے۔ ایک ہی قصہ کو متعدد جگہ بیان کرنا اور ہر جگہ ایک نیا ہی لطف پیدا کرنا یہ اعلیٰ درجہ کے فصیح و بلیغ کا کا م ہے''۔15
قرآنی قَسموں کے متعلق مولاناعبدالقدیر صدیقیؒ کا نظریہ
“قرآن میں جابجا قسمیں ہیں۔ کوئی قسم قرآن میں ایسی نہیں جس سے فائدہ خاص حاصل نہ ہو۔ بعض مفسرین نے ''وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ۔ وَطُورِ سِينِينَ ،وَهَذَا الْبَلَدِ الأَمِينِ'' کی تفسیر میں انجیر کے خواص اور فوائد بیان کرنا شروع کر دیے ہیں۔زیتون کے خواص اور کوہ طور کی تعریف کرنے لگے۔ کیا یہ طب کی کتاب ہے کہ دواؤں کے خواص اور میووں کے خواص بیان کئے گئے ہیں؟ باغ تین دمشق میں ہے۔ جبل زیتون بیت المقدس میں ہے۔ کوہ طور موسی علیہ السلام کے لیے تجلی گاہ کا نام ہے۔ اصل یہ ہے کہ “واؤ اور باء‘‘ کے معنی “اور،ساتھ‘‘کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہادت پیش کر رہا ہے۔ قسم کیا ہے؟ شہادت ہے۔اللہ تعالیٰ اس سرزمین کو شہادت کے طور پر پیش کر تا ہے ۔16
سورۃ الحجر کی آیت نمبر ۷۲کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ” خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کی عمر کی قسم کھاتا ہے، اُن کی سوانح حیات کو بطور گواہ پیش کرتا ہے کہ پیغمبر کے نہ ماننے والے مدہوش ہیں،بے عقل ہیں، غفلت میں گرفتا ر ہیں۔ صراط مستقیم تو رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے جو اُنہیں نہیں مانتے ،وہ عاقل نہیں غافل ہیں''۔17
سورۃ قیامۃمیں بھی لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ O وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِO کے ضمن میں بھی مولانا قسم سے مراد گواہی اور شہادت لیتے ہیں چنانچہ یوں بیان کرتے ہیں “ لا نہیں جی۔ تم جیساخیال کرتے ہو ویسا نہیں ہے۔ أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ،میں روز قیامت کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ روز قیامت گواہی دے گا۔ ولا، اور نہیں جی ، أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِملامت کرنے والے نفس کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ اسکو شہادت میں پیش کرتا ہوں18۔
سورۃ بروج کی پہلی آیت والسماء ذات البروج کی تشریح میں بیان کرتے ہیں کہ “ قسم ہے آسمان کی ، میں آسمان کو شہادت میں پیش کرتا ہوں، آسمان اپنی زبان حال سے شہادت دے گا۔19
سورۃ الفجر کی پہلی آیت والفجرکا ترجمہ یوں کرتے ہیں” میں فجر کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں فجر کی قسم کھاتا ہوں''۔ 20
مقطعات کے متعلق مولاناؒ کا مؤقف
مولاناؒ حروف مقطعات کے معنی کرتے ہیں۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہے۔ مقطعات قرآنی ہیں۔ اللہ اعلم بمرادہ۔ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس کے معنی اور مقاصد اللہ کے پیغمبر اور ان لوگوں کو معلوم ہیں جن کو خدائے تعالیٰ نے اس علم سے سرفراز فرمایا ہے۔21
بعض ادیبوں نے یہ لکھا ہے کہ تمام حروف ملائے جائیں تو اقسام ، انواع اور صفات حروف کے نصف نصف حروف ہیں۔ جیسے قلقلۃ اور ھمس وغیرہ۔ بعضوں نے یہ لکھا ہے کہ ان حروف کے ذریعے سے تحدی اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہی اٹھائیس حروف ہیں جن کو تم رات دن بولتے ہو اور اپنے ادیب و فصیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہو۔ بھلا ان ہی حروف سے بنائے ہوئے قرآن کا جواب تو لکھو۔ تم کبھی نہیں لکھو گے، نہ لکھ سکو گے۔ یہ قرآن ہے اسکے معنی بھی اعجاز ہیں اور عبارت بھی اعجاز ہے۔22
مولاناؒ بعض اوقات کسی کی تاویل سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔یٰسٓ کے حوالے سے مولانا لکھتے ہیں کہ “ اسکے کوئی خاص معنیٰ تو بتائے نہیں گئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ س سید کا ہے۔ پس معنی یہ ہوئے یا سید، اے سید ! اے سردار۔ یہاں مولانا ؒ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے۔بعض اوقات خود مولاناؒ بھی تاویل سے کام لیتے ہیں۔ مقطعات قرآنی میں سے ''ص'' کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ”اسکے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں۔ ممکن ہے کہ صاد سے مراد صاحب قرآن ہو۔ اسی طرح سورۃ الزخرف کے ''حٰمٓ'' کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ” اسکے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں مگر عاشقان محمدی اسکو دیکھتے ہیں اور گیسوئے محمد ﷺ سمجھتے ہیں''۔23
سورۃ جاثیہ کے ''حٰمٓ'' کے متعلق لکھتے ہیں کہ ''اللہ اعلم بمرادہ''۔ بعض کے پاس اس سے حبیبی محمدﷺ مراد ہے''۔24
آیات متشابہات کے متعلق مولاناؒ کا نظریہ
آیات متشابہات کے ضمن میں مولاناؒ کا نظریہ ہے کہ لفظی معنیٰ کی بجائے معنی ٰ مقصود لیا جائے گا۔ آیات مشاکلات و متشابہات سے نتیجہ مراد ہوتا ہے نہ کہ لفظی مطلب۔ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۷وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ کا معنی یوں کرتے ہیں “ اسکے
معنی مرادو مقصود اللہ کےسوا کوئی نہیں جانتا(اللہ جانتا ہے) اور علم میں ثابت قد م لوگ(وہ)کہتے ہیں ہم کو اس کا یقین ہے۔‘‘
وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللَّهُ (آل عمران:54)کے معنی اس طرح ہوں گے “ ان منافقین نے مکر کیااور اللہ نے انکے اس مکر کی سزادی۔‘‘ دیکھو ! ہم کہتے ہیں کہ ''ندی بہہ رہی ہے'' اور اس سے مراد لے رہے ہیں کیونکہ ندی میں کا پانی بہہ رہا ہے۔ لہٰذا متشابہات سے لفظی مطلب نہیں بلکہ مراد کو سمجھا جائے گا۔25
ناسخ منسوخ آیات کے متعلق مولانا ؒ کا مؤقف
مولا نا عبد القدیر صدیقی ؒ کا مؤقف یہ ہے کہ قرآن کی کوئی آیت بھی منسوخ نہیں ۔ لہٰذا مولانا کی مسئلہ عدم نسخ قرآن کے متعلق توضیح درج ذیل ہیں۔
“قرآن شریف کی آیتوں اور احکام کے منسوخ ہونے میں اختلاف ہے ۔ قرآن شریف کے تمام ادیان اور ملل اور رجال اقوام کے رسوم و عادات واحکام کے ناسخ ہونے میں ،ان میں تغیر پیدا کرنے میں نہ ہم کو نہ کسی اور کو کوئی اختلاف ہے۔ ان مفسرین کے اختلافات کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض کے پاس آیات احکام میں سے آدھے ناسخ و منسوخ ہیں۔ چنانچہ اس موضوع پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ابن العربی نے اس تعداد کو گھٹایا ۔ حضرت امام جلال الدین سیوطی نے منسوخ آیتوں کی تعداد ۲۱تک مانی۔ حضرت شیخ احمد بن عبدالرحیم شاہ ولی اللہ نے صرف ۴۔۵تک مانی۔ میرے خیال میں قرآ ن کا کوئی حکم کوئی آیت منسوخ نہیں ۔ شاہ صاحب نے ان ۲۱آیتوں کے نسخ کے جو ابات دیئے ہیں ان کی تفصیلی شرح میں نے ایک مستقل رسالہ میں کی ہے ۔ اس موقع پر صرف غلط فہمی کے اسباب مجمل طورپر بیان کروں گا اور ان پانچ آیتوں کو بھی نسخ کے جھگڑے سے نکال لوں گا جن کو شاہ صاحب بھی منسوخ ماننے پر مجبور ہوئے تھے۔ اس طرح ان کے علمی خاندان کا ایک شخص ان کے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچا دے گا۔ وللٰہ الحمد۔‘‘26
7۔ کلامی مباحث اور تفسیر صدیقی:
کلامی مباحث کے حوالے سے مولاناؒ اپنی تفسیر میں مادہ پرستوں کا تو نام لے کر تبصرہ کرتے ہیں لیکن ان کے علاوہ کسی فرقہ، مذہب، مسلک وغیرہ کا نام نہیں لیتے ۔ چنانچہ بغیر نام لیے کچھ اعتراضات کا جواب دیتے ہیں۔وہ اعتراضات غیر مسلم مفکرین(مستشرقین) کے ہیں۔ ایسے غیر مسلم مفکرین جو مشرقی علوم (اسلام) پر دسترس رکھتے ہیں ان کو ''مستشرقین'' کہا جاتا ہے۔ تفسیرصدیقی ایسے دور (بیسویں صدی کے نصف اول) میں لکھی گئی جب غیر مسلموں کی حکمرانی تھی اور انگریزی مشنری اسلام کے خلاف کام کر رہی تھی۔ انہوں نے حیلوں بہانوں سے قرآن، اسلام اور پیغمبر اسلام پر مختلف انداز میں اعتراضات کیے۔ہر صاحب فکر اسلام کے خطرے سے نمٹنے کے لئے کوئی نہ کوئی اعتراض کر دیتا۔ سب کا مطمح نظر اسلام کو کسی نہ کسی طرح نیچا دکھانا تھا۔صلیبی جنگوں کے بعد اسلام کونیچا دکھانے کے لیے نظریاتی انداز اپنایا گیا ۔ جن لوگوں نے اس مقصد کے لیے کام کیا وہ مستشرقین کہلائے۔
مولانا عبد القدیر صدیقی حسرتؔ نے اپنی تفسیر میں اگرچہ مستشرقین کا نام نہیں لیا لیکن انکے باطل عقائد و نظریات کے پیش نظر بہت جامع ترین جوابات دیے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
کیا اسلام بزور شمشیر پھیلایا گیاہے؟
لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرۃ:256 ) اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُواْ يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوُرِ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِيَآؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (البقرۃ:257)
سورۃ البقرہ کی درج بالاآیات کی روشنی میں مولانا لکھتے ہیں کہ”صاحبو! دشمنان اسلام نے ایک غلط فہمی پھیلا رکھی ہے کہ “اسلام بزور شمشیر پھیلایا گیاہے” وہ غلط پروپیگنڈے کے عادی ہیں، وہ سفید جھوٹ کہنے سے نہیں ڈرتے، ان کے ضمیر پر تعصب کے گھٹا ٹوپ اَبر چھا گئے ہیں، حق و باطل میں اُنکو تمیز نہیں، وہ اپنی طرح دوسروں کی بھی بد تمیز بنانا چاہتے ہیں۔ کوئی ذرا قرآن کی آیتوں پر غور کرے، وہ تو فرماتا ہے کہ لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْن دین میں کوئی جبر نہیں۔ وہ فرماتا ہے۔ افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین کیا تم لوگوں کوایمان لانے پر مجبو کرو گے، نہیں ، ہر گز نہیں۔ جولوگ امن وامان اختیار کر کے باوجود کفر و شرک کے مسلمانوں کے دامنِ عطوفت میں پناہ لیتے ہیں اُن کی حفاظت کا ذمہ مسلمان لیتے ہیں، اُن کے حقوق کی حفاظت مسلمان کرتے ہیں۔ وہ لوگ ذمی کہلاتے ہیں۔ جو حربی(مسلمانوں سے جنگ کرنے والے) بھی چند روز کے لیے امن لے کر مسلمانوں کے ملک آتے ہیں تو انکو امن دینے کا حکم ہے۔ وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ اور اگر کوئی مشرک تمہاری پناہ لینا چاہے تو تم اُسکو پناہ دو۔‘‘
“کیا اس رحمۃ اللعالمین نے اپنے دین کو بزور شمشیر پھیلایا؟ جو فرماتا ہے “ جس نے ابو سفیان کے گھر میں پناہ لی، اُس کو امن ہے۔ جس نے مسجد حرام میں پناہ لی، اُسکو امن ہے، جس نے اپنے گھر کے دروازے بند کر لیے اُسکو امن ہے''۔کیا اُس رحمۃ اللعا لمین نے زبردستی دین پھیلایا جن کی تمام لڑائیوں میں مسلمانوں کی طرف سے کل تقریباََ ڈھائی سو(250) آدمی، اور کافروں کے تین چار سو آدمی مارے گئے۔ رحمۃ اللعالمین نے حکم دیا” عورتوں ، بچوں،بوڑھوں کو نہ مارو ، گرجوں اور مندروں میں رہنے والے کو نہ مارو۔ جو لڑنے جھگڑنے والے نہیں، کشت و خون کرنے والے نہیں، اُن پر رحم کرو، اُن کو چھوڑ دو‘‘۔ قرآن میں کوئی غور کرے کہ قرآن میں جابجا قاتلوا ہے۔ باب مفاعلہ شرکت پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی اُن کو مارو جو تم کو مارنا چاہتے ہیں۔ بعض جگہ فاقتلوا بھی ہے مگر کن کو؟ جو تم کو مارتے ہیں۔ مسلمانوں سے زیادہ روادار، صلح جو کوئی قوم نہیں''۔27
اسلام ہی عالمی مذہب ہے
“صاحبو ! دین اسلام ایک مکمل اور عام دین ہے۔ اس کا مقصد اعلیٰ توحید اور خدا کو ایک ماننا ہے۔اسلام نہ کسی خاندان سے خاص ہے نہ اس میں ذات پات کا جھگڑا ہے ، نہ کسی زبان سے خصوصیت رکھتا ہے۔ “اسلام توحید کے ساتھ مکارمِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔”بعثت لا تمم مکارم الاخلاق‘‘ میں بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں (حدیث مشکوٰۃ)۔ اسلام کسی خاص ملک میں محبوس نہیں ہو سکتا اس میں تہذیب نفس اور مکارم اخلاق کے سوا دیوانی اور فوجداری ہر قسم کے قوانین موجود ہیں۔ اسلام حریت اور مساوا ت کو پیدا کرتاہے۔ عورتوں کو بھی صاحب مِلک اور توریث مانتا ہے۔عورتوں کی آزادی کیلے اسمیں خلع کا مسئلہ بھی ہے۔ اسلام میں دوسروں کو قتل کرنا تو ایک طرف کوئی شخص خود کشی بھی نہیں کر سکتا کیونکہ اسلام سکھاتا ہے کہ تم خود اللہ کی مِلک میں ہو اور اسکو خلافِ حکم خدا ضائع نہیں کر سکتے۔
اسلام ایک دریائے ناپید اکنار ہے، جس میں غوطہ مار کر سب پاک ہو جاتے ہیں کوئی زرا یہ تو بتا دے کہ ساری دنیا کے لیے کونسا مذہب خدا نے بھیجا ہے۔ ہندوؤں کے پاس تو یہ ہے کہ اگر کوئی وید کو سن لے تو سیسہ پگھلا کر اسکے کان میں ڈالنا چاہیے۔ مجوسی یا پارسی مذہب میں بھی تبلیغ نہیں، لہٰذا وہ بھی کسی کو پارسی مذہب میں ملا نہیں سکتے۔ یہودیوں کا مذہب اب بھی غیر تبلیغی ہے اور بنی اسرائیل کے علاوہ اور کوئی یہودی بن نہیں سکتا۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل میں سے تھے اور موسوی مذہب کے پابند تھے۔ کسی (غیر اسرائیلی) نے آپ سے کوئی مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا میں بیٹو ں کی روٹی کتوں کے سامنے نہیں ڈالنا چاہتا۔لہٰذا عیسائی مذہب بھی تمام اقوام کے لیے نہیں ہے۔ کافت الناس اور تمام اقوام عالم کے لیے صرف اسلام ہے۔
''میں یقین سے کہتا ہوں اے مخالفین اسلام ! تم قرآن کو دیکھو اور اسکونظر عمیق سے دیکھو، تمہارے دل میں تمہارے مذہب کی وقعت باقی نہ رہے گی۔ تم اس(قرآن) سے بھاگو گے مگر وہ تم کو کب چھوڑتا ہے، تمہارے کانوں سے تمہاری آنکھوں سے تمہارے دل میں اُترے گا۔ تمہارے دماغ میں بس جائے گا۔ تم مجبور ہو گے کہ اپنے مذہب کی اصلاح کرو، مگر کس کے اصول کی پابندی کے ساتھ ؟ اسلام کے !‘‘“یہ آبِ حیات ہے۔ تمہارے مردوں کو زندہ کر دے گا۔ تم اپنے مسلم ہونے سے انکار کیے چلے جاؤ، مگر دنیا شہادت دے گی، پکارے گی، چلا اُٹھے گی کہ یہ صورت و شکل اسلام کی ہے۔اس کی آنکھیں ہیں مگرافسوس! آنکھوں میں نور نہیں، زبان ہے مگر اس میں لکنت باقی ہے۔ ہاتھ پیر ہیں مگر شل ہیں ۔ تم اسلام سے بھاگو، خوب بھاگو، مگر وہ تم کو کب چھوڑتا۔ تم کو چھاتی سے لگا لے گا، اپنا دودھ پلائے گااور تم کو اپنا بیٹابنالے گا۔''
“بہر حال کامل دین اگر ہے تو اسلام ہی ہے۔ إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ(آل عمران:19) اسلام ہی خدا کے نزدیک دین ہے۔‘‘ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ(آل عمران:۸۵)جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب کو اپنا دین بنائے گا تو وہ خدا کے پاس کبھی قبول نہیں ہو گا اور وہ آخرت میں خسارہ اور نقصان اُٹھانےوالوںمیں سے ہو گا۔''28
تعدد ازدواج
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُوا ) البقرۃ:03(
درج بالا آیت کی روشنی میں مولاناؒ لکھتے ہیں کہ”فانکحواکا امر اباحت کے لیے ہے یعنی متعدد نکاح کر سکتے ہیں، وجوب کے لیے نہیں۔ اس میں صاف صاف بتا دیا گیا کہ اگر عدل و مساوات برقرار نہیں رکھی جاسکتی تو ایک عورت پر قناعت کرنا چاہیے۔ گزشتہ زمانے میں جس قدر چاہتے نکاح کرتے تھے۔ اسکو روکا جا رہا ہے۔ اب رہ گیا پیغمبروں کا حال تو عامۃالناس پر ان کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک ہزار گوپیاں اور ننانوے یا سو بیویاں رکھنے والے پر تو اعتراض نہ ہو اور نو بیویاں جن میں سے آٹھ بیوہ ہیں، اُن کی سر پرستی کرنے پر اعتراض کیا جائے۔اپنی آنکھ کو شہتیر تو نظر نہیں آتا اور دوسروں کی آنکھ کا تنکا نظر آجاتا ہے۔ حکم دیا گیا کہ ہے کہ ان نو بیویوں کو طلاق نہیں دی جا سکتی اور کسی عورت سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ جن لوگوں کے نزدیک تعدد ازواج جائز نہیں وہ ذرا یہ تو بتا دیں کہ موجودہ زمانے کی لاکھوں بلکہ اس سے زیادہ بیواؤں کا کیا علاج کیا جا سکتا ہے؟ اور زنا کاری سے بچنے کی کیا صورت ہے؟ بے تحقیق اعتراض کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ ذرا سوچو اور اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرو۔''29
کیا قرآن پیغمبر اسلام ﷺ کی تصنیف ہے؟
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَاءنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاء نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (15) قُل لَّوْ شَاء اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَدْرَاكُم بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ (16) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ (17)(یونس:۱۵۔۱۷)
مولاناؒ درج بالا آیات کے ضمن میں ؒ لکھتے ہیں کہ”صاحبو! ان آیتوں پر غور کرو۔ رسول خداﷺ نےان منکرین کے پاس چالیس سال گزارے کبھی منہ سے ایک لفظ جھوٹ نہ نکلا۔ اخلاق و عادات سب اچھے تھے۔ خود کفار حضرت ﷺ کو محمد امین کہتے تھے۔ جوشخص آدمیوں کے متعلق جھوٹ نہ کہے، بھلا وہ خدا کے متعلق جھوٹ کہنے کی کیا جرات کر سکتا ہے؟ رسول خداﷺ گو افصح العرب والعجم تھے مگر حدیث شریف اور قرآن میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآن کا طرز بیان جدا اور حدیث کا الگ ۔ قرآن کوئی چھوٹی سی کتاب نہیں۔ وہ تو بہت بڑی کتاب ہے اور مختلف امور میں ہدایت کرتی ہے۔ نہ صرف اسکی فصاحت وبلاغت بے نظیر ہے بلکہ اآہیات، قانون، اصول تمدن اور اخلاقیات سب میں ممتاز ہے۔ قرآ ن کا اسلوب بیان شروع سے آخر تک اعجاز ہی اعجاز ہے۔ اس سب باتوں پر غور نہ کریں اور قرآن شریف کو حضرت ﷺ کی تصنیف سمجھیں تو بڑا ظلم ہوگا۔ایسا کہنا اپنی نادانی کا اعتراف کرنا ہے اور اپنی جہالت کا ثبوت دینا ہے۔
ذرا اتنا تو سوچو! کہ ایک شخص جس نے کبھی قلم کو ہاتھ نہ لگایا ہو، کبھی کسی کے سامنے زانو ئے ادب تہہ نہ کیا ہو، اور ایک ایسے تاریک زمانہ میں پیدا ہوا ہو جب کہ علم وکمال کی معمولی روشنی بھی نہ تھی۔ ایک شخص اُٹھتا ہے اور جاہل سے جاہل قوم کوروشنی پر لاتا ہے اور اسکو متمدن بنا دیتا ہے۔30
سورۃ ھود آیت نمبر 13 کا مولا نا ؒ ترجمہ یوں کرتے ہیں “ کیا یہ کفار کہتے ہیں کہ قرآن پیغمبر کی تصنیف ہے۔ پیغمبر! تم کہو ایسی تصنیف شدہ دس سورتیں تو لاؤ اور خدا کو چھوڑ کر اپنی مدد کے لیے جن جن کو چاہو بلا لو ۔ اگر تم سچے ہو۔‘‘ صاحبو! دس سورتوں کا لانا تو مشکل ہے۔ سورۃ کوثرمیں تین آیتیں ہیں ، اتنی ہی بنا کر لاؤ۔ کیا لا سکو گے؟ کیابنا سکو گے؟ ادیبوں سے مدد لو، شاعروں کو بلا لو، شیاطین اور دیوتاؤں کو پکارو، سر توڑ محنت کرو، غور کرو، فکر کرو، مگر کیا ہوگا؟ وہی عاجزی، وہی لاجواب ہونا۔ آخر میں کہنا پڑے گا ما ہٰذا من کلام البشر31
سورۃ النحل کی آیت نمبر 3 کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ “بعض عیسائی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ملک شام میں ایک راہب سے رسول اللہ ﷺ ملے تھے اور یہ سب اسی کا پڑھایا ہے۔ کسی صحیح الدماغ کی عقل میں آ سکتا ہے؟ اس راہب نے ایک ملاقات میں تمام قرآن پاک کی تعلیم دے دی ہو۔ ہمارے پاس روایتوں سے ثابت ہے کہ اس نے تصدیق کی کہ موسیٰ کے بعد تم ہی جلیل القدر پیغمبر ہوئے ہو۔ ایسے مہمل اعتراضات کسی صحیح العقل شخص سے نہیں ہو سکتے۔32
صاحبو! قرآن متواتر ہے۔ حدیث غیر متواتر ہے۔ اگر قرآن پر سے اعتماد اُٹھ جائے توپھر دین کہاں؟ اور اسلام کدھر؟ بے دین لوگو ں کی ایک عادت ہے کہ ہمیشہ قرآن پر اعتراض کریں اور اس میں کمی زیادتی ثابت کریں۔ اسمیں تغیر تبدل کا دعویٰ کریں ۔ بعض بھولے نادان ان ظالموں کی کاروائیوں سے واقف نہیں۔ ایک نادان کہتا ہے کہ بعض آیتیں منسوخ التلاوت بھی ہیں۔ ایک دوسرا ظالم کہتا ہے کہ قرآن میں کمی زیادتی ہو گئی ہے۔ اس کا صحیح نسخہ ہمارے امام کے پاس ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا۔یہ لوگ دشمنان دین ہیں۔مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے کہے پر کچھ توجہ نہ دیں۔ جسکی حفاظت کا ذمہ خدا لے، اس میں تغیر و تبدل کس طرح ممکن ہے؟۔''33
8۔ نتائج تحقیق :
علامہ عبد القدیر صدیقی نے اپنی تفسیرِ صدیقی میں جو منہج اختیار کیا ہے وہ دیگر مفسرین سے زیادہ مختلف نہیں البتہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو منفرد ہیں۔
مولانا ؒ کے نزدیک قرآن کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔
اس تفسیر میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺسے متعلق مستشرقین کے اعتراضات کا جواب بھی دیا گیا ہے۔
سورۃ تحریم کی ابتدائی آیات کے متعلق مولانااپنا مؤقف یوں لکھتے ہیں کہ “مغافیر وا لا قصہ میری سمجھ میں تو نہیں آتاجو تفسیروں میں مذکور ہے۔ شہد کھانے کے وقت رسولِ خدا ﷺ کو با وجود نفیس ترین ذوق کے معلوم نہ ہو اوردوسروں کو بُو آنے لگے اور اس غلط بات کو رسول اللہ ﷺ نے یقین فرما کر شہد کے نہ کھانے پر قسم کھا لی ہو۔ان باتوں کو میرا دل تسلیم نہیں کرتا۔”
مولاناؒ برتھ کنٹرول (ضبط تولید) کے عمل کو قتل نفس کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ اسقاط حمل اور ضبط تولید کو بھی کو اولاد کشی کے زمرے میں گردانتے ہیں۔
قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ نے قسمیں کھائی ہیں مولانا ؒ کے نزدیک اللہ تعالٰی نے چیزوں کی قسمیں شہادت کے طور پر کھائی ہیں۔ چنانچہ سورۃ الفجر کی پہلی آیت والفجرکا ترجمہ یوں کرتے ہیں” میں فجر کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں فجر کی قسم کھاتا ہوں''
مولانا ؒ تفسیرمیں اس امر کو خاص طور پرواضح کرتے ہیں کہ قرآن کو سمجھنا غیر قرآن پر موقوف نہیں کیونکہ وہ خود مبین ہے۔
قرآن میں موجود قصص کو تفصیل سے بیان نہیں کرتے ۔ مولانا ؒ کے نزدیک قصص کا بیان صرف اور صرف عبرت کے طور پر ہے۔
مولاناجا بجا قرآنی احکامات کو زمانہ حال پر منطبق کرکے رجوع الی اللہ اور آخرت کی تیاری پر توجہ مذکور کراتے ہیں۔ تفسیر کا لب لباب رجوع الی اللہ اور فکر آخرت ہے۔
کسی مسلک،فرقہ اور گروپ کو نشانہ تنقید نہیں بناتے اور نہ ہی اس طرح کی بے جا تاویلا ت کرتے ہیں۔
1 Siddiqi, Muhammad Mustafa ‘Atique al-rahman, Muraqa Bahrul Uloom (Haiderabad Daccen: Hasrat Academy, 1995), 5.
2 Qadri, Muhammad Jafir Hussain, Toor Tajalla (Haiderabad Daccen: Book Zone Nashir, 1987),52.
3 Siddiqi, Ahmad ‘Abd al-shakoor, Mulan Abdul qadeer Siddiqi: Aik Taáruf (Haiderabad Daccen: Hasrat Academy, 2004), 4.
4 Jafir Hussain, Toor Tajalla, 68.
5 Jafir Hussain, Toor Tajalla, 69.
6Jafir Hussain, Toor Tajalla, 80.
7 Muhammad Mustafa ‘Atique al-rahman, Muraqa Bahrul Uloom, 11.
8 Jafir Hussain, Toor Tajalla, 85.
9 Jafir Hussain, Toor Tajalla, 86.
10 Dr. Bint ahmad Umar, Sabil al-arifeen (Thatha, Shafa’at Publications, 2003), 263.
11 Muhammad Mustafa ‘Atique al-rahman, Muraqa Bahrul Uloom, 20.
12 Siddiqi, Muhammad ‘Abd al-Qadeer, Tafseer-e-Siddiqi (Karachi: Idara isha’at Tafseer Siddiqi, 1995), 1: 67.
13 Siddiqi, Muhammad ‘Abd al-Qadeer, Tafseer-e-Siddiqi (Karachi: Idara isha’at Tafseer Siddiqi, 1995), 1: 67.
14 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 67.
15 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 68.
16 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 1831.
17Tafseer-e-Siddiqi, 1: 67.
18 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 3571.
19 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 3679.
20 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 3701.
21 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 2084.
22 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 49.
23 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 3072.
24 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 3122.
25 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 440.
26. Tafseer-e-Siddiqi, 1: 37.
27 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 377.
28 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 67.
29 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 332.
30 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 1472.
31 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 1545.
32 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 1916.
33 Tafseer-e-Siddiqi, 1: 1802.
M
alik Yar Muhammad (MYM) Research Center (SMC-Private) Limited, Bahawalpur
Article Title | Authors | Vol Info | Year |
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Volume 4 Issue 2 | 2023 | ||
Article Title | Authors | Vol Info | Year |