Search from the Journals, Articles, and Headings
Advanced Search (Beta)
Home > International Journal of Policy Studies > Volume 2 Issue 1 of International Journal of Policy Studies

مکی دور نبوی ﷺ کے فنون ِ لطیفہ کے معاشرتی مظاہر کا تجزیاتی مطالعہ |
International Journal of Policy Studies
International Journal of Policy Studies

Article Info
Authors

Volume

2

Issue

1

Year

2022

ARI Id

1682060069195_3109

PDF URL

https://www.ijpstudies.com/index.php/ijps/article/download/23/10

Chapter URL

https://www.ijpstudies.com/index.php/ijps/article/view/23

 

تعارف

انسان معا شرتی زندگی کےرسم ورواج  ،سماجی اقدا ر،اخلاقی ضابطوں ا ور قوانین سے بندھا ہوا ہے۔نظریاتی تنوع،جغرافیائی تبدیلی ا ور حالات کے تغیر کی وجہ سے زما ن و مکان میں مختلف معاشرتی زندگی کوتشکیل دیتا  ہے۔ انسان جانوروں کی طرح محض معاشرتی زندگی ہی نہیں بسرکرتا بلکہ مذہب،آرٹ ،فنون لطیفہ ا ورفلسفے سے جڑا رہتا ہے ا ور اسی سے ثقافتی مظاہر بھی تخلیق کرتا ہے ۔ مکہ کثیرالقومی (قریش،عرب قبائل ا ور غیرعرب لوگوں کی آبادی) شہر ہونےکے ساتھ ساتھ مختلف مذہبو ں ،تہذیبوں ا ور ثقافتوں کا بھی مرکز رہا۔ اس وقت جہاں مکہ میں مادّی ضروریات کے وافر ذرائع تھے، وہاں روح کی تسکین کے لیےموسیقی،شعر و شاعری،مصوری ،بت تراشی، اورمذہبی اعتقادات کا انتظام  بھی تھا۔ا ن کی یہ سرگرمیاں کسی خارجی مقصد،موسمی تبدیلی یا کسی ا ورغرض کے لیے نہیں ہوتی تھیں بلکہ اس سے وہ اپنی مقصود بالذات مذہبی ضروریات کی تکمیل ا ور روحانی سرورحاصل کرتے تھے ۔

کسی بھی معاشرے کی ثقافتی روح میں سرور کا ما دہ ا ور جذبہ   ،فنون لطیفہ کو ہی مانا  جاتا ہے۔ثقافت  میں سرور کا مادہ انسانی معاشرے کی نفسیاتی احتیاج ہے۔ا ور جس معاشرے کی یہ نفسیاتی احتیاج،ضرورت میں بدل جائے توفکری ا ور عملیاتی اموراس معاشرے میں بڑی آسانی سے رواج پاتے ہیں۔سرور،تخیل ا ور جمال کا نام ہے۔جمال  سے تصویر بنتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ تصویر کی بہن موسیقی ا ورشعر وشاعری ہوا کرتی ہے۔ ان سب کے آخر میں تعمیرکےجذبے  سے فنون  کا وجود مکمل ہو جاتا ہے۔مکی معا شرہ   جو قبل ا ز نبوت جاہلیت کا لقب پاچکا تھا، بڑی آسانی سے فنون لطیفہ کا ز مانہ کہا جا سکتا ہے۔  

فنونِ لطیفہ:

جب ہم مکی معاشرے کے شعرا ء کا  کلام  پڑھتے ہیں تو ز مانہ قدیم سےہمیں ایسا  کلام ا ور اصحاب مل جاتے ہیں جو خدائے واحد پر یقین رکھتے ہیں اور  بتوں کے آگے سربسجود لوگوں کی کہانیاں ا ور واقعات بھی سننےکومل جاتے ہیں۔ بقول پروفیسر سید محمد سلیم کہ یونا نیو ں نے حسن و جمال،خیرو کمال  ا ور حق و صداقت کی تین اقدا ر کو تسلیم کیا ہے۔۔۔ مگر ان  معیاری علوم،جمالیات،اخلاقیات ا ور منطق کے علاوہ شعر و ادب،نغمہ وموسیقی،مصوری و تعمیر  بھی عقل وجدا نی کے بہت مشہورومعروف  مظاہرات ہیں۔ مذ ہب کے بعدعقل وجدا نی کا سب سے زیادہ اظہار فنونِ لطیفہ کے میدان  میں ہوا ہے۔ حقیقی انسان کی سرگرمیا ں عقل وجدا نی کی کارگزارا ریاں ہیں۔ (  سلیم، 1420ھ) پروفیسر محمد سلیم آگے جا کرعقل وجدانی کواپنی منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں ا ورلکھتے ہیں کہ فنونِ لطیفہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ عقل وجدانی، بہرانگ وبہر طورحقیقتِ کبریٰ سےتقرب،تعلق ا ور شناسائی  قائم   کرنا   چاہتی  ہے۔ سراج منیر نےٹیٹس      برک ہارٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اسلامی فنون لِطیفہ کےبارے میں کہا ہے کہ، اسلامی فنون کے دو اجزا ء ہیں: دانش ا ور مہارت۔ا س میں دانش وہ عنصر ہے جووجدا ن   یا تفکر کےذریعے کائناتی اصولوں ا ور ان   سے بھی ماورامعرفت ِ ذات کی طرف   لے جاتی ہے ا ور مہارت اس دانش کے منضبط اظہار کا و ہ طریقہ ہے جو تربیت سے حاصل ہوتا ہے۔ (سراج)

ٹیٹس برک ہارٹ کی ا س تعریف میں اسلامی کا لفظ نکال  کراگر ا سے مذہبی فنونِ لطیفہ کہہ لیں تو بھی مفہوم  ا ور بات وہی رہے گی بلکہ عرب کی متلون  مزاج مذہبیت میں اس کا اطلاق ہر زا ویے سےصحیح رہے گا۔اسے اگر ہم عرب کے مجمو عی ماحول  پر منطبق کریں تو بھی عقل وجداان  پرکبھی بھی ایسا وقت نہیں گزرا کہ جہا ں اس سرگرمی کےمذہبی مظاہرات نہ ملتے ہوں۔عرب میں فنونِ لطیفہ کا مزاج الگ طرح سے رہا۔بلکہ عرب مزاج کو جب فنون لطیفہ نے تکریم وعبادت پر مجبور کر دیا تو آگے بھی ا س کی منازل آتی ہیں۔ا ور اسی فنون ِلطیفہ کے تحت عرب مزاج پھر تکریم سےبھی نا لاں ہو جاتا ہے۔انہی  وجوہات کی بِناپرمکی معاشرے کی ز ندگی  فنون ِ لطیفہ کی وجہ سےبھر پور رہی۔بٹی ہوئی زندگی میں بھی جو ش وخروش کےاثرات نمایاں تھے۔گویامکی معاشرہ صرف شکستہ حالی کانوحہ نہیں بلکہ فنون ِ لطیفہ کے بل بوتے پرگاتےجھو متےنغمے کابھرپور معا شرہ بھی تھا۔مکی معاشرے میں اس کے بہت سارے نمونے مل جاتے ہیں ۔

قصہ گوئی اورگانا  بجانا :

قصہ گوئی مکی لوگوں کی سر شت میں تھی ا وراسی سے سامرہ عادت پڑی تھی۔پوری رات و ہ قصہ گوئی میں گزا رتے تھے۔ا ور اس سے وہ اپنی معاشرتی شان  بڑھاتے تھے۔ ان  کہانیوں میں غیرمرئی کردا ر،عشقیہ  ،لڑائی جھگڑوں ا ور جانوروں کی کہانیاں شامل ہوتی تھیں۔ ان  کہانیوں میں غیرملکی کہانیاں بھی سنائی جاتی تھیں۔کئی شاعروں نے یہ کہا نیاں شعری زبان  میں بھی کہی ہیں۔بنی عبد الدا ر کے مشہور قصہ گو نضر بن حارث کے بارے میں آتا ہے کہ،

نزلت فی نضر بن الحارث ومن وافقہ ورضی بقولہ حین ذھب الی بلاد فارسی وتعلم من اخبار ملوکہم ، فلما رجع بحدثہم من اخبار اولئک، ثم یقول : تاللہ اینا احسن قصصاانا او محمد۔ (محمد، 2004)

    نضر بن حارث نےفارس جا کر قصہ گوئی کی تعلیم پائی۔واپس آکر وہی کہانیاں سنانے لگے ا ور چیلنج کرتے  تھے کہ محمد کے قصے بہتر ہیں یا میری کہانیاں۔

نضر بن حارث  فارس،رستم ا ور اسفندیار بادشاہوں کے قصص قریش کے لوگوں کو سناتے تھے۔ (مجلہ مجمع اللغۃ العربیہ القاہرہ)  قصہ گوئی کے علاوہ گیت  ،گانے کوبھی تفننِ طبع کے لیے لازمی سمجھتے تھے۔موسیقی بنیادی طور اپنی فکری غذا ، عقیدت کے جوش وجذبے سے لیتی ہے۔مکہ کے لوگ موسیقی کے بہت دیوانےتھے۔خوشی کی تقریبات  کے علاوہ معمول  کی مجلسوں میں بھی گانے بجانے کے دورچلتے تھے۔شوقیہ طورپربھی لوگ اس فن کو اپناتے تھے ا ور پیشے کے لحاظ  سے بھی لوگوں نے اسے کاروبار بنایاتھا۔مرد بھی اس کےدلدادہ تھے ا ور عورتیں بھی۔ مردوں  نےبھی گانےگائے ا ور عورتیں بھی گاتی تھیں۔دولہن کے ساتھ اکثرایک مغنیہ بھی ہوتی جودولہا کے گھرجاتی تھی۔ 

سید ابولاعلیٰ مودودی نے سیرت سرور عالم میں لکھا ہے کہ  نضر بن حارث  خود داستان گوتھے ا ور گانے سنانے کے لیے لونڈیاں بھی خریدی تھیں۔ ان  کو خوب کھلا پلا کر تازہ رکھتے تھے۔(مودودی، 1999)

عرب کی فصیح و بلیغ  ،  دل  موہ لینی والی شاعری ا ورخوبروعرب عورت ترنم وآلاتِ موسیقی لازم  و ملزوم  تھے۔عبداللہ ا  خطل نےگیت گانے کے لیے دولڑکیاں فرتنا ا ورا رنب  رکھی تھیں۔عمرو بن ہشام کی  مغنی   سارة تھی۔ (الکافی، السیف المسلول علی من سب الرسول)  اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مکہ میں ثقافت  تھی اور  باقاعدہ  اس کا ا ہتمام ہوتا تھا۔سیدابوالاعلیٰ مودودی اس بارے میں لکھتے ہیں کہ اس زما نے میں گانے بجانے کی ثقافت تمام  تر بلکہ کلیۃً،لونڈیوں کی بدولت زندہ تھی۔آزا د عورتیں اس وقت تک آرٹسٹ نہ بنی تھیں۔ (مودودی، 2003)

نضر بن حارث سے بھی پہلے قصہ گوئی میں بنو جرہم کے و ہ اشعار مو جود ہیں  ، جن سے پتہ چل جاتاہے کہ یہ مکہ میں پرانا  طریقہ تھا ا ور بہت پہلے سے رائج تھا۔گزرے زمانے کے واقعات کوقصہ گوئی کےاندا ز میں بیان کیا جاتاتھا۔اس سے پچھلے زما نے کی تاریخ یاد رہتی ۔ ا بن اسحاق  ،ا بن ہشام،ا بن کثیر ا ور دیگر مؤرخین وسیرت نگاروں نے قبیلہ جرہم کے  بارے میں لکھا ہے کہ عمر و بن  حارث  بن مضاض جرہمی جب مکہ سے جلا وطن  ہوا تو جاتے جاتے یہ اشعار کہہ گئے۔

كَأَنْ لَمْ  یکنُنْ بَيْنَ الْحَجُىنِ إلَى الصّفَا  أَنيسٌ وَلَمْ یسمر بِمَكّتۃ سَامِر (عبدالمالک، 1411ھ)

گویا کہ حجون  سے صفا تک کوئی آشنا  تھا ہی نہیں ا ور نہ کسی قصہ گو نے مکہ کی محفلوں میں قصہ گوئی کی۔           

قصہ گوئی ا ور گانے بجانے کی اس روایت سے معلوم  ہوتا ہے کہ مکی معاشرہ انہی بنیادوں پر استوا ر رہا۔کیونکہ اس حوالے سے وہ بڑا اہتمام کرتے تھے۔ا ور گانے بجانے کے لیے مخصوص لوگ ہوا کرتے تھے۔ا ور انہیں پیسےدے کرثقافت  کے لیے تیار کیا جاتاتھا۔قصہ گوئی کواہم سمجھ کرخود بھی اس کی تربیت حا صل کرتے تھے ا ورباقاعدہ  اس کی تعلیم دی جاتی تھی۔عربوں کا راتوں کو دیر تک جاگتے رہنےکا سبب یہی قصہ گوئی ا ور گانا  بجانا  ہوتا تھا۔بلکہ رات کی محفلوں کے لیے  کے  دن کے کام روزگار سےفارغ ہو کر محفلوں کاانعقاد کرتے ا ور رات بھر قصہ گوئی،گانے ا ور شعر وشاعری کا دور چلتا تھا۔ 

شعر و شاعری لفظ شعر کو عموماً  شعور کے معنی میں استعمال  کیا جاتا ہے ۔جو کہ گہرےعلم یا ا درا ک واحساس کاخزینہ ہوتے ہیں ۔ اسی لیے"لیت شعری"سےمرا د  "لیت علمی"لیا جاتاہے۔ لسان  ا لعر ب میں ہے کہ شاعر ا سی لیے شاعر ہے کہ و ہ  ان  امور کاگہرا شعور یا علم رکھتا ہے۔ (محمد، لسان العرب) شعر و شاعری بھی عرب کا محبوب ترین مشغلہ تھا ۔بلکہ یہ کہا جائے کہ یہ  ان  کی تہذیبی زندگی کی بنیادی اینٹ تھی تو غلط نہ ہوگا۔

  تُهدي الأمور بأهلِ الرأي ما صلَحَت     فانْ تولت فبالأشَرار تنقاد

إذا تولىَّ سراةُ القوْمِ أَمْرهُمُ                    انما على ذاک أَمْر القوم فازدادوا(الناصری، 1980)

معاملات جب تک صحیح رخ پر چلتے ہیں تو سمجھ لو کہ ا ربابِ عقل وخرد کے ہاتھوں میں زمامِ کار ہے۔ا ور جب معاملات بگڑ جائیں تو سمجھ لو کہ شریروں کے ہاتھ میں باگ دوڑ آگئی۔جب معاملات، نظم ونسق ،شریف ا ور عقل مند لوگوں کے ہاتھ میں رہے تو قوم کی حالت نہ صرف سدھر جائے گی بلکہ قوم وملت ترقی کے راستے پر گامزن ہوگی ۔

 شعر وشاعری کو مافوق  الفطرت کلام تصور کیا جاتا تھا ۔قبائل شعراء  کی موجودگی کو اپنے لیے فخر سمجھتے تھے۔ کبھی حقیقت بیان کر دیتے تو کبھی تصوراتی دنیا میں پہنچا دیتے۔ فطرت کی عکاسی بڑی عمدگی سے کرتے تھے۔کعبے کے دروا زے پر معلقات کو لٹکاتے تھے۔ا وراگرکوئی اور  شاعر اس کلام سے بہتر کلام  کہتا تو پہلے والااتار کر اسے لٹکا دیتے تھے۔ امرؤ القیس ا پنے مشہور شعرمیں بہترین منظر کشی کرتا ہےا ور یہی شعر اس کے معلقہ کا پہلا شعر بھی ہے،

قفَا نبک من ذِ کرَي حَبِیبٍ وَمَنْزل          بِسقطِ اللِّوَي بَيْنَ الدّخُول فَحَوْمَلِ (العلاتہ، العذاب النمیرمن مجالس الشنقیطی فی التفسیر)

 ا ے قافلے والو!ٹھہر،دخول ا ور حومل کے ٹیلے پرواقع محبوبہ  کے گھر کو یاد کرکےذرا رو لیتے ہیں ۔

امرؤ القیس کے ایک ا ورشعر میں محبوبہ  کا نام بھی ذکرکیا ہے۔محبوبہ  سےبراہ رِاست مخاطب ہیں ا ور کہتے ہیں،

أفاطم مهلاً بعضَ هذا التدلُّلِ                 وإن کنت قد أَزمَعْت صرمي فأَجِملي(اصفہانی، الاغانی)

ا ے فاطمہ! اگر تم نے مجھےچھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے تو نا زنخروں ا ورتکبر سے جدا نہ ہو نا ،شائستگی ا ور اچھے طریقے سےجدائی اختیار کرنا  

اسی طرح عرب کی شاعری میں امیدافزا ا وربہتری کا تصور بھی پایاجاتا تھا۔طَرَفۃَ بِنْ العْبدِ اپنے معلقَّۃَ میں لکھتے ہیں کہ ،

   ستبدِي لک الْأًیامُ مَا کنت جَاهِلًا         ویاتیک بِالْأخْبَارِ من لَمْ تزوِّدْ ۔ (محمد، 1995)

تم پربہت جلد ناواقف چیزوں کو روشناس کرنے کے لیے ز مانہ آئے گا۔ا ور ایک شخص تمہارےپا س وہ خبرلے کر آئے گا جس کو لانےکے لیے آپ نے کسی کو نہیں بھیجا تھا۔

اسی طرح ایک ا ور شعر ہے جس میں نہ صرف اچھے اخلاق کی بات ہوئی ہے بلکہ شستہ مزاج کو بھی اپنایا گیا ۔

 فئِنَّ الحَق مَقطَعُهُ ثَلاثَ     یمينٌ أَونِفَازٌ أَو جِلاَءُ  (الجاحظ، 1996)

سچائی کے لیے تین صورتیں ہیں ۔قسم کھانے سے سچائی ظاہر ہو جائے گی یا پھرکسی کو ثالث مقرر کرکے اس کے فیصلے سے سچائی سامنےآئے گی ا ور یا پھرآخری صورت یہ ہوگی کہ سچائی خود واضح ہو جائے۔

عرب شاعری میں اخلاقی ا ورسماجی اقدا رکے اعلیٰ نمونے بھی ملتے ہیں۔شاعری کو انہوں نے اخلاق کے ا علیٰ معیارکے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ عنترہ بن    شدا د جو جاہلی ا دب کا نا مور شاعر تھا۔اپنے دیوان میں لکھتا ہے،

 وَلَقدْ أَبِیتُ عَلَى الطَّوَي وَأَظَلُّهُ              حَتَّى أَنال بِهِ کریِمَ  االمأْکلِ۔ (محمد، 1426ھ)

میں نے فقر وبھوک کے ساتھ رات گزاری ۔یہاں تک کہ قناعت میں بڑے بڑےشرفاء کے مرتبے کو پالیا۔

عربوں کےعمومی مزاج کا شعروں سے بھی پتا چل جاتاہے۔اعلیٰ انسانی ا وصاف  کی داخلی کیفیات ہوتی تھیں۔اشعار میں ان  کاذکرہو جانا ان کے ا وصاف کی کھلی شہادت ہے۔زہیر اس بارے میں کہتاہے،

تراهُ إذا ما عجَّ ًیجلو عن الشَّبا                فما مثلَ حِنو الخیبرانيِّ لَهْجَما۔(محمد، 2005)

آپ اس سخی دل  انسان کے چہرے کو کھلتے دیکھوگے جب تم اس سے مانگنے جاؤگے تو اس کا یہ احسا س ہوگا گویا کہ تم نے اس کی چیز اسے دے دی۔

 ضرورت مند لوگوں کی اس طرح مدد کرتے ہیں گویا کہ تمہیں مانگنے کا احسا س تک نہ ہوگا۔بلکہ آپ کا ممنون ہوگا کہ آپ نے اسے اپنی ذمہ دا ری سے عہدہ برا ہونے کا موقع دیا۔اخلاقی معیار کے بارے میں ان  کا نقطہ نظر اشعار میں ملتا ہے۔ظاہری چمک دمک پر وہ دھوکہ نہیں کھاتے تھے۔زہیر کا ایک ا ور شعر ہے،

وکائِن تری من صامِذت لًک َ مُعْجِبٍ      زیادَتهُ أو نقْصُهُ في التکلُّمِ ۔ (محمد، 2007)

 لوگوں کی خاموشی کو دیکھ کر تم متاثر ہو جاتے ہو حالانکہ ان کے معیار کا اندا زہ ان کی گفتار سے ہو جاتا ہے۔

 شعر وشاعری میں عرب لوگ اتنے سنجیدہ تھے ا ور ان کی زندگی میں اتنا اعلیٰ مقام حاصل تھا کہ اشعار کو حفظ کرتے تھے۔انہی اشعار سے نام  و نسب، باپ دا دا کے تفاخری کارنا مے،فتوحات کے واقعات زبانی یاد کرنے کے علاوہ دوسرے قبائل پر اپنی فوقیت ا ور امتیازی شان  بھی جتاتےتھے۔ شا عری ان  کی تاریخ بھی تھی ا ورثقافتی مظہر  بھی ۔ چیلنج کے طور پراپنے اپنے اشعار کو کعبے کے دروا زے پر لٹکاتے تھے۔یہی چیلنج  ان کی زندگی کا بڑا فن ہوتاتھا۔ میلے ا ور اجتما عات کے علاوہ مذ ہب کے تحت بھی شعر و شاعری کےپروگرامات کا ا ہتمام کرتے تھے۔ بڑے شاعروں کے لاتعد ا د شاگرد ہوا کرتے تھے۔یہ ا پنے اساتذہ کےشعروں کو نہ صرف یاد کرکے آگے پھیلاتے تھے بلکہ خود بھی  شاعری کےرموز و اسرا ر سے آگاہی کے بعدشاعری کرنے لگ جاتے۔ ابو دا ؤد،امرؤ القیس کا شاگرد ہوتا تھا۔زہیر،ا وس   بن حجرکا ا وراعشیٰ  ،مسیب   بن عبس کا شاگرد و  را وی ہوتا تھا۔شاعر ی عربوں کی رگ وپے  میں اس حد تک سرایت کر گئی  کہ ان کے ا ونٹ  بھی اس کے دلدا دہ تھے۔ا ورحدی کی لے ا ونٹوں کو مسحور کرکے انھیں تیزرفتاری پر مجبور کر دیتی تھی۔ ایسے ہی ایک موقع پر  رسول اللہ ﷺ نے حدی خوا ں کو  کہا،آہستہ آہستہ،کہیں یہ آبگینے ٹوٹ نہ جائیں۔آبگینوں سے آپ کی مرا د محمل میں سوا ر صنفِ نا زک تھیں۔ (عصمت، 2015) زہیر  بن  ابی سلمیٰ ،عنترہ   بن شدا د،طرفہ  بن العبد،لبید   بن ر بیعہ،نا بغ الجعدی، امیہ   بن ابی صلت، امرؤالقیس،عمرو  بن کلثوم،العلا  بن  الحضرمی زمانہ جاہلیت کے بڑے بڑے شعرا میں شمار ہوتے تھے۔الغرض شعرو شاعری ان کی خمیر میں ایسی گندھی  ہوئی تھی کہ نبی  کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:

لاتدع العرب الشعر حتى تدع الابل الحنین۔ (الشحود، بابا الفاتیکان فی المیزان)

عرب لوگ فنِ شاعری کے ساتھ ایسے منسلک ہیں جس طرح ا ونٹنیاں اپنے بچوں سے الگ نہیں ہو سکتیں ۔ مکی دور نبوت سے پہلے فنون  لطیفہ میں جا ہلی عنصر کثرت سےپایا جاتا تھا۔عرب کے بڑے شعرا میں سے امرؤالقیس کا نام بھی ہے۔جاہلیت کا شاعر تھا ا ور جاہلیت کا مظاہرہ کرکے بھی دکھایا ۔ نبی  کریم ﷺ نے ا ن  پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:

مَنسِيٌّ فِي الآخِرَةِ، شَریِفٌ فِي الدُّنیا،خَامِلٌ فِي الآخِرةِ، یجِيءُ یوْمَ الْلقیامَتۃ بِبیدِهِ لِواءُ الشُّعَراءِ یقودُهُمْ إِلَى الىَّازِ۔(الطبرانی، المعجم الکبیر للطبرانی)

آخرت کا گمنام ا وردنیا  میں قابل ذکرشخص ہے۔ آخرت کے حوالے سے  خسارے  میں  ہوگا ا ورقیامت کےدن  برے شعرا  کی  نمائندگی کرتے ہوئے جہنم کی طرف جائے گا ۔

نبی  کریم ﷺ نے ایک بڑے شاعر پر کلام کرتے ہوئے ان  کی خوبی ا ور خامی بتائی ہے۔ا س سے بڑھ کرشاعری کے آداب متعین کر دیے ۔شعر و شاعری کے اثرات مذہب نے بھی تسلیم کیے ہیں ا ور معاشرے نے بھی ا س سے اثر لیا ہے۔انہی اثرات کی وجہ سے فنون لطیفہ میں اس کواہم مقام ملا ۔

 فنِ تعمیر:

فنون لطیفہ میں فن ِشعر و شاعری کے علاوہ فن ِتعمیر سے بھی انسانی وجدان کو سکون ملا ۔ فطرت کی صنا عی میں بھی انسان کی پسند و نا پسند کا رویہ تعمیر کے فن میں چھپارہا۔انسان نے  اسے جنون کی حد تک بڑھایا۔ پہاڑوں کو چیرکرمکانا ت بنائے ،غاروں کو قابلِ رہائش ا ور زمین کی سطح پر مزین و منقش تعمیرات بنا کر اپنے  سکون  کا سامان  پورا کر دیا۔پچھلی قوموں کے واقعات میں ایسی نا در تعمیرات کےنمونے ملتے ہیں کہ انسان کی حِسِِ لطافت  کا بخوبی اندا زہ ہو جاتا ہے ۔بلکہ تعمیرات ہی کی بدولت آج مغرب کھنڈرات کی در یافت  سے تاریخ بنا رہا ہے ا ور اسے مسلمہ تاریخ کے برا بر درجہ مانتےہیں۔

عربوں نے فنِ تعمیر مختلف ا وقات میں اپنے قریبی ممالک  ا ور خطوں ں سےا خذ کیا ۔عرب ا ور پھر خاص کرمکہ والے چونکہ سادہ مزاج بدوی تھے۔سادگی کو پسندکرتے تھے ۔رہائش  کے لیے مکانا ت ضرور تھے مگردوسرے  ممالک  وامصارکی نسبت اعلیٰ پائے کے نہ تھے۔اپنی فطری سادگی ا ورمروجہ عیش پسندی سے کر اہت کی وجہ سے تزئین و آرایش کے دلدا دہ نہ تھے۔  ان کی تعمیرات میں سادگی کے ساتھ تحفظ ضرورتھا جہاں پناہ گزین ا ور قیدی بھی  سکون محسوس کرتے تھے۔ ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر  صدیقی نےعام آبادیو ں کے بارے میں مختلف روایات کے تحت مکانا ت کا نقشہ کھینچا ہے۔ پتھر کی دیوا ریں،  پٹی کی تختیوں  سے بنی چھت  پرمشتمل کمرہ ہوتا تھا۔ ایک یا دو پٹ  کا ایک دروا زہ یا ضرورت کے باعث  دو بھی ہو کتے تھے۔ (احمد، واللہ یغضب ویرضو)کوہ نا می روشندان بھی ہوتا تھا۔تعمیرات میں کوہ کااستعمال بہت پہلے سے ہو رہا تھا۔ حضرت عیسیٰؑ کو جب قیدکیا گیا تھا تواس کمرے میں روشن دان بھی تھا۔ (ھراس، 1992) مکان کے اندرمخدع بھی ہوتےتھے جو ایک پوشیدہ جگہ ہوتی  تھی۔جسے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔یہاں بتوں کو پوجنےکے لیے رکھا جاتا تھا ا ور چھپنے کے کام بھی آتا تھا۔(شبہات الرافضۃ حول الصحابہ والخلفائے راشدین) 

سب سے پرانی تعمیر خانہ کعبہ کی تھی۔ کعبے کی تعمیر خالصتاً عبادت کے لیے ہوئی تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حوا دثِ ز مانہ یا لوگوں کی محبت و عقیدت  کی وجہ سےاس کی تعمیر میں تبدیلی ہوتی رہی۔جب قریش نے اس کی نئی تعمیر کا ا را دہ کیا توہر قبیلے کو اس کام میں شامل کرنے کے لیے حصےمختص کر دیے۔ ا ور جب حجراسود کو اپنی جگہ پر رکھنے کی باری آئی تو لڑائی کا اندیشہ پیدا  ہو گیا کیونکہ ہر قبیلہ  چاہتا  تھا کہ یہ سعادت ا سے نصیب  ہو ۔ محمدﷺ نے بہترین تدبیر سے اس نا زک مسئلے کو حل کردیا۔ کعبے کی دیوا ریں ا وپرنیچےبڑےبڑےپتھروں سےبنی ہوئی تھیں۔ بغیر چھت  کے عمارت تھی۔ کعبے کی تزئین و آرایش کا خیال  رکھا جاتاتھا ، غلاف ِکعبہ کی روایت بہت پہلے سے چلی آرہی تھی ۔

مکی عہدنبوی ﷺ کی تعمیرات کا جب دیگرمعاشرے ا وراقوام سےموا زنہ کیا جائےتو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ مکی دور کی تعمیرات میں انسانیت کی فطری سوچ کو سامنے رکھا گیا ۔ یعنی انسان کی فطرت ہی یہ ہے کہ عبادت کا مستحق ایک ہی ذات ہو سکتی ہے،تو کعبے کی تعمیر اسی انسا نی فطری سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ا ور جب بنیادیں ہی شرک و ذلالت پر رکھی گئی ہوں توباقی ماندہ اخلاقی دیوا ر،تہذیب و تمدن والی چھت  ا ورثقافتی دروا زے نہ کسی موسم کے بچاؤ کے لیے کارآمد ہو سکتی ہے ا ور نہ زندگی کو بسر کرنے کےلیے کافی ہوتی ہے ۔  (عمر، 2010)

بقول سراج منیر سب سے پہلے اس فن کی ابتدا عیسوی معا شرے میں ہوئی ۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی تشبیہ کےعقیدے سے یہ فن وجود میں آگیا ا وراس فن میں تصویری شکل تکریم کے قابل ہوئی۔عیسوی معاشرے میں ِمسیحِ مصلوب ا ورحضرت مریم کی تصو یرعبادت گاہوں میں تزئین کا کام بھی دیتی تھی ا ور مذہبی سوچ و فکر کی بھی آئینہ  دا ر ہوتی تھی۔ حدیث  فِتح مکہ میں کعبے کے اندر حضرت ابراہیم ؑ کی تشبیہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ (محمد، ذلک فی تفسیرہ المعروف بہ التحریر والتنویر)  اس کے برعکس مکی دورنبوی  میں قدرتی اشیا سےتزئین کے کام کا رویہ ابھرا ا ورقدرتی اشیا ء پرغور وفکر کو عبادت کا درجہ دیا گیا ۔ بقول ا رنسٹ کوہنل :

ان  میں نہ مورتیں ہیں نہ تصویریں، نہ دیویو ں کے دلربا چہرےا ور نہ دیوتاؤں کے ٹھاٹ باٹ،مگرتعمیر میں دلکشی ا وردلفریبی ہرقدم پرنمایاں ہے ۔(ارنسٹ، 1971) علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ:

عشق بتاں سے ہاتھ اٹھا،اپنی خودی میں ڈوب جا                        نقش ونگارِدیرمیں،خون جگرنہ کر تلف

سراج منیر نےانسانی مذہبی تصور کی بنیادپرایک لطیف بحث کرتے ہوئے فن ِتعمیر کا مزاج متعین کر دیا ہے۔کہتےہیں:      

’’ تاریخ تہذیب پر ایک نظرڈالتے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا کی بڑی تہذیبوں نے عموماً اپنے علوم ِمذہبی کی تدوین سے پیشتر ہی اپنافنی مزاج متعین کر لیا ا ور ا س کے مطابق اپنے نمونہ فن تخلیق کرنے شروع کردیے۔ خود اسلام میں فقہ، کلام ا ور تفسیر کی تدوین سے پہلےتعمیرِِمساجد کی فنی نہج معین ہو چکی تھی۔۔۔ مذاہب کا مقصو دمحض چندمجردتصورات کی تبلیغ نہیں ہوتا بلکہ ا ن  کے پیش ِنظرپوری انسانی ذات کو تبدیل کرنا  ہوتا ہے۔اسی لیےفنون کے ذریعے حسیا تی سطح پر ایک ایسا ماحول تیار کیا جاتا ہے جو انسان کواپنی داخلی کائنات کی تنظیم نَو میں مدد دے‘‘ ۔(سراج، ملت اسلامیہ، تہذیب و تقدیر)

اسی عبارت کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ فنِ تعمیر انسانی سوچ کی وہ سماجی لہر ہے جومذہبیت کے بعد علوم  کو نہیں بلکہ ایک ایسا  حسی ا دا رہ  چاہتا ہے جس کے اندراس کی مذہبی سوچ نہ صرف پروان  چڑھے بلکہ محفوظ ومامور رہ کر امر ہو جائے۔

فنِ تصویر:

انسانی  ذوق  ا ورفنی مزاج میں تصویر سازی کی تاریخ بہت  پرانی ہے۔قرآن  مجید میں ا س کے اشارات ملتے  ہیں۔حضرت  سلیمان ؑ کے بارے میں آتا ہے کہ:

یعملونَ لَهُ مَا یشَاءُ من مَحَارِب وَتماثیلَ وَجِفَانٍ کالْجَوَابِ وَكُدُورٍ راسیات۔(القرآن، 13:34)

وہ(سلیمان جوکچھ چاہتا)  یہ (جن) اس کے لیے وہی بنا دیتے تھے۔ا ونچی عمارتیں ، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے ٹب ا ور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں ۔

اس آیت میں تماثیل کالفظ استعمال ہوا ہے۔ لغت میں اس کے معنی یہ بتائے گئے ہیں ۔          

وقال الأزهري: التمثال اسم للشيء المسنوع مشبهًا بخلق من خلق الله۔ (راضی، 2000)

ہر وہ مصنوعی چیز جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اشیا کو دیکھ کر بنائی جائے،اسے تماثیل کہتے ہیں۔

گویا تصویرکشی پرانی تخلیق ہےجو پہلے سے بنی چیزوں کو  انسانی ذوق کی تسکین کے لیےبنایا جاتا تھا۔

 وَقالُوا لَا تذرُنَّ آلِهَتکمْ وَلَا تذرُنَّ وَدًّا وَلَا سواعًا وَلَا یغُوثَ وَیعُوقَ وَنسرًا۔ (القرآن،  71:23)

انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو، ا ور نہ چھوڑو  وَدّ ا ور سُوا ع کو، ا ور نہ یغوُث ا ور یعوق اور نسر کو۔ ود،سوا ع،یغوث،یعوق،نسر  اور اس کے علاوہ دیگر اصنام  تراشی ہوئی تصویریں تھیں۔فنِ تصویری میں وہ اتنے آگے تھے کہ اس کی بہترین شاہکاری میں انہوں نے اپنی عقیدت  کی پیاس بھی بجھا ئی۔سیرت و تاریخ کی کتابوں میں یہ واقعہ ذکر ہےکہ جب نبی  کریمﷺ کی وفات قریب تھی توحبشہ کے عبادت خانوں میں لگی تصویروں کاذکر آ گیا تھا ۔

في مرض موته ذکرت له أم سلمتہ وأم حبیبتہ کنیستہ رأتاها في أرض الحبشۃ یقال لها: (ماریۃ)، وفيها صور، فقال علیه الصلاة والسلام: (أولئک إذا فیہمالرجل الصالح بنوا على قبره مسجداً وصوروا فیه تلک جلً التصاویر۔(الجبرین، شرح العقیدۃ التحاویہ)

نبی  کریمﷺ کی مرض الموت کے موقع پرحضرت ام سلمہ ا ورحضرت  ام حبیبہ نے نبی  کریمﷺ سے ذکر کیا کہ حبشہ میں ہم نے ایک ایسا کنیسہ دیکھا جہاں تصویریں تھیں۔نبی  کریم ﷺ نے کہا کہ  ان لوگو ں کا یہ حال تھا کہ جب ا ن  میں کوئی نیک مرد مرجاتا تو اس کی قبر پر ایک عبادت گاہ بناتے ا وراس میں ا ن کی شکل کی تصویریں لگائی جاتیں ۔

گویا تصویر کشی کی تاریخ کافی پرانی ہے۔مکی دور میں بھی تصویری فن نمایاں رہا۔

عن عَائِشَۃ، قالتْ: قدمَ رسول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلیهِ وَسلَّمَ من سفر، وَقدْ ستَّرْت عَلَى بَابِي دُرنوًکا فِیهِ الْخیلُ ذَوَات الْأجنحتہِ، فَأَمرنِي فَنَزَعْتهُ ۔ (القشیری، 2107)

حضرت عائشہ فر ماتی ہیں کہ نبی  کریم ﷺ سفر سے واپس آئے تو میں نے دروا زے پر ا یک پردہ لٹکا یا تھا جس پر پروں والےگھوڑوں کی تصویریں تھیں، نبی  کریم ﷺنے اسے دیکھ کر اتارنے کا حکم دیا۔

 طائف کےمضافات میں ماقبل تاریخ  کے باشندوں نے چٹانوں پرجانوروں کی تصویریں کھودی تھیں۔  ان کےفوٹوا ور ان  پرایک مقالہ بعنوان  ذیل شائع ہوا ہے ۔

Two Groups of Rock: Bruce Howe Journal of Near Eastern, Engravings from Hijaz

Studies, (U.S.A). (اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 1997)

درج بالاآیات ا ور واقعات سے یہ اندا زہ لگانا  مشکل نہیں کہ تصویروں کی ابتدا ا ورترویج بھی عقیدت ا وراحترام  کی وجہ سے ہوئی ۔

مشہور شاعر زہیر کے اشعار میں بھی تصویرکشی کے اعلیٰ نمونے پائے جاتے تھے ۔ان کے اشعار میں قدرتی مناظر کا نقشہ ایسی خوبی سے کھینچا گیا ہے کہ حیرت کی انتہا ہوتی ہے۔ جانوروں ا ور انسانی کردا ر کی ایسی دلکشی کہ گویا سچ مچ کاواقعہ ہو۔پہاڑ،دریا،صحرا،پتھرپہاڑ،ر یت کےٹیلے،بادوبارا ں،سبزہ وخشکی،کھنڈرات،راستے،قافلے، قوم ا ور خاندان،درخت ا ور بیاباں کا اس شان سے ذکر ملتا ہے کہ گویا یہ بھی میری آنکھوں کے سامنے کے مناظر ہیں۔فنِ مصوری کے اتنے ماہر تھے کہ جنگ کے آلات پر بھی نقش ونگار بناتے تھے ۔          

وَلَدْنٌ من الخَطّيّ فیهِ أسنِتہٌ،                 ذَخائِر مِمّا سن أبزَي وَشرْعَبُ۔ (میمون، دیوان الاعشی)

لچکدا ر خطی جس میں پھول لگا ہوا تھا،میدان  جنگ میں جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو جائے۔تو اے محبوب! تجھے پھولدار خطی کے علاوہ بھی کوئی نیزہ پسند آجائے گا ؟

نیزے ا ور تلوا رکا ساتھ چو نکہ ہمہ وقت ہوتا تھا،اس لیےنیزوں ا ور  تلوا روں  کی خوبصورتی بڑی دلکش  ہوتی تھی۔یہی فن  ان کو فنِ مصوری سے ملا تھا۔

الغرض عربوں نے اپنے لطیف جذبات کوسرورمیں رکھنےکےلیے ثقافت  کا بھر پور استعمال کیا۔ان کے فلسفیانہ افکار،شاعری ا ور نغمات،اقدا ر واحساسات نے ان کی ثقافت  کا تعین کر دیا تھا۔ عرب میں فنون ِ لطیفہ کی لازوال  روایت موجود تھی۔

حاصلِ بحث

ثقافت  چونکہ نسل درنسل چلنے والےایک تسلسل کا نام ہے۔اس تسلسل میں قدیم نظریات سے لے کر جدید فلسفےتک کے دائرے موجود ہوتے ہیں۔ اسی دائرے کے اندرمنزل  کی تلاش میں انسانی زندگی بسر ہو جاتی ہے ۔منزل کی اسی تلاش میں سرورولطافت  کےچند                لمحےانسان کوجو میسرآئے ہیں،اس سے مستفید ہونا  انسان  کا حق ہے۔اس حق سے کماحقہ مستفید کرنے کے لیے انبیا ئےکرا م ؑ  کے کردا ر نمایاں ہیں۔ انبیاء ؑ  نہ صرف  انسان  کی انفرا دی زندگی میں بلکہ گروہی زندگی میں بھی راہنمائی فراہم کرتے رہےہیں ۔ وہ انسان کی ذات کے ساتھ سا تھ سماج پر بھی گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔انہوں نےا دب،علوم،احساسات وجذبات کی تفریحی مقام کوواضح ومتعین کرکےانسانی زندگی کو تحریک میں رکھا ۔ انسان کے  دل  ودماغ پر ا ور اسی طرح انسانی معاشرت پر کئی چیزوں پر اثراندا ز ہوتے ہیں۔انسانی تاریخ پر اگر غور کیا جائے ،تو سب سے زیادہ جن چیزوں  نے انسان  کو متاثر کیا ہے۔اس  میں فنونِ لطیفہ بہت اہمیت کی حامل ہے ا ور یہی انسانی سوچ ا ور رویے معاشرے پر اثر ڈالتے ہیں۔ فنونِ لطیفہ میں سب سے اہم شعر وشاعری ا ور موسیقی ہے،اسی طرح فنِ تعمیر وخطاطی بھی بہت اہم ہے۔فنِ مصوری ا وراس کی جدید شکلیں بھی انتہائی مؤثر ہیں۔ اس مضمون میں چونکہ مکی دورِنبوی کے فنونِ لطیفہ کے معاشرتی مظاہر کا تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے۔اس لحاظ سے ہم نے اس دور کے شعر وشاعری،فنِ موسیقی،فنِ تعمیر ا ور فنِ مصوری پر بحث کی ہے۔جس سے اس قوم کے رویوں ،مزاج ا ور نفسیات کا مطالعہ کیا ہے۔یہی رویے بعد میں  ان کی معا شرتی اقدا ر بنے۔ان  اقدا ر کے اندر اسلام  طلوع ہو ا ا ور اسلام  نے ان اقدا ر کو متاثر کیا۔جس سے اسلامی تہذیب وجود میں آئی۔اس دور کے فنونِ لطیفہ پر کام انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔

REFRENCES

Saleem, Prof Syed Muhammad. (1420H) Seerah Tayyaba aur Funoon e Latifa. Al Seerah, Shumara 6, Ramzan. P196

Siraj Muneer. Millat e Islamia Tehzeeb o Taqdeer Maktaba Riwayat, Lahore. Postbox 5084, P154.

Muhammad bin Abdur Rehman. (2004) Tafseer AlAyji Jame Albayan Fi Tafseer, Al Quran. Beirut. Darul Nashar, Darul Kutb Alalmiya, Ed1.

Mujallah Majma Allugat ul Arabia BilQahira. Babul Ilaqat bayn ul Farsia o AlArabia. Issue 3, p253.

Moududi, Abul Aala. (1999) Seerat Sarwar e Aalam, Lahore. Jild 2, Ed7. Idara Tarjuman ul Quran.

AlKafi, Taqiuddin Ali bin Abd. AlSaif AlMaslool Ala min sab ur Rasool (SAW), Oman. Jild1, Darul fatah, p138.

Moududi, Abul Aala. (2003) Tafheem ul Ahadees, Lahore. Jild8, Maktaba e Maarif Islami Mansoora, p359.

Abdul Malik bin Hasham. (1411H) Researcher Taha Abdur Rauf Saad. Al Seerat alNabwia alIbn Hasham, Darul Jubail, Beirut. Ed1, p244

Muhammad bin Mukaram bin Ali. Lisan ul Arab, Beirut. Jild4, Dar Sadir, p410.

AlNasiri, Ahmed, Matloob Ahmed. (1980) Asaleeb Blagia, Alfasaha, Albalaga, Almaani. AlKuwait. Jild1, Ed1, Wakalatal Matboaat, p247

Alaltah Muhammad AlAmin bin Muhmaad. Tafseer Surah Inam. Jild1, p273

AlAsfahani. Abi AlFirj AlAghani. Beirut. DarulFikr Jild5, Ed3, p310

Muhammad alAmin bin Muhammad. (1426H) Tafseer Surah Inam, Darul Aalim ul Fawaid. Makkah. Jild2, Ed3, p487

Muhammad bin Fazlullah. (2005) Nafhat u Rehana Varshah Talaul Hana. Beirut/Lebanon. Dar ul Kitab ul Almiat. Jild 2, Ed1, p14

Muhammad bin Muhammad Hasan. (2007) Sharah alShwahid alSharia fi Amatul Kutb AlNahvia. Beirut/Lebanon. Mausat Risala, Ed1, p103

Ismat Ara. (July-Dec, 2015) Qabal az Islam Jazeera numa Arab mai Mustamil Ablagi Zarai. Karachi. Maarif Mujallah Tehqeeq, p105

Al Shahud, Ali bin Naif. Bab AlFatikan filmizan, bab Taleef ul Kuffar o Zuaaf ul Imano targeebhum. Jild2, p121

AlTibrani, Suleman bin Ahmed Abul Qasim. AlMajam al Kabir lilTibrani. Jild12, p479

Ali bin Ali bin Muhammad. Ahmed Shakir researcher. Sharah AlAqeedat Tahavia. Wallah Yagzib waYarzi. Wizarat Shaoun ul Islamia. Jild1, p482

Haras, Khalil Muhammad. (1992) Sharah AlAqeedat al Wastia liShiekul Islam Ibn e Taimia. AlRaeesatul Ilma. Jild1, Ed1, p138

Shubhat Rafiza Haul us Sahaba wal Khulfa Rashedeen. Jild1, p197

Umer, Sohail Muhammad. (2010) Maqalat e Siraj Munir. Academy Bazyaft. p134

Muhammad Tahir. Zalika fi tafseer al maroof bih tehreer wal Tanveer. Jild1, p231

Earnest, Kohnil. (1971) Islami Art o Fun e Tameer. Feroz Sons Ltd. p12, 13

Siraj Munir. Millat e Islamia Tehzeeb o Taqdeer. p155

AlQuran 13:34

AlQuran 23:71

Razi, Fakhruddin. (2000) Tafseer Mafateh ul Geb. Beirut. Darul Kitabul Ilmia. Jild22, p156

AlJabren, Abdullah bin Abdur Rehman. Sharah AlAqeedat ut Tahavia. Jild 1, p28

AlQashiri, Muslim bin AlHajjaj. Al Saheh ul Muslim. Beirut. Dar e Ahya uTuras ul Arabi. Hadees2107

Urdu Daira Maarif e Islamia. (1997) Lahore. Danishgah. Jild6, p1024

Maimon bin Qais bin Jandal. Diwan ul Aashi. Jild12, p2

Loading...
Issue Details
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Similar Articles
Loading...
Similar Article Headings
Loading...
Similar Books
Loading...
Similar Chapters
Loading...
Similar Thesis
Loading...

Similar News

Loading...
About Us

Asian Research Index (ARI) is an online indexing service for providing free access, peer reviewed, high quality literature.

Whatsapp group

asianindexing@gmail.com

Follow us

Copyright @2023 | Asian Research Index