Search from the Journals, Articles, and Headings
Advanced Search (Beta)
Home > Al-Az̤vā > Volume 37 Issue 58 of Al-Az̤vā

سند (مالک عن نافع عن ابن عمر)، محدثین اور مستشرقین کا نقطہ نظر |
Al-Az̤vā
Al-Az̤vā

حضرت محمد ﷺ کو بعض خصوصی امتیازات و اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ان امتیازات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کی احادیث کو محفوظ اور نقل و روایت کرتے ہوئے اس کی استنادی حیثیت برقرار رکھنے کے لئے اسنادکا سلسلہ شروع کیا گیا۔جب ماہرین حدیث نے محسوس کیا کہ کچھ ناقابل اعتبار اور ضعیف راوۃوضع حدیث میں ملوث ہو رہے ہیںبتو یہ کام مزید اہتمام سے کیا جانے لگا۔یہاں تک کہ بتدریج سند کو اتنی اہمیت حاصل ہو گئی کہ ہر محدث کو سب سے زیادہ سند کی فکر رہتی۔ محدثین کے ہاں جس متن کی جتنی اسناد ہوتیں وہ اتنی احادیث شمار کی جاتیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی متن بغیر اسناد یا کمزور اسناد سے مروی ہوتا تو وہ اسے کوئی اہمیت نہ دیتے۔

امام شعبہ بن الحجاج کا قول ہے:

''کل حدیث لیس فیہ حدثنا أو أخبرنا فھوخل وبقل ''1

''جس حدیث میں حدثنا یا اخبرنا (یعنی سند) نہ ہو تو اس کی حیثیت ساگ سبزی سے زیادہ نہیں ہے۔''

امام محمد بن شھاب الزھری کا قول ہے:

''لا یصلح ان یرقی السطح الا بدرجۃ''2

''سیڑھی کے بغیر چھت پر چڑھنا ٹھیک نہیں ہے۔''

دوسری صدی ہجری میں جب حدیث کی تعلیم اور تعلم عزت وشرف کا معیار ٹھہری تو کچھ لوگوں نے اس کام میں اپنی زندگیان وقف کر دیں۔یہ لوگ علم کا مینار ٹھہرے۔ اسماءالرجال پر کلام کرنے والوں نے انہیں ثقاہت و اعتبار کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہونے کا سرٹیفیکیٹ عطا کیا۔

امام یحییٰ بن شرف النووی لکھتے ہیں:

''جس کی عدالت اہل علم میں مشہور ہو اور اس وصف کے ساتھ اس کی تعریف کا چرچا ہو تو اس کی عدالت کے اثبات میں اتنا ہی کافی ہے۔ جیسا کہ امام مالک ، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، اوزاعی، شافعی، احمد اور ان جیسے دوسرے لوگ ہیں3۔''

امام احمد بن حنبل سے جب اسحاق بن راہویہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا:

''مثل اسحاق یسئل عنہ، اسحاق عندنا امام من ائمۃ المسلمین ''4

''اسحاق جیسے شخص کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے، اسحاق تو ہمارے نزدیک مسلمانوں کے ائمہ میں سے ہیں۔''

یحییٰ بن معین سے ابو عبیدالقاسم بن سلام کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا:

''مثلی یسئل عن أبی عبید؟ أبو عبید یسأل عن الناس''5

''مجھ جیسے سے ابو عبید کے متعلق پوچھا جاتا ہے؟ (حقیقت تو یہ ہے) ابو عبید سے لوگوں کے متعلق پوچھا جاتا ہے۔''

جن اسناد میں ایسے ثقہ رواۃ موجود ہوں وہ دوسری اسناد سے اعلیٰ درجہ کی شمار کی جاتی ہیں۔ایسی اسناد میں ایک "مالک عن نافع عن ابن عمر"بھی ہے۔اس کے راویوں کی ثقاہت کی وجہ سے امام بخاری اور دیگر کئی محدثین نے اسے "سلسلۃ الذھب" شمار کیا ہے۔6امام مالک کہتے ہیں جب مجھ تک کوئی روایت مالک عن نافع کے واسطے سے پہنچ جائے تو پھر مجھے کسی دوسری سند کی پرواہ نہیں ہوتی۔7

اگر ضعیف راوی کی روایت ایسے کسی ثقہ راوی کے خلاف ہو تو اس کی روایت منکر کہلاتی ہے اور ناقابل قبول شمار ہوتی ہے۔8اگر کوئی مقبول راوی مرتبہ میں اپنے سے فائق راوی کے خلاف روایت کرے تو ایسی روایت کو شاذ کہا جاتا ہے۔9

مستشرقین کا نقطہ نظر:

بعض مستشرقین نے محدثین پر یہ کہ کر نقد کیا کہ انہوں نے سارا زور محض سند کی تحقیق و تفتیش پر صرف کیا ہے۔ اس لئے وہ نقد متن کے پہلو کو کما حقہ اہمیت دینے سے قاصر رہے ہیں۔دوسری طرف کچھ لوگوں نے راویان حدیث پر طعن کیا۔خصوصا ایسے رواۃ جن کو مسلم ماہرین اسماء الرجال نے ثقہ و ثبت قرار دیا تھا۔بلکہ ان کو وضع حدیث کی علامت اور وضاعین کے سربراہ کے طور پر پیش کیا۔جوزف شاخت اور جائن بال نے اس کے لئے Common Linkاور Partial Common Link کی اصطلاحات وضع کیں۔اس کے لئے انہوں نے خصوصاطبقہ صحابہ میں سے حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ اورتابعین میں امام زہری کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا۔کتب حدیث میں سے خاص طور پر الجامع الصحیح للبخاری اوراسناد حدیث میں سلسلۃ الذھب کے رواۃ(مالک عن نافع عن ابن عمر)کو مشکوک اور ناقابل اعتبار ثابت کرنے کی کوشش کی۔

پروفیسرجوزف شاخت کے خیال میں کسی بھی روایت میں خاندانی اسناد کی موجودگی ہی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ روایت موضوع ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب''The Origins of Muhammadan Jurisprudence'' کے پانچویں باب میں اس پر بحث کی ہے انھوں نے مثال کے لیے مشہور سند''مالک عن نافع عن ابن عمر''کا انتخاب کیا ہے اور یہ انتخاب اتفاقی نہیں ہے بلکہ اس کی کچھ وجوہات ہیں۔ بطور خاص اس لیے کہ اسے محدثین کے ہاں اگر سب سے بہتر نہیں تو چند بہترین اسناد میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے۔ گویا اس کی حیثیت مشکوک ٹھہرا کر وہ یہ تاثر بھی دینا چاہتے ہیں کہ جب سلسلۃ الذھب سمجھی جانے والی خاندانی سند کی یہ حالت ہے تو باقی اسناد پر تو بالکل بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

پروفیسر جوزف شاخت "مالک عن نافع عن ابن عمر" پر اعتراض کرتے ہوئےایک جگہ لکھتے ہیں:

"But as Nafi' died in A.H.117 or thereabouts, and malik in A.H.179, their association can have taken place, even at the most generous estimate, only when malik was little more than a boy."10

''لیکن جیسا کہ نافع کی وفات کم و بیش ۱۱۷ ہجری اور مالک کی ۱۷۹ ہجری ہے (حاشیے میں لکھتے ہیں کہ امام مالک کی تاریخ پیدائش کے متعلق کوئی مستند معلومات نہیں ہیں) اگر انتہائی فیاضی سے بھی اندازہ لگائیں تو ان کی رفاقت اس وقت ہوئی ہوگی جب مالک بلوغت کے قریب تھے۔''

امام مالک بن انس کی تاریخ پیدائش سے متعلق شاخت کا دعویٰ محل نظر ہے۔ کیونکہ:

1- محدثین کا تقریباً اتفاق ہے کہ امام مالک بن انس ۹۳ہجری میں پیدا ہوئے۔ کئی معتبر ماخذ میں امام مالک بن انس کا سال پیدائش وہ بیان کیا گیا ہے جو مشہورصحابی رسول انس بن مالک کا سال وفات (یعنی ۹۳ ہجری) ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ نافع مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت امام مالک کی عمر ۲۴برس تھی۔11

2- امام مالک بن انس کے حصول علم کے بارے میں روایات ملتی ہیں کہ انھوں نے تقریباً ۱۱۰ھ میں ،جب حسن بصری کی وفات ہوئی حصولِ علم حدیث کا آغاز کیا ۔اس کا مطلب ہے کہ وہ اس وقت نوجوان تھے۔12

3- شعبہ کا بیان ہے کہ نافع مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے ایک سال بعد امام مالک بن انس کا حلقہ درس حدیث قائم ہوگیا تھا۔ جہاں دور دراز سے تشنگان حصول علم حدیث کے لیے آتے تھے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت امام مالک بن انس بچے نہیں تھے۔ 13

4- معلوم ماخذ کی اکثریت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام مالک کی وفات ۱۷۹ہجری میں ہوئی۔ جب ان کی عمر ۸۶ برس تھی14۔اس سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ ان کی پیدائش ۹۳ہجری ہے۔

الغرض ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام مالک ۲۰ برس کی عمر کے قریب اپنے شیخ نافع سے ملے ہوں گے۔کئیاہم کتب میں اس کےاور بھی کئی دلائل موجود ہیں۔ 15

مستشرق James Robson نے بھی جوزفشاخت کے مندرجہ بالا اعتراض کو تسلیم نہیں کیا ۔ وہ لکھتے ہیں:

"I prefer to believe that such passages indicate that Malik really did meet and hear from Nafi."16

'' میں یہ ماننے کو ترجیح دیتا ہوں کہ ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالک واقعی نافع سے ملے اور سماع کیا ہوگا۔''

پروفیسر جوزف شاخت کا دوسرا بڑااعتراض اس سند (مالک عن نافع عن ابن عمر)پر یہ ہے کہ چونکہ نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ لہٰذا یہ خاندانی اسناد میں سے ہے اورخاندانی اسناد ناقابل اعتبار ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

"As Nafi' was a freedman of Ibn 'Umar, the isnadNafi' Ibn Umar is a 'family isnad', a fact which, as we have seen, is generally an indication of the spurious character of the traditions in question. We saw further that Nafi' often alternates with Salim, 'Abdallah b. Dinar, and Zuhri, in other words, that these transmitters of traditions from Ibn 'Umar appear at random. This makes us doubt whether the historical Nafi' is responsible for everything that was ascribed to him in the following generation, and we shall find this doubt confirmed later in this chapter."17

''جیسا کہ نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، اسناد، نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ ایک خاندانی اسناد ہے، جو کہ ایک حقیقت ہے، جیسا کہ ہم مشاہدہ کرچکے ہیں، (یہ) زیر بحث حدیث کے وضعی ہونے کی علامت ہے۔ ہم مزید دیکھتے ہیں کہ نافع اکثر، سالم، عبداللہ بن دینار اور زہری کے ساتھ بدل جاتے ہیں، دوسرے الفاظ میں، یہ راویان حدیث ابن عمر سے اٹکل پچو سے روایت کرتے ہیں۔ یہ بات ہمیں شک میں ڈالتی ہے کہ آیا تاریخی (شخصیت) نافع ہر اس چیز کے ذمہ دار ہیں جو آئندہ نسل میں ان سے منسوب کی گئی اور اس باب میں بعد میں ہم اس شک کی توثیق دیکھیں گے۔''

اگر کوئی حدیث کسی ایسے شخص سے بیان ہو جو سند میں اپنے سے اوپر والے راویان کا قریبی رشتہ دار یا تعلق دار ہو یا کسی وجہ سے ان کی باہم لمبی رفاقت موجود ہو تو سادہ اور سیدھی سی بات تو یہی ہے کہ دیگرعام روایات سے بھی اس کےقابل قبول ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ وہ دونوں گونگےیا بہرے تو تھے نہیں ،کہ نہ بولتے ہوں اور نہ ہی سنتے ہوں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے روایات نہ لیں یا دیں۔ لیکن مستشرقین اور بطور خاص جوزف شاخت کو ہر ایسی بات پر بھی اعتراض ہے جو باعث اطمینان ہونی چاہیئے تھی۔ اگر خاندانی اسناد سے بیان کردہ مرویات بہت کم ہوتیں تو یہ اعتراض بن جاتا کہ اس محدث کے رشتہ داروں نے دوسرے لوگوں سے روایات اخذکی ہیں۔ اپنے آقا یا قریبی سے کیوں نہیں لیں۔ جیسا کہ بعض مستشرقین کا اعتراض ہے کہ قلیل الصحبت یاتاخیر سے اسلام قبول کرنے والے صحابہ (خصوصاابوہریرۃ رضی اللہ عنہ وغیرہ) کی روایات قدیم الاسلام اور طویل الصحبت صحابہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ) سے زیادہ کیوں ہیں۔ جب مقصد پہلے سے طے ہو کہ کیڑے نکالنے ہیں تو پھر اس قبیل کے اعتراضات بعید نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ بات طے ہے کہ جب باپ، بیٹا یا آقا و غلام دونوں درس و تدریس حدیث سے وابستہ ہوں گے تو چھوٹا بڑے سے روایات تو بیان کرے گا۔ لیکن پروفیسر جوزف شاخت کو یہ بھی وضع حدیث کی علامت نظر آتی ہے۔

ڈاکٹر محمد مصطفیٰ اعظمی کے بقول:

"If a statement of a father about his son or vice versa, or a wife about her husband, or a friend about a friend, or a colleague about a colleague is always unacceptable, then on what basis could a biography possibly be written? Early scholars researched this category thoroughly and dismissed suspect isnad and ahadith. It is, therefore, unnecessary to refer further to the examples Schacht advances in this part of his case."18

''اگر باپ کا اپنے بیٹے سے متعلق یا اس کے برعکس یا بیوی کا اپنے خاوند کے یا دوست کا دوست کے یا شریک کار کا شریک کار کے متعلق بیان ہمیشہ ناقابل قبول ہے تو پھر سیرت نگاری کیونکر ممکن ہے؟ پہلے علماء نے اس قسم کی مکمل طور پر تحقیق کی ہے اور ذرا سے شبہہ پر اسناد اور احادیث کو خارج کردیا۔ اس لیے اس معاملے میں شاخت کی بیان کردہ مثالوں کا مزید حوالہ دینا غیر ضروری ہے۔''

پروفیسر جوزفشاخت کے خاندانی اسناد پر اعتراض کی کوئی علمی یا منطقی بنیاد موجودنہیں ہے۔ وہ صرف اس شک کی بنیادپر ایسا کہہ رہے ہیں کہ راویوں نے اپنی جعل سازی پر پردہ ڈالنے کی غرض سے ایسے نام اسناد میں شامل کر دیئے ہیں۔ حالانکہ محدثین نے کسی بھی حدیث کومحض خاندانی اسناد کی وجہ سے قبول ہی نہیں کیا ۔بلکہ خاندانی اسناد کو بھی تحقیق و تفتیش کے انہی کڑے اور منطقی مراحل سے گزرنا پڑا جہاں سے دیگر تمام اسناد گزری ہیں۔ جو محدثین کے قائم کردہ انتہائی معیار پر پوری اتری صرف وہی قابل قبول ٹھہری باقی موضوع قرار پائی۔ اس میں خاندانی یا غیر خاندانی سند سے بیان ہونا کوئی پیمانہ یا معیار ہی نہیں ہے۔ کتب اسماء الرجال میں ایسی کتنی ہی امثلہ موجود ہیں کہ محدثین نے خاندانی اسناد کو ان کے کسی ضعف کی وجہ سے ناقابل قبول قرار دیا۔

اگر محدثین کے نزدیک خاندانی اسناد بغیر جرح و تنقید مقبولسمجھی جاتیں پھر تو پروفیسر جوزف شاخت کے اس اعتراض میں کوئی وزن سمجھا جاسکتا تھا۔ لیکن جب خاندانی اسناد کو کوئی استثناء یا برتری حاصل ہی نہیں تھی۔ تو پھر آخر کیا وجہ تھی کہ لوگ اپنی بات کو سچ باور کروانے کے لیے ایسی اسناد وضع کرنے لگے۔حقیقت یہی ہے کہ خاندانی ا سناد بھی عام اسناد کی طرح اصلی اور حقیقی ہیں۔

جائن بال نےخصوصا نافع مولیٰ ابن عمر پر یوں تبصرہ کیا کہ ان کی ذات کو ہی مشکوک قرار دیا کہ اس نام کا کوئی راوی حقیقت میں موجود بھی تھا یا نہیں۔ان کے اعتراضات کا خلاصہ یہ ہے کہ ۔

1۔ امام مالک بن انس کا نافع مولیٰ ابن عمر کا شاگرد ہونا تاریخی اعتبار سے ثابت نہیں ہوتا۔

2۔ نافع مولیٰ ابن عمر کی وہ روایات جو امام مالک کے علاوہ دیگر شاگردوں سے مروی ہیں وہ بھی کتب ستۃ کے مولفین یا بعد کےکسی دوسرے راوی کی وضع کردہ ہیں۔

3۔ کتب ستہ میں موجود وہ روایات جن کی اسناد میں نافع عن ابن عمر ہے وہ نافع تک نہیں زیادہ سے زیادہ امام مالک بن انس تک جاتی ہیں کیونکہ۔

I۔ دوسرے اہم راویان حدیث کی نسبت نافع کی زندگی کے متعلق بہت کم معلومات میسر ہیں۔

ii۔ ان کی زندگی کے بارے میں جو معلومات میسر ہیں وہ مختلف فیہ ہیں۔

Iii۔ طبقات کی وہ ابتدائی کتب جو مدینہ کے تابعینپر ہیں ان کے حالات زندگی ان میں مذکور نہیں ہیں۔

iv۔ امام مالک اور نافع کی عمروں کا فرق اسے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بنا دیتا ہےکہ وہ نافع کے شاگرد رہے ہوں گے۔1920,

ذیل میں ان کے دلائل کا جائزہ لیا جائے گا۔

1۔ جائن بال کا پہلا اعتراض یہ ہے کہ" دوسرے اہم راویان حدیث کی نسبت نافع کی زندگی کے متعلق بہت کم معلومات میسر ہیں"۔کتب رجال میں اور بھی کئی ایسے اہم راویان حدیث موجود ہیں جن کی معلومات کم ہیں۔ اس بنیاد پر ان کی روایات کیسے رد کی جا سکتی ہیں۔مثلاطبقات کی اہم اور قدیم ترین کتاب طبقات ابن سعد میں حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کے مشہور شاگردہمام بن منبہ کے بارے میں جنہوں نے "صحیفہ صحیحہ"جیسا اہم ترین مجموعہ حدیث مدون کیا صرف اتنا تبصرہ موجود ہے کہ وہ ابنائے فارس میں سے تھے۔اپنے بھائی وھب بن منبہ سے بڑے تھے،ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے ملے ہیں اور ان سے بہت روایت کی ہے۔وفات وہب سے پہلے 101 یا 102 ہجری میں ہوئی،کنیت ابو عقبہ تھی۔اسی طرح عبیداللہ بن ابی رافع پر صرف اتنا تبصرہ ہے کہ وہ نبی ﷺ کے مولیٰ تھے۔انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور وہ ان کے کاتب تھے،ثقہ اور کثیر الحدیث تھے۔21سعید بن یسار ثقہ اور کثیر الحدیث تھے لیکن ان کا تذکرہ صرف 2 سطور میں ہے۔22الغرض ایسی بہت سی امثلہ موجود ہیں کہ کسی بڑے اہم راوی کا تذکرہ کتب رجال میں انتہائی مختصر ہو۔اسی طرح کئی رواۃ حدیث ایسے بھی ہیں جو قلیل الحدیث ہیں لیکن ان کا تذکرہ بہت مفصل ہے۔ جیسے مشہور اموی خلیفہ مروان بن حکم، جو حدیث کے قابل ذکرراویوں میں شمار نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود طبقات ابن سعد میں ان کا تذکرہ سات صفحات سے بھی زیادہ ہے۔23 الغرض یہ کوئی معیار نہیں ہے کہ زیادہ روایت کرنے والے حضرات کا ذکر مفصل اور کم روایت کرنے والوں کا ذکر مختصر ہونا چاہئے۔

2۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ "ان کی زندگی کے بارے میں جو معلومات میسر ہیں وہ مختلف فیہ ہیں"۔حقیقت یہ ہے کہ نافع مولیٰ ابن عمر کے بارے میں کتب رجال میں ایسا کوئی اختلاف موجود نہیں ہے جس سے ان کی ثقاہت پر کوئی حرف آتا ہو۔یا ان کی مرویات ناقابل اعتبار ٹھہرتی ہوں۔ان کی اصل اور تاریخ وفات میں معمولی اختلاف ضرور موجود ہے۔لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تاریخ میں ایسی کوئی شخصیت سرے سے موجود ہی نہیں رہی۔تاریخ پیدائش و وفات میں تو بڑے بڑے لوگوں کے بارے میں ایک سے زائد آراء موجود ہیں۔ تو کیا اس سے ان سب کے بارے میں ہم یہ فرض کر لیں کہ وہ سب فرضی شخصیات ہیں۔ یہاں تک کہ تاریخ پیدائش تو رسول اللہﷺ کی بھی مختلف فیہ ہے۔ کئی غزوات کی تاریخوں میں اختلاف ہے۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ غزوات ہوئے ہی نہیں۔

جہاں تک ان کی اصل کا مسئلہ ہے بات اتنی ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے غلام تھے۔یہ زمانہ کثرت غزوات کا تھاانہی غزوات میں نافع بھی حاصل ہوئے۔ اسلام نے غلامی کے مسئلے کے مؤثر حل کے لئےایک راستہ یہ اختیار کیا کہ ان کو آزاد کرنے کی ترغیب دلائی۔چنانچہ اس زمانے میں موالی کی کثرت تھی۔ان کے اصل وطن کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔ابن عبدالبر لکھتے ہیں:

(قال ابن معين : كان ديلميا ، وقال غيره : كان من ( أهل ) أبرشهر ، وقيل كان أصله من المغرب ، أصابه عبد الله بن عمر في غزاته)24

ابن حبان نے مشاھیر علماء الامصار میں ان کی اصل ابر شھر ذکرکی ہے۔ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیلِ میں ابر شھر یا اھل مغرب لکھا ہے۔ابن منجویہ کا "رجال صحیح مسلم" میں یہی موقف ہے۔ابن سعد نے بھی ابر شھر لکھا ہے۔یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر محدثین نے ان کی نسبت ابرشھر کی طرف ہی کی ہے۔اگرچہ بعض نے ایک سے زائد آراء کا بھی اظہار کیا ہے لیکن بہرحال یہ کوئی ایسا مختلف فیہ مسئلہ نہیں ہے کہ ان کی شخصیت کو ہی ماننے سے انکار کر دیا جائے۔مزید برآں متعدد ایسے موالی موجود ہیں جن کے وطن کا تذکرہ ہی کتب رجال میں نہیں پایا جاتا تو پھر نافع کے وطن میں اتنا تھوڑا سا مختلف نقطہ نظر ایسی بڑی بات کیونکر ہو سکتا ہے۔جائن بال نے نافع مولیٰ ابن عمر کی شخصیت کو فرضی قرار دینے کے لئے جو اعتراضات کئے ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ ان کی اصل کی طرح تاریخ وفات بھی متنازع ہے۔حالاں کہ اکثر ذرائع نے ان کی وفات 117 ہجری بیان کی ہے 25اگرچہ بعض نے 119 یا 120 ہجری26 کا موقف بھی اختیار کیا ہے لیکن یہ شاذ ہے۔کتب رجال میں کئی ایسے راویان موجود ہیں جن کی تاریخ وفات مذکور ہی نہیں یا مختلف فیہ ہے۔لیکن یہ کوئی ایسی وجہ نہیں جس سے ہم اس راوی کا ہی انکار کر دیں۔خصوصا جب ہمیں اس کے متعلق اور کئی معلومات بکثرت ملتی ہوں۔جیسا کہ ان کے کئی اساتذہ کا ذکرموجود ہے۔

امام ذھبی نے سیر اعلام النبلاء میں ان کے شیوخ کے بارے میں لکھا ہے:

"روى عن ابن عمر ، وعائشہ، وأبي هريرة ، ورافع بن خديج ، وأبي سعيد الخدري ، وأم سلمة ، وأبي لبابة بن عبد المنذر ، وصفية بنت أبي عبيد زوجة مولاه ، وسالم وعبد الله وعبيد الله وزيد أولاد مولاه ، وطائفة".27

نیز ان سے روایت کرنے والوں میں ایک خلق کثیر شامل ہے۔امام ذھبی نے پچاس سے زائد راویوں کے نام ذکر کرنے کے بعد آخر میں خلق کثیر کا الفاظ لکھے ہیں۔ ان راویوں میں ابن شھاب الزهري ،أيوب السختياني ، عبيد الله بن عمر ،وحميد الطويل ، وأسامۃ بن زيد اور ابن جريج جیسے کئی معتبر نام شامل ہیں۔28 گویا نافع کی شخصیت کی نفی کرنے کا مطلب ہے کہ ان تمام رواۃ نے کذب بیانی کرتے ہوئے نافع کا نام وضع کیا ۔ کیا عقلی اور منطقی طور پر بھی جائن بال کے اس دعوے کی تائید کی جا سکتی ہے۔یہ تمام حقائق اس بات پر شاھد ہیں کہ مستشرقین کے اس اعتراض کی کوئی منطق نہیں بنتی۔اسی طرح ماہرین اسماء الرجال نے نافع مولیٰ ابن عمر کی ثقاہت پر بھی اتفاق کیا ہے۔29 جائن بال کے دعوے کو درست تسلیم کرنے کی صورت میں وہ تمام ائمہ جرح و تعدیل بھی ناقابل اعتبار قرار پائیں گے جنہوں نے ان کو ثقہ،ثبت اور اس جیسے دیگر القاب سے نوازا ہے۔گویا جائن بال اپنی ذرا سی تشکیک کو بنیاد بنا کر علوم الحدیث کے تمام ذخیرہ اور ماہرین کی حیثیت پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔

3۔نافع مولیٰ ابن عمر کی شخصیت کے انکار کی ایک بڑی دلیل جائن بال نے یہ دی ہے کہ طبقات کی ابتدائی کتب میں تابعین مدینہ کے ذکر میں ان کا نام موجود نہیں ہے۔

Joseph Schachtکی ایک تھیوری Argument e Silentio (دلیل سکوت)30 کو استعمال کرتے ہوئے اس سے جائن بال نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ابتدائی ماخذ میں نافع مولیٰ ابن عمر کا عدم ذکر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شخصیت بعد میں فرضی طور پر وضع کی گئی ہے۔31 اپنی روایات کو مستند باور کروانے کے لئے بعد میں جس کا نام بکثرت استعمال ہوتا رہا ہے۔اگر واقعی اس نام کا کوئی مشہور راوی موجود ہوتا تو طبقات ابن سعد جیسی رجال کی امہات کتب میں اس کا تذکرہ ضرور شامل ہوتا۔ لیکن اس کے برعکس ہمیں ان کتب میں ان کا نام نہیں ملتا۔جب کہ بعد والے ماخذ ان کا ذکر کرتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ یہ نام بعد میں استعمال کیا گیا ہے۔

فرض کریں اگر بعض ابتدائی کتب رجال میں نافع کا ذکر نہ بھی پایا جاتا ہو تو کیا یہ دلیل سکوت کی وجہ سے اس بات کی دلیل بن سکتا ہے کہ اس نام کا کوئی راوی موجود ہی نہیں تھا۔ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی اس تھیوری کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس دلیل کا مطلب یہ کہ کہ اگر مشرق وسطیٰ کا کوئی مصنف دنیا کے بڑے شہروں کا تذکرہ کرتے ہوئے لندن کا نام چھوڑ دے تو بعد کے وہ تمام مصنفین جنہوں نے لندن کا نام دنیا کے بڑے شہروں میں شمار کیا ہو ان کو مجرم سمجھا جائے گا کہ انہوں نے غلط طور پر اتفاق رائے سے ایک افسانوی شہر بنا ڈالا۔32کیا ابن سعد یا کسی دوسرے مصنف نے کہیں اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ میں نے اس طبقے کے تمام رواۃ کا ذکر کر دیا ہے اور کوئی بھی راوی رہ نہیں گیا۔ نیز کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ان مخطوطات کا کوئی حصہ کسی پبلشر تک نہ پہنچ سکا ہو اس لئے وہ کسی خاص ایڈیشن میں شائع ہونے سے رہ گیا ہو۔ بطور خاص جب وہ خود اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ بعد والے کئی مصنفین نے ابن سعد کے حوالے سے اپنی کتب میں نافع کے حالات درج بھی کئے ہیں۔لیکن وہ ان مصنفین کو بھی جھوٹا قرار دیتے ہیں اور یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ ابن سعد نے طبقات میں ان کا ذکر کیا ہو گا۔33

جب ہم طبقات ابن سعد کا وہ ایڈیشن دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تابعین مدینہ کے ضمن میں تیسرے طبقہ کے متصل بعد چھٹے طبقہ کا ذکر ہے۔ نیزطبقہ ثالثہ کی آخری بائیو گرافی عمر بن عبدالعزیز کی ہے جس کی آخری روایت درمیان میں یوں ختم ہو رہی ہے۔"وھیب بن الورد سے مروی ہے کہ ہمیں معلوم ہوا عمر بن عبدالعزیز کی جب وفات ہو گئی تو فقہاء ان کی بیوی کے پاس تعزیت کرنے آئے اور کہا کہ ہم اس لئے آپ کے پاس آئے ہیں کہ عمر کی تعزیت کریں کیوں کہ۔۔۔"34 اس کے متصل بعد طبقہ سادسہ ہے اس کا آغازاس طرح ہے۔ "بن رافع بن خدیج و طماح ان کی والدہ ام یحیی بنت طماح ابن عبدالحمید بن رافع بن خدیج تھیں۔ محمد کی کنیت ابوعبداللہ تھی"۔35 اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نہ صرف طبقہ رابعہ اور طبقہ خامسہ مکمل غائب ہیں بلکہ طبقہ سادسہ کا ابتدائی حصہ بھی موجود نہیں ہے۔لیکن اس کے باوجود جائن بال کو یہ سیدھی سی حقیقت دکھائی نہیں دیتی اور وہ نافع کی تاریخی حیثیت کا ہی انکار کر دیتے ہیں۔حیران کن امر یہ ہے کہ طبقات ابن سعد میں نافع کی متعدد مرویات موجود ہیں۔عبداللہ بن عمر کے ترجمہ کے ذیل میں بھی بکثرت نافع کا ذکر موجود ہے۔لیکن جائن بال اسے بھی دلیل سکوت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ان مرویات سے ہر گز ایسا کوئی تاثر نہیں ملتا کہ وہ کوئی تاریخی شخصیت یا حدیث کے بڑے اہم راوی تھے۔

جائن بال نے اپنی تھیوری " Argument e silentio" کے طور پر اس بات کو بھی ذکر کیا ہے کہ امام نووی نے ابن سعد کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے مصر کے مسلمانوں کو سنت کی تعلیم دینے کی غرض سے مصر بھیجا تھا۔اگر یہ بات درست ہوتی تو جائن بال کے خیال میں اسے الکندی کی "کتاب الولاۃ والقضاۃ " میں ضرور موجود ہونا چاہیے تھا۔جب کہ وہاں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ روایت بعد میں وضع کی گئی ہے۔حالانکہ کسی کتاب میں کسی روایت یا شخصیت کا عدم ذکر اس کے عدم کو کیسے لازم ٹھہرا سکتا ہے۔اصل میں یہ (Argument e Silentio) تھیوری ان سے قبل پروفیسر جوزف شاخت نے بڑے زورو شور سے پیش کی اور اس کی بنیاد پر فقہی احادیث پر مشتمل تمام ذخیرہ حدیث کو بعد میں وضع کردہ قرار دیا تھا۔ اس پر مسلم سکالرز میں سے خصوصا ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی36 اور ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری 37نے نقد کیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے پروفیسر شاخت کے "Argument e silentio " پر نقد کرتے ہوئے اس کے بالکل الٹ ثابت کر دیا ہے۔انہوں نے بہت سی ایسی روایات کی نشاندہی کی ہے جو پہلے ماخذ میں موجود تھیں جب کہ متاخر ین کی کتب میں ان کا ذکر موجود نہیں ہے۔38مزید برآںطبقات ابن سعد کے اس حصے کاایک مخطوطہ مل چکا ہےاور " الطبقات الکبریٰ: القسم المتمم لتابعی اھل المدینۃ و من بعدھم" (من ربع الطبقۃ الثالثۃالیٰ منتصف الطبقۃ السادسۃ)کے نام سے شائع بھی ہو چکا ہے۔39اس کے صفحہ 142-145 پر نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر کا تذکرہ موجود ہے۔

حاصل کلام:

خلاصہ یہ ہے کہ پروفیسر جوزف شاخت ، جائن بال اور ایسے دیگر مستشرقین کا حدیث نبوی کے حوالے سے امت مسلمہ کے ہاں مستند ترین سمجھی جانے والی کتب ، اسناد اور راویان حدیث کی صحت کو مشکوک قرار دینا محض اتفاق نہیں ہے۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ ذخیرہ حدیث کی صحت پر سوالات کھڑے کرنا ہے۔نیز اگر ایسی مستند چیزیں غیر ثابت شدہ ہیں تو پھر نسبتا کم مستند روایات و اسناد کیونکر قابل اعتماد قرار دی جا سکتی ہیں۔اگر ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ اور ابن شہاب زہری جیسے ثقہ محدثین کی ثقاہت پر سوال کھڑے کر دئیے جائیں تو دیگر راویان کی کیا حالت ہو گی۔اگر سلسلۃ الذھب موضوع ہو جائے تو باقی اسناد پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔

مندرجہ بالا تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ مستشرقین کے ان اعتراضات کی کوئی مضبوط علمی بنیادیں نہیں ہیں۔محدثین نے نقد حدیث کے کڑے اصولوں پر جانچ پڑتال کرنے کے بعد ان کو یہ درجہ دیا ہے اور یہ امت مسلمہ کے ہاں تسلیم شدہ ہے۔مالک عن نافع عن ابن عمر محدثین کے ہاں مستند ترین اسناد میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔مالک بن انس کی اپنے استاد نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر سے ملاقات اور اخذ روایات ایک تاریخی حقیقت ہے جس کا انکار تحقیقی اصولوں کا انکار ہے۔نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر بھی ماہرین اسماء الرجال کے متفقہ فیصلے کی رو شنی میں ثقہ ترین راوی حدیث ہیں۔عبداللہ بن عمر سے ان کا اخذو تحمل حدیث ثابت شدہ امر ہے۔رجال کی بعض ابتدائی کتب میں ان کے حالات زندگی کا عدم ذکر یا مختصر ذکر اس بات کا ثبوت نہیں کہ ایسی کوئی شخصیت اسلامی تاریخ میں موجود نہیں رہی اور ان کا نام سلسلہ سند کو جوڑنے کے لئے بعد میں کسی راوی نے وضع کیا ہے۔

 

 

حواشی و حوالہ جات

1

الرامہ مزی، حسن بن عبدالرحمن ، المحدث الفاصل بین الراوی والواعی ، دارالفکر بیروت،۱۹۷۱ء ، ص ۵۱۷

Al Rāmhurmazī, Hasan Bin Abdulrahmān, Al Muhaddith al Fāsil bāin alrāwī walwā'ī, Dārulfikr, Beirūt,1971 A.H,p517.''

2 - المروزی، عبدالرحمن بن ابی حاتم، الجرح والتعدیل ، دار احیاء التراث العربی، بیروت، الطبعۃ الاولیٰ،۱۹۵۲ء، ۲؍۱۶

Al Mirvazī, Abdulrahmān bin abi Hātim, Al Jarh wal Tadīl, daru ihyā al turāth al'arabi, Beirūt, first edition,1925 A.D. vol,ii p14

3- النووی، یحییٰ بن شرف، التقریب والتیسیر لمعرفۃ سنن البشیر النذیر، تحقیق عبدالوھاب، عبداللطیف، احیاء السنۃ النبویۃ، بیروت، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۳۹۹ھ، ص۷

Al Nauvī, Yahyā bin Sharf, Al Taqrīb waltaisīr le ma'rifati sunan albashīr walnnazīr, research Abdulwahāb Abdul Latīf, ihyā alsunna alnabavīah, Beirūt,2nd edition 1399A.H,p7.

4- خطیب بغدادی ، ابی بکر احمد بن علی، الکفایۃ فی علم الروایۃ ، دارالکتب الحدیثۃ ، القاہرۃ ، ص ۱۴۸

Khateeb Baghdadī, Abi Bakar, Ahmad bin 'Alī, Al Kifāyia fī ilmilriwāya, darulkutub alhadītha, al Qāhira, p148.

5- خطیب بغدادی ، ابی بکر احمد بن علی، الکفایۃ فی علم الروایۃ ، ص ۱۴۸

Khateeb Baghdadī, Abi Bakar, Ahmad bin Ali, Al Kifāyia fi ilmilriwāya, p148.

6 - المزی، یوسف بن عبدالرحمٰن،جمال الدین،تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مؤسسۃ الرسالۃ، البیروت، الطبعۃ الاولیٰ1980، 14/476؛ابن الصلاح، علوم الحدیث،النوع الاول، الحدیث الصحیح،انواع الصحیح ودرجات قوتہ،دارالفکر،1425 ھجری، ص16

Al Muzī, Yoūsuf bin Abdul Rahmān, Jamāludīn,Al kamāl fi asmāilrijāl, muassisa alrisāla, al Beirūt A.H,v,14/476; Ibn ulsalāh, Uloom ul Hadīth,al naw al awwal, al Hadīth al Sahīh, anwā' alsahīh wa darajāto quwwatehi, Darul fikr, 1425 A.H, p16.

7 - المزی، یوسف بن عبدالرحمٰن،جمال الدین،تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، ،29/303

Al Muzī, Yousuf bin 'Abdul Rahmān, Jamāludīn,Al kamāl fī asmāilrijal,vol,29/303.

8 - عسقلانی، احمد، ابن حجر،نزھۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر،ملتان،ص 50،51

Asqalānī, Ahmad bin Hajar, Nuzhatul Nazr fī tauzīh Nukhbatulfikr, Multan,p50,51.

9 - قاری، ملا علی، شرح نخبۃ الفکر، کوئٹہ،1397م ،ص87

Qari. Mulla 'Alī, Sharah Nukhbatulfikr, Quetta, 1397 A.D, p87.

10. The Origins of Muhammadan Jurisprudence, Oxford University press,1953,p176,177

11- الذھبی ، محمد بن احمد،شمس الدین، سیر اعلام النبلاء ( مرتب : شعیب الارناؤط) ، موسسۃ الرسالۃ ، بیروت ، ۱۹۸۵، ۸؍۴۹

Al Dhahbī, Muhammad bin Ahmad, Shamsuldīn, Siyar i'lāmunnubalā(compiler: Sho'aib alarnāowt), mūassisa alrisāla, Beirūt, 1985 A.D, vol ,8/49.

12- الصفدی، خلیل ، الوافی بالوفیات، داراحیاء التراث العربی ، ۲۰۰۰ء ، ۲۵؍۲۱

Al Safdī, Khalīl, Alwāfī bil wafyiāt, daru ihyā al turāth alarbī, 2000 A.D, vol,25/21.

13- بخاری، محمد بن اسماعیل، التاریخ الکبیر، مجلس دائرۃ المعارف العثمانیۃ ، حیدر آباد، ۱۹۴۱، ۴؍۳۱۰

Bukhārī, Muhammad bin Ismā'īl, Al Tārīkh ul kabīr, majlis dāiratul mārif al Usmania, Haidarabad, 1921 A.D,vol, 4/310.

14- الذھبی ، محمد بن احمد،شمس الدین، سیر اعلام النبلاء ، ۸؍۱۳۰

Al Dhahbī, Muhammad bin Ahmad, Shamsuldīn, Siyar ilāmunnublā,vol,8/130

15- بخاری، محمد بن اسماعیل، التاریخ الکبیر،۴؍۳۱۰؛ ابن حبان ، کتاب الثقات، دارالفکر، بیروت، ۱۹۸۸،۱؍۴۵۹؛ السمعانی، عبدالکریم، الانساب، مجلس دائرۃ المعارف العثمانیۃ،۱۹۶۲،۱؍۲۸۲؛ ابن خلکان، احمد، وفیات الاعیان وانباء ابنا الزمان ، دارصادر، بیروت، ۱۹۷۷،۴؍۱۳۵.

Bukhārī, Muhammad bin Ismā'il, Al Tārīkh ul kabīr,vol,4/310;Ibn Hibbān, Kitāb althiqāt,Darulfikr Beirut,1988 A.D, vol,1/459; Alsam'āni, 'Abdulkarim, Alansāb, majlis dāiratul mā'rif al'usmania, 1942 A.D,vol,1/1982; Ibn e Khallikān, Ahmad, Wafiātul a'iān wa anbā abnāizamān, dar e sādir, Beirūt,1977 A.D, vol,4/135

16- Robson, James, The Isnād in Muslim Tradition, Glasgow University Oriental Society, 15,1953, P23.

17- Joseph Schacht,The Origins of Muhammadan Jurisprudence, P177.

18- Aāzmī, Muhammad Mustafa, On Schācht's Origins of Muhammadan Jurisprudence, Sohail Academy, Lahore. P197.

19-Juynboll,G.H.A, Encyclopaedia of Islam,Edition2, Vol 7,p876

20- Juynboll,G.H.A,Nāfī the Maula of Ibn e Umar and his position in Muslim Hadīth Literature,Der Islam 70,(1993),207-244

21 - محمد بن سعد، طبقات ابن سعد،)مترجم علامہ عبداللہ عمادی(،نفیس اکیڈمی اردو بازار، کراچی،5/221

Muhammad bin S'ad, Tabqāt ibn e S'ad,(translator: 'Allama 'Abdullah 'Imādī),Nafīs academy, Urdu bazaar, Karachī, vol,5/221.

22 - محمد بن سعد، طبقات ابن سعد ،5/223

Muhammad bin S'ad, Tabqāt ibn e S'ad, vol,5/223.

23 - محمد بن سعد، طبقات ابن سعد ،5/51-58

Muhammad bin S'ad, Tabqāt ibn e S'ad, vol,5/51-58.

24 - ابن عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، التمہید لما فی الموطا من المعانی والاسانید، وزارۃ الاوقاف والشوؤن المملکۃ العربیۃ،۱۹۷۹ء، ص236

Ibn e 'Abdul Barr, Yousuf bin 'Abdullah, Al Tamhīd limā fil Mauta min al m'ānī wal asānīd, wizāratul aouqāf washaūn, almumlikatul Arabīa, 1079 A.D p236.

25 - بخاری ،محمد بن اسماعیل، التاریخ الکبیر، البیروت،vi/2,85؛عسقلانی، احمد بن حجر، تقریب التہذیب،نیاز احمد مترجم، مکتبہ رحمانیہ،لاھور،2/235

Bukhāri, Muhammad bin Ismā'il, Al Tārīkh ul kabīr,al Bairūt, vol,2/85; 'Asqalāni, Ahmad bin Hajar, Taqrīb ul Tahzīb, (translator Niaz Ahmad), maktaba Rahmania, Lahore, vol,2/235.

26 -ابن حبان،محمد البستی،کتاب الثقات،عبدالمعید خان(ایڈیٹر)،حیدر آباد،v ،467

Ibn Hibbān, Muhammad al Bustī,Kitab althiqāt, (Editor, Abdul Mū'id Khan), Haidarabad,vol, 5/467.

27 - ذھبی، محمد بن احمد،شمس الدین، سیر اعلام النبلاء،95 نافع

Al Dhahbī, Muhammad bin Ahmad, Shamsuldīn, Siyar i'lāmunnubalā,p95.

28 - ذھبی، محمد بن احمد،شمس الدین، سیر اعلام النبلاء، ص96

Al Dhahbī, Muhammad bin Ahmad, Shamsuldīn, Siyar i'lāmunnubalā,p96.

29 -ابن حجرعسقلانی، تقریب التہذیب،2/235

Ibn e Hajar, 'asqalan ī, Taqrīb ul Tahzīb,vol,2/235.

30 -حدیث پر کام کرنےوالے مشہور مستشرق جوزف شاخت نے احادیث کو ناقابل اعتبار ثابت کرنے کے لئے جو مفروضے وضع کئے ان میں سے ایک "دلیل سکوت" ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب ہمیں کوئی روایت ابتدائی ماخذ میں نہیں ملتی جب کہ بعد والے ماخذ اس کا ذکر کرتے ہیں تو یہ اس درمیانی یا بعد کے زمانے میں اس کے وضع ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

(Joseph, Schācht, The Origins of Muhammadan Jurisprudence, p140)

31- Nāf'ī the Maula of Ibn-e-'Umar and his position in Muslim Hadīth Literature,p217.

32-A'zmī, Muhammad Mustafa, On Schācht,s Origins of Muhammadan Jurisprudence,Sohail Academy, Lahore, p116

33-Nāf'ī the Maula of Ibn-e-'Umar and his position in Muslim Hadīth Literature,p218.

34 - محمد بن سعد ، طبقات الکبریٰ،5/307

Muhammad bin Sa'd, Tabqātul kubrā, vol,5/307.

35 - محمد بن سعد ، طبقات الکبریٰ،5/307

Muhammad bin Sa'd, Tabqātul kubrā, vol,5/307.

36-A'zmī, Muhammad Mustafa, On Schācht,s Origins of Muhammadan Jurisprudence,Sohail Academy, Lahore.

37- Ansārī, Zafar Ishaq,The Authenticity of Traditions: ACritique of Joseph Schācht,s Argument-e-silentio, Hamdard Islāmicus,7 (1984),51-61.

38-Ansāri, Zafar Ishāq, The Early Development of Islamic Fiqh in Kūfah with special reference to the works of Abū-Yoūsuf and Shaibanī, Ph. D Thesis Mcgill University,1966.p237-241; The Authenticity of Traditions: ACritique of Joseph Schācht,s Argument-e-silentio, Hamdard Islamicus,7 (1984),56-57.

39-ابن سعد،محمدبن سعد بن منیع، ابو عبداللہ الھاشمی، الطبقات الکبریٰ: القسم المتمم لتابعی اھل المدینۃ و من بعدھم، (دراسۃ و تحقیق) زیاد محمد منصور،مکتبۃ العلوم والحکم، المدینہ المنورۃ،1408ھ/1987ء ، ص142-145

Ibn Sa'd, Muhammad bin Sa'd bin Munī', Abu Abdullah al Hashmī ,Altabaqāt ul kubrā: al qism almutammim litāb'i ahlil Madīna wa min ba'dihim, (dirāsa wa tahqiq, Ziād Muhammad Mansur) maktabatul 'uloom walhikam, al Madīna almunawwara, 1408,A.H, 1987A.D.p142-145

Loading...
Issue Details
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Article TitleAuthorsVol InfoYear
Similar Articles
Loading...
Similar Article Headings
Loading...
Similar Books
Loading...
Similar Chapters
Loading...
Similar Thesis
Loading...

Similar News

Loading...
About Us

Asian Research Index (ARI) is an online indexing service for providing free access, peer reviewed, high quality literature.

Whatsapp group

asianindexing@gmail.com

Follow us

Copyright @2023 | Asian Research Index