37
57
2022
1682060078052_3031
47-70
https://journal.aladwajournal.com/index.php/aladwa/article/download/516/372
https://journal.aladwajournal.com/index.php/aladwa/article/view/516
Messenger of Allah Greatness and Honour Characteristics of the Prophet
قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔یہ کلام اس ذات کبریا کا ہے جو کا ئنا ت کا بادشاہ اور زمین و آسما ن کا مالک ہے ، جسے رب تعالیٰ نے آخری نبی حضرت محمد ﷺپر جبریل کی وسا طت سے نا ز ل کیا ہے۔قرآنِ حکیم اور رسول اللہﷺ کی ذاتِ گرامی،یعنی رسول اللہ ﷺ کی سنت و سیرت، کیفیت و حالت کے اعتبار سے دو نو ں میں فر ق ہے تاہم دو نو ں باہم اس طر ح متعلق ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ دو نو ں چیزیں دین کے قیام کے لئے یکسا ں طور پر ضروری اوراہم ہیں ۔قرآنِ حکیم اور رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی میں باہم متعدد مناسبتیں ہیں، جن میں سے چند اہم کا تذکرہ ذیل میں دیا گیا ہے:
۱۔قرآ ن حکیم کا رسول اللہ ﷺ پرنازل ہو نا
قرآن حکیم وحی الٰہی ہے ۔اپنی دعوت کے آغا ز سے لے کر حجۃ الوداع کے آخر ی اجتما ع تک رسول اللہﷺ کو مختلف قسم کے حالا ت کا سامنا رہا ۔ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ان تما م مر احل پر آپ کو و حی کی صورت میں ہدایت و رہنما ئی ملتی رہی۔ آیتو ں کی تعداد کے لحا ظ سے قرآن آپ پر مختلف حیثیتو ں سے نا زل ہوتارہا۔ کبھی پانچ، دس ،کبھی اس سے زیادہ یا اس سے کم ،کبھی پو ری سور ت ،کبھی نصف یا اس سے بھی کم ۔یہ قرآن ۲۳سال کے عرصہ تک آپ پر آہستہ آہستہ نا زل ہو تا رہا ۔[1]
قرآن کی ہر ایک آیت اور سور ت آپ ﷺ پر نا زل ہو ئی ۔ نزولِ وحی کا کوئی خاص وقت یا مقام متعین نہ تھا ، نزول وحی کے وقت بعض اوقات آپ کے ارد گر د دیگر لو گ بھی ہوتے تھے ۔ آ پ تنہا ہو تے یا صحا بہ کر امؓ کے مجمع میں یا کسی زوجہ محترمہ کے پا س ہو تے ۔ بعض اوقات سو سے بھی زائد افراد ہو تے ۔ خطبہ حجۃ الوداع کے وقت لا کھوں لوگوں کامجمع تھا لیکن ان تما م حالا ت میں وحی کے احوال سے کو ئی واقف نہ ہو تا۔ایک بھی شخص وحی کے الفاظ سننے پر قادر نہ تھا کہ کیا نا زل ہو ا ہے ،کتنا نا زل ہوا ہے؟کو ن سی سور ت اور اس کی کتنی آ یا ت نا زل ہوئی ہیں۔ اس کا علم آپ ﷺکے بتا نے پر منحصر تھا۔ وحی بر اہ راست آپ کے قلب اطہر پر نا زل ہو تی ۔ آ پ ہی نے بتا یا کہ سورہ فا تحہ، الحمد سے لے کر ولا الضالین تک ہے ۔ اور اذاجاء نصر اللہ سے شروع ہو نے والی سورہ نصر، انہ کا ن تواباّ تک ہے۔ پو را قرآن آپ ﷺ کی روایت پر مبنی ہے، جسے صحا بہ ؓ نے تسلیم کیا ،اسے تحریر کیا،اپنے سینوں میں محفوظ کیا اور اگلی نسلوں تک پہنچایا۔گویا رسول اللہ ﷺ اور قرآن حکیم کو باہم جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ دو نو ں ایک دوسرے کیلئے لا زم و ملز وم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ اس کی راہنما ئی میں کا رِدعو ت انجا م دیتے رہے اوراپنے صحا بہ کو اس سے آگا ہ و آشنا کر تے رہے۔گویا قرآن حکیم، رسول اللہﷺ کی دعوت کا نصاب ہے جسے کسی بھی صورت رسول اللہ کی ذات سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ سے الگ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔[2]
۲۔ قرآنِ حکیم میں رسول اللہ ﷺ کی سنت و سیر ت کا بیا ن
قرآن اور سنت کے با ہمی تعلق میں ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ قرآن، رسول اللہ ﷺ کی سنت اور
سیر ت کا بیان ہے۔ مکی زندگی میں دعوت کے ابتدائی مر احل وَاَنْذِرْ عَشِیْرَ تَکَ الْاَ قْرَبِیْن [3]سے لے کر حجۃ الوداع کے آخری اجتما ع اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ [4]تک قدم قدم پرآپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہنما ئی ملتی رہی۔آپ کی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک واقعہ، قرآن کی ترجما نی کر تا ہے اور اس کے احکام کی صحیح عملی تصویر پیش کر تا ہے۔ قرآن کریم کی ہر آیت اور ہر واقعہ رسول اللہ ﷺ کی حقا نیت کی تصدیق ہے، مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَاقَلی[5] کی ترجمانی ا ور بالواسطہ یا بلا واسطہ اسی سے متعلق ہے۔ذیل میں اُن آیات کو زیرِ بحث لایا جائے گا جن میں جن میں رسول اللہﷺ کے خصا ئص و فضائل کا تذکرہ ہے۔
۳۔ خصا ئصِ رسول اللہ ﷺ کا بیان
پیغمبرﷺ کا وجود با برکات، انسانی کمالات ، پسندیدہ صفات و مادی و روحانی فضائل سے سرشار اور دنیا کی تما م غلاظتوں و خباثتوں سے مطہر وپاکیزہ تھا ۔احمدِ مرسلﷺ تمام مسلمانوں کے لئے انسانی صفات و کمالات کا شفاف آئینہ ہیں۔ قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کی نور افشاں سیرت کو نمونہ عمل قرار دیا ہے۔قرآنِ حکیم نے رحمۃ للعالمین ﷺ کا تعارف ، انسانِ کامل کےعنوان سے کرایا ہے، جس کا کردار انسانوں کے لئے مثالی طرزِ حیات ہے۔ انسانی زندگی کے مظاہرخواہ وہ ایمان و اخلاص کی منزل ہو یا زہد وتقوی کا مقام ، صبر واستقامت کے لمحات ہوں یا توکل وایثار کےمراحل، عبادت و شجاعت کامیدان ہو یاطہارت و سخاوت کا فیضان ، ان تمام مراحل میں سیرتِ پیغمبر ﷺ، دنیاکے تمام انسانوں کے لئےجامع نمونہ عمل ہے اورانسان اسے مشعلِ راہ قرار دیتے ہوئےدنیا وآخرت کی سعادت کا مالک بن سکتا ہے۔ قرآن حکیم کی متعد د آیا ت میں رسول اللہ ﷺ کے فضا ئل و خصو صیا ت کا بیان ا ٓیا ہے۔ جیسے نبی کریم ﷺ کی نرمی و مہربانی کا ذکر درج ذیل آیت میں ہے:۔
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللَّہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ [6](پس اللہ کی رحمت کی وجہ سے آپ ان کے لیے نرم دل ہیں اگر آپ تندخو، سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے اردگرد سے بکھر جاتے پس آپ ان سے در گزر کیجیے)
آپ ﷺ کے شاہد و مبشر و نذیر کے القاب کا ذکر، ذیل کی آیت میں ہے:
یَااَیُّھَا النَّبِيُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَا ھِدًا وَّ مُبَشِّرًاوَنَذِ یْراً وَدَاعِیاً اِلَی اللَّہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجاً مُنِیْراً [7](ائے نبیؐ بیشک ہم نے آپ کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔)
تفاسیر میں رسول ﷺ کے متعلق آ یات ِخصائص کی وضاحت
مفسرینِ قرآن خصوصاً برصغیر کے مفسرین نے نبی کریم ﷺ کے خصائص پر مشتمل آیات کی تفسیر میں اپنی علمی و ادبی خصوصیات کا مظاہرہ کیا ہے۔ مذکور مففسرین نے ایسے مقامات پر اپنے قلم کو خوب مہمیز دی ہے،
جس کی چند منتخب مثالیں حسب ذیل ہیں:
۱۔نبی کریم ﷺ بطور اسوہ حسنہ
قرآنِ حکیم نے آپ ﷺ کی ذاتِ والا صفات کو بنی نوعِ انسان کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ [8]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو دنیا و آخرت میں کامیابی کا معیار ٹھہراتے ہوئے مومنین کو آپ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ آپ کو ان کے لیے رول ماڈل اور نمونہ قرار دیا گیا ہے ۔
تفسیر منازل العرفان میں عبدالستار شاہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور اپنی زندگی کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہو، یہ تب ممکن ہوگا جب وہ زندگی کے ہر نشیب و فراز میں، سفر و حضر میں، علم و عمل میں، جہاد ہو یا تبلیغ، اجتماعیت ہو یا انفرادیت یا معاملات۔ الغرض زندگی کے ہر موڑ پر ادنیٰ عمل سے لے کر اعلی تک وہ سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے اور ہر مسئلے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل کو نمونہ کے طور پر اپنا کر اسی پر بلا چون و چرا اور بغیر کسی کمی بیشی کے عمل پیرا رہے اور اس پر گامزن رہے۔ [9]
تفسیر بیان القرآن میں ڈاکٹر اسرار احمد، آیت کی تناظر میں کہتے ہیں کہ:
بظاہر ہمارے ہاں اس آیت کی تفہیم وتعلیم بہت عام ہے۔ سیرت کا کوئی سیمینار ہو، میلاد کی کوئی محفل ہو یا کسی واعظ رنگین بیان کا وعظ ہو ، اس آیت کی تلاوت لازمی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کے سیرت و کردار کا نمونہ اپنانے کی جو صورت، آج مسلمانوں کے ہاں عموماً دیکھنے میں آتی ہے، اس کا تصور بہت محدود نوعیت کا ہے اور جن سنتوں کا تذکرہ عام طور پر ہمارے ہاں کیا جاتا ہے ،وہ محض روز مرہ کے معمولات کی سنتیں ہیں ، جیسے مسواک کی سنت یا مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دایاں پاوں اندر رکھنے اور باہر نکلتے ہوئے بایاں پاوں باہر رکھنے کی سنت۔ یقیناً ان سنتوں کو اپنانے کا بھی ہمیں اہتمام کرنا چاہیے اور ہمارے لیے حضور ﷺ کی ہر سنت یقینا منبع خیر و برکت ہے۔ لیکن اس آیت کے سیاق وسباق کو مدنظر رکھ کر غور کریں تو یہ نکتہ بہت آسانی سے سمجھ میں آجائے گا کہ یہاں جس اسوہ کا ذکر ہوا ہے وہ طاقت کے نشے میں بدمست باطل کے سامنے بےسروسامانی کے عالم میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈٹ جانے کا اسوہ ہے۔ اور اسوہ رسول ﷺ کا یہی وہ پہلو ہے جو آج ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔ مزیدیہ ہے کہ حضور ﷺ کا اسوہ تو اپنی جگہ کامل و اکمل اور منبع ِرشد و ہدایت ہے لیکن اس سے استفادہ صرف وہی لوگ کرسکیں گے جو مذکور تین شرائط پر پورا اترتے ہوں۔ [10]
۲۔ اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امرو جوب پر محمول ہوتا ہے :
نبی کریم ﷺ کا فیصلہ حتمی فیصلہ تصور ہوگا۔ اس پر عمل کرنے میں کسی چون و چراں کی گنجائش نہیں ہوگی۔
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا [11]
"اور حق حاصل نہیں ہے کسی مومن مرد کو اور نہ کسی مومن عورت کو جب فیصلہ کردے اللہ تعالیٰ اور اس رسول کسی معاملے کا یہ کہ ہو ان مومنوں کے لیے اختیار اپنے معاملے میں اور جو شخص نافرمانی کرے گا اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی پس تحقیق وہ گمراہ ہوا گمراہی کھلی ۔"
یہ آیت کریمہ شان نزول کے لحاظ سے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے نکاح کے ضمن میں نازل ہوئی، مگر اس کا اطلاق ،اللہ اور رسول کے ہر قسم کے احکام پر ہوتا ہے اور کسی بھی فیصلے کی خلاف ورزی کا کسی مومن کو اختیار نہیں اور جو ایسا کرے گا وہ گمراہی میں جا پڑے گا۔ یہ اس کے ثمرہ کا ذکر ہے۔
امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : ” اس آیت میں اس بات پر دلالت ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوامرو جوب کے لیے ہوتے ہیں کیونکہ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوامر ترک کرنے کے اختیار کی نفی فرمائی گئی ہے۔ ‘‘[12]
۳۔رسول اللہ ﷺ کا خُلقِ عظیم
نبی مہرباں ﷺ کے خُلقِ عظیم کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے: وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ[13] "اور بے شک آپ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں ۔"
یہاں فخرِ کائنات ﷺ کے خُلقِ عظیم کا قصیدہ ہے ،جس میں پروردگارعالم انسان کی اعلی ترین صفت کے ذریعہ اپنے رسولﷺ کاتعارف پیش کررہا ہے کہ ا ٓپ خُلقِ عظیم پہ فائز ہیں۔ یعنی اے میری حبیب ﷺ آپ محبتوں کا خزانہ اوررحمتوں کاچشمہ ہیں۔آپ کی کامیابی کارازآپ کےخلق عظیم میں مخفی ہے۔ دشمن ا ٓپ کو تکلیف دے رہے ہیں ۔وہ آپ کو برابھلاکہ رہے ہیں اورآپ ان کےلئے دَست بدعا ہیں۔وہ آپ کو پتھر مار رہے ہیں اور ا ٓپ ان کی ہدایت کے خواہاں ہیں، وہ ا ٓپ پہ کوڑاپھینک رہے ہیں اور آپ ان کی عیادت کےلیےجارہےہیں۔تفسیر معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع نے آیت کی تشریح میں چندصحابہ کرام ؓکے اقوال نقل کیے ہیں:
حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ ،خُلق عظیم سے مراد دین عظیم ہے کہ اللہ کے نزدیک اس دین اسلام سے زیادہ کوئی محبوب دین نہیں۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ کا خلق خود قرآن ہے یعنی قرآن کریم جن اعلیٰ اعمال و اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، آپ ان سب کا عملی نمونہ ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خلق عظیم سے مراد آداب القرآن ہیں یعنی وہ آداب جو قرآن نے سکھائے ہیں۔ حاصل سب کا تقریباً ایک ہی ہے۔ رسول کریمﷺ کے وجود باجود میں حق تعالیٰ نے تمام ہی اخلاق فاضلہ بدرجہ کمال جمع فرما دیئے تھے خود آنحضرتؐ نے فرمایا: بعثت لاتمم مکارم الاخلاق یعنی مجھے اس کام کے لئے بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں (ابو حیان) [14]
معارف القرآن میں مولانا ادریس کاندھلویؒ :اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍکی تفسیر کرتے ہوےرسول اللہﷺ کے اخلاق سےمتعلق نو احادیث درج کی ہیں۔ اسی طرح دیگر مفسرین نے بھی اس موضوع کی احادیث اور نبی کریم ﷺ کی سیرت سے اخلاقِ فاضلہ کے نمونے نقل کیے ہیں۔ [15]
تفسیرِ جلالین میں امام جلال الدین سیوطی نے سورۃ القلم کی آیت نمبر 4: وانک لعلی خلق عظیم [16] کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ’’خلق عظیم سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ تو اس خلق پر ہیں کہ جس کا حکم اللہ نے قرآن میں دیا ہے، یا اس سے مراد تہذیب و شائستگی نرمی و شفقت، امانت و صداقت، حلم وکرم اور دیگر اخلاقی خوبیاں ہیں، جن میں آپ ﷺ نبوت سے پہلے بھی ممتاز تھے اور نبوت کے بعد ان میں مزید اور وسعت آئی، اسی لئے جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے آپ ﷺ کے خلق کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: کان خلقہ القرآن (صحیح مسلم)
بلند اخلاقی اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ کفار آپ ﷺ پر دیوانگی اور جنون کی جو تہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں، دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہو، اس کے برعکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور سلیم الفطرت ہے، رسول اللہ ﷺ کے اخلاق سے اہل مکہ ناواقف نہیں تھے، اس لئے ان کی طرف محض اشارہ کردینا ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ مکہ کا ہر معقول آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے کہ وہ لوگ کس قدر بےشرم ہیں جو ایسے بلند اخلاق آدمی کو مجنون کہہ رہے ہیں، ان کی یہ بےہودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دماغی توازن آپ ؐ کا نہیں بلکہ ان لوگوں کا خراب ہے جو مخالفت کے جوش میں پاگل ہو کر پاگلوں والی باتیں کرتے ہیں، یہی معاملہ ان مدعیان علم و تحقق کا بھی ہے جو اس زمانہ میں رسول اللہ ﷺ پر مرگی اور جنون کی تہمت رکھتے ہیں۔
آپ ﷺ کے اخلاق کے سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ قول ”کان خلقہٗ القرآن“قرآن آپؐ کا اخلاق تھا، کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دنیا کے سامنے محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہیں فرمائی بلکہ خود اس کا مجسم نمونہ بن کر دکھایا تھا، ایک اور روایت میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی خادم کو نہیں مارا اور نہ کبھی عورت پر ہاتھ اٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپؐ نے کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہﷺ کی خدمت کی ہے، آپ ﷺ نے کبھی میری کسی بات پر اف تک نہ کی، کبھی میرے کام پر یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کیوں کیا ؟ اور کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کیوں نہ کیا ؟
۴۔ نبی کریم ﷺ کی صفتِ محبت ومہربانی
اسلام میں محبت ومہربانی ایک نیک وپسندیدہ صفت ہے جس کی بنا پہ دشمن بھی دوست بن جایا کرتے ہیں۔خود مصداق رَحْمَتيوَسِعَتْكُلَّ شَيْء [17]پروردگار نے اپنے حبیبﷺکوبھی اس خاص صفت سےمتصف قراردیااورفرمایا:
لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ [18]
"بے شک آچکے تمہارے پاس (اے لوگو ! ) ایک عظیم الشان رسول خود تم ہی میں سے، جن پر بڑا گراں ہے تمہارا مشقت (و تکلیف) میں پڑنا، جو بڑے حریص ہیں تمہاری فلاح (و بہبود) کے، انتہائی شفیق، اور بڑے مہربان ہیں ایمان والوں پر۔"
جناب سید فضل الرحمٰن ، تفسیر احسن البیان میں آیتِ مذکور کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ انبیاء کرام کا کام یہ ہے کہ شفقت ورحمت اور ہمدردی و خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ خلق خدا کو اللہ تعالیٰ کی طرف آنے کی دعوت دیں۔ اگر مخلوق کی طرف سے ان کو کوئی تکلیف پیش آئے تو اس کو اللہ کے سپرد کردیں اور اسی پر بھروسہ کریں ۔
مفسرِ موصوف کے بقول اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اس نے تمہیں میں سے ایک شخص کو رسول بناکر بھیجا تمہارے پاس ، جس طرح تم انسان ہو، وہ بھی انسان ہے۔ وہ تمہارے درمیان تمہاری ہی طرح زندگی بسر کرتا ہے تم اس کے حسب ونسب ، اس کی عفت و پاکیزگی ، خلاق سے واقف ہو ۔
تم اس کے اٹھنے بیٹھنے ، آنے جانے اور صدق وامانت ، سب ہی باتوں کو جانتے ہو ، جاہلیت کے زمانے میں اس کے خاندان پر کوئی دھبہ نہیں ، وہ تمہارا ہم جنس ہونے کے علاوہ ، تمہارا غایت درجہ ہمدرد شفیق اور مہربان ہے امت کی تکلیف ان کو نہایت شاق گزرتی ہے یہ تم پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے ورنہ اگر وہ کسی جن یا فرشتے کو رسول بناکر تمہارے پاس بھیج دیتا تو تم نہ تو اس سے مانوس ہوتے اور نہ وہ تمہارا اس درجہ ہمدرد خیرخواہ ہوتا ۔ لہٰذا تمہارے لیے اس سے پوری طرح استفادہ کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ۔ ایسے شفیق ومہربان کی بات نہ ماننا اور اس کے ساتھ ضد وعناد کا معاملہ کرنا سراسر عقل فطرت کے خلاف ہے ، سو اگر یہ لوگ اس قدر شفقت ومہربانی کے مشاہدے کے بعد بھی آپ سے روگردانی کریں اور اپنے بغض وعناد پر قائم رہیں تو آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور کہہ دیجئے کہ مجھے تو بس اللہ ہی کافی ہے ۔ وہی تمہارے شر سے میری حفاظت کرے گا ، اور مجھے تم پر غالب کرے گا ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو نفع وضرر کا مالک ہو ، میں نے اپنے سب کام اسی کے سپرد کردیے ہیں جو عرش عظیم کا مالک ہے ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق قرآن کریم کی یہ آخری آیتیں ہیں ان کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی ، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی، حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے ۔
حدیث میں ان دو آیتوں کے بڑے فضائل مذکور ہیں ، حضرت ابودرداء فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح وشام سات مرتبہ یہ آیتیں پڑھ لیاکرے تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیا وآخرت کے سارے کام بنادے گا ، اور جو ارادہ کررہا ہو اس کو پورا کرے گا ۔ ‘‘ [19]
۵۔نبی کریم ﷺ کی صفتِ رحمۃ ٌللعالمینؐ
وَماأَرْسَلْناك َإِلاَّرَحْمَةًلِلْعالَمينَ [20] (اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لیے رحمت ہی رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ )
آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃللعالمینؐ کے لقب سے سرفراز فرمایا۔ آپ کی مکمل حیات، محبت و رحمت کا نمونہ تھی۔ آپ اپنوں کےلئے پیکرمحبت تھے تو دشمنوں کےلئےوجودرحمت ۔
مفتی اصغر علی ربانی اپنی تفسیر، ’’تفسیرِ ربانی‘‘ میں، مذکور آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
عالمین ،جمع ہے عالم کی۔ اس میں ساری مخلوقات :انسان، جن، حیوانات، نباتات، جمادات، سب داخل ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے، یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کی موت یعنی قیامت آئے گی اور جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اور عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا، کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک اللہ تعالیٰ کا ذکر اور عبادت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی تعلیمات سے قائم ہے؛ اس لیے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انا رحمۃ مھداۃ میں اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی رحمت ہوں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انا رحمۃ مھداۃ برفع قوم و خفض آخرین یعنی : میں اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں، تاکہ (اللہ تعالیٰ کے حکم ماننے والی) ایک قوم کو سربلند کر دوں اور دوسری قوم جو اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے والے نہیں ان کو پست کر دوں۔[21]
مولانا محمد اسلم صدیقی، رحمت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت
وہ ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کرنے کے نتیجے میں یہ دنیا بھی جنت بن جائے اور آخرت میں ہمیشہ کی زندگی میں سرخروئی کا باعث بنے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ایک تو اس وجہ سے اہل دنیا کے لیے رحمت ہے کہ دنیا والوں کو آپ کے واسطے سے وہ پیغام سرمدی ملا ہے جو یہاں بھی اور وہاں بھی کامیابی و کامرانی اور اللہ تعالیٰ کے تقرب کی ضمانت ہے اور مزید یہ کہ یہ پیغام نوع انسانی تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول نے جس شفقت، رأفت، رحمت و محبت اور ہمدردی و جاں نثاری اور ایثار و قربانی کا ثبوت دیا ہے وہ بجائے خود رحمت کا ذریعہ بھی ہے اور رحمت کا اسوہ بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ہدایت کے طفیل ایک باپ شفقت کا پیکر بنا، بیٹا ادب اور فرمان برداری کی تصویر بنا، ماں اپنی اولاد کے لیے سرتا پا ایثار ہوگئی، بچوں نے ان کے قدموں میں اپنی جنت کی بہار دیکھی۔ اس تعلق کے پھلنے پھولنے سے معاشرے کی پہلی اینٹ رکھی گئی جس میں صرف چند افراد کی زندگی ہی دکھائی نہیں دیتی بلکہ شفقت، محبت، ایثار و قربانی اور ایک دوسرے کے لیے جینے اور مرنے کا اسلوب بھی دکھائی دیتا ہے۔ ایسی اینٹوں سے جب اسلامی معاشرہ پروان چڑھتا ہے تو خاندان وجود میں آتا ہے۔ اور ایسے ہی چند خاندان اسلامی معاشرے کو وجود بخشتے ہیں اور اسلامی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی بن جاتے ہیں۔ اسی میں ہمسائیگی کا شعور پیدا ہوتا ہے، آداب جوار کا سبق ملتا ہے، ہر گھر دوسرے گھر کا محافظ بن جاتا ہے، افراد فرائض اور حقوق سے بہرہ ور ہو کر زندگی کی آسودگی کی ضمانت بن جاتے ہیں۔‘‘ [22]
تفسیر دعوۃ القرآن میں مولانا سیف اللہ خالدر قم طراز ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث کیا ہے، پس جو شخص اس رحمت کو قبول کرے اور اس نعمت کا شکر بجا لائے وہ دنیا و آخرت کی سعادت مندیوں اور کامرانیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لے گا اور جو اس رحمت کو قبول کرنے سے انکار کر دے گا، وہ دنیا و آخرت میں ناکام و نامراد رہے گا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کی، اے اللہ کے رسول ! مشرکین کے لیے بددعا کیجیے ! آپ نے فرمایا : ” میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، میں تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ “[23]۔ [24]
۶۔ نرم مزاجی
نبی کریم ﷺ کی ایک اہم صفت نرم مزاجی ہے۔ ا گرآپ کاوجوداس نرم مزاجی ومہربانی سےلبریز نہ ہوتا تو دشمن آپ کاکلمہ پڑھتے ہوئے نظر نہ آتے۔ آپ کے اطراف جمع ہو کر اپنی زندگی کی کامیابی و کامرانی کا درس حاصل نہ کررہےہوتے۔ جیساکہ قرآن نےکہا :
فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُم ْوَلَوْكُنْت َفَظًّاغَليظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوامِنْ حَوْلِك فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ [25]
"پس بسبب رحمت کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو ان کے لیے نرم واقع ہوا ہے اور اگر ہوتا سخت
مزاج سخت دل والا تو یہ بھاگ جاتے تیرے آس پاس سے پس تو ان کو معاف کر دے اور ان کے لیے مغفرت طلب کر اللہ تعالیٰ سے اور ان کے ساتھ مشورہ کر معاملات میں پس جب تو ارادہ کرلے پس اللہ تعالیٰ پر توکل کر بیشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے توکل کرنے والوں کے ساتھ ۔"
غلام رسول سعیدی ، صاحبِ تبیان القرآن نے اس آیت کی وضاحت میں جہاں اس مفہوم کی دیگر آیات لکھی ہیں، وہیں سیرتِ نبویﷺ سے ایسے بہت سے واقعات لکھے ہیں، جہاں نبی ﷺ نے مختلف لوگوں کو ان کی غلطیوں، کوتاہیوں کے باوجود معاف فرما دیا۔ [26]
تفسیر بیان القرآن میں ڈاکٹر اسرار احمد سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۲۸ ( لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ ) کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شے جو تمہیں مصیبت اور ہلاکت سے دوچار کرنے والی ہو وہ ان کے دل پر نہایت شاق ہے۔ آپ ﷺ تمہیں دنیا اور آخرت دونوں کی ہلاکتوں اور مصیبتوں سے محفوظ اور دونوں کی سعادتوں سے بہرہ مند دیکھنا چاہتے ہیں۔اور آپ ﷺ کی شدید خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام خیر ، ساری خوبیاں اور ساری بھلائیاں تم لوگوں کو عطا فرما دے۔( حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ)[27]
۷۔ بخشش و بردباری
دوسروں کو معاف کردینا صفات حسنہ میں سے ہے اور اس صفت کا حامل انسان وسعتِ صدر کا مالک ہوتا ہے۔ نادان افراد کی نادانیوں سے گریز اختیار کرنے والا حلیم وبردبار کہلاتا ہے۔ خداوند عالم مرسل اعظمﷺ کی بخشش وحلم وبردباری کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمارہاہے :
خُذِالْعَفْوَوَأْمُرْبِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْعَنِ الْجاهِلين [28]
"اےرسول! درگزر سے کام لیں ، نیک کاموں کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کش ہو جائیں۔"
روایتوں میں مذکور ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا جس کا بہترین نمونہ فتح مکہ ہے، جہاں دوسرے افراد اپنے دیرینہ دشمن مشرکین وکافرین مکہ سے بدلہ لینا چاہتے تھے، وہاں مظہرِ رحمت الہی نے عفووبخشش کا اعلانِ عام فرمایا، جس کےبعددنیانے يَدْخُلُونَ فيدينِ اللَّهِ أَفْواجاً کاحسین ترین منظردیکھا۔
تیسیر القرآن میں مولانا عبد الرحمٰن کیلانی ، آیتِ مذکور کی وضاحت میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت مختصر الفاظ میں تین نصیحتیں بیان فرمائی ہیں: (عفو و درگزر، اچھی باتوں کا حکم، بحث میں پرہیز، جوابی کارروائی سے اجتناب)
مولانا کیلانی اس ضمن میں رقم طراز ہیں: "پچھلی چند آیات میں مشرکین کے معبودان باطل پر اور خود مشرکوں پر سنجیدہ الفاظ میں تنقید کی گئی ہے۔ جس کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ آپ کے خلاف زہر اگلنا یا آپ کو برا بھلا کہنا شروع کردیں۔ اندریں صورت آپ کو درگزر کرنے کی روش اختیار کرنا چاہیے، حوصلہ اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔ اپنے رفقاء کی کمزوریوں پر بھی اور اپنے مخالفین کی اشتعال انگیزیوں پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے کیونکہ دعوت حق کے دوران اشتعال طبع سے بسا اوقات اصلی مقصد کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور یہ صفت آپ میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَھُمْ )[29] میں اس صفت کا تذکرہ فرمایا ہے۔"[30]
۸۔ہمدردی
ایک دوسرے سے ہمدردی انسانیت کا تقاضا اورتقویتِ ایمان کی علامت ہے۔ رحمۃ ٌللعالمینﷺ کو اپنی امت سےبہت ہی گہرا تعلق تھا۔ اگر کسی کا ایمان ضعیف ہوتا تو اس کے ایمان کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے، ان کی ہدایت کے لئے مسلسل سعی وکوشش کیا کرتے تھے، جسے قرآن نے یوں بیان کیا : فَلَعَلَّكَ باخِعٌ نَفْسَكَ عَلى آثارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهذَا الْحَديثِ أَسَفا [31] (پس اگر یہ لوگ اس (قرآنی) مضمون پر ایمان نہ لائے تو ان کی وجہ سے شاید آپ اس رنج میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔) رسول اکرمﷺبہت چاہتے تھے کہ انسان دولت اسلامی سے مالامال اور عزت ایمانی سے سرفراز ہو۔ آنحضرت رنجیدہ ہو جاتے کہ کیوں قرٓان و اسلام جیسے شیریں چشمہ کے کنارے رہ کر بشریت پیاس سے بلک رہی ہے؟
سید فضل الرحمٰن لکھتے ہیں : ’’ مشرکین آپ سے اعراض کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے ۔ اس پر آپ کو رنج و افسوس ہوتا تھا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی کے لیے فرمایا کہ اگر یہ کافر اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو آپ اپنے آپ کو ان کے غم میں نہ گھلائیے بلکہ آپ تو دعوت و تبلیغ کا فرض ادا کرتے رہئے ۔ کوئی نہ مانے تو اس پر آپ کو غم گین ہونے کی ضرورت نہیں ۔ دعوت و تبلیغ اور شفقت و ہمدردی کے جو کام آپ کرتے ہیں وہ آپ کے رفع مراتب اور ترقی مدارج کا ذریعہ ہیں ۔ اگر یہ بدبخت آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے تو اس میں ان ہی کا نقصان ہے ۔‘‘ [32]
حضورﷺغمزدہ ہوجاتے کہ کیوں عقلِ کل کی موجودگی میں انسانیت جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہی ہے؟ پیغمبرﷺدشمنوں کے اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ سے غمگین ہوجاتے تھے، ان کے ایمان نہ لانے پہ رنجیدہ ہو جاتے تھے جس کی بنا پہ خداوند عالم نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا: وَلاتَحْزَنْعَلَيْهِم ْوَلاتَكُنْ فيضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ [33]اور (اےرسول) ان (کےحال) پر رنجیدہ نہ ہوں اور نہ ہی ان کی مکاریوں پر دل تنگ ہوں) رسول خداانسانوں کی ہدایت کےعاشق و بشریت کےحامی ومددگارتھے ۔
۹۔عالمگیر رسالت
خصائصِ رسول ﷺمیں سے ہے کہ آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ کی نبوت و رسالت عالمگیر نوعیت کی ہے جس میں روئے زمین کے تمام انسان اور تاقیامت آنے والی تمام ارواح شامل ہیں، جن کے لیے آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ۔ارشادِ ربانی ہے:
قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ [34]
"اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہہ دیں اے انسانو بیشک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تم سب کی طرف وہ اللہ جس کے لیے حکومت ہے آسانوں اور زمین کی نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے پس تم ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر جو نبی ہے ان پڑھ وہ نبی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اس کے فیصلوں پر اور تم اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاجاؤ ۔"
تفسیربیان القرآن میں ڈاکٹر اسرار احمد ، مذکور آیت کی تشریح میں کہتے ہیں کہ اس آیت کا سیاق وسباق گویا یوں ہوگا کہ اے محمد ﷺ اب آپ علی الاعلان کہہ دیجیے کہ میں ہی وہ رسول ہوں جس کا ذکر تھا تورات اور انجیل میں ، مجھ پر ہی ایمان لانے کی تاکید ہوئی تھی موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو ، میری ہی دعوت پر لبیک کہنے والوں کے لیے وعدہ ہے اللہ کی خصوصی رحمت کا ‘ اور اب میری ہی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کرنے والوں کو ضمانت ملے گی ابدی و اخروی فلاح کی!
دوسری اہم بات یہاں یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ اس سورة میں ہم نے اب تک جتنے رسولوں کا تذکرہ پڑھا ہے ، ان کا خطاب ’’یَا قَوْمِ (اے میری قوم کے لوگو !) کے الفاظ سے شروع ہوتا تھا ، مگر محمد عربی ﷺ کی یہ امتیازی شان ہے کہ آپ ﷺ کسی مخصوص قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوئے بلکہ آپ ﷺ کی رسالت آفاقی اور عالمی سطح کی رسالت ہے اور آپ ﷺ پوری بنی نوع انسانی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ۔۔یہ بات مختلف الفاظ اور مختلف انداز میں قرآن حکیم کے پانچ مقامات پر دہرائی گئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت پوری نوع انسانی کے لیے ہے۔[35]
۱۰۔ مقامِ محمود اور شفاعت عظمٰی کا شرف
خصائصِ رسول ﷺ میں سے یہ بھی ہے کہ آپ کو اللہ رب العزت نے شفاعت کا حق دار اور مقام محمود سے نوازا ہے جس کی طرف اشارہ درج ذیل آیت میں ہے:
وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا [36]
مفسرِ قرآن ڈاکٹر اسرار احمد کے بقول”مقام محمود“ بہت ہی اعلیٰ اور ارفع مقام ہے جس پر آنحضورﷺ کو میدان حشر میں اور جنت میں فائز کیا جائے گا۔ ہم اس مقام کی عظمت اور کیفیت کا اندازہ اپنے تصور سے نہیں کرسکتے۔نیز ہمیں اذان کے بعد جو دعا سکھائی گئی ہے اس میں ہر شخص آپ کے لیے مقام محمود پر کھڑا ہونے کی دعا کرتا ہے ۔ [37]
مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے، سورۃ بقرۃ کی آیت: وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ[38] کی توضیح کے ضمن میں رسول اللہ ﷺ کی صبر استقامت کی خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے، متعدد روایات نقل کی ہیں : حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کو جب کوئی امرپیش آتا تو فوراً گھبرا کر نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔[39] صہیب رومیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنےارشادفرمایاکہ حضرات انبیاءکوجب پریشانی آتی تو نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے۔[40] عبداللہ بن عباسؓ ایک مرتبہ سفر میں تھے کہ بیٹے کی وفات کی خبر دی گئی تو سواری سے اترے اور دو رکعت نماز پڑھی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور یہ فرمایا کہ ہم نے ویسا ہی کیا جیسا اللہ نے ہم کو حکم دیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی : وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ[41]
۱۱۔ ختم نبوت پر استدلال
مفسرِ قرآن مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنی تفسیر میں کئی مقامات پر ختمِ نبوت پر استدلال کیا ہے اور قادیانیت کے عقائد و نظریات کی تردید کی ہے۔ قرآنِ حکیم میں ذیل کی آیت:اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ[42]میں عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے پر لفظ توفّی اور رفعِ جسمانی پر نہایت فاضلانہ معنوی اور لفظی بحث کی ہے- اس بحث سے مرزائیوں/قادیانیوں کا واضح ابطال کیا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قائل ہیں۔ [43] وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَالْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَن ْيُّقْبَلَ مِنْهُۚ وَھُوَفِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ[44]کے ذیل میں مصنف نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ جب خدا کا دینِ اسلام اپنی مکمل صورت میں آ پہنچے تو کوئی جھوٹا یا نا مکمل دین قبول نہیں کیا جا سکتا- طلوعِ آفتاب کے بعد مٹی کے چراغ جلانا یا گیس ،بجلی اور ستاروں کی روشنی تلاش کرنا، محض لغو اور کھلی حماقت ہے- مقامی نبوتوں اور ہدایتوں کا عہد گزر چکا۔ اب سب سے بڑی ،آخری اور عالمگیر نبوت و ہدایت سے ہی روشنی حاصل کرنی چاہیے کہ یہ ہی تمام روشنیوں کا خزانہ ہے ،جس میں پہلی تمام روشنیاں مدغم ہو چکی ہیں۔[45]
سورة المومنون کی آیت نمبر ۵۰: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗٓ اٰيَةً وَّاٰوَيْنٰهُمَآ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ کی تفسیر میں عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے بارے میں قادیانیوں کے جھوٹے خیالات کی تردید کی ہے۔[46] اس طرح تمام ضروری مقامات پر احقاقِ حق کیاہے۔
۱۲۔ نبی کریم ﷺ پر درودوسلام پڑھنے کی ترغیب
آیت کریمہ:اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۗىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ ۭ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا
تَسْلِــيْمًا [47] میں نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں پیر کرم شاہ الازھری نے گیارہ حدیثیں ذکر کی ہیں۔233
۱۳۔منتخب صفاتِ رسول ﷺ کا بیان
ابو الحسنات قادری نےتفسیر الحسنات میں مندرجہ ذیل آیت کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق آیت کی تفسیر میں قرآن بالقرآن سے تفسیر کرتے ہوئے خصائصِ نبوی کو بیان کیا : انَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا ۔وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا۔[48](اے نبی! یقیناً ہم نے ہی آپ کو (رسول بنا کر ) گواہیاں دینے والا ، خوشخبری سنانے والا بھیجا ہےاور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ) یہاں سراجاً منیراً کا معنی سورج کیا ۔دلیل میں آیت پیش کی: وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا [49] وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا[50]
مولانا محمد علی صدیقی کاندھلوی نےتفسیر معالم القرآن میں نبوت کےاثبات میں متعدد مقامات پر بحث کی ہے۔مثلاً آیت: اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ۔۔۔الخَ [51]کی تفسیر میں اوصاف نبوی ﷺ پر گفتگو کی اور کتب سابقہ میں سے تیئس(۲۳) بشارتیں نبوت محمدیہ ﷺ کے متعلق ذکر کرکے طویل بحث ومناقشہ کیاجو سو (۱۰۰) صفحات تک پھیلاہواہے۔ ہر صفت اپنے سلسلےکاایک مستقل رسالہ ہے۔[52]
تفسیراسرار التنزیل میں مولانا محمد اکرم اعوان نے سنت وسیرت نبویﷺ کو تفسیر کا اہم ترین مصدر قرار دیا ہے۔ اُن کی نظر میں صرف کتاب نافع نہیں، جب تک دِل پاک ہو کر اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں، جو صحبتِ رسولﷺ کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو، تب بھی کتاب اللہ کی شرح وہی معتبر ہو گی جو نبی اور رسول سے منقول ہو۔اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۙ وَّلَا تُسْـــَٔـلُ عَن ْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْمِ [53]کے تحت آپ کی سیرت ،آپ کی صورت، آپ کےمعجزات، آپ کی تعلیمات اور آپ کی پیشن گوئیوں، ان سب کو اہل یقین کےلیے مشعل راہ قرار دیا ہے۔نیز لکھا ہے: سبحان اللہ! کیا کرم ہے ، اللہ رسول ﷺ کا فرکی ذات سے متنفر ہونے کی بجائے اُسے مبتلائے کفر دیکھ کر اُس کا دُکھ محسوس فرماتا ہے کہ آخر اللہ کا بندہ تو ہے، بے چارہ بھٹک گیا ہے اور ہمیشہ دوزخ میں جلے گا، تو مومنین کے ساتھ کس قدر شفیق ہوگا۔[54]
۱۴۔ نبی کریم ﷺ کا اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہونا
تیسیر القرآن از مولانا عبدالرحمٰن کیلانی نے آیت کریمہ: يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْك َمِن ْرَّبِّك َۭوَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِن َالنَّاسِ[55](اے رسول جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیاہے اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے پس اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کا پیغام پہنچانے کا حق ادا نہ کیا اور اللہ آپ کو لوگوں (کےشر)سے محفوظ رکھے گا۔)کی تفسیر عام مفسرین کی نسبت منفرد انداز میں کی ہے۔آپ ﷺ کےاعلان نبوت کے بعد مکی ومدنی زندگی میں ہونےوالے قاتلانہ حملوں کو ترتیب وار بیان کیا ہے اور اہم تاریخی واقعات سے استدلال کیاہے۔مصنف کی تحقیق کے مطابق آپ ﷺ کا زمانہ نبوت تئیس ۲۳ سالہ ہے۔ابتدائی تین سال تو انتہائی خفیہ تبلیغ کے ہیں۔باقی بیس سال کے عرصہ میں آپ ﷺ پر سترہ بار قاتلانہ حملے یا آپ ﷺ کو قتل کردینےکی سازشیں تیار ہوئیں۔ان میں سے نو۹حملے تو قریش مکہ کی طرف سے ہوئے،تین ۳یہود سے،تین بدوی قبائل سے،ایک منافقین سے اور ایک شاہ ایران خسرو پرویز سے اور غالباً اس دنیا میں کسی بھی دوسرے شخص پر اتنی بار قاتلانہ حملے نہیں ہوئےا ور ہر بار اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بذریعہ وحی مطلع کرکے یا مدد کرکے آپﷺ کو دشمنوں سے بچاکر اپنا وعدہ پورا کردیا۔[56]
۱۵۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی انعامات
سورہ الم نشرح میں نبی کریم ﷺ کو ورفعنا لک ذکرک کی خوش خبری دی گئی۔ چونکہ رسول اللہﷺ کی تسلی کے لیے نازل ہوئی تھی، اس لیے یہ نبی ﷺ کی خصوصیت شمار ہوگی ۔
تفہیم القرآن میں سید ابو الاعلیٰ مودودی اس سورت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کفار مکہ کا پروپیگنڈا جتنا جتنا بڑھتا چلا گیا لوگوں میں یہ جستجو بڑھتی چلی گئی۔ پھر جب اس جستجو کے نتیجے میں لوگوں کو آپ کے اخلاق اور آپ کی سیرت و کردار کا حال معلوم ہوا، جب لوگوں نے قرآن سنا اور انہیں پتہ چلا کہ وہ تعلیمات کیا ہیں، جو آپ پیش فرما رہے ہیں، اور جب دیکھنے والوں نے دیکھا کہ جس چیز کو جادو کہا جا رہا ہے اس سے متاثر ہونے والوں کی زندگیاں عرب کے عام لوگوں کی زندگیوں سے کس قدر مختلف ہوگئی ہیں، تو وہی بد نامی نیک نامی سے بدلنی شروع ہوگئی۔ حتی کہ ہجرت کا زمانہ آنے تک نوبت یہ پہنچ گئی کہ دور و نزدیک کے عرب قبائل میں شاید ہی کوئی قبیلہ ایسا رہ گیا ہو، جس میں کسی نہ کسی شخص یا کنبے نے اسلام قبول نہ کرلیا ہو، اور جس میں کچھ نہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اور آپ کی دعوت سے ہمدردی و دلچسپی رکھنے والے پیدا نہ ہوگئے ہوں۔ یہ حضور کے رفعِ ذکر کا پہلا مرحلہ تھا۔
اس کے بعد ہجرت سے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا جس میں ایک طرف منافقین، یہود اور تمام عرب کے اکابر مشرکین رسول اللہ ﷺ کو بد نام کرنے میں سرگرم تھے، اور دوسری طرف مدینہ طیبہ کی اسلامی ریاست خدا پرستی و خدا ترسی، زہد وتقوی، طہارت اخلاق، حسن معاشرت، عدل و انصاف، انسانی مساوات، مالداروں کی فیاضی، غریبوں کی خبر گیری، عہد و پیمان کی پاسداری اور معاملات میں راست بازی کا وہ عملی نمونہ پیش کر رہی تھی جو لوگوں کے دلوں کو مسخر کرتا چلا جا رہا تھا۔ دشمنوں نے جنگ کے ذریعہ سے حضور کے اس بڑھتے ہوئے اثر کو مٹانے کی کوشش کی مگر آپ کی قیادت میں اہل ایمان کی جو جماعت تیار ہوئی تھی ،اس نے اپنے نظم و ضبط، اپنی شجاعت، اپنی موت سے بےخوفی، اور حالت جنگ تک میں اخلاقی حدود کی پابندی سے اپنی برتری اس طرح ثابت کردی کہ سارے عرب نے ان کا لوہا مان لیا۔ 10 سال کے اندر حضور کا رفعِ ذکر اس طرح ہوا کہ وہی ملک جس میں آپ کو بدنام کرنے کے لیے مخالفین نے اپنا سارا زور لگایا تھا اس کا گوشہ گوشہ اشھد ان محمداً رسول اللہ کی صدا سے گونج اٹھا۔
پھر تیسرے مرحلے کا افتتاح خلافت راشدہ کے دور سے ہوا جب آپ کا نام مبارک تمام روئے زمین میں بلند ہونا شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ آج تک بڑھتاجا رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک بڑھتا چلا جائے گا۔ دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی کوئی بستی موجود اور دن میں پانچ مرتبہ اذان میں بآواز بلند محمد ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ ہو رہا ہو، نمازوں میں حضور پر درود نہ بھیجا جا رہا ہو، جمعہ کے خطبوں میں آپ کا ذکر خیر نہ کیا جا رہا ہو، اور سال کے بارہ مہینوں میں سے کوئی دن اور دن کے 24 گھنٹوں میں سے کوئی وقت ایسا نہیں ہے جب روئے زمین میں کسی نہ کسی جگہ حضور کا ذکر مبارک نہ ہو رہا ہو۔ قرآن کی صداقت کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ جس وقت نبوت کے ابتدائی دور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ و رفعنا لک ذکرک اس وقت کوئی شخص بھی یہ اندازہ نہ کرسکتا تھا کہ یہ رفع ذکر اس شان سے اور اتنے بڑے پیمانے پر ہوگا۔ حدیث میں حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، " جبریل میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ میرا رب اور آپ کا رب پوچھتا ہے کہ میں نے کس طرح تمہارا رفع ذکر کیا ؟ میں نے عرض کیا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ تمہارا بھی ذکر کیا جائے گا "۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، مسند ابو یعلی، ابن المنذر، ابن حبان، ابن مردویہ، ابو نعیم) بعد کی پوری تاریخ شہادت دے رہی ہے کہ یہ بات حرف بحرف پوری ہوئی۔[57]
معارف القرآن میں مفتی محمدشفیع رقم طراز ہیں:
"اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا (یعنی اکثر جگہ شریعت میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کا نام مبارک مقرون کیا گیا، "کذا فی الدر المنشور مرفوعاً قال اللہ تعالیٰ اذا ذکرت ذکرت معی"یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں میرا ذکر ہوگا آپ کا ذکر بھی میرے ساتھ ہوگا (رواہ ابن جریر و ابن ابی حاتم) جیسے خطبہ میں تشہد میں نماز میں اذان میں اقامت میں اور اللہ کے نام کی رفعت اور شہرت ظاہر ہے پس جو اس کے قرین ہوگا رفعت و شہرت میں وہ بھی تابع رہے گا اور چونکہ مکہ میں آپ اور مؤمنین طرح طرح کی تکالیف و شدائد میں گرفتار تھے اس لئے آگے ان کے ازالہ کا بطریق تفریع علی السابق کے وعدہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے آپ کو روحانی راحت دی اور روحانی کلفت رفع کردی جیسا الم نشرح الخ سے معلوم ہوا) سو اس سے دنیوی راحت و محنت میں بھی ہمارے فضل و کرم کا امیدوار رہنا چاہئے چنانچہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بےشک موجودہ مشکلات کے ساتھ (یعنی عنقریب ہی جو حکماً ساتھ ہونے کے معنے میں ہے) آسانی (ہونے والی) ہے (اور چونکہ ان مشکلات کے انواع و اعداد کثیر تھے اس لئے اس وعدہ کو مکرر تاکید کے لئے فرماتے ہیں کہ) بے شک موجودہ مشکلات کے ساتھ آسانی (ہونیوالی) ہے (چنانچہ وہ مشکلات ایک ایک کر کے سب رفع ہوگئیں جیسا روایات احادیث و سیروتواریخ اس پر متفق ہیں، آگے ان نعمتوں پر شکر کا حکم ہے کہ جب ہم نے آپ کو ایسی ایسی نعمتیں دی ہیں) تو آپ جب (تبلیغی احکام سے دوسروں کی نفع رسانی کی وجہ سے عبادت ہے) فارغ ہوجایا کریں تو (دوسری عبادات متعلقہ بذات خاص میں) محنت کیا کیجئے (مراد کثرت عبادت و ریاضت ہے کہ آپ کی شان کے یہی مناسب ہے) اور (جو کچھ مانگنا ہو اس میں) اپنے رب ہی کی طرف توجہ رکھئے (یعنی اسی سے مانگئے اور اس میں بھی ایک حیثیت سے بشارت ہے۔ زوال عسر کی کہ خود درخواست کرنے کا حکم گویا درخواست پورا کرنے کا وعدہ ہے۔"[58]
۱۶۔ سورۃ کوثر میں ذکر کردہ خصائص
سورہ کوثر بھی مذکورہ سورتوں کی قبیل سے ہے جس میں خصائص نبی ﷺ کا ذکر ہے ۔تفسیر القرآن الکریم کے مصنف مولانا عبد السلام بھٹوی اس ضمن میں لکھتے ہیں:
" انا اعطینک الکوثر :”الکوثر“”کثرۃ“ سے ”فوعل“ کا وزن ہے جو مبالغے کا معنی دے رہا ہے، بےانتہا کثرت۔ یعنی دشمن تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آپ کو بےانتہا دیا ہے۔”الکوثر“ میں وہ ساری خیرِکثیر شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی، مثلاً اسلام، نبوت، اخلاق حسنہ، بہترین تابع دار امت، جنت اور دوسری نعتیں جو شمار نہیں ہوسکتیں۔ لغت کے لحاظ سے ”الکوثر“ کا معنی یہی ہے ، البتہ بہت سی صحیح احادیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے جو اللہ نے مجھے عطا فرمائی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ محشر میں آپ ﷺ کو جو حوض عطا کرے گا اس کا نام بھی آپ ﷺ نے کوثر بتایا۔ اس لحاظ سے یہ تفسیر مقدم ہے، مگر ترجیح کی ضرورت تب ہے، جب دونوں تفسیروں میں تعارض ہو، جو یہاں ہے ہی نہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ سعید بن جبیر (رحمۃ اللہ علیہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے ”الکوثر“ کے متعلق فرمایا :”اس سے مراد وہ خیر ہے جو اللہ نے آپ ﷺ کو عطا فرمائی۔“ راوی کہتا ہے کہ میں نے سعید بن جبیر (رحمۃ اللہ علیہ) سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ جنت میں ایک نہر ہے ؟ تو سعید (رحمۃ اللہ علیہ) نے کہا :”جنت میں جو نہر ہے وہ بھی اس خیر میں شامل ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی۔“[59]
۱۷۔ رسول اللہ ﷺ سے پیش قدمی کی ممانعت:
سورۃ الحجرات کی آیت: یا یھا الذین امنوا لاتقدموا بین یدی اللہ و رسولہ[60] کی وضاحت میں مولانا عبد السلام بھٹوی کہتے ہیں کہ یہاں آیت کا معنی ہوگا :”اللہ اور اس کے رسول سے آگے مت بڑھو۔“ آیت میں اللہ اور اس کے رسول کو اکٹھا ذکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رسول سے آگے بڑھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ سے آگے بڑھنا ہے، کیونکہ رسول وہی کہتا اور کرتا ہے جس کی وحی اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، فرمایا :(وما ینطق عن الھوی، ان ھو الا وحی یوحی)[61] (اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔) اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا بنیادی تقاضا بیان کیا گیا ہے کہ جب تم اللہ کو اپنا رب اور رسول کو اپنا ہادی اور رہبر مانتے ہو تو پھر ان کے پیچھے چلو، آگے مت بڑھو ! اپنے فیصلے خود ہی نہ کرلو، بلکہ پہلے یہ دیکھو کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم کیا ہے۔ یہ حکم سورة الاحزاب میں موجود حکم سے بھی ایک قدم آگے ہے، فرمایا :
"وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امراً ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضلاً مبیناً۔" [62]
"اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومت عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں کہ ان کے لئے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو یقیناً وہ گمراہ ہوگیا ، واضح گمراہ ہونا۔"
مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں:’’یعنی جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو کسی ایمان والے مرد یا ایمان والی عورت کو خود کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار باقی نہیں رہتا اور یہاں فرمایا کہ ایمان والوں کو پہل کرتے ہوئے اپنے فیصلے خود نہیں کرلینے چاہئیں، بلکہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کا حکم کیا ہے۔ یہ حکم مسلمانوں کے انفرادی معاملات میں بھی ہے اور اجتماعی معاملات میں بھی۔ کسی بھی شخص کو خواہ وہ کوئی عالم ہو یا امام یا پیر فقیر، یہ حق حاصل نہیں اور نہ ہی کسی جماعت یا پارلیمنٹ کا حق ہے کہ وہ اپنی طرف سے شریعت بنائے، کسی کام کو حلال یا حرام کہے، یا باعث ثواب یا گناہ قرار دے۔ اگر کوئی کسی کو یہ حق دیتا ہے تو وہ اسے اپنا رب بناتا ہے۔
اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت سے آگے مت بڑھو، ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ چنانچہ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کی تفسیر نقل فرمائی ہے :(لاتقدموا بین یدی اللہ ورسولہ) یقول لاتقولوا خلاف الکتاب والسنۃ) (طبری :31928) یعنی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف کوئی بات نہ کہو۔‘‘[63]
۱۸۔ مجلسِ رسول ﷺ کے آداب
سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 2 میں رفعِ صوت عند الرسول سے منع کا حکم ارشاد ہوا ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ [64]
" اے وہ لوگو جو ایمان لائے نہ بلند کرو اپنی آوازیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز پر اور نہ بولو اونچی آواز سے اس کے سامنے جیسا کہ بلند آواز سے بولنا تمہارا بعض بعض کے سامنے کہ حبط نہ ہوجائیں تمہارے اعمال اور تمہیں شعور بھی نہ ہو "
تفسیر مدنی میں مولانا اسحاق لکھتے ہیں:
"پیغمبر (علیہ السلام) سے حسن تخاطب کے متعلق ایک اہم ہدایت دی جارہی ہے کہ پیغمبر کے سامنے اور ان کو خطاب کرتے وقت تمہاری آواز متواضعانہ ہو، اور ادب و احترام کے تقاضوں کے عین مطابق ہو۔ اس طرح کی آواز ہو جو اپنے برابر کے شخص کیلئے ہوتی ہے اور نہ اس طرح کا انداز ہو۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے نام نامی کے ساتھ نہ پکارا جائے جس طرح کہ کسی عام آدمی کو پکارا جاتا ہے۔ بلکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے اوصاف کریمہ میں سے کسی خاص وصف کے ساتھ پکارا جائے۔ جیسے " یایھا الرسول " " یایھا النبی" اور " یایھا المزمل " وغیرہ اور اسی طرح تم لوگوں کی آواز متواضعانہ اور آداب رسالت کے تقاضوں کے عین مطابق ہونی چاہئے کہ آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان و رسالت و نبوت کا تقاضا یہی ہے۔" [65]
خلاصہ بحث
قرآنِ حکیم اور رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی میں باہم متعدد مناسبتیں ہیں۔قرآنِ حکیم میں رسول اللہ ﷺ کو وحی الٰہی کی صور ت میں اپنی دعوت کے آغا ز سے لے کر حجۃ الوداع کے آخر ی اجتما ع تک مختلف قسم کے حالا ت میں ہدایت و رہنما ئی ملتی رہی۔ قرآن حکیم کورسول اللہ ﷺکی ذات سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ قرآن اور سنت کے با ہمی تعلق میں ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ قرآن، رسول اللہ ﷺ کی سنت اور سیر ت کا بیان ہے۔نیز یہ کہ قرآن حکیم کی متعد د آیا ت میں رسول اللہ ﷺ کے فضا ئل وخصو صیا ت کا بیان ا ٓیا ہے۔ قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کی نور افشاں سیرت کو نمونہ عمل قرار دیا ہے۔قرآنِ حکیم نے نبی کریمﷺ کے کردار کو انسانوں کے لئے مثالی طرزِ حیات قرار دیا ہے۔
مفسرینِ برصغیر نے نبی کریم ﷺ کی آیاتِ اوصاف و خصائل کا بڑے والہانہ انداز میں تذکرہ کیا ہے۔ آیات میں مذکور خصائص کا اسوہ حسنہ کی روشنی میں جائزہ لیا ہے۔ ان اوصاف و خصائل کا قرآن میں مذکور دیگر مقامات کا تذکرہ کیا ہے۔ آیات کی وضاحت میں خوب شرح و بسط سے کام لیا ہے۔ سیرت رسول ﷺ کے مختلف پہلووں کو بیان کرتے ہوئے احادیث، تاریخ اور سیرت کی دیگر کتب کے حوالے دیئے ہیں۔رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے مثالیں پیش کی ہیں۔ صحابہ کرام کے اقوال اور ان کے طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے ان اوصاف کے تقاضوں کو بیان کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی اطاعت و اتباع کو محبت و چاہت کا لازمی تقاضا قرار دیا ہے۔ آپﷺ کی زندگی کو مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا ہے۔ نبی ﷺ کی عقیدت کے غیر متوازن مظاہر کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس ضمن میں مفسرینِ کرام کے قلم ، عقیدت کی روشنائی سے تر ہوتے ہیں۔ ان کی روانی ، ایک خاص ترنگ کی حامل ہوتی ہے۔ ادب کے کئی شہ پارے ، ان مضامین کے ان تفاسیر کی زینت ہیں۔ تشبیہات، تمثیلات، استعارات اور مترادفات کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ الغرض خصائصِ نبویﷺ کے بیان میں ان تفاسیر میں ایک خاص رنگ و آہنگ نظر آتا ہے۔
حواشی و حوالہ جات
[1] ۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلَنَا عَلَیْکَ الْقُرْآنَ تَنْزِیْلاً(سورۃالشعراء۲۶: ۲۱۴ )(بے شک ہم نے آپ پر یہ قرآن آہستہ آہستہ نا زل کیا ہے)
[2]۔ سورۃ الدھر۷۶:۲۳
Sūrah al-Dahr 76:32
[3] ۔ سورۃ الشعراء۲۶: ۲۱۴
Sūrah al-Shu’arā’ 26:214
[4]۔ سورۃ المائدہ۵ ؛ ۳
Sūrah al-Mā’idah 5:3
[5]۔ سورۃ الضحیٰ۹۳: ۳
Sūrah al-Ḍuḥā 93:3
[6]۔سورۃ آل عمران۳:۱۵
Sūrah al-‘Imrān 3:15
[7]۔ سورۃ الاحزاب۳۳ :۴۵،۴۶
Sūrah al-Aḥzāb 33: 45,46
[8] ۔ سورۃ الاحزاب۳۳: ۲۱
Sūrah al-Aḥzāb 33: 21
[9] ۔ عبدالستار شاہ: تفسیر منازل العرفان، غزالی برادرز، لاہور، ۲۰۰۱،جلد اول ، ص ۱۸۸
Abdul Sattār Shāh: Tafsīr Manāzil al-‘Irfān, Ghāzālī Brothers, Lāhore, 2001, vol. 1, pg. 188
[10] ۔ اسرار احمد: تفسیر بیان القرآن، انجمن خدام القرآن، لاہور، ۲۰۱۸ء، جلد دوم، ص ۲۱۳
Isrār Aḥmad, Tafsīr Bayān al-Qur’ān, Anjuman Khuddām al Qur’ān, Lāhore, vol. 2, pg. 213
[11] ۔ سورۃ الاحزاب۳۳: ۳۶
Sūrah al-Aḥzāb 33: 36
[12] ۔ کاندھلوی، محمد ادریس: تفسیر معارف القرآن، مکتبۃ المعارف، شہداد پور، ۲۰۰۱ء، جلد ہشتم، ص ۱۸۳
Kāndhalwī, Muḥammad Idrīs, Tafsīr Mu’ārif al-Qur’ān, Maktabah al Māarif, Shehdād Pūr, 2001,Vol. 8, pg. 183
[13] ۔ سورۃ القلم۶۸: ۴
Sūrah al-Qalam 68:4
[14] ۔ محمد شفیع ، مفتی ، معارف القرآن ، ج ۸، ص ۵۳۲
Muḥammad Shafī’, Mufti, Mu’ārif al-Qur’ān, vol. 8, pg. 532
[15] ۔ کاندھلوی ، محمد ادریس ، مولانا ، معارف القرآن ، ادارۃ المعارف، کراچی، ۲۰۰۹ء،ج ۸، ص ۱۸۳
Kāndhalwī, Muḥammad Idrīs, Tafsīr Mu’ārif al-Qur’ān, Idārh al Māarif, Karāchi, 2009, Vol. 8, pg. 183
[16] ۔ سورۃ القلم ۶۸: ۴
Sūrah al-Qalam 68:4
[17] ۔ سورۃ الاعراف۷: ۱۵۶
Sūrah al-A’rāf 7:156
[18] ۔ سورۃ التوبۃ ۹: ۱۲۸
Sūrah al-Tawbah 9:128
[19] ۔ سید فضل الرحمان، تفسیر احسن البیان، مکتبۃ السلام، لاہور،۲۰۱۵، جلد دوم، ص ۱۰۲
Syed Faḍal al-Reḥmān, Tafsīr Aḥsan al-Bayān, Maktabah Al-Sālam, Lāhore, 2015, vol.2, pg. 102
[20] ۔ سورۃ الانبیاء ۲۱: ۱۰۷
Sūrah al-Anbiyā’ 21:107
[21] ۔ اصغر علی ربانی ، مولانا ، مفتی ، تفسیر آسان القرآن )تفسیرِ ربانی) ، مکتبہ محمودیہ لاہور، ج ۱۰، ص۴۱
Aṣghar Ali Rabbānī, Mawlānā, Tafsīr Āsān al-Qur’ān (Tafsīr Rabbānī), Maktabh Mahm’oodia, Lāhore,vol. 10, pg. 41
[22] ۔ محمد اسلم صدیقی ، مولانا ، روح القرآن ، مکتبۃ البشریٰ، لاہور، ۲۰۰۳ء ، ج ۷، ص ۴۸۸۔۴۸۹
Muḥammad Aslam Siddīquī, Mawlānā, Rūḥ al-Qur’ān, Maktabah Al-Bushrā, Lāhore, 2003, vol. 7, pg. 488-489
[23] ۔ مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب النھی عن لعن الدواب وغیرھا : ۲۵۹۹
Muslim, Kitāb al-Birr wa al-Ṣilah, Bāb al-Nahy ‘An la’n al-Dawāb: 2599
[24] ۔ سیف اللہ خالد ، تفسیر دعوۃ القرآن ، مکتبہ قدوسیہ، لاہور، ۲۰۱۰ء ، ج:۳،ص:۶۵۷
Sayfullah Khālid, Tafsīr Da’wah al-Qur’ān, Maktabah Quddūsia, Lahore, 2010, vol. 3, pg. 657
[25] ۔سورۃ آل عمران ۳: ۱۵۹
Sūrah al-‘Imrān 3:159
[26] ۔ غلام رسول سعیدی ، تبیان القرآن ، فرید بک سٹال، لاہور، ۲۰۰۰ء، ج۲، ص ۴۰۱
Ghulām Rasūl Sa’īdī,Tibyān al-Qur’ān, Farīd Book Stāll, Lāhore, 2000, vol. 2, pg. 401
[27] ۔ اسرار احمد ، ڈاکٹر ، بیان القرآن ، حصہ سوم ، ص :۳۳۱
Isrār Aḥmad, Dr, Bayān al-Qur’ān, vol. 3, pg. 331
[28] ۔ سورۃ الاعراف۷: ۱۹۹
Sūrah al-A’rāf 7:199
[29] ۔ آل عمران۳ :۱۵۹
Sūrah al-‘Imrān 3:159
[30] ۔ کیلانی، عبدالرحمٰن: تیسیر القرآن، مکتبہ اسلامیہ، لاہور، ۲۰۰۱ء، جلد دوم، ص ۱۶۷
Kaylānī, Abdul Reḥmān, Taysīr al-Qur’ān, Maktabah Islāmīa, Lāhore, 2001, vol. 2, pg. 167
[31] ۔ سورۃ الکھف۱۸: ۶
Sūrah al-Kahf 18:6
[32] ۔ سید فضل الرحمان، تفسیر احسن البیان، جلد دوم، ص ۲۳۱
Syed Faḍal al-Reḥmān, Tafsīr Aḥsan al-Bayān, vol.2, pg. 231
[33] ۔ سورۃ النحل ۱۶: ۱۲۷
Sūrah al-Naḥl 16:127
[34] ۔ سورۃ الأعراف۷ : ۱۵۸
Sūrah al-A’rāf 7:158
[35] ۔ اسرار احمد، ڈاکٹر: تفسیر بیان القرآن، حصہ چہارم، ص۔۴۴
Isrār Aḥmad, Dr, Bayān al-Qur’ān, vol. 4, pg. 44
[36] ۔ سورۃ الإسراء، ۱۷: ۷۹
Sūrah al-Isrā’ 17:79
[37] ۔ اسرار احمد ، ڈاکٹر ، بیان القرآن ، حصہ چہارم ، ص :۳۲۵
Isrār Aḥmad, Dr, Bayān al-Qur’ān, vol. 4, pg. 325
[38]۔ سورۃ البقرۃ۲: ۴۵
Sūrah al-Baqarah 2:45
[39]۔ ابن حنبل:المسند،رقم: ۲۲۲۹۹
Ibn Ḥanbal, al-Musnad, No. 22299
[40]۔کاندھلوی: تفسیر معارف القرآن، جلد اول، ص ۱۲۷
Kāndhalwī, Muḥammad Idrīs, Tafsīr Mu’ārif al-Qur’ān, Vol. 1, pg. 127
[41]بخاری: الجامع الصحیح،کتاب الجنائز،باب الصبرعندصدمۃالاولی؛ کاندھلوی: نفس مصدر،۱۲۷/۱
Bukhārī, al-Jāmi’ al-Ṣaḥīḥ, Kitāb al-Janā’iz, Bāb al-Ṣabr; Kāndhalwī, Ibid, 1/127
[42] ۔سورۃ آل عمران۳: ۵۵
Sūrah al-‘Imrān 3:55
[43] ۔ شبیر احمد عثمانی، تفسیر عثمانی ، مکتبۃ البشریٰ، کراچی، ۲۰۰۹،ص: ۹۶
Shabbīr Aḥmad ‘Uthmānī, Tafsīr ‘Uthmānī, Maktabah Al-Bushrā, Lāhore, 2009, pg. 96
[44] ۔سورۃ آل عمران۳:۸۵
Sūrah al-‘Imrān 3:85
[45] ۔ شبیر احمد عثمانی، تفسیر عثمانی، ص:۱۰۲
Shabbīr Aḥmad ‘Uthmānī, Tafsīr ‘Uthmānī, pg. 102
[46] ۔ عثمانی، تفسیر ِ عثمانی، ص: ۵۹۵
‘Uthmānī, Tafsīr ‘Uthmānī, pg. 595
[47] ۔ سورۃ الاحزاب۳۳: ۵۶
Sūrah al-Aḥzāb 33:56
[48] ۔ سورۃ الاحزاب۳۳: ۴۵
Sūrah al-Aḥzāb 33:45
[49] ۔ سورۃ النبا ۷۸: ۱۳
Sūrah al-Naba’ 78:13
[50] ۔سورۃ نوح ۷۱: ۱۶؛ ابولحسنات قادری، تفسیرالحسنات، ادارہ حزب الاحناف، لاہور، ۱۹۹۸ء، جلد پنجم، ص ۳۶۲
Sūrah al-Nūḥ 71:16; Abu al-Ḥasanāt Qādrī, Tafsīr al- Ḥasanāt, Idārah Hizb al-Ahnāf, Lāhore, 1998, vol. 5, pg. 362
[51] ۔ سورۃ الاعراف۷: ۱۵۷
Sūrah al-A’rāf 7: 157
[52] ۔صدیقی کاندھلوی، محمد علی، تفسیر معالم القرآن، ادارہ معالم القرآن، سیالکوٹ، جلد نہم، ص ۲۹۰ تا ۳۹۰ ؛ نقوش زندان ،ص۳۶ تا ۱۱۰
Ṣiddīquī Kāndhalwī, Muḥammad Ali, Tafsīr Mu’ālim al-Qur’ān, Idārah Mu’ālim al-Qur’ān , Siālkot,vol. 9, pg. 290 to 390; Nuqūsh Zindān, pg. 36 to 110
[53] ۔ سورۃ البقرہ۲: ۱۱۹
Sūrah al-Baqarah 2:119
[54] ۔ اکرم اعوان: اسرار التنزیل، مکتبہ اویسیہ، منارہ، چکوال، ۲۰۰۲، ۱/۱۰۶-۱۰۷
Akram A’wān, Isrār al-Tanzīl, Maktabah O’waisīa, M’unārah, Chakwāl, 2002,1/106-107
[55]۔ سورۃ المائدہ: ۵ : ۶۷
Sūrah al-Mā’idah 5:67
[56] ۔ کیلانی، عبدالرحمان، تفسیر تیسیرالقرآن، جلدد سوم ، ص ۵۶
Kaylānī, Abdul Reḥmān, Taysīr al-Qur’ān, vol. 3, pg. 56
[57]۔ مودودی ، سید ابو الاعلیٰ ، تفہیم القرآن ، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ۲۰۰۹، ج ۶، ص ۳۸۲، تفسیرسورةالْاِنْشِرَاح،۹۴:۴
Mawdūdī, Syed Abu al-A’lā, Tafhīm al-Qur’ān, Idārah Tarj’umān al-Qur’ān, Lāhore, 2009, vol. 6, pg. 382, Tafsīr Sūrah al-Inshirāḥ 94:4
[58]۔ محمد شفیع ، مفتی ، معارف القرآن ، ج ۸، ص ۷۷۱، تفسیرسورةالْاِنْشِرَاح،۹۴:۴
Muḥammad Shafī’, Mufti, Mu’ārif al-Qur’ān, vol. 8, pg. 771, Tafsīr Sūrah al-Inshirāḥ 94:4
[59] ۔ بھٹوی، عبدالسلام، تفسیر دعوۃ القرآن، مکتبہ دعوۃ القرآن، گجرانوالہ، جلد چہارم، ص۳۸۰
Bhutwī, Abdul Salām, Tafsīr Da’wah al-Qur’ān, Maktabah Da’wah al-Qur’ān , Gujrānwalā,vol. 4, pg. 380
[60]۔ سورۃ الحجرات ۴۹: ۱
Sūrah al-Ḥujurāt 49:1
[61] ۔ بھٹوی، عبدالسلام، تفسیر دعوۃ القرآن، جلد چہارم، ص ۱۰۰۴، تفسیر سورۃ النجم :آیت نمبر ۳
Bhutwī, Abdul Salam, Tafsīr Da’wah al-Qur’ān, vol. 4, pg. 1004, Tafsīr Sūrah al-Najm, Ayat no. 3
[62] ۔ الاحزاب ۳۳: ۳۶
Al-Aḥzāb 33:36
[63] ۔ مفتی محمد شفیع، تفسیر معارف القرآن، جلد ہفتم، ص۔۱۴۵، ادارۃ المعارف کراچی، ۲۰۱۲ء
Muḥammad Shafī’, Muftī, Mu’ārif al-Qur’ān, vol. 7, pg. 145, Idārah al-Mu’ārif Karachi, 2012AD
[64] ۔ سورۃ الحجرات،۴۹: ۲
Sūrah al-Ḥujurāt 49:2
[65] ۔ محمد اسحاق مدنی، تفسیر مدنی، مکتبہ اہلِ حدیث، میرپور، آزاد کشمیر، ۲۰۰۴ء، جلد سوم، ص ۳۱۵
Muḥammad Isḥāq Madanī, Tafsīr Madanī, Maktabah Ahl-e-Hadīth, Mīr Pur, ’Az ād Kashmīr, 2004, vol. 3, pg. 315
Article Title | Authors | Vol Info | Year |
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Volume 37 Issue 57 | 2022 | ||
Article Title | Authors | Vol Info | Year |