2
1
2023
1682060081177_3168
14-30
https://journals.iub.edu.pk/index.php/jwrih/article/download/1737/843
https://journals.iub.edu.pk/index.php/jwrih/article/view/1737
World Religions Satanism Anton Lavey The Satanic Bible Beliefs
شیطان پرستی کا تعارف اور عقائد
شیطان پرستی "Satanism" ایک جدید مذہب ہے جس کی بنیاد ایک امریکی باشندے اینتون لاوی"Anton Lavey" نے 1964ء میں امریکی شہر سان فرانسکو میں چرچ آف سیٹن کے قیام کے ساتھ رکھی۔ اینتون لاوی شیطان پرستی کے جدید تصور کی تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور جدید شیطان پرستی "Satanism" اور چرچ آف شیطان "Church of Satan" کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اینتون لاوی نے اپنے شیطانی افکار کی تشہیر کے لیےکئی کتابیں تحریر کیں جن میں اس نے اپنے فلسفے، اپنے شیطانی چرچ کی ابتدا اور اپنی شیطانی مذہبی رسومات کے طریقے بتائے ہیں۔لاوی کی اہم کتابوں میں سے شیطانی بائبل ’’The Satanic Bible‘‘، شیطانی مذہبی رسومات ’’ The Satanic Rituals‘‘، شیطانی جادوگر ’’ The Satanic Witch‘‘، شیطانی کتابچہ ’’The Devil’s Notebook‘‘ اور شیطان بولتا ہے ’’Satan Speaks‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ شیطان کے عبادت گزار ’’Satanists‘‘ ایک ایسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جن کی خاص مذہبی رسومات ہیں، جن کے ذریعے وہ شیطان کا قرب حاصل کرتے ہیں اور وہ شیطان کو بغاوت، سرکشی اور جسمانی آزادی میں اپنا رول ماڈل تسلیم کرتے ہیں۔ شیطانی بائبل "The Satanic Bible" تمام شیطان پرستوں کے ہاں مقدس کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ ایک شیطان پرست اس کتاب کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح شیطانی بائبل میں مذکور نوشیطانی بیانات کو اکثر شیطان پرستوں کے ہاں کلیدی اہمیت حاصل ہے اور ان نوشیطانی بیانات کو شیطان پرستوں کے بنیادی اصول اور عقائد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ذیل میں پہلے شیطانی بائبل کے مندرجات اور پھر نو شیطانی عقائد کو تفصیلاً ذکر کیا جائے گا۔
شیطانی بائبل "The Satanic Bible" کے مندرجات
انتون لاوی نے اپنی اس شیطانی کتاب کو چار حصوں یا چار اسفار میں تقسیم کیا ہے۔
1۔ سفر شیطان (Book of Satan)
سفرشیطان کتاب کا سب سے مختصر باب ہے جو کہ چھ صفحات پر مشتمل ہے سفر شیطان میں جامعہ انداز میں شیطان پرستی "Satanism" کا تعارف اور شیطان پرستی کے شعائر کو بیان کیا گیا ہے۔
2۔ سفر لوسیفر (Book of Lucifer)
کتاب کا یہ حصہ بارہ مضامین پر مشتمل ہے جو شیطان پرستوں کی فکر، فلسفہ اور ان کی عبادت کے فلسفے کو بیان کرتے ہیں۔
3۔ سفر بیلیال (Book of Belial)
یہ پانچ مضامین پر مشتمل ہے جو شیطانی جادو کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح شیطان پرستوں کی مذہبی رسومات کے طریقے کار کو بھی تفصیلاً اس باب میں بیان کیا گیا ہے۔
4۔ سفر لیویاتھن (Book of Leviathan)
اس باب میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں مذکور شیطان کے ناموں کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح شیطانی مذہبی رسومات کے دوران پڑھی جانے والی دعائوں اور منتروں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
شیطان پرستوں کے نو عقائد و بیانات "Nine Satanic Statements"
انتون لاوی نے اپنی کتاب شیطانی بائبل میں نو شیطانی عقائد و بیانات کو ذکر کیا ہے۔ یہ نو شیطانی وقائد و بیانات مذہب شیطان پرستی "Satanism" کا خلاصہ ہیں اور ان کو شیطان پرستوں کے ہاں وہی مقام حاصل ہے جو اہل کتاب کے ہاں شریعت موسوی کے دس احکام "Ten Commandments" اور مسلمانوں کے ہاں ارکان اسلام "Five Pillars of Islam " کو حاصل ہے۔
1۔ پہلا شیطانی عقیدہ؍بیان
"Satan represents indulgence, instead of abstinence"(1)
"شیطان (اپنے نفس کو گناہوں سے روکنے اور) پرہیزگاری کی بجائے نفس پروری (نفسانی خواہشات کو پورا کرنے) کی نمائندگی کرتا ہے۔"
اس میں کوئی شک نہیں کہ شیطانی فکر و فلسفے کی عمارت نفسانی خواہشات کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس لئے کہ شیطان پرستوں کے نسلی زندگی ان خواہشات اور اور ملذات کو پورا کرنے کا واحد موقع ہے لہذا اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اس کے لئے کوئی بھی طریقہ استعمال کرنا پڑے یا کسی بھی حد تک جانا پڑے۔ شیطانی بائبل میں مذکور ہے:
(2)"زندگی لذت حاصل کرنے کا بہت بڑا موقع ہے اور موت سب سے بڑی محرومی ہے لہذا جتنا ہوسکے اپنی زندگی میں لذت حاصل کرو۔"
اسی طرح انتون لاوی اس بات کا برملا اظہار کرتا تھا کہ اس کا مذہب دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کی نفسانی خواہشات اور ضروریات کا پاس رکھتا ہے۔ اور نفس کو اس کی حیوانی فطرت کے مطابق کھلا چھوڑ دیتا ہے کہ جو اس کے جی میں آئے وہ کرے۔ اس سلسلے میں کسی دین و قانون کو یہ اجازت نہیں کہ وہ ایک شیطان پرست کی اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے میں رکاوٹ بنے۔
شیطانی بائبل میں مذکورہ ہے:
"شیطان پرستی "Satanism" انسانی فطرت شہوات اور جسمانی ضرورتوں کا دین ہے۔"(3)
لاوی کے نزدیک وہ تمام ادیان جو انسانی جبلی اور حیوانی خواہشات کے پورا کرنے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں وہ انسان کے دشمن ہیں اور اس کا قائم کردہ دین سیٹانزم حق ہے کیونکہ وہ انسان کی طبیعت و فطرت کو سمجھتا ہے۔ لاوی کے نزدیک زمانہ بدل چکا ہے اور پرانے ادیان و مذاہب کی قدیم عادت اور تقالید جدید دور کے جدید انسان سے ہم آہنگ نہیں۔ وہ حیرت سے یہ سوال کرتا ہے:
"ہم کیوں نہ ایک ایسا مذہب اختیار کریں جو انسان کو اپنی طبیعت و چاہت کے مطابق اعمال سرانجام دینے میں کھلا چھوڑ دے اور انسان کی اپنی خواہشات پورا کرنے کا خیر مقدم کرے۔"(4)
ان نظریات کی بنا پر سیٹانزم "Satanism" اپنے ماننے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات کو بغیر کسی ضابطے کے جیسا چاہے پورا کریں۔
اینتون لاوی کی اس شیطانی تحریک کا واحد اصول حیوانی شہوت کو پورا کرنا ہے قطع نظر اس بات کے کہ یہ عمل مذاہب اور معاشروں کے ہاں قابل قبول ہے یا نہیں۔ شیطانی بائبل میں مذکور ہے:
" مذہب سیٹانزم "Satanism" ہر اس جنسی عمل کو جائز سمجھتا ہے جو تمہاری ذاتی خواہش اور پسند کو اطمینان بخشے چاہے وہ جنس مخالف کے ساتھ جنسی عمل ہو یا ہم جنس پرستی ہو یا دونوں جنسوں کی طرف رغبت ہو یا بالکل جنسی رغبت نہ ہو۔")5(
وہ مزید لکھتا ہے کہ:
"اگر کسی جنسی عمل میں ملوث ہونے والے تمام لوگ بالغ ہوں اور اپنی ذمہ داری کو اٹھانے والے ہوں تو ان کو اس عمل سے روکنا جائز نہیں اگرچہ وہ عمل کسی مذہب یا معاشرے کے نزدیک ممنوع ہو۔"(6)
اور یہی پر بس نہیں بلکہ لاوی اپنی مذہبی رسومات اور اجتماعات میں فحش کاری اور زنا کو عبادت کا عمل قرار دیتا ہے جس کے ذریعے ان کے معبود یعنی شیطان کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔
پہلے شیطانی بیان کی تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد ہم دونکات میں اس کا خلاصہ بیان کر سکتے ہیں۔
1۔ شیطان ابلیس انسانیت کا کھلا دشمن ہے اور اس کا کام سوائے بنی نوع انسان کو اغواء اور گمراہی کے کچھ نہیں اور اس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
وَّلَا تَتَّبِعُوا خُطُوٰتِ الشَّيطٰنِ اِنَّهٗ لَكُم عَدُوٌّ مُّبِينٌ اِنَّمَا يَامُرُكُم بِالسُّوٓءِ وَالفَحشَآءِ وَاَن تَقُولُوا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعلَمُونَ)7(
"اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو۔وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ تمہیں بدی اور خواہش کا حکم دیتا ہے اور سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمھیں علم نہیں کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں۔"
اب ایسے شیطانی نظریات شیطان ابلیس کے قدموں پر چلنے اور اس کے احکامات پر لبیک کہنے سے ہی ممکن ہیں، کوئی بھی مذہب یا قانون اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔
اسی طرح ایسی شیطانی افکار و نظریات شیطان کے کافروں کو گمراہ کرنے اور ان کے برے اعمال کو اچھا دکھانے کا بھی مظہر ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:
اَلَمْ تَرَ اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّيَاطِيْنَ عَلَى الْكَافِرِيْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّا (8)
"کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ ہم نے ان منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو انہیں خوب خوب (مخالفت حق پر) اکسا رہے ہیں ؟
حافظ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
"شیاطین کافروں کو گناہوں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ" شیاطین کافروں کو گمراہ کرتے ہیں۔" قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ "شیاطین کافروں کو تنگ کرتے ہیں حتی کہ وہ معاصی اور گناہوں کا ارتکاب کریں۔"(9)
2۔ یہ شیطانی بیان شیطان پرستوں کی فطری اور اخلاقی پستی کو نمایاں کرتا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ تمام فواحش اور منکرات فطری اور قابل قبول ہیں۔ شیطانی بائبل میں مذکور ہے:
"یہ غیر فطری بات ہوگی اگر تمہیں اپنی شہوانی خواہشات کو پورا کرنے پر قدرت نہ ہو۔"(10)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیطان پرستوں کا ہدف انسان کو اخلاقی پستی کی گمراہیوں تک پہنچانا ہے۔
2۔ دوسرا شیطانی عقیدہ؍بیان
“Satan represents vital existence, instead of spiritual pipe dreams.”)11(
"شیطان خوابوں کی خام خیالی کی بجائے حقیقی زندگی کے وجود کی نمائندگی کرتا ہے۔"
شیطان پرستوں کے نزدیک شیطان حقیقت میں موجود ہے اس کو طاقت و قدرت حاصل ہے اور تمام ادیان و مذاہب مل کر بھی اس کے وجود اور اثر و نفوذ کی نفی نہیں کر سکے۔ شیطانی بائبل میں مذکور ہے:
"شیطان فطرت میں موجود ایک طاقت ہے۔ وہ اندھیروں کی طاقت ہے۔ اور اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہیں کہ کوئی بھی مذہب اس طاقت کو اندھیروں سے باہر نہیں نکال سکا۔"12
شیطان کے سوا شیطان پرست تمام غیبیات کا انکار کرتے ہیں۔ اور انہیں توہمات سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ اللہ کے وجود کا انکار کرتے ہیں، انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام اور وحی کا انکار کرتے ہیں، اسی طرح جنت و جہنم کے بھی قائل نہیں۔
اس شیطانی بیان کے مطالعہ سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے جاسکتے ہیں۔
1۔ اینتون لاوی جو کہ اپنے آپ کو ملحد "Atheist" گردانتا ہے اور اپنی دیگر تحریروں اور انٹرویوز میں اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ وہ شیطان کو علامتی کردار "Symbolic Character" اور بغاوت کا استعارا مانتے ہیں، اور اس کے حقیقی وجود کا قائل نہیں۔ لاوی کی اپنی کتاب کا یہ قول اس کے دیگر اقوال سے متصادم ہے۔ شیطان کی ذات کے بارے میں چرچ آف سیٹن کے نظریات تضاد سے خالی نہیں۔
2۔ شیطان پرستوں کے شیطان کے علاوہ دیگر غیبیات کے انکار کا تضاد اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالی نے اپنے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی نازل نہ فرماتا اور انبیاء علیہ سلام کی آسمانی کتابوں میں شیطان کے وجود کا ذکر نہ ہوتا تو پھر شیطان پرستوں کو کو شیطان کے وجود کی خبر کیسے ہو تی۔ لہذا شیطان پرستوں کا شیطان پر ایمان لانا اور دیگر مسلمہ غیبیات کا انکار کھلا تضاد ہے۔
3۔ تیسرا شیطانی عقیدہ؍بیان
"Satan represents defiled wisdom, instead of hypocritical self-deceit!"(13)
"شیطان خود کے دھوکے میں مبتلا منافقانہ نظریات کی بجائے بےداغ حکمت کی نمائندگی کرتا ہے۔"
شیطان پرستوں کے نزدیک شیطان حقیقت کا نمائندہ ہے نہ کہ توہمات کا، جو کہ ان کے نزدیک دوسرے مذاہب کا حال ہے۔ جب کہ حکمت سے ان کی مراد ایمانیات اور عقائد کی نفی ہے۔ اسی طرح وہ بچوں کو دینیات، ایمانیات اور عقائد سکھلانے کو انسان کی ذہنی آزادی کا سب سے بڑا دشمن گردانتے ہیں۔)14(
ان کے نزدیک مورثی عقائد کو ماننے کا مطلب شعور اور فکر کی کمی اور حقیقت کی تلاش سے رکنے کا نام ہے، جس کی بدولت انسان ترقی نہیں پا سکتا۔ شیطان پرستوں کے ان باطل اقوال کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ حکیم شیطان نہیں بلکہ اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات ہے جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ تخلیق کیا اور جس کے تمام اقوال اور افعال حکمت کا سرچشمہ ہیں۔ اس حقیقت کو جان کر ہم شیطان پرستوں کے باطل نظریے کا جواب مندرجہ ذیل نکات میں دے سکتے ہیں:
1۔ شیطان پرست کیسے شیطان کو علم و حکمت کا داعی اور پیشوا مان سکتے ہیں جبکہ حقیقت میں شیطان کفر فساد، گمراہی اور بغاوت کی طرف بلاتا ہے۔ اس کا کام ہر برائی، گناہ اور خلاف فطرت عمل پر دلالت کرنا ہے۔
2۔ مذکورہ شیطانی بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیطان پرست کفر کو ہی حکمت کا استعارہ اور ایمان کو حکمت کے منافی سمجھتے ہیں۔ جبکہ درحقیقت یہ دعوی کرنا ہی باطل ہے۔ اس لیے کہ اس کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک قادرمطلق خالق پر ایمان لانا حکمت کے مبادیات میں سے ہے اس خالق پر ایمان نہ لانا حکمت نہیں بلکہ جہالت اور گمراہی ہے۔
3۔ یہ دعوی کرنا کہ شیطان حکمت کا نمائندہ ہے بذات خود ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ کیا یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو ہم جنس پرستی، منشیات، بچوں کو قتل کرنے اور شیطان کے نام پر قربانی اور خودکشی کی اجازت دے دی جائے، کیونکہ شیطان پرست انہی اعمال کی ترویج کرتے ہیں لہٰذا حکمت سے شیطان یا اس پر ایمان لانے والوں کا کوئی تعلق نہیں۔
4۔ چوتھا شیطانی عقیدہ؍بیان
"Satan represents kindness to those who deserve it instead of love wasted on ingrates!"(15)
"شیطان ناشکروں اور نمک حرام پر محبت ضائع کرنے کی بجائے محبت اور رحمدلی کو ان کے مستحقین کے ساتھ نبھانے کی بات کرتا ہے۔"
اینتون لاوی کے نزدیک انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ تمام لوگوں کے ساتھ محبت کرے بلکہ جو شخص ہر چیز اور ہر انسان کے لئے محبت کا جذبہ رکھتا ہے، وہ ایک کمزور شخصیت کا حامل ہے۔(16)
لاوی کے بقول محبت اس شخص کے ساتھ کی جانی چاہیے جو اس کا مستحق ہے اور جو اس کا مستحق نہیں یا جو شخص مقابلے میں ویسی محبت نہ کرے تو وہ محبت کی بجائے غضب کا مستحق ہے۔ اور اگر برا کرنے والوں کے ساتھ اچھائی کی جائے تو یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے۔)17(
مذکورہ شیطانی بیان سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں:
1۔ لاوی کا یہ بیان ادیان سماویہ کی مشترکہ تعلیمات کے خلاف ہے۔ قول باری تعالی ہے:
وَلَا تَسْتَوِى الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِىْ بَيْنَكَ وَبَيْنَه عَدَاوَةٌ كَاَنَّه وَلِىٌّ حَمِيْمٌ (18)
"اور اے نبی، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہے۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔"
اسی طرح عیسائیت میں حضرت عیسی علیہ السلام کا قول ہے:
"لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دعا کرو۔"19
ملاحظہ ہو کہ اینتون لاوی کی تعلیمات ادیان سماویہ کی تعلیمات کے خلاف اور بغض و عناد پر مبنی ہے۔
2۔ شیطان پرستوں کے مذکورہ شیطانی بیان میں شیطان کو محبت اور رحم دلی کا داعی قرار دینا حقیقت کے منافی ہے۔
3۔ مذکورہ شیطانی بیان شیطان کی ذات کے بارے میں گمراہ کن ہے اور شیطان کی ذات کو اچھے انداز میں پیش کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ وہ کیسے محبت اور رحم دلی کا داعی ہو سکتا ہے جبکہ اس نے آدم علیہ الصلاۃ و السلام اور ان کی اولاد کے ساتھ دشمنی کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ اولاد آدم کو اپنے ساتھ جہنم لے جانا چاہتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
اِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا اِنَّمَا يَدْعُوْا حِزْبَه لِيَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحَابِ السَّعِيْرِ)20(
"درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنے پیروئوں کو اپنی راہ پر بلا رہا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں۔"
5۔ پانچواں شیطانی عقیدہ؍بیان
"Satan represents vengeance, Instead of turning the other cheek!" (21)
"شیطان (عفودرگزر میں) دوسرا گال آگے کرنے کی بجائے انتقام کی نمائندگی کرتا ہے۔"
مذکورہ شیطانی بیان تشدد اور انتقام کی واضح تصریح ہے۔ مزید برآں شیطان کی بائبل میں مذکور ہے:
"تم تھپڑ کا جواب تھپڑ اور گھونسے کا جواب گھونسے کے ذریعے دھنی قوت سے دو۔ اسی طرح آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت چار گنا، بلکہ سو کنا قوت سے۔" (22)
سیٹانزم "Satanism " میں عفو درگزر اور معافی کی کوئی گنجائش نہیں اسی لئے کہ ان اقدار کو شیطان پرستوں کے ہاں ذلت اور بزدلی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ شیطانی بائبل میں مذکور ہے ہے:
"جو اپنا دوسرا گال آگے کرتا ہے وہ کتا ہے اور بزدل ہے۔" (23)
مذکورہ شیطانی بیان سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں:
1۔ ادیان سماویہ کی تعلیمات کے مخالفت کیونکہ شیطان پرستوں کے ہاں ظلم کا بدلہ عدل و انصاف کے برعکس کئی گناہ زیادہ طاقت سے لیا جانا مشروع ہے، جبکہ ادیان سماویہ کی تعلیمات سراسر مختلف ہیں۔ تورات اور قرآن مجید اس کو عدل وانصاف کے تقاضوں کے ساتھ لیے جانے کی تاکید کرتے ہیں۔
بائبل کے سفر خروج میں مذکور ہے:
"جان کے بدلے جان، اور آنکھ کے بدلے آنکھ، اور دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور پاؤں کے بدلے پاؤں۔"(24)
اسی طرح قرآن مجید میں آیا ہے:
وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِيْنَ (25)
"اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے۔"
مزید برآں اسلام نے تورات کے قصاص کے بارے میں مذکورہ حکم کو بھی سورہ المائدہ میں برقرار رکھا ہے اور اس کی باقاعدہ توثیق کی ہے۔(26) اس باب میں حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات اور برائی کا بدلہ اچھائی سے دیے جانے پر زور دیتی ہے۔ انجیل متی میں مذکور ہے:
"لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔"(27)
2۔ ادیان سماویہ کی تعلیمات کا استہزاء اس لیے کہ ادیان سماویہ کی تعلیمات عفو درگزر کی تلقین کرتی ہے جبکہ اینتون لاوی ایسا کرنے کو کمزوری اور بزدلی سے تشبیہ دیتا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کو خصوصی طور پر ذلت اور حقارت قرار دیتا ہے۔ شیطانی بائبل میں مسیح علیہ السلام کے قول بارے مذکور ہے:
"یہ ذلت اور حقارت کا فلسفہ ہے۔"(28)
مذکورہ شیطانی بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ چونکہ عصری شیطان پرستی مغرب یعنی یورپ و امریکہ میں موجود پائی ہے اور وہیں پر اس کے ماننے والے پائے جاتے ہیں۔ لہذا اینتون لاوی کا ہدف بھی عیسائیت اور اس کے شعائر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے معبد کو نام دیتے ہوئے لاوی نے "چرچ" کا لفظ استعمال کیا۔ اسی طرح اپنی شیطانی کتاب کو "شیطانی بائبل" کا نام دیا ہے۔ ایسے تمام اقدامات سے اس کی غرض مسیحیت کے شعائر کا استہزاء تھا۔
3۔ مذکورہ شیطانی بیان پچھلے شیطانی بیان سے متصادم ہے۔ ایک کہتا ہے کہ شیطان محبت اور رحم دلی کا داعی ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ شیطان انتقام کا داعی ہے، تو سو گناہ طاقت سے بدلہ لینا کہاں کی رحمدلی ہے ؟
4۔ مذکورہ شیطانی بیان صراحتاً تشدد اور انتقام کی بات کرتا ہے، اور یہی چیز شیطان پرستوں کی تصرفات اور اعمال میں صاف نظر آتی ہے جیسا کہ ہم ری ایکٹیو شیطان پرستی کے ضمن میں شیطان پرستوں کے سفاک جرائم کو بیان کر چکے ہیں۔
5۔ مذکورہ شیطانی بیان شیطان پرستی کی فکر و فلسفے کا لازمی اور فطری نتیجہ ہے کیونکہ مومنین میں سے جو معاف کرتا ہے اور درگزر کرتا ہے وہ ایسا اللہ تبارک و تعالی سے ملنے والے اَجر و ثواب کے لئے ایسا کرتا ہے جبکہ شیطان پرستوں کے ہاں ایسا کوئی تصور نہیں تو نتیجتاً ان کا دین نفرت، حقد اور تشدد پر قائم ہے۔
6۔ چھٹا شیطانی عقیدہ؍بیان
"Saturn represents responsibility to the responsible, instead of concern for psychic vampires!"(29)
"شیطان کم عقلوں اور نفسیاتی پشاجوں (جذباتی طور پر کمزور انسان جو دوسروں کا وقت ضائع کرے) کو اہمیت دینے کی بجائے ذمہ دار افراد کو ذمہ داری دینے کی نمائندگی کرتا ہے۔"
اینتون لاوی کے نزدیک صرف اسی شخص کو اہمیت دی جانی چاہیے جو اس کا اہل اور مستحق ہے بجائے ان لوگوں کے جن کی ذات سے آپ کو کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ ہی ان کی آپ کے ہاں کوئی قدروقیمت ہو جن کا مقصد صرف اپنے فائدے کی بات ہو۔ لاوی کے بقول ایسے لوگوں سے جان چھڑانی چاہیے۔
مذکورہ شیطانی بیان سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ شیطان پرستوں کے دین میں ذمہ داری اور باہمی مدد و تعاون دو طرفہ بنیادوں پر ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے ہاں کسی اخلاقی قدر کی کوئی اہمیت نہیں ۔
7۔ ساتواں شیطانی عقیدہ؍بیان
"Satan represents man as just another animal, sometimes better, more often was than those that walk on all- fours, who, because of his divine spiritual and intellectual development", has become the most vicious animal of all"(30)
"شیطان انسان کے بطور حیوان ہونے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک ایسا حیوان جو (باقی حیوانات) سے بعض اوقات بہتر ہے۔ (لیکن) زیادہ تر اوقات میں چار ٹانگوں پر چلنے والے (حیوانات سے) برتر ہے، اس لیے کہ وہ اپنی خداداد فکری اور روحانی ترقی کی وجہ سے سب سے زیادہ وحشی اور شری جانور بن چکا ہے۔"
مذکورہ شیطانی بیان میں لاوی انسان کی حیوانی جبلت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور وہ شیطان کو انسان کی اس حیوانی جبلت نمائندہ قرار دیتا ہے۔ ایک شیطان پرست مصنفہ لکھتی ہے:
"میں محسوس کرتی ہوں کہ شیطان ہماری حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ ہم ایک جانور تسلیم کریں۔"(31)
مذکورہ شیطانی بیان سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔
1۔ انسان جو کہ اشرف المخلوقات، جسے اللہ تعالی نے تمام مخلوقات بشمول فرشتوں پر فضیلت دی ہے اور جسے زمین پر اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر بھیجا ہے، اسے جانوروں سے تشبیہ دینا بلکہ جانوروں سے بھی بدتر گمان کرنا انسان کو اس کے مقام و مرتبے سے گرانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ شیطانی پیشوا اینتون لاوی انسان کو ذلت اور پستی کے گڑھے میں گرانے پر مصر ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلٰى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا (32)
"یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی اور تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔"
2۔ اللہ تبارک و تعالی نے یقینا انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے لیکن اینتون لاوی اور دیگر شیطان پرست اور وہ جو اپنے نفس یا جھوٹے خداؤں کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں۔ یقینا انسان جانوروں سے بدتر ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں:
اَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَه هَوَاهُ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ وَكِيْلً اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُـمْ يَسْـمَعُوْنَ اَوْ يَعْقِلُوْنَ اِنْ هُـمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُـمْ اَضَلُّ سَبِيْلً(33)
"کبھی تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو ؟ کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔"
سید قطب اپنی تفسیر فی ظلال القرآن میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
"اگر انسان اپنی خداداد صفات سے روگردانی کرے تو وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ جانوروں کو اللہ تعالی نے جو صفات اور صلاحیتیں عطا کی ہیں، وہ ان کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کام بخوبی ادا کرتے ہیں، جب کہ انسان اللہ تعالی کی دی ہوئی صلاحیتیں اور عقل کا استعمال نہ کرکے جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔"(34)
مذکورہ تفسیر کا اطلاع شیطان پرستوں پر بدرجہ اولیٰ ہوتا ہے کیونکہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے عطا کئے گئے عقل و شعور کے باوجود شیطان لعین کو اپنا معبود جان کر غیر فطری اور غیر اخلاقی افعال انجام دیتے ہیں۔
3۔ اینتون لاوی اپنے اس شیطانی بیان کے ذریعے مذہب اور عقیدے کو اپنا نشانہ بنانا چاہتا ہے کیونکہ اس کے بقول انسان کی روحانی اور فکری ترقی کے سبب وہ جانوروں سے بدتر بن چکا ہے۔
4۔ اینتون لاوی کے اقوال میں تضاد ہے کیونکہ ایک جگہ وہ انسان کو جانوروں سے بدتر قرار دیتا ہے تو دوسری جگہ انسان کو خدا کرار دیتا ہے، وہ شیطانی بائبل میں لکھتا ہے:
"جس خدا کو تم پکارتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم خود وہی خدا ہوں۔" (35)
اب اگر واقعی ہی لاوی حقیقی طور پر شیطان پرستوں کو خدا قرار دیتا ہے تو اس کا یہ قول شیطان کو خدا ماننے کے عقیدے سے متصادم ہے، اور اگر وہ شیطان پرستوں کو مجازی طور پر خدا قرار دیتا ہے تو اس کا مقصد انسان کی ذات میں غلو کرنا اور اس کی نفسانی خواہشات اور شہوات کو مقدس جانتے ہوئے نفس کو خدا بنانے کی اس سے بہتر مثال ناپید ہے۔
8۔ آٹھواں شیطانی عقیدہ؍بیان
"Satan represents all of the so-called since, as they all lead to physical, mental or emotional gratification"(36)
"شیطان تمام گناہوں کی نمائندگی (طرفداری) کرتا ہے کیونکہ وہ سب کے سب جسمانی، ذہنی یا جذباتی تسکین کا باعث بنتے ہیں۔"
شیطان پرستوں کے ہاں گناہ، خطا یا برائی کا کوئی تصور نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اعمال انسان کے نزدیک محبوب ہیں اور اس کی جسمانی طلب کے عین مطابق ہیں لہذا ان کو نہ کرنا یا ان سے دور رہنا ممکن ہے۔(37)
مزید برآں اینتون لاوی مسیحیت کا استہزاء کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو بائبل کے ساتھ بڑے گناہوں کا ارتکاب کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ گناہوں کے معاملے میں صرف ان کا انکار کرنے پر ہی بس نہیں بلکہ اینتون لاوی ہر اس مذہبی یا قانونی کتاب کو رد کرتا ہے جو انسانی اعمال کو حلال اور حرام قرار دے، وہ ایسے عمل کو ذہنی غلامی اور انسان کی آزادی پر قدغن قرار دیتا ہے۔(38)
مذکورہ شیطانی بیان سے ہم مندرجہ ذیل نتائج اخذ کر سکتے ہیں:
1۔ یہ شیطانی بیان صراحتاً اپنے پیروکاروں کو برائی اور گناہوں کی دعوت دیتا ہے، درحقیقت یہی وہ دعوت ہے جو شیطان کا اس دنیا میں حقیقی کام ہے یعنی لوگوں کو گمراہ کرنا اور انہیں خدا کی نافرمانی والے کاموں کی طرف دھکیلنا، اور اسی کی طرف شیطان نے اللہ تبارک و تعالی سے اپنے مقالے میں اشارہ کیا تھا۔
ارشاد باری تعالی ہے:
قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَيْتَنِىْ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِى الْاَرْضِ وَلَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ۞(39)
"وہ بولا: میرے رب، جیسا تو نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں زمین پر ان کے لیے دلفریبیاں پیدا کرکے ان سب کو بہکادوں گا۔"
2۔ شیطان پرستوں کے نزدیک کسی بھی فعل حرام یا حلال ہونے کا فیصلہ خود فرد کے ہاتھ میں ہے۔ وہی اپنی منشا کے مطابق اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ کوئی فعل اچھا ہے یا برا ہے۔
3۔ شیطان پرستوں کا دین زندگی کے تمام پہلوؤں بشمول عبادات اور معاملات میں انتشار پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان پرست ہر اس قانون، دستور اور شریعت کو رد کرتے ہیں جو انسانوں کو ضابطہ حیات فراہم کرے۔
4۔ مذکورہ شیطانی بیان سے ہر زمانے میں پائے جانے والے کفر کے نام لیواؤں کے درمیان مطابقت اور ظاہر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر انتون لاوی شیطان کے پیروکاروں کو گناہوں کی طرف بلاتا ہے اور ساتھ میں شیطان کو ان گناہوں کے ذمے داری اٹھانے والا بتلاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کفار مکہ بھی یہی کہتے تھے کیا ہمارے پیچھے چلو، تمہارے عمل کے ذمہ داری ہم پر ہوگی۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِيْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ ؕ وَمَا هُمْ بِحَامِلِيْنَ مِنْ خَطَايَاهُمْ مِّنْ شَىْءٍ اِنَّهُمْ لَكَاذِبُوْنَ۞(40)
"یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اوپر لے لیں گے۔ حالانکہ ان کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں، وہ قطعا جھوٹ کہتے ہیں۔"
9۔ نواں شیطانی عقیدہ؍بیان
"Satan has been the best friend the church has ever had, as he has kept it in business all these years!"(41)
"شیطان کلیسا کا سب سے بہترین دوست (ثابت ہوا) ہے، اس لیے کہ شیطان ہی کی وجہ سے تمام سالوں (اور عرصے) میں کلیسا کی دکان چمکتی رہی ہے۔"
مذکورہ شیطانی بیان سے اینتون لاوی کی مراد یہ ہے کہ ہمیشہ شیطان کے خوف کو استعمال کرتے ہوئے کلیسا نے معاشرے میں اپنی طاقت بڑھائی ہے۔ لاوی کے بقول "سیدھے رستے کے دین داروں" یعنی کہ ادیان سماویہ کے مذہبی پیشوا اپنے پیروکاروں کو ڈرانے اور خوف دلانے کے لئے شیطان کا نام استعمال کرتے ہیں۔ تاکہ ان کے پیروکاروں پر ان کا تسلط اور دبدبہ برقرار رہے۔(42)
لاوی کے نزدیک شیطان سے ڈرانے کا دوسرا سبب ادیان سماویہ کے ہاں شیطان کا غلط تصور ہے، لا وی کا اصرار ہے کہ شیطان ہرگز برائی کا ماخذ نہیں بلکہ لفظ شیطان "Devil" حقیقت میں ہندی لفظ دیوی "Devi" سے مشتق ہے جس کا مطلب معبود اور رب ہے۔(43)
مذکورہ شیطانی بیان سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔
1۔ اس بیان کے ذریعے لاوی عامۃ الناس کے ذہنوں میں شیطان کے قبیح تصور کو بدل کر شیطان کو مسیح کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ یہ سخت کرتا ہے کہ کلیسا (اور دیگر ادیان سماویہ) نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے شیطان کو ڈھال بنایا ہے۔
2۔ لاوی کے اس بیان کا ایک مقصد خدائے وحدہ لاشریک کا انکار بھی ہے۔ گویا لاوی کے بقول لوگوں کے دینی تعلیمات کو ماننے کا واحد سبب شیطان اور عذاب کا خوف ہے جس کا لاوی کے بقول کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اس خوف کی کوئی وجہ ہے۔
3۔ مذکورہ شیطانی بیان کا مقصد کلیسا کے رہنماؤں کو یہ احساس دلانا بھی ہیں کہ شیطان آپ کا دشمن نہیں بلکہ دوست ہے لہذا آپ کی طرف سے شیطان اور شیطان پرستی کے خلاف پروپیگنڈا مہم بند ہونی چاہیے۔
خلاصہ بحث
جدید شیطان پرستی “Satanism” کی بنیاد اینتون لاوی "Anton Lavey" نے رکھی۔ اس نے شیطانی مذہبی رسومات کا طریقہ کار بیان کیا، شیطان پرستی پر مختلف کتابیں لکھیں اور ساتھ ہی چرچ آف شیطان "Church of Satan" بھی قائم کیا۔ لاوی کی شیطانی بائبل "The Satanic Bible" تمام شیطان پرستوں کے ہاں مقدس کتاب سمجھی جاتی ہے۔ شیطانی بائبل میں مذکور نوشیطانی بیانات کو اس مذہب کے بنیادی عقائد یا اصول کی سی اہمیت دی جاتی ہے۔ شیطان پرست نفس پر وری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ معاملات میں عفوودرگزر یا برابری کی بجائے زیادہ قوت سے بدلہ لینے پر یقین رکھتے ہیں اور معاف کرنے والے کو کمزور سمجھتے ہیں۔ اسلام ہمیں کہتا ہے کہ اگر تم بدلہ لو تو اس قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔ شیطان پرست انسان اور جانوروں میں فرق نہیں کرتے اور کبھی انسان کو ہی خدا سمجھتے ہیں۔ یہ تمام گناہوں کی طرف داری کرتے ہیں کیونکہ ان سے جسمانی، ذہنی یا جذباتی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ شیطان پرست انسانوں کے لیے شیطان کو مسیحا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ شیطان کے رستے پرمت چلو وہ تمہیں بدی اور فحاشی کا حکم دیتا ہے وہ ہمیں بھی دوزخیوں میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ شیطان ہمارہ دشمن ہے اسی لیے ہمیں بھی اس کو اپنا دشمن سمجھنا چاہیے۔ اگر لوگ شیطان پرستی کے نظریات پر عمل کریں تو معاشرے میں امن و امان ختم ہو جائے گا۔ ہرشخص اپنی مرضی کرنا چاہے گا، گناہ عام ہوگا۔ لہذا اس نظریات کے حامل لوگ جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے وہاں فسادات ہونا فطری بات ہے ۔
نتائج
-
شیطان پرستوں نے اپنے نظریات مذاہب کو دیکھ کر ان کی مخالفت میں مرتب کیے۔
-
شیطان پرستوں کے عقائد و افکار میں بہت زیادہ تناقض اور اختلاف پایا جاتا ہے، جو اس مذہب کے بطلان کی دلالت کرتا ہے۔
-
چونکہ عبادت شیطان ہر قسم کے اقتدار اور اخلاقیات سے عاری مذہب ہے نیز شیطان پرست دیگر مذاہب اور انسانوں کے لیے نفرت اور بغض رکھتے ہیں۔ لہذا جہاں کہیں بھی یہ مذہب پایا گیا وہاں کے افراد اور معاشرے پر اس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہوئے۔
-
انتون لاوی میں اپنے معبد کو چرچ اور کتاب کو شیطانی بائبل کل کا نام دیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا ہدف عیسائیت اور اس کے شعائر ہیں۔
-
شیطان پرستوں کی اخلاقی پستی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ان کے نزدیک یہ تمام گناہ اورفواحش و منکرات فطری اور قابل قبول ہیں۔
1 Anton Szandor Lavey, The Stanic Bible New York: Avon, 1969, 14.
2 Ibid., 21.
3 Ibid., 52
4 Ibid., 54
5 Ibid., 67
6 Ibid., 70
7 القرآن 2: 168۔169
8 القرآن 19: 83
9 عماد الدین اسماعیل بن کثیر، تفسیر القرآن العظیم (بیروت:دارالمعارفہ،1980ء)، 3 : 191۔
10 Lavey, The Stanic Bible, 51
11 Ibid., 25
12 Ibid., 62
13 Ibid., 25
14 Ibid., 32
15 Ibid., 25
16 Ibid., 64
17 Ibid., 51
18 القرآن41: 34
19 متی،: 44
20 االقرآن35: 6
21 Lavey, The Stanic Bible, 25
22 Ibid., 33
23 Ibid., 33
24خروج 21 : 22۔24
25القرآن 16: 126
26القرآن 5: 45
27 متی 5 : 39
28Lavey, The Stanic Bible, 34.
29 Ibid., 35
30 Ibid., 25.
31 Nine Saanic Statements, https://www.theisticsatanism.com/politics/Lavey/9_Statements.html , accessed on 03/09/2020
32االقرآن 17: 70
33القرآن25: 43۔44
34 سید قطب، فی ظلال القرآن ( القاہرہ:دارالشرق، 1980ء)، 5 : 256۔
35 Lavey, The Stanic Bible, 44.
36 Ibid., 25.
37 Ibid., 85.
38 Ibid.
39القرآن 15: 39
40القرآن 29: 12
41 Lavey, The Stanic Bible, 25.
42 Ibid., 55.
43 Ibid., 55.
Article Title | Authors | Vol Info | Year |
Article Title | Authors | Vol Info | Year |